43 total views, 1 views today

لوگوں کے دلوں میں گھر کرنے والے عبدالستار ایدھی نے زندگی کی رنگینیوں سے کنارہ کش ہو کر خود کو خدمتِ انسانیت کے عظیم مشن کی تکمیل کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ درحقیقت ان کی شخصیت پر والدہ کی تربیت و مزاج کا گہرا اثرتھا۔ والدہ عبدالستار ایدھی کو روز انہ ایک پیسا کھانا کھانے کے لیے دیتیں اور ایک پیسہ کسی دوسرے شخص کی مدد کے لیے۔ عظیم ماں سے خدمتِ انسانیت کی اعلا تربیت لے کر عبدالستار ایدھی عملی زندگی میں داخل ہوئے۔
ایدھی نے رسمی تعلیم تو ہائی سکول تک بھی حاصل نہیں کی تھی، تاہم وہ کہتے تھے کہ دنیا کے غم میرے استاد اور دانائی و حکمت کا ذریعہ رہے ہیں۔1951ء میں انہوں نے ذاتی دکان میں ایک ڈاکٹر کی مدد سے مختصر شفاخانہ کھولا۔ ان کے ایک دوست نے اس کام میں ان کی مدد کی۔ اس دوست سے ملنے والے پیسوں سے انہوں نے دو ہزار روپے کی ایک گاڑی لی۔ ایک ڈسپنسری بنائی اور ایک خیمے کے اندر چار بستروں کا ہسپتال قائم کیا۔ ایدھی اپنی ایمبولینس میں دن بھر شہر کا چکر لگاتے اور جب بھی کسی ضرورت مند یا زخمی شخص کو دیکھتے، اسے فوراً امدادی مرکز لے جاتے۔ باقاعدہ ایدھی فاؤنڈیشن کا آغاز 1957ء میں اس وقت ہوا جب کراچی میں بڑے پیمانے پر زکام (فلو) کی وبا پھیلی اور اس موقع پرایدھی صاحب نے مخیر حضرات کی مدد سے کراچی کے قرب و جوار میں مفت طبّی کیمپ لگوائے۔ ان کے کام سے متاثر ہوکر مخیر حضرات نے انہیں خطیر رقم کا عطیہ کیا، جسے دیانت داری سے استعمال کرتے ہوئے انہوں نے وہ پوری عمارت خرید لی جہاں ڈسپنسری قائم تھی۔ اسی عمارت میں انہوں نے ایک زچہ خانہ اور نرسوں کے لیے ایک تربیتی ادارہ قائم کیا۔ وہیں ان کی ملاقات نرس بلقیس سے ہوئی جن سے انہوں نے 1965 ء میں شادی کر لی، اور ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ اپنے فلاحی کاموں کا آغاز اس چھوٹے سے مکان سے کرنے والا ان کا ادارہ آج جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے غیر ریاستی فلاحی اداروں میں سے ایک ہے، جس کے لیے انہوں نے کسی بھی لسانی اور مذہبی تفریق سے بالاتر ہو کر اپنے ہم وطنوں کی بے لوث خدمت کی اور اپنی پوری زندگی اس کام کے لیے وقف کردی ۔
ایدھی بذاتِ خود ایک ایسا ادارہ تھے جو کہ ملک کے پس ماندہ طبقے کے لیے کام کرتا تھا۔ انہوں نے مشکل وقت بھی دیکھا۔ ان کو سیاسی معاملات میں بھی استعمال کرنے کی کوشش کی گئی اور ناکام ہونے پر ان کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا، جس پر ان کو کچھ عرصے پاکستان سے باہر بھی رہنا پڑا لیکن انہوں نے اپنے مشن ’’خدمتِ انسانیت‘‘ کو جاری رکھا۔ اس عظیم فلاحی کارکن نے ایدھی فاؤنڈیشن چھے دہائیوں تک کچھ ایسے چلائی کہ حکومت بھی وہ کام نہ کر سکی جو اس تنظیم نے کیا۔
بلا شبہ ایدھی فاؤنڈیشن نے نہ صرف پاکستان بلکہ بر صغیر میں فلاحی کام کو ایک انقلابی شکل دی۔ ایدھی فاؤنڈیشن اس وقت بھی وسیع پیمانے پر ایمبولنس سروس، مفت ہسپتال اور لاوارث بچوں، خواتین اور بوڑھوں کے لیے دارالامان چلا رہی ہے۔ اس ٹرسٹ نے بیس ہزار سے زیادہ لاوارت نومولود بچوں کی زندگی بچائی، پچاس ہزار سے زیادہ یتیموں کی کفالت کی اور چالیس ہزار سے زیادہ نرسوں کو ٹریننگ دی۔ ملک کے چپے چپے میں ایدھی ٹرسٹ کے کلینک، پناہ گاہیں، بزرگوں اور عورتوں کے لیے گھر اور ایسے ہی بے شمار منصوبے ملیں گے۔ کوئی حادثہ ہو، قدرتی آفات یا دھماکا، چند منٹ بعد سائرن بجاتی اور تیزی سے موڑ مڑتی سفید سوزوکی گاڑیاں جائے وقوع پر پہنچتی ہیں، جیسے کہ وہ اگلی گلی میں اسی واردات کا انتظار کر رہی تھیں۔ تربیت یافتہ عملہ پھرتی سے اُتر کر زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو اس مہارت سے سٹریچروں پر ڈال کر ایمبولینسوں میں منتقل کرتا ہے جیسے وہ سالہاسال سے سے بس یہی کام کرتا چلا آیا ہو۔
بلاشبہ ایدھی کی ذات پر جو اعتبار تھا، وہ قوم نے کسی دوسرے کو نہ بخشا۔ کیوں کہ انسانیت کے اس عظیم محسن نے اُن گلی سڑی لاوارث لاشوں کو بھی اپنے ہاتھوں سے اُٹھا کر دفن کیا جن کو ان کے وارثان بھی چھونے کو تیار نہ تھے۔ ان بچوں کو اس نے نئی زندگی دی جن کو کوڑے کے ڈھیر پر مرنے کے لیے پھینک دیا گیا تھا۔ بے شمار یتیم اور بے سہارا ان کے صدقے ایک نئی زندگی پاگئے۔ انسانیت کی بے لوث خدمت میں عالمی شہرت حاصل کرنے کے باوجود پاکستان کے اکثر سیاست دانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے برعکس ایدھی نے سادگی سے زندگی گزاری اور یہی وجہ ہے کہ عوام نے ان پر محبت اور چندوں کی بارش کی۔ وہ انتہائی معمولی قمیص شلوار پہنتے۔ ان کے پاس ملیشا کے سستے ترین کپڑے کے صرف دو جوڑے تھے۔ ایک میلا ہو جاتا، تو دوسرا پہن لیتے جب کہ جوتوں کا ایک ہی جوڑا گذشتہ 20 سال سے ان کے استعمال میں رہا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں اس بات کو یقینی بنا دیا تھا کہ وہ اپنے پیچھے ایک ادارہ چھوڑ جائیں جو ان کے بعد بھی انسانیت کی فلاح کے لیے کام کرتا رہے۔ آج ایدھی ہم میں نہیں ہیں مگر ان کے اہلِ خانہ اور ایدھی فاؤنڈیشن کے کارکنان ان کا مشن آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہ موت کے بعد امر ہو جانے کی ایک علامت ہے۔
آج ایدھی صاحب تو ہم میں نہیں، مگر ان کی عظیم خدمات کی بدولت ان کا نام پاکستان میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ سڑک پر چلتی ہوئی ہر ایدھی ایمبولینس ہمیں ان کی یاد دلاتی رہے گی، اور ہمارے دلوں سے ان کے لیے دعائیں نکلتی رہیں گی۔
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے