32 total views, 1 views today

2005ء میں ترکی کے مشرقی صوبہ ’’وان‘‘ کے پہاڑی علاقے ’’گیواز‘‘ میں گلہ بان اپنی بھیڑوں کے گلے کو آزاد چھوڑ کر ناشتہ کررہے تھے کہ انہیں اچانک بھیڑوں کے زور زور سے چلانے کی آوازیں آنے لگیں۔ چرواہے جیسے ہی آواز کی سمت میں گئے، تو انہوں نے حیرت انگیز منظر دیکھا کہ بھیڑیں ایک ایک کرکے اونچی پہاڑی کے کونے سے نیچے کود رہی ہیں اور یہ کام بغیر کسی دھکم پیل کے ہورہا تھا۔ لگ بھگ 1500 بھیڑوں نے آناً ًفاناً یہ کام سرانجام دیا، جن میں سے سب سے پہلے کودنے والی تقریباً 450 بھیڑیں مرگئیں جب کہ باقی بھیڑیں مرنے والی بھیڑوں پر کودنے کے باعث صرف زخمی ہوئیں۔ ماہرین ابھی تک بھیڑوں کی اس اجتماعی خودکشی کی گتھی سلجھانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔
قارئین، بحیثیتِ قوم ہم بھی اکثر معاملات میں ایسی ہی بھیڑ چال چلنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ ہمارے تعلیمی فیصلے بھی بھیڑ چال کی طرح ہوتے ہیں۔ جس شعبے کی تعلیم خاندان کے زیادہ تر افراد نے حاصل کی ہوتی ہے، عمومی طور پر وہ اپنے بچوں کو بھی اسی شعبے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ ناخواندہ یا کم پڑھے لکھے گھرانوں والے محلے یا علاقے میں موجود بھیڑ چال کی پیروی کرتے ہیں اور بعد میں پتا چلتا ہے کہ جو تعلیم انہوں نے حاصل کی ہے، وہ ان کا معاشی بوجھ برداشت کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتی۔
پاکستانی طلبہ پر کی جانی والی تحقیق کے مطابق زیادہ تر طلبہ بھیڑ چال کی بنیاد پر کسی پروگرام میں داخلہ لے لیتے۔ طلبہ اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کے منتخب کردہ پروگرمات میں ہی داخلہ لیتے۔
بھیڑ چال کی وجہ سے چند پروگرامات میں داخلوں کا سیلاب امڈ آتا ہے اور یوں لگتا ہے کہ اُس پروگرام کے علاوہ باقی تمام پروگرامات بے کار ہیں۔
اگر ماضیِ قریب کی مثال لیں، تو میڈیکل، انجینئرنگ، کمپیوٹر اور کامرس کے پروگراموں میں طلبہ سیلاب کے ریلے کی طرح آئے اور اب بے روزگار پھر رہے ہیں۔
ہم ملازمت کے معاملے میں بھی یہی بھیڑ چال چلتے ہیں۔ سرکاری نوکری کے خمار نے ہمیں مدہوش کر دیا ہے۔ ہماری پہلی کوشش ہوتی ہے کہ سفارش یا رشوت سے سرکاری نوکری مل جائے۔ سرکاری نوکری کی بھیڑ چال نے ہمیں فنی تعلیم سے دور رکھا ہوا ہے۔ ہم تعلیم سے مراد ہنر کے بجائے یونیورسٹیوں سے ملنے والی ڈگریاں لیتے۔
بھیڑ چال کو دیکھتے ہوئے جتنے طلبہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے لیتے ہیں، اگر یہ فنی تعلیم یا ہنر سیکھ لیں، تو بے روزگاری ا نتہائی کم ہو جائے۔
ترقی یافتہ ممالک مثلاً امریکہ، چین، جاپان وغیرہ میں سرکاری ملازمت سے کہیں زیادہ شرح ہنر مند اور کاروباری افراد کی ہے۔ اعلا تعلیم میں بھی ہماری یونیورسٹیاں بھیڑ چال پر کاربند ہیں۔
کسی ایک پروگرام کا پاکستان کی سبھی یونیورسٹیوں کا نصاب اٹھا کر موازنہ کرلیں، تو سوائے دو تین مضامین کے سارا نصاب ایک جیسا ہے۔
ٹھیک یہی حال ہمارے امتحانی نظام کا بھی ہے ۔ سارے بورڈوں کا پیپر پیڑن دیکھ لیں۔ معمولی فرق کے علاوہ سب بھیڑ چال ہے۔ ہمارا تدریسی نظام بھی بھیڑ چال کی طرح چلتا ہے، جس نے جیسے پڑھا ہو، ویسے ہی پڑھائے گا، تا کہ بھیڑ چال کی عادت ختم نہ ہوجائے۔
سیاست میں بھی ہم بھیڑ چال کے قائل ہیں۔ جس پارٹی کی ہوا چلی، سب اپنے ووٹوں کی پتنگیں بنا کر اس سمت دوڑ پڑتے ہیں اور کچھ عرصے بعد رونا رونا شروع کر دیتے ہیں۔ سیاسی بھیڑ چال کی سب سے بڑی مثال گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کے الیکشن میں ملتی ہے۔ وفاق میں جس کی حکومت ہوتی ہے جی بی اور آزاد کشمیر کے عوام دہائیوں سے اسی پارٹی کو ووٹ دیتے آئے ہیں۔ہم اتنا بھی نہیں سوچتے کے آزادکشمیر الیکشن کے کتنے عرصہ بعد پاکستان کے الیکشن ہونے اور اگر وفاق میں موجود پارٹی دوبارہ حکومت نہ بنا پائی، تو ہمارا کیا بنے گا؟
مذہبی معاملات میں بھی ہم بھیڑ چال چلتے ہیں اور جنونیت اور اندھی تقلید میں ملک قوم کاناقابل تلافی نقصان کر دیتے ہیں۔ بھیڑ چال چلنے والوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ امریکہ، برطانیہ، انڈیا، فرانس اور اسرائیل کا غصہ آپ سرکاری و عوامی املاک پر نہ نکالیں، مگرہم اندھی تقلید اور جنونیت میں سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ ہم نئے شعبوں کی طرف جانے کے لیے نہ تو تیار ہوتے ہیں او ر نہ کسی کے مشورہ پر عمل کرتے ہیں۔ ہمارے ملکِ عظیم میں ویسے بھی تجزیہ کار، تبصرہ نگار، مشیر اور طبیب تھوک کے حساب سے موجود ہیں۔
دینی واعظوں میں بھیڑ چال کے نتیجے میں لوگ جمعہ کے خطبے سے چند منٹ پہلے مسجد جاتے اورسلام پھیرنے کے بعد ایسے بھاگتے ہیں جیسے قید سے آزاد ہوئے ہوں۔ سالہا سال سے وہی پرانی تقریریں، وہی باتیں، تحقیق نہ جدید اسلوب، نہ سائنسی بنیادوں پر تشریح، نہ جدید تقاضے کے مطابق امثال۔
ہم کپڑوں کی خریداری میں بھی بھیڑ چال چلتے ہیں، جسے ہم فیشن کا نام دے دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی ہم بھیڑ چال چلتے ہیں اور اسے ٹرینڈ کا نام دے دیتے ہیں ۔ ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ ہم جس بھیڑ چال میں شامل ہو رہے ہیں یا ہمیں شامل کیا جا رہا ہے، وہ درست بھی ہے یا نہیں۔ اس کی تحقیق اور ثبوت کے بنا ہی بس جدھر گئی ایک بھیڑ، سب بھیڑیں اس کے پیچھے گئیں۔
ہم کھانے پینے، پیری مریدی اور طبعی علاج معالجے میں بھی بھیڑ چال کے قائل ہیں۔ ہم ڈراموں، فلموں اور ٹی وی پروگراموں کے انتخاب میں بھی بھیڑ چال پر کاربند رہتے ہیں۔ ارطغرل کی تازہ ترین مثال آپ کے سامنے ہے۔ تقریباً ساری قوم ہی اسے دیکھنے لگ گئی۔ حتی کہ دور دراز دیہاتوں میں جہاں پورے گاؤں میں ایک ڈش ٹی وی ہے، وہاں پورا گاؤں جمع ہو کر ارطغرل دیکھتا ہے۔ ہم نے یہ نہیں سوچا کہ ساری قوم ارطغرل کے پیچھے کیوں پڑی ہے؟
جی ہاں، اس کا جواب بھی بھیڑ چال ہی ہے۔ ہمارے سارے ڈرامے بھیڑ چال دیکھ کر بنائے جاتے ہیں۔ ان میں کوئی نئی جہت متعارف نہیں کروائی جاتی۔
ٹھیک یہی حال ہمارے ٹی پروگراموں اور شوز کا ہے جو پروگرام یا شو کسی ایک چینل پر کامیاب ہو جاتا ہے۔ سبھی اس کی نقل بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم اپنے روزمرہ کے معاملات میں بھی بھیڑ چال پر کاربند ہیں۔ اگر کسی کو کوئی بڑا عہدہ مل جائے، تو وہ بھیڑ چال کی وجہ سے اپنے سے نیچے شخص کو اپنا غلام سمجھنے لگ جاتا ہے۔ یہ بھیڑ چال اب ہمارے گلے کی زنجیر بن چکی ہے اور ہم اس کے بغیر رہ نہیں پاتے۔
اس عمل کو ہم صرف اپنے آپ تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ اگلی نسل تک منتقل کرنے میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ اس بھیڑ چال کی وجہ سے آدھی نسل ٹک ٹاک پر مصروف ہے۔ باقی انسٹا گرام، واٹس اپ، یوٹیوب ، فیس بک وغیرہ سے چپکی ہوی ہے۔ بھیڑ چال کی وجہ سے ہم پر سرمایہ دار، جاگیر دار اورموروثی سیاست دان مسلط ہیں۔ کیوں کہ ہم سیاست پر ان وڈیروں، لٹیروں اور بدعنوانوں کی جگہ پڑھے لکھے متوسط طبقے کے نوجوانوں کو لانے کے لیے تیار نہیں۔ساری قوم بھیڑ چال کی وجہ سے آج تک تین یا چار سیاسی جماعتوں کے گرد چکر لگا لگا کر چکرا گئی ہے، مگر قوم آج بھی وہیں کھڑی ہے جہاں آج سے دہائیاں پہلے کھڑی تھی۔
بھیڑ چال سے الگ ہونے والے کو ہم بے وقوف اور پاگل قرار دیتے ہیں۔ اس سے کوئی نئی جہت لانا ممکن نہیں۔ لہروں کے ساتھ زندہ لاشیں بہتی ہیں۔ کچھ کر دکھانے والے لہروں کی مخالف سمت تیرنے کی ہمت اور حوصلہ رکھتے ہیں۔
جب تک ہم بھیڑ چال کو ترک کرتے ہوئے نئی جہتوں کی طرف قدم نہیں بڑھائیں گے۔ تب تک ہم مصائب کے اس بھنور سے نہیں نکل سکیں گے۔
……………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے