35 total views, 4 views today

انسان اپنی فطرت میں ایک آزاد اور صاحبِ رائے شخصیت لے کر آتا ہے، لیکن پھر عمومی طور پر اپنے سماجی حالات خاص کر گھر کے ماحول کے زیرِ اثر وہ شخصیت پرستی کا شکار ہوجاتا ہے۔ یہ شخصیت پرستی زیادہ تر مذہبی و سماجی حوالے سے ہوتی ہے۔ عقیدت و متاثریت اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ وہ پھر اپنے تسلیم شدہ لیڈر پر تنقید تو دور وہ اس کے خلاف بات سننا باعثِ گناہ سمجھتا ہے۔ وہ لاشعوری طور پر اس شخصیت کو معاذ اﷲ خدا کی طرف سے نامزد کوئی اپنا مسیحا سمجھتا ہے۔ جذبات میں مغلوب عشق کی انتہا پر پہنچ کر وہ اس شخصیت کی پوجا شروع کر دیتا ہے۔
مذہبی معاملات میں تو پیر صاحب کی شخصیت اس کے لیے ہر قسم کی خامیوں سے پاک و پاکیزہ ہوتی ہے، اور ان کا ہر حکم ماننا وہ خود پر لازم کر لیتا ہے…… لیکن سیاسی معاملات میں وہ کم از کم ایک پہلو کہ جو کہ سیاست سے وابستہ ہے، اپنے واسطے حتمی و قطعی ہی سمجھتا ہے۔
قارئین، تحقیق سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ اس طرح کے نفسیاتی رویے وہاں زیادہ ہوتے ہیں، جہاں تعلیم کی سخت کمی، معاشی محرومی اور معاشرتی انارکی زیادہ ہوتی ہے…… جب کہ تعلیمی و معاشی طور پر نسبتاً ترقی یافتہ ممالک میں یہ رویہ بہت کم پایا جاتا ہے۔
آج ہم پاکستان کے ماحول میں مخصوص سیاسی حالات کے حوالے سے اس پر بات کریں گے۔ آئیں، پہلے ہم چند مشہور عوامی نعرے آپ کے سامنے رکھیں۔
’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘، ’’جب آئے گا عمران، سب کی جان،بنے گا نیا پاکستان‘‘، ’’نواز شریف قدم بڑھاؤ ہم تمھارے ساتھ ہیں۔‘‘ ان میں سے جناب ذوالفقار علی بھٹو تو چالیس سال ہوئے دنیا سے جا چکے، جب کہ میاں نواز شریف صاحب بھی شاید موجودہ حالات میں اب عملی سیاست میں نہ آسکیں۔ البتہ جناب عمران خان پورے جوبن سے موجود ہیں۔ ہم ذاتی طور پر درجِ بالا تینوں شخصیات کا مکمل احترام کرتے ہیں لیکن وہ بہرحال ایک انسان ہیں اور خود انہوں نے بھی کبھی خود کو غلطیوں سے مبرا قرار نہیں دیا۔ اب بحیثیتِ انسان اور سیاست دان ان پر بحث کرسکتے ہیں، مگر ان تینوں کو نہ تو ہم فرشتہ بنا سکتے ہیں اور نہ شیطان۔ البتہ آپ مقابلتاً ان تینوں کے درمیان ایک موازنہ کر کے یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ان میں سے بہتر کون ہے؟ لیکن ایک کو کلی پیر مرشد کہنا اور دوسرے کو شیطان بنا دینا سخت جاہلیت کی نشانی ہے۔
پھر ہم جب کسی کو مرشد مان لیتے ہیں، تو ہم ان کے سیاسی جانشینوں کو بھی ان کا گدی نشین بنا کر ان کی پوجا شروع کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ آج موجود سیاسی قیادت کے حوالے سے ’’میرٹ‘‘ اور ’’ڈی میرٹ‘‘ کا تعین کریں، تو محترم بلاول بھٹو زرداری کی اول خوبی پیپلز پارٹی کے کارکن یہ بتائیں گے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کا نواسا اور محترمہ بینظیر بھٹو کا بیٹا ہے۔
اس طرح محترمہ مریم نواز کی اولین خوبی یہی بتائی جائے گی کہ وہ نواز شریف کی صاحب زادی ہیں اور مولانا فضل الرحمان مولانا مفتی محمود کے بیٹے، اسفند یار ولی خان غفار خان کے پوتے اور ولی خان کے بیٹے کی حیثیت سے ترجیح ہیں۔
قوم اس بات پر غور کرے کہ دوسری دنیا میں کیا ایسا ہوتا ہے؟ یہ بات تو صحیح ہے کہ کسی بڑی شخصیت سے قریبی رشتہ آپ کو بہرحال ایک حیثیت دیتا ہے لیکن محض اس رشتہ کے احترام میں مکمل طور پر آنکھیں بند کرلینا کہاں کا انصاف ہے؟ اور اس طرح کی اندھی عقیدت معاشرے اور ملک واسطے تونقصان دہ ہے ہی…… لیکن یہ بذاتِ خود آپ اور آپ کی جماعت کے لیے کسی بھی صورت مناسب نہیں۔ کیوں کہ جب تک لیڈر شپ کو خامیوں سے آگاہ نہ کیا جائے، بہتری ہو نہیں سکتی، نہ خامیاں ہی دور ہو سکتی ہیں۔ اور جب خامیاں دور نہ ہوں گی، تو پھر آپ کی سیاسی ساکھ شدید متاثر ہوگی۔ بالآخر آپ کی جماعت غیر مقبول ہوتی جائے گی۔ اس لیے ہم اپنے سیاسی کارکنان سے یہ التماس کرتے ہیں کہ سیاست کوئی جذباتیت کا معاملہ نہیں بلکہ بہت دانش والا کام ہے اور یہاں ہمیشہ نظریہ پرستی چلتی ہے، شخصیت پرستی نہیں۔
سیانے لوگ کہہ گئے ہیں کہ شخصیت پرستی ’’بت پرستی‘‘ سے بڑا جرم ہے۔ کیوں کہ بت پرستی بے شک شرک تو ہے، لیکن وہ بت چوں کہ خود معذور کلی ہے اور آپ پر براہِ راست اثر انداز نہیں ہوسکتا، لیکن شخصیت پرستی ایسا زہر ہے کہ جو آپ پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ آپ سوچ سمجھ کر جان بوجھ کر اپنی باگیں کسی اور شخصیت (جو آپ ہی طرح کا انسان ہے) کے ہاتھ دے دیتے ہیں۔ اور آپ جذبات میں جتنا زیادہ بڑھتے جاتے ہیں، لاشعوری طور پر اپنے لیڈر کو اتنا ہی فرعون بناتے جاتے ہیں۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ آپ سوچ سمجھ فائدہ نقصان سے عاری ہو جاتے ہیں اور آپ کا لیڈر نفسیاتی طور پر خود کو انسان سے اوپر کی کوئی چیز سمجھ لیتا ہے۔ اس کے بعد اگر اس کو صحیح بات بتائی جائے، تو وہ بتانے والے کو دشمن اور مخالف سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ سو آخر میں آپ سے اپیل ہے کہ ’’میاں نواز شریف ہمارا سہارا ہے‘‘، ’’عمران خان ہمارا مرشد ہے‘‘، ’’آصف زرداری ہمارا باس ہے‘‘ کے منتروں کی بجائے اپنی جماعت کی مثبت پالیسیوں اور کاموں پر مہذب تعریف اور اگر کہیں غلطی ہوتی ہے، تو ان پر مکمل اخلاص اور دلیری سے تنقید ضرور کریں۔ یہی ملک و قوم، آپ کی سیاسی جماعت، آپ اور سب سے زیادہ آپ کی قیادت کے لیے بہتر بھی ہے اور سود مند بھی۔
قارئین، اب ایک خط کہ جس کا ذکر میں نے گذشتہ تحریک انصاف والے کالم میں کیا تھا۔ یہ خط مجھے جناب بدر بشیر پاکستان پیپلز پارٹی نائب صدر لیبر ونگ ضلع راولپنڈی کی طرف سے ملا ہے۔ مَیں ذاتی طور پر محترم بدر بشیر کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اس پر اپنی جماعت کا موقف دیا ہے۔ مَیں اور میرا ادارہ ہمیشہ سے ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ جو صاحبِ رائے ہوتے ہیں۔ بہرحال اس خط کے علاوہ بھی کچھ ریمارکس بذریعہ سوشل میڈیا ملے، لیکن یہ خط مکمل تھا اور باقاعدہ خط کی شکل میں تھا۔ سو اس کو اسی طرح شائع کیا جا رہا ہے۔ خط کو ملاحظہ کریں اور تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان اس پر غور کریں۔
جناب محترم سید فیاض حسین گیلانی صاحب، اسلام علیکم!
محترم گیلانی صاحب میں ایک عرصہ سے آپ کو فالو کر رہا ہوں اور نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ اخبارات میں بھی آپ کی تحاریرسے استفادہ کرتا رہتا ہوں۔ پچھلے دنوں آپ کا ایک کالم جو روزنامہ آزادی میں شائع ہوا۔ جس کا موضوع ’’پاکستان پیپلز پارٹی کی بحالی‘‘ تھا، پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ مَیں آپ کا مشکور ہوں کہ آپ نے میری جماعت کی بہتری واسطے تجاویز دیں، لیکن معذرت کے ساتھ مَیں آپ کی دو باتوں سے اتفاق نہیں کرتا۔ ایک آپ کی تحریر کا عنوان ہے ’’بحالی‘‘…… تو جنابِ والا پیپلز پارٹی سنہ 67ء کہ جب اس کی بنیاد شہید قائد عوام نے رکھی تھی، اس وقت سے لے کر آج تک مکمل بحال ہی ہے۔ آپ بھی شاید سامراجی قوتوں کے اس بیانیہ سے متاثر ہیں کہ ’’جب دل کرے تو ہم کو ختم، اور جب دل کرے تو بحال کرتے ہیں۔‘‘ بھٹو صاحب کی شہادت ہوئی، ہم ختم! سنہ 97ء میں ہمیں 17 سیٹیں ملیں، ہم ختم! بی بی رانی کی شہادت ہوئی، ہم ختم! لیکن وقت نے ثابت کیا کہ وقتی طور پر سامراجی و آمرانہ سوچ کی قوتوں نے بے شک ہم کو سیاسی نقصان دیا، لیکن ہم کو ختم نہ کرسکے، نہ اِن شاء ﷲ ہم کو ختم کر سکیں گے۔ کیوں کہ ہمارا نظریہ اور منشور عام آدمی کے دل کی آواز ہے۔ ہماری تاریخ شہادتوں اور قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ ہم سو فی صد بحال تھے، بحال ہیں اور بحال رہیں گے۔ جس جماعت اور نظریہ کی آبیاری ہمارے قائد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے اور اپنے پورے خاندان بشمول دخترِ مشرق کے لہو سے کی ہے، وہ کیسے ختم ہو سکتی ہے؟ ہمارے ایک دو نہیں ہزاروں اور لاکھوں جیالوں کی قربانیاں ہیں۔
دوسرا، محترم! آپ نے جیالوں کی عزت کی بات کی۔ ممکن ہے اتنی بڑی جماعت میں چند ایک واقعات ہوئے ہوں اور ہوسکتے ہیں، لیکن بحیثیتِ مجموعی آپ سروے کرلیں۔ آج بھی ہماری جماعت میں کارکنان کی عزت قائدین سے زیادہ ہے۔ مَیں آپ کو درجنوں واقعات بتاسکتا ہوں کہ ہمارے قائدین جو سامراجی طاقتوں اور آمروں کے آگے ڈٹ کر کھڑے ہو جاتے، اپنے عام سے کارکن کے آگے مکمل احترام سے ایک لحاظ سے جھک جاتے ہیں۔ یہی ہمارا فخر بھی ہے اور اعجاز بھی۔ مَیں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ ہم سے ملاقات کریں اور صحیح صورت حال کو جاننے کی کوشش کریں۔
فقط
بدر بشیر نائب صدر لیبر وونگ پاکستان پیپلز پارٹی راولپنڈی، فون نمبر:۔ 03145641261
(یہ خط مکمل شائع نہ ہوسکا جگہ کی کمی کے پیشِ نظر لیکن اہم بات یہی تھی)
………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے