54 total views, 1 views today

کیا آپ کا بچہ محفوظ ہے؟
اولاد کے معاملے میں والدین بہت حساس ہو تے ہیں۔ یونیسف کی ایک مصدقہ رپورٹ کے مطابق دنیا میں 3 میں سے 1 بچہ انٹرنیٹ کی تباہ کاریوں کا شکار ہو رہا ہے۔ بالخصوص نوجوانوں کو اس ڈیجیٹل لہر میں بہت زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔ موجودہ نسل ڈیجیٹل دور میں پروان چڑھنے والی پہلی نسل ہے۔ ڈیجیٹل مشینیں جیسا کہ موبائل، کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ وغیرہ زندگی کا ایک اہم جزو بن چکے ہیں۔ اس ضمن میں والدین کی ڈیجیٹل ذمہ داری اور تربیت کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔
ڈیجیٹل تربیت کا مطلب صرف بچوں کو مختلف اشیا کا استعمال سکھانا یا مہیا کرنا ہی نہیں بلکہ انہیں ان مشینوں کا درست استعمال سکھانے کے ساتھ خود بھی سیکھنا شامل ہے، تاکہ والدین بچوں کی ڈیجیٹل تربیت میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ ٹیکنالوجی کے استعمال سے لاعلم والدین کسی صورت بھی اپنے بچوں کو انٹرنیٹ کے منفی استعمال سے نہیں روک سکتے۔
موجودہ دور میں تربیت کا پرانا طریقہ، جدید طرز پر منتقل ہوچکا ہے۔ والدین کو اپنے بچوں کی بہترین تربیت کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال، کنڑول، انتظام اور تحفظ سے متعلق مہارتیں سیکھنی ہو ں گی۔
دنیا بھر میں کل آبادی کا 71 فی صد آن لائن رہتا ہے، 56 فی صد ویب سائٹس انگریزی میں دستیاب ہیں جو انگریزی نہ جاننے والوں کی مذہبی، ثقافتی، زبانی اور اخلاقی اقدار کے یکسر منافی ہیں اور انہیں متعلقہ مواد کی تلاش میں سخت مصائب کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔
12 سال سے کم عمر کے 71 فی صد والدین کو اپنے بچوں کے بے تحاشا موبائل وغیرہ کے استعمال پر شدید تشویش ہے جن میں سے 31 فی صد اس حوالے سے ہیجانی کیفیت کا شکار ہیں، تاہم 39 فی صد والدین ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے مطمئن ہیں اور 45 فی صد اپنے بچوں کو موبائل، کمپیوٹر اور لیپ ٹا پ وغیرہ کے استعمال کے لیے مخصوص وقت دیتے،ان کی نگرانی کر تے اور بہتر استعما ل کے مشوروں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔
11 سال سے کم عمر کے 61 فی صد والدین ڈیجیٹل کے استعمال کے حوالے سے صرف پیشہ وارانہ ماہرین سے مشاورت کو ترجیح دیتے، 55 فی صد دوسرے والدین سے مشاورت کو ترجیح دیتے جب کہ 45 فی صد اس ضمن میں اساتذہ سے مدد لیتے ہیں۔
والدین بچوں کی نشو و نما میں کمی کی وجہ سمارٹ فونز کو قرار دیتے ہیں اور ان کے دیرپا مضمرات کی وجہ سے بہت پریشان ہیں۔ 71 فی صد والدین کا ماننا ہے کہ سمارٹ فون کے بے تحاشا استعمال فائدے سے کہیں زیادہ نقصان دہ ہے۔ 80فی صد والدین کاکہنا ہے کہ ان کا 5 سے 11 سال کا بچہ کبھی کبھار فون استعمال کر تا ہے۔ 63 فی صدنے یہی رائے سمارٹ فونز بارے دی، جب کہ 5 سال سے کم عمر کے بچوں کے والدین کی رائے بالترتیب 48 فی صد اور 55 فی صد رہی۔
11سال سے کم عمر کے بچوں کے محض36فی صد والدین نے کہا کہ ان کے بچے کبھی کبھار وائس ایکٹیویٹڈ مدد سے موبائل استعمال کر تے ہیں جیسا کہ ایپل سیری یا امازون الیکسا۔
5 سال سے 11 سال عمر کے بچوں کے 46 فی صد والدین میں بچوں کے ڈیجیٹل استعمال سے متعلق تحفظات ہیں جب کہ 3 سے 4 سال کی عمر میں یہ شرح 30 فی صد ہے اور 3 سال سے کم یہ شرح14 فی صد رہ جاتی ہے۔ 56 فی صد والدین اپنے بچوں سے کہیں زیادہ وقت اپنے موبائل فون کے ساتھ گزارتے ہیں اور 68 فی صد والدین بچوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے فون کی طرف مگن ہو جاتے ہیں۔ اس طرح 73 فی صد والدین کی نظر میں بچوں کو اپنا موبائل 12 سال کی عمر کے بعد لے کر دینا چاہیے۔
سمارٹ فون کے حوالے سے 45 فی صد والدین کی رائے بھی یہی ہے جب کہ 28 فی صد والدین کے مطابق بچوں کو موبائل 15-17 سال کی عمر کے درمیان لے کر دینا چاہیے۔ صرف 22 فی صدوالدین کے مطابق بچوں کو 12 سال کی عمر سے پہلے موبائل لے کر دینا درست ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق 70.55 فی صد والدین طلبہ کی جانب سے سکولزسے متعلق انٹرنیٹ کے استعمال بارے منفی جب کہ 29.45 فی صد مثبت رائے رکھتے ہیں۔
اگرچہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی ہے، تاہم اس کے باوجود 9-11 سال کی عمر کے 30 فی صد طلبہ تعلیمی اداروں میں موبائل فون استعمال کر تے ہیں۔
دنیا بھر میں دیگر عدم مساوات کے برعکس ڈیجیٹل کے استعمال میں کوئی خاطر خواہ فرق دیکھنے میں نہیں ملتا۔ افریقہ میں 0.9 فی صد، جنوبی امریکہ کے کچھ حصوں میں 2.9 فی صد، اٹلی میں 2.6 فی صد، گانا میں 12 فی صد، فلپائن میں 21 فی صد اور البانیہ میں 26 فی صد بچے انٹرنیٹ استعمال کر تے ہیں جب کہ اس کے برعکس جنوبی امریکہ اور یورپ کے دیگر حصوں میں انٹرنیٹ سے منسلک بچوں کی تعداد54-63 فی صد ہے۔
مغربی ممالک میں والدین کے نصیحت آموز اور سمجھانے کے انداز کے برعکس مشرقی ممالک میں بچوں کو سمجھانے کے بجائے ان کے ساتھ سختی سے پیش آیا جاتا ہے اور ان پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ اس سخت رویے، ڈانٹ اور پابندیوں کی بنیادی وجہ والدین یا نگران کے پاس ڈیجیٹل سکلز کی کمی ہے۔ تحکمانہ اور اجارہ دارانہ رویہ بچوں کی ڈیجیٹل اور تخلیقی صلاحیتوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ جدید معاشرے میں والدین کے پاس ڈیجیٹل رہنمائی اور نگرانی کی مہارتوں اور علم کی کمی کی وجہ سے وہ بچوں پر سختی کرنے کا طریقہ اختیار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بچے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں دوسرے بچوں سے کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔
موجودہ ڈیجیٹل نسل کو مناسب مشاورت، رہنمائی، تربیت اور نگرانی کی ضرورت ہے جیسا کہ والدین ڈیجیٹل دور سے پہلے یہ کام کیا کرتے تھے۔ اگر ہم تربیت کا وہی طریقہ ڈیجیٹل انداز میں اختیار کرلیں، تو بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
ترقی پذیر یا کم ترقی یافتہ ممالک کے بچوں کے ساتھ بیشتر مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ زیادہ تر بچے والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کے بغیر اپنے رشتہ داروں کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بچوں کی ڈیجیٹل مہارتیں ختم ہو کر رہ جاتی ہیں اور وہ ٹیکنالوجی کی محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
کم ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکنالوجی کی اس تقسیم اور عدم مساوات کو ختم یا کم کرنے کے لیے ادارے اتنے مضبوط نہیں۔ اوسطاً والدین کی ڈیجیٹل مہارت اور معلومات 14 سالہ بچے کے برابر یا اس سے قدرے کم ہے۔ بچے والدین کی ڈیجیٹل مہارت کی کمی اور معلومات کا فائد ہ اٹھاتے ہوئے انٹرنیٹ کا غیرضروری اور غیر متعلقہ استعما ل کرتے ہیں۔
مغربی ممالک میں بچے اپنے ساتھ ہونے والے تجربات اور واقعات کا تبادلہ والدین سے کر تے ہیں جب کہ مشرقی ممالک میں یہ رجحان انتہائی کم ہے۔
کچھ والدین بچوں کو مہارتوں اور ڈیجیٹل لرننگ کے لیے پیشہ وارانہ افراد کے ذمہ لگاتے ہیں،مگر وہ تمام ذرائع بھی کسی طرح قابلِ اعتماد اور قابلِ بھروسا نہیں۔
2007ء میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے والدین کی ڈیجیٹل تربیت اور مہارتوں کے لیے ایک فریم ورک ترتیب دیا تھا، جس کو اختیار کرکے بچوں کی درست ڈیجیٹل رہنمائی کی جا سکتی ہے۔
دنیا بھر کے والدین میں سے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے والدین اپنے بچوں کے ڈیجیٹل استعمال کے بارے میں بہت زیادہ پریشان ہیں۔ اگرچہ مختلف فورمز، ڈیجیٹل کمپنیاں او ر ماہرین بھی رہنمائی کے لیے اپنی خدمات دے رہے ہیں، تاہم والدین ان پر مکمل اعتماد کرنے سے گریزاں ہیں۔
24 ممالک سے لیے گئے ڈیٹا کے مطابق 97 فی صد حاملہ خواتین رہنمائی کے لیے انٹرنیٹ، 94 فی صد انٹر نیٹ سپلیمنٹ معلومات استعمال کرتی ہیں جب کہ 48.6 فی صد طبعی ماہرین سے نالاں اور غیر مطمئن دکھائی دیں۔ کیوں کہ یا تو ان کے پاس پیشہ وارانہ ماہرین کے سوالوں کے جوابات نہیں، یا وقت کی شدید قلت ہے۔
سال 2015ء میں ایپل نے ’’رنگ ٹونز‘‘ خواتین کی صحت سے متعلق سیٹ کیں تاہم انٹر نیٹ کا استعمال کر نے والی غیر سفید فارم، کم آمدنی والی اور انگریزی زبان میں مہارت نہ رکھنے والے افراد ڈیجیٹل دنیا کے وحشیانہ چکر میں پھنس جاتے ہیں۔ مختلف ایپس پر دی جانے والی رائے بھی جعلی ہوتی اور اکثر درج کچھ ہوتا اور جب استعمال کریں، تو عملی طور پر ’’ایپ‘‘ اس کے برعکس ہوتا۔
ایپس انفرادی ڈیٹا چوری کرنے کے لیے بھی بدنام ہیں اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا، جس کی سب سے بڑی وجہ ’’ڈیجیٹل کرائم‘‘ سے متعلق آگاہی کی کمی اور ٹھوس قوانین کی عدم موجودگی ہے۔
اکثر اوقات استعمال کرنے والا یا تو شرائط کو پڑھتا ہی نہیں، اگر پڑھ بھی لے، تو ڈیجیٹل معلومات کی کمی کی وجہ سے انہیں سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔
ایک تحقیقی فرم کے مطابق آئندہ سالوں میں بچوں سے متعلق ڈیجیٹل کی دنیا میں بہت تیزی سے اور بہت زیادہ ترقی دیکھنے کو ملے گی، جس کی وجہ سے والدین کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گا۔
بچوں کے تحفظ سے متعلق والدین کا فلسفہ ڈیجیٹل تحفظ مزید تقویت اختیار کرے گا ۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2010ء میں ایسٹونین کے محض 16 فی صد لوگ اپنے بچوں کے انٹرنیٹ استعمال کے بارے تکنیکی فکر مند ی کا شکار تھے۔ 2018ء میں یہ تعداد بڑھ کر 37 فی صد سے تجاوز کر چکی ہے۔
(نوٹ:۔ کالم سے متعلق رائے کے لیے رابطہ نمبر 03214756436)
………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے