44 total views, 1 views today

جس دن ’’ڈیلی مرر‘‘ میں یہ کارٹون شائع ہوا، اُسی روز مجھے یقین ہوگیا تھا کہ اب ٹونی بلیئر حکومت کی بساط لپٹنے والی ہے۔ کارٹون میں دکھایا گیا تھا کہ امریکی صدر جارج بش نے ایک کتے کی رسی تھامی ہوئی ہے اور وہ عراق پر حملے کے لیے پیش قدمی کر رہا ہے اور اس کتے کی شکل ٹونی بلیئر کے چہرے سے مشابہ تھی۔ حالاں کہ ٹونی بلیئر اس وقت برطانیہ کے مقبول ترین وزیر اعظم اور لیبر پارٹی کے کرشماتی رہنما تھے۔ ٹونی بلیئر کی مقبولیت اور سیاسی بصیرت کی وجہ سے لیبر پارٹی کو 18 برس بعد اقتدار میں آنے کا موقع ملا تھا۔ مارگریٹ تھیچر اور جان میجر کی حکومتوں کے دوران میں عام لوگوں اور ملازمت پیشہ طبقے کی ذہن میں یہ خیال پختہ ہوچکا تھا کہ ’’کنزرویٹو پارٹی‘‘ سرمایہ داروں کی سرپرست ہے اور اس کی حکومتی پالیسیاں محنت کش طبقے کے حق میں نہیں۔ لیبر پارٹی نے اپنے حزبِ اختلاف کے دور میں عام لوگوں کی فلاح وبہبود کے لیے شان دار پالیسیاں وضع کیں۔ 1994ء میں لیبر لیڈر جان سمتھ کی اچانک وفات کے بعد پارٹی کی قیادت کے لیے ٹونی بلیئر کو منتخب کیا گیا، جو اس سے پہلے شیڈو ہوم سیکرٹری کے طور پر کام کر رہے تھے اور اپنی مقبولیت کی راہیں ہموار کرچکے تھے۔ 1997ء کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی نے شان دار اور فقید المثال کامیابی حاصل کی۔ اقتدار سنبھالتے ہی ٹونی بلیئر نے اپنے بہت سے انتخابی وعدے پورے کیے اور اپنی عوام دوست پالیسیوں کو عملی جامہ پہنایا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عام لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر ہوا اور لیبر پارٹی کی مقبولیت میں دن بہ دن اضافہ ہو تا گیا۔ لوگ ٹونی بلیئر کی قائدانہ صلاحیتوں کے معترف ہوگئے جس کے بعد 2001ء اور 2005ء کے عام انتخابات میں بھی لیبر پارٹی شان دار کامیابی سے ہمکنار ہوئی لیکن وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے ایک غلط فیصلے نے ان کی مقبولیت اور حکومت کی کارکردگی پر پانی پھیر دیا۔
2002ء کے آخر میں جب امریکی صدر جارج بش عراق میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے لیے سازشوں میں مصروف تھے اور انسانوں کی تباہی والے ہتھیاروں یعنی (WEAPONS OF MASS DESTRUCTION) کو بہانہ بنا کر ایک خوشحال ملک کو ملبے کے ڈھیر میں بدلنے کے لیے پر تول رہے تھے، تو اس وقت ٹونی بلیئر نے برطانوی وزیر اعظم کی حیثیت میں امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ یہی وہ غلطی تھی جس کا خمیازہ لیبر پارٹی اور ٹونی بلیئر کو آج تک بھگتنا پڑ رہا ہے۔ عراق پر یک طرفہ جنگ مسلط کرنے کے اس فیصلے کے خلاف ستمبر 2002ء میں لندن میں ایک تاریخی احتجاجی مظاہرہ بھی ہوا جس میں لاکھوں امن پسند شہریوں نے شرکت کی (جن میں اکثریت غیر مسلموں کی تھی۔) ٹونی بلیئر نے جارج بش کی اندھی تقلید کی۔ برطانوی ذرائع ابلاغ نے بھی عراق پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خوفناک حملوں کے خلاف بہت شور مچایالیکن طاقت کے نشے میں چور امریکہ اور اس کے حواریوں نے اپنے کان بند کرلیے اور خاص طور پر برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے نوشتۂ دیوار نہ پڑھا۔ اپنا اور اپنی پارٹی کا مستقبل داؤ پر لگا دیا۔ 19 مارچ 2003ء میں عراق پر اسلحے اور بارود کی بارش کے بعد اور صدام حسین کی پھانسی تک جب بغداد یا کسی اور شہر سے انسانوں کی تباہی والے کسی قسم کے اسلحے کا سراغ نہ ملا، تو ٹونی بلیئر کے خلاف احتجاج کا ایک طوفان کھڑا ہوگیا جس کے بعد لیبر پارٹی نے کئی سال تک اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے ہر ممکن جتن کیے، لیکن بے سود۔ بالآخر 27 جون 2007ء کو ٹونی بلیئر کے اقتدار کا سورج ایک غلط فیصلے کی وجہ سے غروب ہوگیا۔ عوام کے اعتماد سے محرومی کی جو گرہ ٹونی بلیئر نے اپنے ہاتھوں سے لگائی تھی، ان کے بعد لیبر پارٹی کی پوری قیادت مل کر بھی اسے اپنے دانتوں سے نہیں کھول سکی۔ اسے کہتے ہیں کہ جمہوریت ایک بہترین انتقام ہے اور طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہیں۔
برطانوی عوام اور ووٹرز کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ سیاست دانوں کے جھوٹے وعدوں کے فریب میں نہیں آتے اور ان کے لفظی دعوؤں کے جال میں نہیں پھنستے۔ان کے نزدیک کسی بھی سیاسی جماعت کی کارکردگی اور کسی بھی سیاست دان کا عمل ہی وہ پیمانہ اور معیار ہوتا ہے جس کو پیشِ نظر رکھ کر وہ انہیں ووٹ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اسی لیے برطانیہ کی سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم کے دوران میں کوئی بھی ایسا وعدہ کرنے سے گریز کرتی ہیں جس کو اقتدار میں آنے کے بعد پورا کرنا ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ برطانوی عوام کے سیاسی شعور کی بنیادی وجہ تعلیم ہے لیکن جب مجھ جیسے بہت سے تارکینِ وطن اپنے دیس پاکستان میں بہت سے اعلا تعلیم یافتہ اور باشعور لوگوں کو اندرونِ سندھ کے مفلوک الحال نیم مردہ عوام کے سامنے ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘، یا الیکشن کے دنوں میں اندرونِ لاہور کے اُبلتے ہوئے گٹروں کی غلاظت سے دامن بچاتے مجبور عوام کے سامنے ’’میاں دے نعرے وجن گے‘‘ یا مہنگائی کے مارے فاقہ زدہ لوگوں کے سامنے جب ’’آئے گا عمران، بنے گا نیا پاکستان‘‘ کے نعرے لگاتے دیکھتے ہیں، تو حیران رہ جاتے ہیں کہ یہ کیسے پڑھے لکھے اور باشعورلوگ ہیں جو بڑے فخر سے سیاسی غلامی اور شخصیت پرستی کا تاج اپنے سر پر سجائے پھرتے ہیں؟ اگر جمہوریت ایک بہترین انتقام ہے، تو یہ انتقام حکمرانوں اور سیاست دانوں کی بجائے عوام سے کیوں لیا جا رہا ہے؟ اگر طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہیں، تو عوام کو اپنی اس طاقت کا ادراک کیوں نہیں؟
برطانیہ میں سیاست کو کھیل نہیں سمجھا جاتا، لیکن یہاں کے اکثر سیاست دان ’’سپورٹس مین سپرٹ‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جب تک وہ ذہنی اور جسمانی طور پر خود کو سیاست کے لیے فٹ (FIT) سمجھتے ہیں، اپنی بھرپور توانائی اور اہلیت کو بروئے کار لاکر سیاست کرتے ہیں اور جب وہ سمجھتے ہیں کہ اب وہ سیاست اور عوامی خدمت کا فریضہ ادا کرنے کے لیے فعال نہیں رہ سکتے، تو عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں اور کسی اور کو اپنی جگہ آنے کا موقع فراہم کر دیتے ہیں۔ وہ انتظار نہیں کرتے کہ ان کی اولاد جوان ہو کر ان کی جگہ لے گی، یا وہ اس طرح کی منصوبہ بندی نہیں کرتے کہ صرف اپنے خاندان کے لوگوں کو اپنی سیاسی وراثت کا حقدار بنائیں جب کہ پاکستان میں ہر بڑی مذہبی اور سیاسی جماعت کی قیادت، وراثت کے طور پر منتقل ہوتی ہے اور اگر سیاسی وارث کم عمر ہوں، تو ان کے بالغ اور جوان ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ ان کے سروں پر ان خاندانی نسبتوں کی دستار بھی سجا دی جاتی ہے جس کی وجہ سے دوسروں پر ان کا احترام لازم ہوجائے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام اتنے سادہ اور بھولے ہیں کہ پہلے اپنے سروں پر ایسے لوگوں کو مسلط کرتے ہیں جو ملک و قوم کی تمام خرابیوں کے ذمہ دار اور آمریتوں کی پیداوار ہیں۔ پھر شکایت کرتے ہیں کہ حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوگئے ہیں۔ ہمارے ملک کے عوام کو اس اٹل حقیقت کا ادراک کر لینا چاہیے کہ تبدیلی سیاست دان یا حکمران نہیں بلکہ عوام لے کر آتے ہیں۔ جس دن ہمارے عوام نے تبدیل ہونا شروع کر دیا، اسی دن ملک میں تبدیلی اور امید کا سورج طلوع ہونا شروع ہو جائے گا۔ آج کی دنیا میں صرف اُنہی ملکوں کو دیانت دار قیادتیں اور حکمران میسر ہیں جہاں کے عوام بددیانت نہیں۔ صرف وہی ملک صاف ستھرے اور ماحولیاتی آلودگی سے پاک ہیں جہاں کے عوام واقعی صفائی کو نصف ایمان سمجھ کر اس کا عملی طور پر خیال رکھتے ہیں۔ صرف وہی ملک معاشی طور پر مستحکم ہیں جہاں کے تاجر دیانت داری سے کاروبار کرتے اور اپنے حصے کا پورا ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ صرف انہی ملکوں میں انصاف کی بالادستی ہے جہاں کسی کو کوئی جھوٹا گواہ میسر نہیں آتا اور جہاں کوئی کسی کو جھوٹے مقدمات میں نہیں پھنساتا۔
ہم خود کوئی اچھا اور مثالی کام کرنے اور اپنے سماجی فرائض ادا کرنے کی بجائے ہر اچھے کام کی توقع اپنے حکمرانوں سے کرتے ہیں۔ ملک اور قوم کی تعمیر وترقی میں افراد کی حیثیت اینٹ اور بنیاد کی ہوتی ہے۔ اگر افراد کی اکثریت اچھی ہوگی، تو ملک و قوم کی عمارت پائیدار بنیادوں پر استوار ہوگی۔
اگر ہم نے ترقی یافتہ ملکوں کی خوشحالی کاراز جاننا ہو، تو ہمیں وہاں کے سیاست دانوں اور حکمرانوں کی بجائے وہاں کے عوام کے معاشرتی رویوں اور طرزِ عمل کا جائزہ لینا چاہیے جس سے ہمیں یہ حقیقت بہت آسانی سے مجھ آ جائے گی کہ واقعی جب کسی قوم کے افراد اپنے اپنے حصے کا چراغ روشن کرتے ہیں، تو ملک کی تقدیر روشن ہوتی ہے اور معاشرے میں اُجالا پھیلتا ہے۔
ترقی پذیر اور پسماندہ ملکوں کا بڑا المیہ یہ ہے کہ وہاں لوگوں کی اکثریت اپنے حصے کا چراغ جلانے سے زیادہ دوسروں کا چراغ بجھانے کی فکر میں رہتی ہے اور پھر اندھیروں کی شکایت کرتی ہے۔ معلوم نہیں ہمارے ملک کے عوام کب تک خود فریبی میں مبتلا رہیں گے؟ ہر اچھے کام کی توقع حکمرانوں اور سیاست دانوں سے لگانے کی بجائے خود کب کوئی اچھا کام کرنے کے لیے قدم بڑھانے کا آغاز کریں گے؟ حق مانگنے سے پہلے کب اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی ابتدا کریں گے؟ اپنی کوتاہیوں پر دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کی بجائے کب اپنے گریبان میں جھانکنا شروع کریں گے؟
جس دن ہم ایسا کرنے لگیں گے اس دن سے ہمیں دوسروں کی ترقی اور اپنے زوال کے اسباب کا ادراک ہونے لگے گا۔
………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے