48 total views, 1 views today

تحریر: محمد عمر
اینٹی نیٹل ازم (Antinatalism) در اصل ایک تحریک ہے جس کا ماننا ہے کہ بچوں کی پیدائش غیر اخلاقی ہے۔ بچوں کو اُن کی اجازت کے بغیر پیدا نہیں کرنا چاہیے۔ اس تحریک کے بانی ڈیوڈ بیناٹر (David Benator) ہیں جو کہ "University Of Cap Town” کے شعبۂ فلسفہ کے سربراہ (ایچ اُو ڈی) ہیں۔
انہوں نے 2006ء میں ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام تھا: "Better Never To Have Been: The Harms Of Coming into Existence” مطلب کہ ’’وجود میں آنے کے نقصانات۔‘‘
دراصل یہ ایک اخلاقی فلسفہ ہے جس کے دلائل بہت ہی سائنسی اور منطقی ہیں۔ ان لوگوں کا ماننا ہے کہ زندگی دکھوں کا گھر ہے۔ ہر طرف خطرات ہیں جیسے کہ بیماریاں، وائرس، روڈ حادثے کا خطرہ، کینسر کا خطرہ، بڑھتی ہوئی آبادی اور ماحولیاتی تباہی کے باعث ہوا کا معیار گر رہا ہے جس سے مزید بیماریاں اور خطرات جنم لے رہے ہیں۔ ان کے مطابق زندگی کا کوئی مقصد نہیں، تو ایسے میں کسی معصوم کو کیوں ایک جہنم میں لانا چاہیے؟ یہ ایک غیر اخلاقی حرکت ہے۔
ان کا ماننا ہے کہ انسان فطری گڑبڑ کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور انسان کو درد ہوتا ہے، تو بہتر یہ ہوگا کہ انسانی نسل کا خاتمہ کر دیا جائے۔
ایک صاحب کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ایسا سرخ بٹن ہو جس کو دبانے سے دنیا کا خاتمہ ہوتا ہو، تو وہ اسے فورا دبا دیں گے۔
یہ لوگ اپنے خیالات میں متشدد نہیں۔ یہ انسانوں کو دلائل سے قائل کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اس ظلم کو سمجھ کر روک دیں اور مزید بچے پیدا نہ کریں۔
دیکھا گیا ہے کہ بہت سے نوجوان اس بارے میں توہین آمیز رویہ بھی رکھتے ہیں۔ لوگ جو کہ اس فلسفہ سے متاثر ہیں، وہ اپنے والدین کو اپنی پیدائش کا ذمہ دار مانتے ہیں کہ انہوں نے اس دُکھ بھری زندگی میں ان کو اجازت کے بغیر لایا۔ کچھ نوجوان اپنے والدین کو توہین آمیز انداز میں "Breeders” کہتے ہیں۔
لگتا ہے کہ یورپ میں بہت سے لوگ گذشتہ ایک صدی سے اس نظریہ کو پریکٹس کر رہے ہیں۔ کیوں کہ یورپ کے کچھ گاؤں جن کی آبادی بے اولاد تھی اور اب وہاں بستیوں کی بجائے پارکس بنائے جا رہے ہیں۔
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ معاشی مسائل حل ہوجائیں، تو بچہ پیدا کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن یہ تو ان خطرات میں سے محض ایک خطرہ ہے جو کہ یہ لوگ پیش کرتے ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی ایسے لوگوں کی تعدا بہت کم ہے جو ایسا سوچتے ہیں۔ فیس بک پر ان کے سب سے بڑے گروپ کے مشکل سے 10 ہزار کے قریب ممبر ہیں۔
ہوسکتا ہے کہ مستقبلِ قریب میں جو لوگ اس وقت ماحولیاتی تباہی کو لے کر سیریس ہیں، وہ آنے والے کچھ عشروں میں اس نظریہ کی حمایت شروع کردیں اور یہ تحریک شائد بہت بڑی ہوجائے۔
ابھی تک تو بہت سے نوجوان اس بارے میں بے خبر ہیں، لیکن سوشل میڈیا کے ذریعے سے آہستہ مگر ایسے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو اس نظریہ کی حمایت میں سامنے آرہے ہیں۔
ایک ملحد کا اس تھیوری کے متعلق کہنا ہے کہ پہلے ارتقا ہوا اور انسان پیدا ہوگیا تھا، تو اب اگر ہم نسلِ انسانی کو ایک بار ختم کردیں، تو پھر اگر انسانوں کا دوبارہ ارتقا ہوگیا، تو کیا کریں گے؟
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ لوگ مایوس ہیں۔ اس لیے یہ لوگ انسان کی پیدائش کی مخالفت کرتے ہیں۔ مگر اس نظریے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ہمارے دلائل منطقی اور سائنسی ہیں جو کہ حقائق پر مبنی ہیں۔ ایسے میں ہمارے دلائل کو سمجھے بغیر یہ کہنا کہ یہ لوگ مایوس اور زندگی سے بے زار ہیں، درست نہیں۔
اس نظریہ کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی سچ میں اپنے بچوں سے پیار کرتا ہے، تو وہ بچے پیدا ہی نہیں کرے گا۔
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے