34 total views, 1 views today

بے شک دنیا ایک لمبے عرصہ تک دہشت گردی اور خوف کا شکار رہی اور اس کی وجوہات پر ایک بہت ہی دقیق بحث کی جاسکتی ہے ۔ ہر شخص اپنی مرضی اور سمجھ سے اس پر بات کرتا ہے۔ مَیں یہ بات ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ تہران میں بے شمار لوگ حزب ﷲ کے خلاف بہت دلیل سے بات کرتے ہیں۔ نیویارک میں بلکہ شاید تل ابیب میں کچھ لوگ القاعدہ کے کچھ اقدامات کی توجیح بہت اعتماد سے کرتے ہیں، لیکن اب شاید وہ دور ختم ہوگیا ہے۔ افغانستان کی بدلتی صورتِ حال میں اب کسی جگہ باقاعدہ کسی تنظیمی دہشت گردی کا امکان کم سے کم ہوچکا ہے۔ البتہ ذاتی حیثیت میں یا کچھ بہت ہی محدود سطح کے گروہوں کی وجہ سے کچھ نہ کچھ اقدامات ہو رہے ہیں، جیسے کرائس چرچ کی مسجد میں یا کینڈا میں واقعات ہوئے۔ اِن شاء ﷲ امید ہے کہ شاید اس پر بہت حد تک قابو پالیا جائے گا۔
دوسرا ممکنہ طور پر ایسے اقدامات جو دہشت پھیلاتے ہیں، میں کچھ حکومتوں کے ملوث ہونے کا بھی شائبہ ہو اور مستقبل میں یہ مشق بھی کی جائے، لیکن کھیلوں میں اس طرح کی سیاست کی جا سکتی ہے۔ یہ بات نئی بھی ہے اور عجیب بھی۔ اس کے غلط ہونے میں تو شک ہی نہیں۔ کیوں کہ اس طرح کی کریہہ سیاست کسی قوم یا ملک کو نقصان پہچانے کا باعث تو بنتی ہی ہے، لیکن اس سے سب سے بڑا نقصان کھیلوں کو ہوتا ہے۔ جب نقصان کھیل کا ہوگا، تو یہ کل عالم کا مجموعی نقصان ہوگا۔
اس بات کا احساس ہمیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات محترم فواد چوہدری اور وزیر داخلہ شیخ رشید کی پریس کانفرنس سننے کے بعد ہوا۔ اب جو انکشافات وفاقی وزیر اطلاعات نے کیے ان کو سن کر پاکستانی قوم اور بالخصوص ہندوستانی عوام کو تو فوراً بیدار ہونا جانا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ بین الاقوامی برادری کو اس پر نہایت ہی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ جو واقعہ پاکستان میں پیش آیا۔ وہ کرکٹ کی دنیا کا نہایت ہی مایوس کن واقعہ تھا۔ جب نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان کے معاملات طے ہو رہے تھے، تو تب یقینا یہ باتیں بحث میں آئی ہوں گی۔
اس کے بعد نیوزی لینڈ نے باقاعدہ اپنی سیکورٹی ٹیم کہ جس میں آسٹریلیا کے ماہرین بھی شامل تھے، بھیجی۔ جس نے ہر پہلو کا مکمل جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ دی۔ تب اس دورے کا اعلان ہوا۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ جب تک ’’کیوی ٹیم‘‘ اسلام آباد میں اترتی ہے، اس سے لاتعلق ہوا جائے، بلکہ دورہ کے اعلان کے بعد اس پر مزید توجہ دی گئی اور انٹیلی جنس کو مزید متحرک کیا گیا۔ اس کے بعد ٹیم کی آمد کے ساتھ ہی فیزکلی مطلب زمین پر عملی طور پر انتہائی سخت سیکورٹی کا بندوبست کیا گیا۔ مَیں چوں کہ اپنے کام کے سلسلے میں روز اس علاقہ میں جہاں پنڈی کرکٹ سٹیڈیم ہے، سے گزرتا رہتا ہوں۔ سو مَیں جانتا ہوں کہ کس طرح اس علاقہ کو تقریبا عملاً کورڈن آف کر دیا گیا تھا۔ پنڈی کے عام شہریوں کی زندگی عذاب بن چکی تھی۔ کیوں کہ اس سٹیڈیم کے قریب ہی کھیلوں کا ایک اور بہت بڑا جمنازیم، پنڈی آرٹ کونسل کی عمارت، فوڈ سٹریٹ اور ایک بہت بڑا عوامی پبلک پارک بھی ہے، لیکن کیویز سے صرف تین کرکٹ میچوں کی وجہ سے یہ تمام سرگرمیاں بند تھیں۔ حتی کہ پنڈی میٹرو کے دو اہم ترین سٹاپ یعنی فیض آباد اور شمس آباد بند کر دیے گئے تھے ۔ بقولِ وزیر داخلہ کہ شاید پورے نیوزی لینڈ میں اتنی فوج نہیں، جتنی ہم نے کیویز کے چند کھلاڑیوں واسطے مختص کر دی تھی۔ لیکن تمام تر احتیاط اور ذمہ داری کے باجود میچ سے صرف چند منٹ قبل کیویز نے کھیلنے سے انکار کر دیا۔ یہ بات فوری طور پر وزیر اعظم کو بتائی گئی۔ وزیر اعظم نے اس پر کیوی وزیر اعظم جیسنڈا الڈرین کو فون بھی کیا، لیکن نیوزی لینڈ نے اس پر بھی رکنے سے انکار کیا۔
قارئین، موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ سب فوری نہیں ہوا بلکہ قریب 36 گھنٹے لگے تمام پیش رفت کو۔ اب اس پر پاکستان کرکٹ بورڈ، حکومت اور خاص کر عوام میں ایک رد عمل فطری تھا۔ پورے ملک کو اس پر سخت مایوسی ہوئی اور سابقہ کرکٹ کھلاڑیوں سمیت سپورٹس ایکسپرٹ اور سابقہ سفارت کاروں نے اس کو انتہائی غلط اور غیر اخلاقی اقدام قرار دیا۔
اس پر ایک اور پیش رفت ہوئی کہ برطانیہ نے بھی اپنا اعلان شدہ دورہ ملتوی کر دیا۔ اس سے معاملہ مذید گھمبیر ہوگیا۔ اب دنیا کے غیر جانب دار حلقوں حتی کہ نیوزی لینڈ اور خاص کر انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے اس پر مایوسی کا اظہار کیا اور واضح اعلان کیا کہ اس پر نہ ان سے رائے لی گئی، نہ آگاہ ہی کیا گیا۔
کیویز اور برطانوی صحافیوں اور سابقہ کھلاڑیوں نے اس پر شدید تنقید کی، بلکہ برطانیہ کی حد تک تو وزیر اعظم برطانیہ نے اس پر مایوسی کا اظہار کیا۔ اب ان کا جواز یہ تھا کہ کیویز نے جو دورہ ملتوی کیا، اس کے پیچھے امریکہ، آسٹریلیا کے علاوہ بڑا کردار برطانیہ کی جاسوس ایجنسیوں کا تھا۔ سو اب وہ خود آتے، تو اس پر اخلاقی طور پر خاص کر نیوزی لینڈ میں ردِ عمل ہوتا کہ ہمیں ڈرایا گیا اور خود چلے گئے۔
اس تمام صورتِ حال میں سب سے سنجیدہ وہ پریس کانفرنس ہے کہ جو پاکستان کے وزرا اور وہ بھی اطلاعات و داخلہ جیسے اہم وزرا نے کی ہے۔ جس میں یہ بتایا گیا کہ یہ ایک سازش ہے اور اس کے ڈانڈے انڈین ایجنسی را سے ملتے ہیں۔ آپ یقین کریں، اگر بھارت میں ایک قسائی اور متعصب ظالم کی حکومت نہ ہوتی، تو میں اس پر یقین بالکل نہ کرتا، لیکن اب چوں کہ یہ بات ممکن بھی ہے اور مودی جیسے انسان جو انسانی شکل کا متعصب درندہ ہے، سے ہر چیز ممکن ہے۔ سو اس پر حکومتِ پاکستان کو لازماً انٹرنیشنل کرکٹ بورڈ سے رابطہ کرنا ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ اس کا مکمل ڈوزیر بنا کر اقوامِ متحدہ، اسلامی سربراہی کانفرنس اور خاص کر سارک میں پیش کرنا چاہیے۔ دنیا کو آگاہ کرنا چاہیے کہ کس طرح ہند محض اپنی بڑی مارکیٹ، آبادی اور رقبہ کا غلط فائدہ اٹھا کر دوسری قوموں کو تو خراب کرتا ہی ہے، لیکن اب اس نے کھیلوں کو بھی تباہ کرنا شروع کر دیا ہے۔مزید اس کو ہر طریقہ استعمال کر کے ہند کے عوام کے سامنے لایا جائے کہ کس طرح ان کی نام نہاد جمہوری حکومت کھیلوں سے دشمنی کر رہی ہے۔ ان شاء ﷲویسے وہ یہ کر نہیں سکتے، کیوں کہ کرکٹ کی تاریخ حفیظ کاردار، فضل محمود، حنیف محمد، ماجد خان، ظہیر عباس، عمران خان، عبدالقادر، وسیم اکرم، وقار یونس، محمد عامر وغیرہ کے بنا کیسے مکمل ہوسکتی ہے؟
بے شک ہم نے بین الاقوامی کرکٹ کو ابھارنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دنیا کو یہ بات سمجھائی جائے کہ یہ نقصان پاکستان کا نہیں ہوا بلکہ بڑا نقصان کرکٹ کا ہوا ہے۔ اس نقصان کو مینج کیا، ترتیب دیا بھارت نے۔ یعنی بھارت براہِ راست ذمہ دار ہے اس کا اور اس پر یقینا بھارت سے باز پرس کی جائے۔
جو نقصان پاکستان کا ہوا، اس کا اِزالہ نیوزی لینڈ یا برطانیہ سے نہیں بلکہ بھارت ادا کرے مع جرمانہ۔ اگر حکومتِ پاکستان نے اس پر خالی ایک پریس کانفرنس تک اکتفا کیا، تو پھر پاکستانی قوم یقینا اپنی حکومت سے یہ سوال کرے گی کہ وہ ان وجوہات سے قوم کو آگاہ کرے کہ جس کے زیرِ اثر آپ نے آگے عملی اقدام نہ کیا۔ وہ کون سی مجبوری ہے کہ جو آپ کو روک رہی ہے؟ کیوں کہ اگر پاکستان سنجیدگی سے دنیا کہ سامنے بھارت کا یہ مکروہ چہرہ لے آتی ہے، تو یقین کریں دنیا کا عام آدمی اس پر سخت ردعمل دے گا۔ خاص کر کرکٹنگ ممالک جیسے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، برطانیہ، بنگلہ دیش، زمبابوے، سری لنکا اور جنوبی افریقہ تو کرکٹ کے عاشق ہیں۔ وہاں سے انتہا کا شدید ردعمل ہوگا کہ بھارت واسطے سنبھالنا ممکن نہ ہوگا۔ اس سے آپ نہ صرف دنیا کی ہمدردی اور معاشی فوائد حاصل کر سکتے ہیں بلکہ نیرندر مومودی اور اس کی جن سنگھ اور آر ایس ایس جیسی مکروہ سوچ سے مزین کابینہ کو بھی بے نقاب کرسکتے ہیں۔ آئندہ آنے والے انتخابات میں مودی کو مکمل طور پر بھارت کی سیاست سے ووٹ آؤٹ کرسکتے ہیں۔
ہم مکمل سنجیدگی سے یہ سمجھتے ہیں کہ اب بال حکومتِ پاکستان کے کورٹ میں ہے۔ اگر وہ یہ کرنے میں ناکام ہوتی ہے، تو پھر ہم یہ سمجھیں گے کہ یا حکومت نااہل ہے اور زیادہ احتمال اس بات کا ہے کہ ہماری حکومت جھوٹی ہے (اﷲ نہ کرے ایسا ہو) اب یہ تو وقت بتائے گا کہ کون کتنا سچا ہے اور کون کتنا جھوٹا۔ کرکٹ فین اور خاص کر پاکستان کی عوام کی تمام امیدیں اب اس پر عمران خان سے وابستہ ہیں۔
……………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے