51 total views, 1 views today

یہ بات کسی کو اچھی لگے یا بری لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہم کوئی درست کام کرتے ہیں نہ کرنا چاہتے ہیں…… لیکن ہماری خواہشات بہت ’’آئیڈیل‘‘ اور خیالی ہوتی ہیں۔
مثلاً مبینہ طور پر ان دنوں وزیراعظم اور فوج کے درمیان آئی ایس آئی کے سربراہ کی تعیناتی پر کچھ اختلاف نظر آرہا ہے۔ ہماری تعلیم یافتہ کلاس اور سیاسی تجزیہ نگار ہر ایک کا یہی بیانیہ ہے کہ یہ قطعی طور پر وزیراعظم کا استحقاق ہے۔ سو حتمی فیصلہ وزیراعظم ہی کا ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں ان دنوں امریکی جنرل کے امریکی سینٹ میں دیے گئے بیان کو بہت ’’کوٹ‘‘ کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر وہ کلپ بے تحاشا وائرل ہو رہا ہے جس میں امریکی جنرل یہ کہہ رہا ہے کہ بہرحال آئین کے مطابق آخری فیصلہ صدرِ امریکہ نے ہی کرنا ہوتا ہے اور ہم بحیثیتِ سرکاری یا حکومتی ادارہ غلط اور صحیح کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔ ہم بس مشورہ دے سکتے ہیں۔
ساتھ ہی یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ دیکھو سپر پاؤر امریکہ کا جنرل کس طرح سینٹ کی ایک عمومی کمیٹی میں عام سنیٹر کے رو برو جرح کا سامنا کر رہا ہے۔
یہ بات اصولاً صحیح ہے لیکن اس طرح امریکہ کی بات کو پاکستان میں یکسر نافذ کرنے کی خواہش کرنا حقیقت سے چشم پوشی ہے۔ پاکستان کے مخصوص معاشرتی حالات میں ہم یہ سفر شاید اگلے 50 سال میں طے کریں۔ ہمیں خود کو اپنے تاریخی حالات کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔
جب ہمارا ملک بنا، تو ہمارے ساتھ اول دن سے ہی کچھ معاملات ایسے تھے کہ جن کی وجہ سے نہ ہمارے ہاں جمہوری روایات مضبوط ہو سکیں نہ ہم مضبوط سویلین ادارے بنا سکے۔ مثلاً ہماری یہ بدقسمتی ہوئی کہ ملک بننے کے بعد ہمارے بانیان بہت جلد دنیا سے رخصت ہوگئے۔ دوسری بات، ہمارے پاس سول بیورکریسی کا نہ کوئی ڈھانچا تھا نہ انفراسٹرکچر۔ پھر معذرت کے ساتھ…… آخری چند سالوں میں روایتی مفاد پرست تھوک کے حساب سے مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ جو کسی جذباتیت یا مقصدیت کے تحت اس تحریک کا حصہ نہیں بنے تھے…… بلکہ جب انہوں نے دیکھا کہ ایک طرف نہرو کا سوشلسٹ ایجنڈا ان کی جاگیروں کے لیے خطرناک ہے، وہاں دوسری طرف مطالبۂ پاکستان عام عوام میں بہت شدت سے سرایت کر گیا ہے۔ یعنی اب اس کے مخالف چلنا سیاسی طور تباہی ہوگا۔ اگر بالفرص چلنے کا رسک لے بھی لیں، تو ادھر کانگریس کا سوشلسٹ ایجنڈا ……؟ سو انہوں نے وقت اور حالات کے تناظر میں یہی بہتر سمجھا کہ اب قائد اعظم کے ساتھ مل جائیں۔ انہیں دنوں مالکانہ حقوق کے تحت نئی خبر آئی ’’اے فلانا ساڈا پائی اے‘‘ (مطلب جن کے خلاف جلوس نکال رہے تھے، وہی اطلاع پہنچ گئی۔ اور وہی نعرہ گونجنے لگا کہ نئی خبر آئی ہے کہ فُلاں ہمارا بھائی ہے!)کے نعرے تخلیق ہوئے۔اب لوگوں کو ملک کے انتظام اور ترقی سے کیا دلچسپی ہونی تھی! تبھی تو قائد اعظم رحمہ اللہ علیہ کو کہنا پڑا کہ ’’میری جیب میں سارے سکے کھوٹے ہیں۔‘‘
اُس وقت ہر لحاظ سے ایک ہی ادارہ مضبوط تھا اور وہ تھا فوج۔ کیوں کہ تاجِ برطانیہ نے برصغیر میں اپنی حکومت اور طاقت بچائے رکھنے کے لیے اس دفاعی ادارہ کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی تشکیل کے وقت واحد مضبوط ادارہ جو ہمیں ملا وہ فوج کا تھا۔ پھر بدقسمتی سے قائد اعظم کی وفات بہت جلد ہوگئی کہ تب پاک فوج کا سربراہ ایک برطانوی جنرل ’’گریسی‘‘ تھا۔
مختلف تاریخی شواہد سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنرل ایوب کو قائد اعظم بہ وجوہ پسند نہیں کرتے تھے اور اگر قائد کچھ عرصہ مزید رہ جاتے، تو ایوب جنرل بن ہی نہ سکتا تھا۔ کیوں کہ اس کے بارے میں اول دن ہی سے یہ تاثر تھا کہ یہ اقتدار کا ہوس کار اور سیاست میں مداخلت کا شوقین تھا۔ سو اس نے سیاست کے کھیل میں خود کو ملوث کیا۔ آگے پہلے ہی سے بقولِ قائد ’’کھوٹے سکوں‘‘ کی اکثریت تھی۔ سو اسی وجہ سے مسلم لیگ کم زور سے کم زور تر ہوتی گئی۔ سول ادارے پنپ نہ سکے اور فوج مضبوط سے مضبوط تر ادارتی سطح پر ہوتی گئی۔
یہ ایوب خان ہی کا مکروہ دور تھا کہ جس میں خود ساختہ ’’ملک کی نظریاتی سرحدوں‘‘ کا تعین کیا گیا اور پھر یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ فوج ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ ’’نظریاتی سرحدوں‘‘ کی بھی وارث ہے۔
اس دوران میں دوسری طرف سیاسی قیادت کو جی بھر کے خراب کیا گیا۔ عوام کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی گئی کہ سیاست دان چور اور غدار ہیں۔ یہ کتنے حیرت کی بات تھی کہ خان عبدالغفار خان (باچا خان) اور مولانا مودودی تو رہے ایک طرف…… قائد اعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح، قراردادِ پاکستان پیش کرنے والے شیرِ بنگال مولوی فضل الحق تک کو غدار بنایا گیا۔ پھر فاطمہ جناح کے چیف پولنگ ایجنٹ شیخ مجیب الرحمان غدار بنا اور جب ایوب خان کے چیف پولنگ ایجنٹ ذوالفقار علی بھٹو نے سول بالا دستی کی بات کی، تو وہ بھی غدار ٹھہرا دیا گیا۔
قارئین، ہم دیانت داری سے یہ سمجھتے ہیں کہ عملی طور پر ہمارے جرنیلوں نے ملک کا سیاسی ڈھانچا تباہ کیا…… لیکن پھر بھی ہم اس کا اولین ذمہ دار سیاست دانوں ہی کو سمجھتے ہیں۔ کیوں کہ حقیقی طور پر سول بالادستی کے لیے کام سیاست دانوں ہی نے کرنا ہے۔ آپ جرنیلوں سے یہ توقع کیوں کر کرسکتے ہیں کہ جب وہ اس کے ’’مین بینی فشری‘‘ ہیں۔ اور پھر ایوب دور سے مسلسل بارکس کے اندر یہ ماحول بنایا گیا کہ ’’ملک کے ہر لحاظ سے محافظ ہم ہیں!‘‘
اب جرنیل چھوڑیں…… آپ ایک عام فوجی جوان (بے شک وہ بطورِ سپاہی یا نائیک ریٹائر ہوا ہو) بات کرلیں۔ وہ آج بھی ضیا و مشرف کا تحفظ کرتا ہے۔ کیوں کہ ایک ’’مائنڈ سیٹ‘‘ بنایا گیا ہے کہ کسی آمر پر بھی تنقید بحیثیتِ مجموعی ’’فوج‘‘ پر تنقید سمجھی جائے۔
سو، ان حالات میں ہماری سیاسی قیادت کو بہت احتیاط اور پھونک پھونک کر قدم آگے بڑھانا چاہیے۔ اس میں آمروں کی کھل کر مخالفت بقولِ شیخ رشید ’’گیٹ نمبر چار سے دوری آئین میں مناسب ترامیم‘‘ اپنی جگہ درست اقدام ہیں…… جو کرنا ہی ہوں گے۔ لیکن سب سے اہم ان کو خود اپنی کارگردگی اور کردار کو بہتر بنانا ہوگا۔
مثال کے طور پر ہمارے سیاست دان یہ گلہ کرتے ہیں کہ ان کی غلط کردار کشی کی جاتی ہے، جو ممکن ہے کسی حد تک صحیح بات ہو، لیکن ان کے لیے یہ بات سوچنے کی ہے کہ آخر ان کی کردار کشی کو عوام قبول کیوں کرلیتے ہیں؟ اس کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
قارئین، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سیاست دان عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتے، بلکہ وہ ان کے لیے مزید مسائل پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ جب آپ عوام کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے ان کے لیے مزید مشکلات کھڑی کریں گے، تو آپ کے خلاف ہر غلط بات بھی وہ صحیح ہی سمجھیں گے۔ لیکن اگر آپ ان کے لیے کام کریں گے، تو وہ ایسا نہیں کریں گے۔
اس کی ایک بڑی مثال ذوالفقار علی بھٹو کی ہے۔ عوام میں آج بھی بھٹو صاحب کی عزت ہے۔ عام غریب پاکستانی آج بھی ان کا ’’فین‘‘ ہے بلکہ بعد کی پیپلز پارٹی کی حکومتوں کی کارگردگی کچھ خاص نہیں رہی، لیکن عوام نے ہمیشہ ان کی پذیرائی محض بھٹو کے نام کی وجہ سے کی۔
پھر سب سے اہم مثال آپ کو ترکی کے حوالے سے ملتی ہے۔ ترکی کے حالات وہی تھے، چند سال قبل کہ جو اَب ہمارے ہیں۔ وہاں پر بھی سول بالادستی کے متمنی ’’عدنان میڈرس‘‘ کو بھٹو کی طرح تختۂ دار لٹکایا گیا۔ وہاں پر بھی ’’کنٹرولڈ ڈیمو کریسی‘‘ کا تصور تھا۔ لیکن پھر 80ء کی دہائی سے وہاں کے سول حکمرانوں نے مکمل توجہ عوام کی معاشی اور تعلیمی مشکلات کو حل کرنے پر دی اور ترکی کو کافی آگے لے گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ترک عوام مکمل طور پر سیاست دانوں کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور جرنیل سیاسی معاملات میں پیچھے ہوتے گئے۔ حتی کہ ایک دفعہ جب فوج نے باقاعدہ ’’مارشل لا‘‘ لگا کر استنبول پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، تو پورا ترکی باہر نکل آیا۔ ترکی کی فوج تقسیم ہوگئی۔ آدھی فوج نے ایک لحاظ سے بغاوت کر دی۔ بعد میں جرنیلوں کی یہ مہم جوئی بری طرح ناکام بنا دی گئی۔
اب اگر ہمارے سیاست دان بھی ترکی جیسے عوامی رویہ کی عوام سے توقع کرتے ہیں، تو درست ہے، لیکن ان کو پھر یہ دکھانا ہوگا کہ وہ جرنیلوں کے مقابل بہت بہتر ملکی حالات کو سنوار سکتے ہیں۔ جب آپ نے یہ کام دیانت داری سے کرنا شروع کر دیا، تو تب کسی جرنیل کو مارشل لاء لگانے کی جرات ہی نہ ہوگی اور اگر کسی نے یہ مہم جوئی کرنے کی کوشش کی بھی تو اس کو ترکی کی طرح عوام خود سیدھا کر دیں گے ۔اب گنید سیاسی قیادت کی کورٹ میں۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ خالی قانون کی بالادستی کا ذبانی منترہ آئین کی پاسداری کا محافظ نہیں ہوسکتا۔ بلکہ آپ کی کارگردگی اسکی ضامن بن سکتی ہے۔
……………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے