37 total views, 3 views today

ہر سال 8 ستمبر کو پورا عالم یومِ خواندگی مناتا ہے۔ خواندگی کا بنیادی مطلب ’’لکھنا اور پڑھنا‘‘ ہوتا ہے۔ تاہم جدید تصورات کی رو سے اس سے مراد وہ خوبیاں اور مادی و غیرمادی وسائل حاصل کرنا ہیں، جن کو بروئے کار لاکر ایک فرد اپنی زندگی اور عزت کا تحفظ کرنے کے ساتھ اسے باوقار طریقے سے اور اپنے اختیار کے مطابق بسر کرسکے، جہاں اسے وہ سہولیات میسر ہوں جو ایک بااختیار زندگی کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ ان خوبیوں میں پڑھنا اور لکھنا بھی شامل ہے۔ پڑھنا اور لکھنا ہنر بھی ہے جو ہمیں ابلاغ کے ان ذرائع تک پہنچاتا ہے جن سے ہمیں اپنے ہاں قوانین، صحت، حکومتی انتظام و انصرام اور اپنے حقوق کا پتا ملتا ہے، تاہم ایسے کئی تضادات سے سماج بھرا پڑا ہوتا ہے، جن کا احساس ایک مسلسل عذاب میں مبتلا رکھتا ہے۔
پہلا تضاد یہی ہے کہ ہم سب نے عقل و دانش صرف لکھائی اور پڑھائی کے ہنر سے منسلک کیے ہیں۔ ان ہنروں کے جاننے والے کو تعلیم یافتہ یعنی عقل مند کہا جاتا ہے جب کہ جن لوگوں نے یہ ہنر نہیں سیکھے ہیں، ان کو عموماً کمتر جانا جاتا ہے۔ اس کی مثال آئے دن گاؤں کے کسی بزرگ کی یہ فریاد ہے کہ ’’بیٹا! مَیں تو اَن پڑھ جاہل ہوں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ تعلیم یافتہ ہیں۔‘‘ یا پھر یہی طعنے روز سننے کو ملتے ہیں کہ ’’آپ تو تعلیم یافتہ ہیں، آپ سے ایسی کوئی توقع نہیں تھی۔‘‘ دونوں صورتوں میں لکھنے اور پڑھنے کے ان ہنروں کو شعور، فکر اور علم سمجھا گیا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہر مولوی سے توقع کی جاتی ہے کہ بس وہ تو انسانی غلطیوں سے ماورا ہے۔
دوسرا تضاد ’’اختیار‘‘ کا ہے۔ سماج میں عورتوں کی زندگی کا پورا انحصار مردوں کی خواہشات پر کردیا گیا ہے۔ عورت چاہے ماں کے روپ میں ہو، یا بہن یا پھر بیوی کے روپ میں، اس کا اختیار مردوں کے ہاتھ میں ہے۔ مثال کے طور پر اگر ماں، بہن یا بیوی بیمار پڑ جاتی ہے، تو بیشتر صورتوں میں اسے یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ خود اپنی صحت کے بارے میں فیصلہ کرسکے اور اپنی مرضی سے کسی ڈاکٹر کے پاس چلی جائے۔ وہ کسی مرد (شوہر، بھائی یا باپ) کی طرف دیکھے گی کہ وہ کیا سوچتا ہے، اور جب یہی مرد غریب ہو، تو پھر حالت ناقابلِ بیان ہوجاتی ہے۔ عورت کبھی کھل کر اور بلاجھجھک ہمارے معاشرے میں مردوں سے کوئی مطالبہ نہیں کرسکتی۔ کیوں کہ وہ نقد نہیں کماتی اور اگر نقدی کسی کے پاس ہوتی ہے، تو وہ مرد ہوتا ہے اور وہ اس بارے میں اس قدر حساس نہیں ہوگا۔ فرض کریں میں خود بیمار پڑجاتا ہوں، تو کیا جو میں اپنی صحت کے لیے کرتا ہوں، وہی جب گھر کی کوئی خاتون بیمار پڑجاتی ہے، اس کے لیے کرپاتا ہوں؟ مَیں اعتراف کرتا ہوں کہ ہزاروں کتابیں پڑھنے کے باوجود مجھ میں اس قدر دوسروں کے لیے احساس نہیں ہوگا جو مَیں اپنے لیے کرتا ہوں۔
تیسرا تضاد، جو تعلیم مروجہ طریقے سے ہمیں دی جاتی ہے، وہ ہمیں آزاد کرنے کی بجائے بلکہ آزادی کے نام پر کسی شخصیت کا، نظریے کا، قومیت کا اور ملک کا غلام بناتی ہے۔ یہی تعلیم یافتہ لوگ کسی شخصیت کے ذہنی غلام ہوکر اس کو اُن اَن پڑھ اور جاہلوں پر بھی مسلط کردیتے ہیں۔ ہماری مروجہ تعلیم فکر کی بجائے ’’شخصیت پرستی‘‘ اور ’’جھوٹی بنیادوں‘‘ پر کھڑی ہے، وہاں آزادانہ فکر کی اجازت نہیں اور افراد کا ایک گروہ مل کر ہمیں اپنی نظریاتی اور عصبی خواہش کے تابع بناتا ہے۔ یہی تعلیم ہمارے لیے دشمن گھڑتی ہے۔ اُن کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے اور ہمیں ہمیشہ خوف میں مبتلا کرکے ہمارے ذہنوں پر قبضہ کرتی ہے۔ اسی طرح یہ تعلیم سدھانے کا عمل بن جاتی ہے اور ہم ایک من گھڑت تصور کے غلام گردشوں میں کھو جاتے ہیں۔ ہمیں دوسرے انسانوں سے منفرد اور مختلف بلکہ اکثر ان سے متضاد پیش کیا جاتا ہے۔ یہ تعلیم ہمارے لیے کئی قومی ہیروز تراشتی ہے اور اکثر اوقات اپنے تاریخی ہیروز کو ویلن بنا کر پیش کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے عام تعلیم یافتہ لوگوں کی اکثریت اسی خوف اور نفرت پر مبنی ریاستی بیانیے کو اپناتی ہے اور اس سے انحراف کو غداری، ملک دشمنی تصور کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اپنے ملک کی ایک خوب صورت وادی پر کابل کی طرح کچھ لوگوں نے قبضہ کیا، تو ان کے خلاف آپریشن کیا گیا اور ان کی مذہبی بات نہیں مانی گئی جب کہ ایسے ہی لوگوں کی دن رات تعریفیں کی جاتی ہیں جب انہوں نے کسی اور ملک پر قبضہ کیا۔ ہم کسی کے بنائے ہوئے نظریے کے چکر میں آکر ان کی یہ دیکھے بغیر حمایت پر کمر بستہ ہوجاتے ہیں کہ آیا وہاں کے عوام کیا سوچتے ہیں۔ دوسری مثال یہ ہے کہ ہمارے ایسے تعلیم یافتہ لوگوں کی اکثریت ہندوستان میں اور دوسرے ملکوں میں سیکولرازم چاہتے ہیں، مگر اپنے ہاں سرکاری طور پر بھی مذہب کو ہر شعبے میں چاہیں گے۔ وہ گویا یہ اعتراف کرتے ہیں کہ سیاست میں سیکولرازم ہی بہتر ہے، تاہم اپنی اکثریت کے خمار میں مبتلا ہوکر اپنے ملک میں ایسا نہیں چاہیں گے !
چوتھا تضاد اس تعلیم کا یہی ہے کہ یہ تعلیم نوآبادیت کو پروان چڑھاتی ہے۔ ہماری تعلیم میں تو برطانوی نوآبادیت پر بھی کوئی بات نہیں ہورہی، اندرونی نوآبادیت تو دور کی بات ہے۔ یہ دوسری اقوام کو غیر بناکر پیش کرتی ہے، تاہم کبھی نوآبادیت اور استعماریت پر بات نہیں کرے گی۔ ہم جس قدر اندرونی نوآبادیت اور استعماریت کے شکار ہیں، وہ بیرونی نوآبادیت سے زیادہ بھیانک ہے لیکن یہ تعلیم ان اندرونی آبادکاروں کو ہیرو اور نجات دہندہ و محافظ بنا کر پیش کرے گی۔
پاکستان کی عمر 74 سال ہوگئی، مگر ابھی تک یہاں تعلیم کی سمت کا تعین نہیں ہوسکا، جو گروہ اقتدار میں آیا، اس نے اپنے منشا کے مطابق پورے ملک کے لیے تعلیم کی پالیسیاں وضع کیں اور اس کو دوسروں پر ٹھونس دیا۔ ایسے میں زیادہ فکر ان بچوں کی ہورہی ہے جو سکول جاتے ہیں!
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے