39 total views, 1 views today

مسلسل اصرار تھا کہ اس بار پاکستان آؤں، تو اُس سے ملاقات ضرور کروں۔ وہ میرا دیرینہ دوست ہے۔ چناں چہ انکار کرنا ممکن نہیں تھا۔ جب مَیں لندن سے بہاول پور پہنچا، تو وہ مجھے ملنے آیا اور اگلے روز ہم دونوں نے اکٹھے ملتان جانے کا پروگرام بنالیا۔ ڈیڑھ گھنٹے کے سفر کے دوران میں اُسے کئی ٹیلی فون کالیں موصول ہوئیں۔ کسی کو اس نے کہا کہ مَیں رحیم یار خاں جا رہا ہوں۔ کسی کو بتایا کہ لاہور آیا ہوں۔ ایک اور فون کال کے جواب میں اس نے کہا کہ مَیں تین دن بعد اسلام آباد سے واپس آؤں گا۔ مجھ سے رہا نہیں گیا اور مَیں نے حیرانی سے استفسار کیا کہ ایک ہی وقت میں تین مختلف شہروں میں موجودگی کا عذر پیش کرنے کا مقصد کیا تھا؟ اس نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ مَیں ایک تعلق دار بزنس مین ہوں۔ ہر دوسرا واقفِ کار مجھے کوئی نہ کوئی کام بتا دیتا ہے۔ اکثر لوگ اپنا کوئی پھنسا ہوا کام نکلوانے یا سفارش کروانے کے لیے مجھے فون کرتے ہیں۔ انہیں ٹرخانے کے لیے مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ مَیں اپنے شہر سے باہر ہوں۔ مَیں نے کہا کہ تم نے اگر سفارش نہیں کرنی ہوتی، تو صاف انکار کر دیا کرو۔ اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ مجھے انکار کی عادت نہیں۔
اس معمولی سے واقعے کو بیان کرنے کا مقصد صرف اس بات پر غور کرنا ہے کہ انسان اپنی عادت کے ہاتھوں کس قدر مجبور ہوتا ہے۔ چاہے وہ کسی کو ٹرخانے کی عادت ہی کیوں نہ ہو۔
ہر معاشرے اور ہر ملک میں بچوں کو ابتدائی عمر ہی سے اچھی عادتیں اپنانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو صاف ستھرا رہنے، سچ بولنے، دوسروں کی قدر کرنے، تمیز سے بات کرنے اور وقت کی پابندی کی عادت ڈالیں، تاکہ بڑی عمر تک پہنچتے پہنچتے اگر یہ عادتیں پختہ ہو جائیں، تو ساری زندگی انسان کے کام آتی ہیں، مگر کچھ عادتیں بڑی عمر میں جا کر انسان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہیں۔
کئی لوگ جوانی میں سگریٹ نوشی کے عادی ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو وسائل میسر آنے پر شراب نوشی کی عادت پڑجاتی ہے اور بہت سے لوگ ڈھلتی عمر میں مساج یا مالش کرنے کی علت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ایسی عادتیں کسی فائدے کی بجائے سراسر نقصان کا باعث بنتی ہیں۔
میرے کئی دوست کالج اور یونیورسٹی میں سگریٹ نوشی یا مے نوشی کے عادی نہیں تھے لیکن خوشحال اور خود مختار ہونے کے بعد وہ ان عادتوں میں مبتلا ہو گئے اور اب یہ عالم ہے کہ وہ اس عادت سے چھٹکارا پانا بھی چاہیں، تو ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔ اسی طرح میرے ایک دوست کو مالش اور مساج کرانے کی عادت پڑگئی جس کی وجہ سے وہ بے چین رہتے ہیں۔ ہفتے میں ایک بار مالش نہ کرائیں، تو انہیں اپنا بدن ٹوٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور وہ خود کو بہت تھکا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ انسان جن بے فائدہ عادتوں کا اسیر ہو جاتا ہے ان سے چھٹکارا پانا اگر ناممکن نہیں، تو بہت مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔
کچھ عادتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو ہمارے لیے بہت مفید ہو جاتی ہیں، مثلاً کورونا وائرس کی وجہ سے اب لوگوں کو بار بار ہاتھ دھونے اور ہائی جین (حفظانِ صحت) کا خیال رکھنے کی عادت پڑتی جا رہی ہے۔ بچپن کی عادتوں کے علاوہ بڑی عمر کی عادتیں بھی رفتہ رفتہ ہماری شخصیت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ مثلاً اگر آپ ہر روز رات کو سونے سے پہلے ایک گلاس پانی پینے کی عادت ڈال لیں، تو تیس دنوں بعد جب تک پانی کا ایک گلاس نہیں پئیں گے، آپ کو نیند نہیں آئے گی۔ اسی طرح بہت سے لوگ صبح اُٹھ کر چائے یا کافی پینے کے عادی ہوتے ہیں۔ اگر وہ دن کے آغاز میں ایک کپ چائے یا کافی نہ پئیں، تو انہیں لگتا ہے کہ وہ پوری طرح بیدار نہیں ہوئے۔ میرے ایک ماہرِ نفسیات ڈاکٹر دوست کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے لیے بُری عادتوں سے نجات اور چھٹکارا پانے کے لیے رمضان المبارک کا مہینا ایک نادر موقع ہوتا ہے۔ سگریٹ نوشی، شراب نوشی اور دیگر عادتوں کے اسیر جو لوگ رمضان المبارک میں روزے رکھنے کی ہمت کرلیتے ہیں، تو ان کے لیے سال کے باقی دنوں میں بھی ان علتوں سے باز رہنے کی راہ آسان ہوجاتی ہے۔ انفرادی عادتوں کے علاوہ اجتماعی سطح پر بھی ملکوں اور قوموں کی کچھ عادات ہوتی ہیں۔ مثلاً برطانیہ میں انگریزوں کی اکثریت کو ’’ویک اینڈ‘‘ کے علاوہ باقی دنوں میں جلدی ڈنر کرنے (یعنی 6 سے 8 بجے کے دوران میں) اور جلد سو جانے کی عادت ہے۔ یہاں پر لوگوں کو قت کی پابندی اور کام پر وقت سے پہلے پہنچنے کی عادت ہے۔
ایک نو مسلم انگریز جنہیں مسلمان ہونے کے بعد کئی مسلم ممالک میں جانے کا موقع ملا، جب اس کی شادی ایک پاکستانی مسلمان لڑکی سے ہوئی اور وہ پاکستان آنے جانے لگا، تو اس نے اس حقیقت پر بڑی حیرانی کا اظہار کیا کہ پاکستان میں لاکھوں مساجد میں جہاں پنج گانہ نماز کی جماعت ہمیشہ وقت پر ہوتی ہے، تاکہ مسلمانوں کو وقت کی پابندی کی عادت پڑے، مگر نماز کے علاوہ پاکستانی قوم کبھی وقت کی پابندی نہیں کرتی۔ دفتری اوقات سے کاروباری مصروفیت تک اور شادی بیاہ کی تقریبات سے ذاتی ملاقاتوں تک کے معاملے میں کوئی بھی وقت کی پابندی کا خیال نہیں رکھتا، بلکہ جو لوگ بچپن سے نماز کی باجماعت ادائی کے عادی ہیں، وہ بھی زندگی کے دیگر معاملات میں وقت کی پابندی کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھتے۔ یہ ناقابلِ فہم تضاد ہے۔
برطانیہ میں لوگوں کی اکثریت کو جھوٹے وعدے کرنے اور بلاوجہ غلط بیانی کرنے کی بھی عادت نہیں۔ اسی طرح انگریزوں کو لمبی لمبی چھوڑنے یا بھڑیں مار کر دوسروں کو متاثر کرنے کی بھی عادت نہیں۔ نہ تو یہاں لوگ اپنے ہمسایوں اور ملنے والوں کی ٹوہ میں رہتے ہیں کہ وہ کیا کرتے، کہاں جاتے اور کن سے ملتے جلتے ہیں۔ اس عادت کی وجہ سے یہاں ہر ایک کو شخصی آزادی میسر ہے۔ برطانیہ میں سیاست دانوں کو عوامی خدمت کرنے کی عادت ہے۔ عدالتوں کو بلاتفریق رنگ و نسل اور کسی عہدے اور منصب کی تخصیص کے بغیر فوری انصاف کرنے کی عادت ہے۔ ملازمت پیشہ لوگوں کو اپنے کام کے اوقات کے دوران میں وقت ضائع نہ کرنے کی عادت ہے۔
جس طرح انفرادی سطح پر اچھی عادتوں کے باعث انسان کی شخصیت سنورتی ہے، اسی طرح اجتماعی سطح پر قوموں کی اچھی عادات کے باعث ملک ترقی یافتہ اور خوشحال ہو جاتے ہیں۔ یہ حقیقت کتنی دلچسپ ہے کہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کے ذریعے مسلمانوں کو جن عادات کو اپنانے کا درس دیا جاتا ہے، وہ کافروں نے اپنا رکھی ہیں۔ ہماری تمام تر توجہ صرف عبادات کی ادائی پر ہے جب کہ اس کے نتیجے میں ہمارے اندر وہ عادات زندگی بھر پختہ نہیں ہو پاتیں جو دراصل ان عبادات کی روح ہے ۔ کم کھانے یا کم سونے کی عادت ہو یا وقت کی پابندی کا معاملہ، صاف ستھرا رہنے کا مسئلہ ہو یا سچ بولنے کی عادت، انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی ذمہ داری ہو یا لوگوں کی مدد کرنے کی عادت، ان تمام معاملات میں غیر مسلم ہم سے کہیں آگے ہیں جس کا انہیں اس دنیا ہی میں اجر مل رہا ہے۔
کسی نے مجھ سے پوچھا کہ انگریزوں کی اکثریت کوجھوٹ بولنے کی عادت نہیں ہوتی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ مَیں نے کہا کہ انگریزوں کا حافظہ کمزور ہوتا ہے۔ کیوں کہ جھوٹ کو یاد رکھنا پڑتا ہے۔ عادت کے حوالے سے آپ نے وہ حکایت سنی یا پڑھی ہوگی کہ ایک بچھو ندی کے دوسرے کنارے پر جانا چاہتا تھا، لیکن بے بس تھا۔ کیوں کہ وہ تیرنا نہیں جانتا تھا۔ ایک کچھوے نے اس کو پریشان دیکھا، تو کہا کہ تم میری پیٹھ پر سوار ہو جاؤ، تو میں تمہیں دوسرے کنارے تک پہنچا دیتا ہوں۔ چناں چہ بچھو کچھوے کی پیٹھ پر بیٹھ گیا۔ کچھوے نے ابھی آدھی ندی عبور کی تھی کہ اسے ٹک ٹک کی آواز سنائی دی۔ اس نے بچھو سے پوچھا کہ یہ آواز کیسی ہے؟ بچھو نے بتایا کہ مَیں جہاں بھی بیٹھتا ہوں، وہاں ڈنک ضرور مارتا ہوں۔ یہ ٹک ٹک کی آواز تمہاری پیٹھ پر میرے ڈنک مارنے کی وجہ سے آ رہی ہے۔ یہ سن کر کچھوے نے ڈبکی لگاتے ہوئے کہا کہ مَیں جب ندی کے درمیان میں پہنچتا ہوں، تو ڈبکی ضرور لگاتا ہوں۔ یہ میری عادت ہے۔ بچھو غوطے کھا کر ندی میں ڈوبنے لگا مگر کچھوے نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔
بری عادتوں کی وجہ سے لوگ اپنے محسنوں کو بھی ڈنک مارنے سے باز نہیں آتے۔ بری عادتیں ابتدا میں کچے دھاگوں کی طرح ہوتی ہیں، مگر رفتہ رفتہ زندگی بھر کے لیے پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہیں۔ اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں، تو ہمارے احباب اور ملنے والوں میں بہت سے لوگ ایسے ہوں گے جو انتہائی شان دار شخصیت کے مالک ہوں گے، بہت سے خوبیوں کے حامل ہوں گے، مگر ان میں کوئی ایک گندی عادت ایسی ہو گی جو ان کی تمام خوبیوں پر پانی پھیر دیتی ہے۔ میرے ایک قریبی دوست کے بہنوئی نے بہت محنت کر کے دولت کمائی۔ اپنے خاندان کی کفالت کی۔ ملنے جلنے والوں کی ہر ممکن مدد کرتے رہے، مگر مالی خوشحالی آنے کے بعد انہیں جوا کھیلنے کی عادت پڑگئی اور وہ اس عادت کے ہاتھوں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا بیٹھے اور اب سب سے منھ چھپاتے پھرتے ہیں۔
برطانیہ میں بری عادات سے چھٹکارا دلانے کے لیے بہت سے مددگار ادارے کام کر رہے ہیں۔ شراب نوشی، سگریٹ نوشی، جوئے بازی، رنڈی بازی یا اسی طرح کی بہت سی علتوں اور عادتوں سے نجات کے لیے بہت سے لوگ ان اداروں کی مفت مدد حاصل کرتے ہیں اور اکثر ان گندی عادتوں سے جان چھڑانے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔
پاکستان میں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ لوگ اپنی بری عادتوں کو تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتے اور اگر انہیں اس سلسلے میں مدد کی ضرورت بھی پڑے، تو کوئی مؤثر ادارہ ان کی پرائیویسی کا خیال رکھتے ہوئے ان کی مدد کے لیے موجود نہیں اور اگر کوئی پرائیویٹ سہولت میسر بھی ہے، تو وہ مفت نہیں۔ اللہ رب العالمین ہمیں اور ہماری آئندہ نسلوں کو بری عادات کے شکنجے میں آنے سے محفوظ رکھے اور ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر ان اچھی عادتوں کو اپنائیں جن کا مَیں نے اوپر کی سطور میں حوالہ دیا ہے۔ اقوام اور افراد کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا راز ان کی اچھی اور بری عادتوں ہی میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
……………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے