34 total views, 2 views today

ہم تینوں دوست ’’ہیتھرو ایئرپورٹ‘‘ کے ’’ٹرمینل 3‘‘ پر کھڑے اپنے چوتھے دوست کا انتظار کر رہے تھے، جو اپنے سامان کے انتظار میں ’’ٹرالی‘‘ لیے کھڑا تھا۔ جہاز کو ہوائی اڈے پر اُترے تقریباً ایک گھنٹا گزر چکا تھا۔ ہمارا یہ چوتھا دوست ہمیشہ سفر پر جاتے اور آتے وقت اپنے ساتھ فالتو سامان لاد لیتا ہے، جس کا خمیازہ ہم تینوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ جس سفر میں یہ دوست ہمارے ساتھ نہ ہو، تو ہماری وہ مسافت بہت آسان ہوجاتی ہے۔ کیوں کہ جب ہم تینوں دوست سفر پر کسی دوسرے ملک جاتے ہیں، تو ہمارے پاس صرف ہینڈ لگیج (Hand Luggage) ہوتا ہے جس کی وجہ سے نہ تو ہمیں بُک کیے ہوئے سامان کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور نہ امیگریشن کے لیے قطار میں زیادہ دیر کھڑے ہونے کی زحمت ہی اٹھانا پڑتی ہے۔ 26 ملکوں کے سفر بلکہ بار بار سفر کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جس مسافر کے پاس سب سے کم یا صرف ضرورت کا سامان ہو، اس کا سفر سب سے آسان رہتا ہے۔ صرف دنیا کا سفر ہی نہیں بلکہ آخرت کے سفر میں بھی انہی مسافروں کو آسانی اور سہولت ہو گی جن کے پاس حساب دینے کے لیے دنیا کا سامان کم سے کم ہوگا۔
اللہ رب العالمین کے آخری نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مال و دولت کو اپنی امت کے لیے ایک کڑی آزمائش اور امتحان قرار دیا تھا، لیکن اگر آپ دنیا کے کسی بھی ملک کے مسلمانوں کو دیکھیں، تو ان میں زیادہ سے زیادہ دولت کے حصول اور مال جمع کرنے کی خواہش دوسرے مذاہب کے لوگوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے اور اس مقصد کے لیے وہ ہر جائز و ناجائزحربہ آزمانے اور چکر چلانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے آخری خطبے حجۃالوداع میں اپنی امت کو جن جن کاموں سے منع فرمایا اور جن چیزوں سے باز رہنے کی تلقین کی، عصرِ حاضر میں مسلمانوں کی اکثریت اپنے عمل سے ان سنہری ہدایات کی نفی کر رہی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’لوگو تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسی ہی حرام ہیں جیسے کہ تم پر آج کے دن کی، اس شہر کی، اس مہینے کی حرمت کرتے ہو۔ لوگو! تمہیں عنقریب خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔ خبردار! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے لگو۔‘‘
قارئین، اگر ہم 50 سے زیادہ مسلمان ممالک اور خاص طور پر اسلامی جمہوریۂ پاکستان کے حالات کا جائزہ لیں، تو یہ حقیقت بہت واضح ہے کہ دولت کی غیر مساوی تقسیم کے باعث ہمارا معاشرہ طرح طرح کے مسائل میں مبتلا ہے۔ پاکستان میں جو لوگ امیر ہیں، ان کے پاس بے حساب دولت ہے اور وہ پانی کی طرح پیسا بہاتے ہیں۔ بہت سے ’’اوورسیز‘‘ پاکستانی جب وطن واپس جاتے اور ریسٹورانٹ یا شاپنگ سنٹروں میں اپنے ہم وطنوں کو پیسا خرچ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، تو وہ حیران رہ جاتے ہیں کہ پاؤنڈ اور ڈالر کمانے کے باوجود وہ ان شہ خرچیوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
جیسا کہ میرے ایک دوست پاکستان کے بڑے بڑے سرکاری افسران سے تعلقات بنانے کے بڑے شوقین ہیں۔ وہ جب بھی پاکستان جاتے ہیں، تو اپنے ان افسر دوستوں کے لیے تحائف کے سوٹ کیس بھر کر لے جاتے ہیں، جو ان کے اعزاز میں پرائیویٹ پارٹیوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ کوئی بھی سرکاری افسر ایک پرائیویٹ پارٹی پر جتنی رقم خرچ کرتا ہے، وہ اس کی ماہانہ تنخواہ سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ پاکستان میں زیادہ سے زیادہ دولت کے حصول کی ہوس نے ہماری معاشرتی اخلاقیات کا ستیاناس کرکے ہر ایک کو کرپشن اور قانون شکنی کی طرف مائل کر دیا ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ لوگ رشوت خور اور بدعنوان سرکاری افسروں سے پہلو بچاتے اور ان سے گھریلو میل جول سے گریز کرتے تھے، لیکن اب ہزاروں میں ماہانہ تنخواہ لینے اور لاکھوں میں خرچ کرنے والے سرکاری ملازمین سے تعلق داری پر لوگ فخر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر سرکاری افسر بڑے کام کا آدمی ہے۔
کوئی یہ نہیں سوچتا یا پوچھتا کہ اس سرکاری ملازم کے پاس اس کی آمدنی سے زیادہ اثاثے کہاں سے آئے؟
زیادہ سے زیادہ دولت کے حصول کی ہوس انسان کو کبھی چین اور سکون سے جینے نہیں دیتی۔ جو فرد یا قوم جائز و ناجائز ذرائع سے صرف دولت کے حصول کو اپنانصب العین بنا لے، وہاں کے معاشرے افراتفری آماج گاہ بن جاتے ہیں۔ مال و دولت جمع کرنے کی تمنا اور جستجو انسان کو قبر تک لے جاتی ہے اور دولت کے پجاریوں کی اکثریت اپنا مال اور خزانے ان لوگوں کے لیے چھوڑ جاتے ہیں جن کو وہ اپنی زندگی میں ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں دینا چاہتے ۔
بہت سے لوگ جو صرف دولت جمع کرنے میں اپنی زندگی صرف کر دیتے ہیں، اسے خرچ کرنا ان کے نصیب میں نہیں ہوتا۔ ان کی جمع کی ہوئی دولت کو ان کے بعد کوئی اور خرچ کرتا ہے لیکن روزِ آخرت اس کا حساب جمع کرنے والے کو دینا پڑے گا۔
قارئین، انگریزوں میں دولت کے حصول اور اسے خرچ کرنے کا نقطۂ نظر مسلمانوں سے بالکل مختلف ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ گوروں کی اکثریت زیادہ سے زیادہ دولت کے حصول کی ہوس میں مبتلا نہیں۔ برطانیہ میں تین طرح کے لوگ ہیں تاجر، ملازمین (سرکاری اور پرائیویٹ) اور بے روزگار جنہیں حکومت روٹی کپڑا اور مکان کے وسائل فراہم کرتی ہے۔ برطانوی تاجر دو نمبری، ملاوٹ اور جعل سازی کے بغیر اپنا کاروبار کرتے ہیں۔ ٹیکس دیتے ہیں۔ ملازمین کی ہیلتھ اینڈ سیفٹی اور ان کی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے کے خبط اور دوسروں کا حق مارنے کے جنون میں مبتلا نہیں ہوتے۔ اس لیے پُرآسائش اور پُرسکون زندگی گزارتے ہیں۔ سیاست کے بکھیڑوں میں نہیں الجھتے بلکہ خیراتی اداروں کو اپنی زندگی میں بہت کچھ دیتے اور مرنے کے بعد بھی اپنی وصیت میں فلاحی کاموں کے لیے کچھ نہ کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں۔ اس طرح سرکاری اور پرائیویٹ کمپنیوں کے ملازمین کام کے اوقات کی نہ صرف پابندی کرتے ہیں بلکہ ان اوقات کے دوران میں ذمہ داری سے اپنا کام کرتے ہیں۔ ملازمین کی اکثریت ہڈ حرامی سے باز رہتی ہے۔ مراعات کے حصول کے لیے جتن کرنے سے زیادہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
اس طرح ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے برطانیہ میں بہت سے ادارے اور ٹریڈ یونین موجود ہیں، لیکن وہ بھی صرف ایسے ملازموں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں جو اپنے فرائضِ منصبی میں کوتاہی نہ برتتے ہوں۔ جو لوگ بے روزگار ہوں، حکومت ان کو ہفتہ وار مالی امداد دیتی ہے جس سے ان کا گزارہ ہوتارہتا ہے، جیسے ہی ان لوگوں کوملازمت ملتی ہے، تو ان کی سرکاری امداد بند کر دی جاتی ہے۔
برطانیہ میں جگہ جگہ سرکاری جاب سنٹر موجود ہیں جو بے روزگار لوگوں کو ملازمت کے حصول کے لیے مشورے، رہنمائی اور مدد فراہم کرتے ہیں ی، جرائم، بدامنی، منافقت، مفاد پرستی اور بے حسی ک۔
برطانیہ میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو حکومت سے بے روزگاری الاؤنس بھی لیتی ہے اور چوری چھپے کوئی چھوٹا موٹا کام بھی کرتی رہتی ہے، لیکن ایسے لوگوں کی کارستانیوں کا بھانڈا پھوٹنے پر انہیں لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔
اس طرح ڈھیر سارے لوگ معمولی معذوری کو بڑھا چڑھا کر مکمل معذوری کا کوئی سرٹیفکیٹ یا رپورٹ بنوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، لیکن اگر کسی طرح یہ ثابت ہو جائے کہ یہ جعلی معذور ہے، تو اسے بھاری جرمانے اور سرکاری انکوائری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جن انگریزوں کو بے روزگاری اور معذوری الاؤنس ملتا ہے، وہ اسے ہر ہفتے خرچ کر کے اپنی زندگی کے معمولات کو جاری رکھتے ہیں جب کہ برطانیہ میں آباد تارکینِ وطن اور خاص طور پر صومالیہ اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کر کے چائلڈ بینیفٹ کی مد میں ایک بڑی رقم سرکاری خزانے سے وصول کرتی ہے۔
اس ملک میں اُوورسیز مسلمان کمیونٹی میں یہ رجحان بھی عام ہے کہ ان کو بے روزگاری، معذوری یا چائلڈ بینیفٹ کے طور پر جو مالی امداد ملتی ہے، وہ اسے خرچ کرنے کی بجائے جمع کرتے رہتے ہیں اور اپنے آبائی ملکوں میں اس رقم سے جائیدادیں خریدتے ہیں۔ سونے کے زیورات بنوا کر لاکروں میں محفوظ کر دیتے ہیں اور یہ بھید اس وقت کھلتا ہے جب ان جائیدادوں پر قبضے ہوجاتے ہیں یا ان قیمتی زیورات کو کوئی ہتھیا لیتا ہے۔
ہم مسلمان فقر و درویشی کی باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن عملی طور پر اپنی ساری زندگی صرف اور صرف دولت کے حصول بلکہ زیادہ سے زیادہ دولت کے حصول کے لیے تگ و دو میں صرف کر دیتے ہیں اور اگر خوش قسمتی یا کرپشن کے ذریعے مال و دولت حاصل کر بھی لیں، تو اس کے خمار میں مبتلا ہو کر دوسروں کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ گورے کبھی دولت کو ہاتھ کا میل قرار نہیں دیتے، نہ ان کی کرنسی پر یہ لکھا ہوتا ہے کہ ’’رزقِ حلال عین عبادت ہے‘‘ نہ وہ فقر و درویشی کالبادہ ہی اوڑھ کر دولت کی ہوس میں مبتلا ہوتے ہیں، نہ دیانت داری کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں، بس اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ اپنی ذمہ داریوں کو ہر ممکن طریقے سے نبھانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ بھاشن دینے یا اقوالِ زریں پر سر دُھننے کی بجائے اپنے حصے کا سچ بولتے اور اپنے حصے کا چراغ جلانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
وہ قناعت جسے مسلمان اپنی میراث سمجھتے ہیں، مغربی اقوام نے عملی طور پر اسے اپنا رکھا ہے۔ مرنے کے بعد آخرت میں جزا و سزاکا فیصلہ اٹل ہے، لیکن خالقِ کائنات نے دنیا میں بھی افراد اور اقوام کے اعمال کی جزا و سزا کے سلسلے کو جاری رکھا ہوا ہے۔ ملکوں اور قوموں کی خوش حالی یا بدحالی انہی اعمال کا نتیجہ ہے۔
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے