114 total views, 1 views today

’’کھانا ضائع کرنا ایسا ہی ہے جیسے آپ کسی بھوکے کی میز سے کھانا چُرا لیں۔‘‘ (پوپ فرانسس)
کھانے کے ضیاع کی تاریخ دنیا کی عالمگیریت سے شروع ہوتی ہے۔ کھیت سے لے کر کھانے کی میز تک ہر سطح پر کھانا ضائع کیا جاتاہے۔ تازہ پھل، سبزیاں، گوشت اور ڈیری مصنوعات میں ضائع ہونے کا امکان دیگر اشیا کی نسبت کئی گنا زیادہ ہے۔
قارئین، بھوک کیا ہوتی ہے؟ اگر ہمیں اس بات کی سمجھ آجائے، تو ہم کھانا ضائع کرنے سے پہلے کئی بار سوچنے پر مجبور ہو جائیں۔ امیر امرا کھانے پینے کی اشیا میں ذائقہ پرکھتے رہتے ہیں جب کہ غریبوں کو چکھنے کے لیے کچھ نہیں ملتا۔ سالانہ عالمی کھانے کا ایک تہائی حصہ جس کی مقدار 1.3 بلین ٹن اور تخمینہ 2.6 ٹرلین ڈالر لگایا گیا ہے، ضائع کیا جاتا ہے۔ جب کہ دوسری جانب دنیا بھر میں تقریباً 1 بلین افراد بھوکے رہتے ہیں۔ ضائع ہونے والا کھانا ہم دنیا بھر کے 1 بلین سے زیادہ بھوکے افراد کو چار مرتبہ کھلا سکتے ہیں۔ ہم صرف امریکہ، برطانیہ اور یورپ میں ضائع ہونے والے کھانے سے دنیا بھر کے چار گنا بھوکے افراد کا پیٹ بھرسکتے ہیں۔
2050ء تک دنیا کی آبادی میں 2.3 بلین افراد کا اضافہ متوقع ہے جس کا مطلب ہے ہمیں خوراک کی پیداوار 60، 70 فی صد تک بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم خوراک کی قلت کو ضائع ہونے والا کھانا بچا کر پورا کر سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں چین کے رقبے کے برابر حصے پر اُگایا جانے والا کھانا کوئی بھی نہیں کھاتا، بلکہ اسے ضائع کیا جاتا ہے۔ کھانے کے ضیاع سے ہم صرف کھانا ہی ضائع نہیں کرتے بلکہ دنیا کا 25 فی صد صاف پانی جو اس ضائع ہونے والے کھانے کی پیداوار میں استعمال ہوتا ہے، ضائع کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں 50 فی صد سے زیادہ کھانا ترقی یافتہ ممالک کے گھروں میں ضائع ہوتا ہے جس کی امریکہ اور برطانیہ میں فی خاندان سالانہ مالیت 2277 ڈالربنتی ہے۔ امریکہ میں ایک فرد روزانہ تقریباً 1 پاؤنڈ کھانا ضائع کرتا ہے۔ USDA کے مطابق 2017ء میں امریکہ میں 103 ملین ٹن کھانا ضائع کیا گیا جو خوراک کی ترسیل کا 30، 40 بنتا ہے۔ اس لحاظ سے امریکہ دنیا بھر میں جانوں کے ضیاع کے ساتھ کھانے کے ضیاع میں بھی پہلے نمبر پر ہے۔
کھانے کا ضیاع ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ ’’فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن‘‘ (ایف اے اُو) کے مطابق پھلوں اور سبزیوں کا 50 فی صد ضائع ہو جاتا ہے، جس کا مطلب ہے انسانی خوراک کا ایک تہائی حصہ یعنی 1.3 بلین ٹن کھانا ضائع ہو جاتا ہے۔
پاکستانی کھانے کا 40 فی صد حصہ ضائع کرتے ہیں۔ پاکستان میں سالانہ تقریباً 36 ملین ٹن کھانا ضائع کیا جا تا ہے۔ ضائع ہونے والا کھانا کراچی، لاہور اور حیدرآباد میں گھر سے باہر شوقیہ کھانا کھانے والوں کے کھانے کی کل مقدار کے برابر ہے، جو ہم روزانہ ضائع کر تے ہیں۔ شدید موسمی حالات اور تقریبات کھانے کے ضیاع کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کے کنڑی ڈائریکٹر ’’لولا کاسترو‘‘ کے مطابق پاکستان کی 43 فی صد آبادی خوراک کی قلت کے باعث عدم تحفظ کا شکار ہے جس میں سے 18 فی صد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ورلڈ ہنگر اینڈیکس (World Hunger Index) کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جنہیں خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ روزانہ 2.5 لیٹر پانی پینے کے لیے کافی ہے جب کہ ایک فرد کے لیے ایک دن کی خوراک اُگانے کے لیے 3500 لیٹر پانی چاہیے۔
قارئین، کھانے کا ضیاع خوراک کی قلت کے علاوہ قدرتی وسائل کے ضیاع کا سبب بھی بنتا ہے۔ کھانے کا ضیاع کھادوں، خوراک کی ادویہ، ایندھن، بجلی اور انسانی توانائی کا بھی ضیاع ہے۔
’’امریکی انٹیلی جنس کونسل‘‘ کی رپورٹ کے مطابق خوراک کی تیزی سے بڑھتی قلت معاشرتی تقسیم، معاشی بدحالی اور جمہوری تسلسل کے لیے نقصان کا باعث بنے گی۔ خوراک کی قلت بین الاقوامی تنازعات کا سبب بن سکتی ہے۔ ’’ایف اے اُو‘‘ کے مطابق ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں خوراک کا ضیاع بالترتیب 630 اور 670 ملین ٹن ہے۔
ترقی پذیر ممالک میں کھانا آغاز میں ضائع ہوتا ہے جب کہ ترقی یافتہ ممالک میں کھانا آخری مراحل میں ضائع ہوتا ہے۔ ’’ایف اے اُو‘‘ کے مطابق پس ماندہ علاقوں میں فی کس کے حساب سے خواراک کی پیداوار کے لیے سالانہ 460 کلو گرام جب کہ ترقی یافتہ علاقوں میں 900 کلو گرام ہے۔
برمنگھم یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق انڈیا میں ترسیلی کمپنیاں سالانہ 4.4 بلین GBP پھل اور سبزیاں ضائع کرتی ہیں۔ صاف پانی کا تقریباً 70 فی صد زراعت کی پیداوار میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک سیب کے لیے اوسطاً 125لیٹر پانی چاہیے اور ایک سیب کا ضیاع125 لیٹر پانی کا ضیاع ہے۔
’’ایف اے اُو‘‘ کی ’’فوڈ پرنٹ رپورٹ‘‘ (Food Print Report) کے مطابق سالانہ ضائع ہونے والے کھانے کے لیے جینوا کی جھیل جتنا پانی استعمال ہوتا ہے۔
خوراک کا ضیاع توانائی کے علاوہ کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافہ کا سبب بھی بنتا ہے۔ ہم کھانے کے ضیاع کو درجِ ذیل طریقوں سے روک سکتے ہیں۔
٭ ہم کسانوں اور خوراک سے متعلقہ افراد کوتربیت دے کر، شعبۂ زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کروا کرخوراک کا ضیاع روک سکتے ہیں۔
٭ ہم شمسی توانائی پر چلنے والے ریفرجریٹر استعمال کر کے نہ صرف کھانے کاضیاع روک سکتے بلکہ آلودگی سے بھی بچ سکتے ہیں۔
٭ ہم سر پلس کا طریقہ اختیار کر کے بھی کھانے کا ضیاع کو روک سکتے ہیں۔ ہم ’’سر پلس‘‘ اور ’’وی فوڈ‘‘ جیسے منصوبے شروع کر کے خراب کھانے کو کم قیمت پر غریبوں کو فروخت کرسکتے ہیں۔
٭ ہم ہوٹلوں میں بچ جانے والے کھانے کو جمع کرکے انہیں بائیو پلاسٹک اورگھریلو بائیو گیس کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔
٭ ہم فوڈ سکریپ کو استعمال کر کے گھریلو توانائی پیدا کرسکتے ہیں۔ہم تعلیم اور آگاہی کے ذریعے کھانے کے ضیاع کو روک سکتے ہیں۔
٭ ہم خریداروں کے کھانے سے متعلق رویے کو بد ل کر سرکاری، نیم سرکاری اور ’’پرائیویٹ پارٹنر شپ‘‘ سے بچا ہوا کھانا جمع کرکے اسے غریبوں تک پہنچانے کا بندوبست کرنے کے علاوہ اسے دیگر مقاصد کے لیے استعمال کر کے بھی کھانے کاضیاع روک سکتے ہیں۔
٭ ہم "Mimica” طرز کے اقدامات کے ذریعے بھی کھانے کا ضیاع روک سکتے ہیں۔
٭ ہم انگلستان میں ’’لیڈز‘‘ طرز کی مارکیٹیں قائم کر کے خراب کھانے کو استعمال میں لا سکتے ہیں۔
٭ ہم سڑکوں کو پختہ بنا کر، ذرائع رسل و رسائل اور کھانے کو تیار کرنے اور محفوظ کرنے کے نظام کو بہتر بنا کر کھانے کے ضیاع کو کم کر سکتے۔
آخری عوامل میں کھانے کے ضیاع میں خریداروں کی عادات کا بہت عمل دخل ہے۔ اس لحاظ سے ہمیں خریداروں کی عادات کی تبدیلی پر خاص توجہ دینی ہو گی۔ ’’بائے ون گٹ ون، ڈیل‘‘ پر مکمل پابندی لگانی چاہیے۔ کیوں کہ اس طرح کی سہولیات لوگوں کو کھانے ضائع کرنے کے مواقع مہیا کر تی ہیں۔
کھانے کی اشیا پر لگی ہوئی پرچیوں کی وجہ سے بھی کھانا ضائع ہوتا ہے۔ ہمیں ان پر لگی ہوئی پرچیوں کو عام آدمی کی سمجھ بوجھ کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
یورپی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق یورپ میں تقریباً 10 فی صد کھانا یعنی 88 ملین ٹن ان پر درج تاریخوں اور ہدایات کی وجہ سے ضائع ہوتا ہے۔
……………………………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے