58 total views, 1 views today

1960ء اور 70ء کی دہائی میں بلکہ اس کے بعد بھی جو پاکستانی اور کشمیری تارکینِ وطن برطانیہ آئے تھے، ان میں سے اکثریت کا خیال تھا کہ وہ چند سال دیارِ غیر میں محنت کر کے پاؤنڈ کمائیں گے اور پھر وطن واپس جا کر کوئی کاروبار کرکے خوشحال زندگی گزاریں گے، لیکن ان کا یہ خواب محض خواب ہی رہا۔ ہجرت اور جلاوطنی ان کا مقدر بن گئی۔ اُداس گھروں کے بام و در ان کی واپسی کے منتظررہے مگر اس نئے دیس کی آب و ہوا نے انہیں واپس نہیں جانے دیا۔ وطن اور اپنوں کی محبت انہیں ستاتی رہی مگر معاشی مجبوریوں نے ان کی واپسی کے راستوں میں فصیلیں کھڑی کر دیں۔ وہ پرندے جو اپنے آشیانوں سے دانے دنکے کی تلاش میں نکلے تھے، انہیں راستے میں ہی شام ہوگئی۔ وہ ہر روز ڈھلتے سورج کو دیکھ کر اپنے آشیانوں کی طرف لوٹنے کا ارادہ کرتے مگر انہوں نے جہاں پڑاؤ ڈال دیا تھا، وہاں آب و دانے کی فراوانی بہت تھی۔ اس لیے وہ رفتہ رفتہ اپنے آشیانوں کو واپسی کا خیال بھول گئے اور انہوں نے پرائے دیس کو ہی اپنا گھر سمجھ لیا۔ واپس اپنے دیس جانے کی بجائے ان لوگوں نے رفتہ رفتہ اپنے بیوی بچوں کو برطانیہ لانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ان اُوور سیز پاکستانیوں نے یونائیٹڈ کنگڈم کے جس شہر میں پڑاؤ ڈالا، وہ وہیں کا ہو کر رہ گیا۔ گلاسگو سے مانچسٹر اور بریڈ فورڈ سے برمنگھم تک ہی نہیں بلکہ دارالحکومت لندن میں بھی ہمارے لوگوں کے قافلے آتے اور اپنے قدم جماتے گئے۔
ابتدا میں فکرِ معاش اور خوشحالی کے حصول کی تگ و دو نے انہیں مصروف رکھا۔ اس دوران میں ان کے بچے ایک اجنبی دیس میں پروان چڑھ کر اس معاشرے کا حصہ بن گئے۔ اس نئی نسل کی سوچ اور ترجیحات اپنے والدین سے بالکل مختلف تھیں۔ البتہ والدین نے ہر ممکن کوشش کی کہ ان کی نئی نسل اپنی تہذیب و تمدن سے وابستہ رہے اور خاص طور پر شادی کے معاملے میں والدین کی پسند کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔ 80ء اور 90ء کی دہائی میں ہزاروں اُوورسیز پاکستانیوں اور کشمیریوں نے اپنی اولاد کی مرضی کے خلاف ان کے منگیتروں کو اپنے آبائی علاقوں سے امپورٹ کیا۔ اپنے قریبی رشتے داروں سے ان کی بے جوڑ شادیاں کیں جس کے نتیجے میں ہماری کمیونٹی کو کئی طرح کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسی شادیاں جب اندوہناک انجام تک پہنچیں، تو برطانوی ذرائع ابلاغ نے ان جبری شادیوں یعنی ’’فورسڈ میرجز‘‘ پر خوب واویلا کیا اور ایسی شادیوں کے سدِباب کے لیے طرح طرح کے سپورٹ گروپ بن گئے جنہوں نے بہت سی ایسی زبردستی کی شادیوں کو رُکوایا۔ کئی برطانوی ادارے بھی اس معاملے میں لڑکیوں کی مدد کے لیے پیش پیش رہے۔ ان گنت تلخ تجربات کے بعد اُوورسیز پاکستانی اور کشمیری والدین کی اکثریت اب اپنی اولاد کی شادیوں کے لیے برطانیہ میں ہی ان کے رشتے تلاش کرنے کو ترجیح دینے لگی ہے۔
بہت سے دوراندیش تارکینِ وطن ایسے بھی ہیں جو اولاد کے مستقبل کے اندیشوں کے خوف سے اپنا بوریا بستر سمیٹ کر عارضی طور پر واپس پاکستان آ جاتے ہیں، تاکہ اپنی جوان ہوتی ہوئی اولاد کی مشرقی ماحول میں تربیت کریں اور ان کو مغربی ماحول کی بے راہ روی سے محفوظ رکھیں اور ان کی شادی بیاہ کے انتظامات بھی پاکستان میں ہی کریں۔ ایسے محتاط والدین جب پاکستان جاتے ہیں، تو وہ خود اور ان کی اولاد مشکل سے ہی پاکستانی ماحول میں ایڈجسٹ ہو پاتی ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی افراتفری، لاقانونیت، عدم تحفظ، بدعنوانی، ناانصافی اور بدامنی سے اُکتا کر چند سال بعد پھر سے برطانیہ آ جاتے ہیں۔ اس ہجرت کے نتیجے میں انہیں بھاری مالی نقصان کے علاوہ پاکستان سے متنفر ہونے کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔
برطانیہ میں آباد پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس لیے ان کو آپس میں رابطے کے بہت کم مواقع ملتے ہیں اور پھر ویسے بھی برطانیہ کی مصروف زندگی میں ہر کسی کے پاس اپنے سماجی تعلقات کو استوار کرنے یا انہیں فروغ دینے کے لیے وقت نہیں ہوتا۔ مگر جب والدین کو اپنی اولاد کے لیے رشتوں کی تلاش کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے، تو انہیں سماجی تعلقات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنی کمیونٹی کے لوگوں سے زیادہ سے زیادہ رابطے میں رہنے کے علاوہ مختلف تقریبات اور شادی بیاہ کے پروگراموں میں شریک ہونا شروع کر دیتے ہیں اور یوں ان کا کسی ایسی فیملی سے تعارف کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے جہاں وہ اپنی اولاد کی شادی اور رشتے کے معاملات کو آگے بڑھا سکیں۔
بہت سے والدین اس مقصد کے لیے شادی دفتروں اور سماجی تنظیموں سے بھی رابطے کرتے ہیں یا پھر انٹرنیٹ اور شادی کی ویب سائٹوں پر رجسٹر ہو کر اپنی اولاد کے لیے اچھے رشتوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
برطانیہ میں ایک بڑا لمیہ یہ بھی ہے کہ یہاں کی نئی نسل اپنی شادی کے لیے والدین کی رضامندی اور فیصلوں پر سرِ تسلیم خم نہیں کرتی۔ اس ملک میں بسنے والی اکثریتی آبادی یعنی سفید فام لوگوں کے لیے صرف شادی ہی زندگی کا محور نہیں ہوتی، وہ شادی کو ایک ایسی ذمہ داری سمجھتے ہیں جس سے ان کی شخصی آزادی کے سلب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس لیے وہ کسی قسم کے بندھن میں آنے سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں۔ مقامی کمیونٹی کے اس طرزِ زندگی کا اثر ہماری نئی نسل پر بھی پڑا ہے۔ وہ بھی شادی کی ذمہ داریوں سے بھاگنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور اپنی آزادی اور خودمختاری کو اولیت دینا چاہتے ہیں جب کہ بے چارے والدین کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ جوان ہوتے ہی اپنی اولاد کو شادی کے بندھن میں باندھ دیا جائے۔
اسی سلسلے میں ایک اور تشویشناک رجحان بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے کہ برطانیہ میں ڈھیر ساری ’’مسلم میرج ویب سائٹیں‘‘ بظاہر تو مسلمانوں کی شادی کے لیے رشتے کی خاطر بنائی گئی ہیں مگر درحقیقت وہ ایک ’’ڈیٹنگ ہیلپ لائن‘‘ کے طور پر کام کر رہی ہیں اور اس ذریعے سے ان کے کاروبار کو فروغ مل رہا ہے۔
رشتے اور شادی کے نام پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد ’’گرل فرینڈ‘‘ یا ’’بوائے فرینڈ‘‘ کی تلاش میں ان ویب سائٹوں پر آئے دن رجسٹر ہو رہی ہے۔ ایسے والدین جو برطانیہ آنے کے بعد یہاں پر اپنے عزیزوں اور شتہ داروں سے لاتعلق رہے، یا انہوں نے ایسے علاقوں میں رہائش اختیار کی جہاں ان کے علاوہ ان جیسا کوئی نہیں تھا۔ انہیں اپنی اولاد کے جوان ہونے پر رشتوں کی تلاش اور شادی کے لیے کئی طرح کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا جب کہ اس کے برعکس ایسے والدین جو اپنے احباب اور کمیونٹی میں گھل مل کر رہے، یا ایشیائی اور مسلم آبادی والے علاقوں کو اپنا مسکن بنایا، ان کی اولاد کے رشتوں اور شادیوں کے معاملات جلد اور خوش اسلوبی سے طے ہو گئے۔ ویسے تو کہتے ہیں کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں لیکن اس کے لیے اپنے لوگوں سے رابطے میں رہنا اور ان سے تعلقات کو استوار رکھنا بھی وقت اور حالات کی اہم ضرورت ہوتی ہے۔ برطانیہ میں آباد مسلمان اور پاکستانی کمیونٹی کی نئی نسل کی شادیاں اور مناسب رشتوں کی تلاش واقعی ایک سماجی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ہماری کمیونٹی کے بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے آبائی شہروں یا قومیتوں اور ذاتوں کے نام پر ’’ویلفیئر ایسوسی ایشنز‘‘ بھی بنا رکھی ہیں۔ یہ تنظیمیں گاہے بگاہے مختلف تقریبات بلکہ ’’فیملی گیدرنگ‘‘ یعنی خاندانوں کے ملنے جلنے کا اہتمام کرتی ہیں، تاکہ والدین کو اپنی اولاد کے لیے اچھے رشتوں کی تلاش میں مدد مل سکے اور ان کی دوسرے خاندان کے لوگوں سے میل ملاپ کی راہ ہموار ہو جائے۔
ایک زمانے میں برطانیہ آنے والے پاکستانی طالب علموں یا سیاسی پناہ گزینوں کو برطانوی شہریت رکھنے والے لڑکے اور لڑکیوں کے رشتے میسر آ جاتے تھے لیکن امیگریشن کے مسائل حل ہونے کے بعد یا برطانوی شہریت ملنے پر ایسی شادیوں کی قلعی کھل جاتی تھی۔
برطانیہ میں کسی بھی بالغ لڑکے یا لڑکی کو قانونی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ رہے یا نہ رہے۔ ان کے فیصلے کو قبول کرے یا نہ کرے اور اگر والدین اپنا کوئی فیصلہ زبردستی اپنی اولاد پر مسلط کرنے کی کوشش کریں، تو انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسرے لفظوں میں برطانوی قانون اولاد کو والدین کے فیصلوں سے بغاوت کا قانونی حق اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ برطانیہ میں مسلمان کمیونٹی کے لیے اپنی اولاد کے لیے مناسب رشتوں کی تلاش کے علاوہ ان کی شادیوں کی کامیابی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ شادی کے بعد اگر لڑکا، لڑکی یہ محسوس کرنے لگیں کہ ان کی آپس میں نہیں بن سکتی یا وہ ایک دوسرے کے لیے غلط انتخاب ہیں، تو وہ کسی مصلحت یا مجبوری کے تحت اکٹھے نہیں رہتے۔ گھٹ گھٹ کر زندگی گزارنے یا حالات سے سمجھوتا کرنے کی بجائے وہ فوری طور پر ایک دوسرے سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کر لیتے ہیں، یعنی اچھے رشتوں کی تلاش اور شادی ہی ہماری کمیونٹی کا سماجی مسئلہ نہیں بلکہ طلاق کا بڑھتا ہوا رجحان بھی ایک سماجی المیہ ہے۔
شادیوں کی کامیابی کے امکانات کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ برطانیہ میں مقیم مسلمان اور پاکستانی والدین اپنے بچوں کی تربیت پر پورا دھیان دیں اور ابتدا سے ہی انہیں اپنے مذہب، تہذیب، اخلاقی اقدار اور روایات کا درس اس نفسیاتی اور سائنسی انداز میں دیں کہ وہ اپنے مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی تہذیب و ثقافت پر فخر کریں۔ انہیں اپنی مادری زبان سکھائیں۔ کیوں کہ اگر وہ اپنی زبان سے دور ہوگئے، تو پھر اپنی تہذیب و ثقافت سے بھی کٹ جائیں گے۔ والدین کو یہ حقیقت ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ اولاد کی تربیت کا بہترین وقت ان کی ابتدائی عمر ہے۔ ابتدائی عمر میں ہی ان کو اپنے مذہب اور اقدار کی طرف مائل کیا جائے، وگرنہ بڑی عمر میں پہنچ کر ہم انہیں اپنے رنگ میں ڈھالنا بھی چاہیں گے، تو وقت ہاتھ سے نکل چکا ہو گا۔ والدین کو یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ برطانوی معاشرے میں پروان چڑھنے والے بچے یقینا ان سے مختلف ہوں گے۔ وہ ٹیکنالوجی کے جس دور میں پروان چڑھ رہے ہیں ان کی زندگی اس عہد کے جدید تقاضوں کے مطابق بسر ہو گی۔ ویسے بھی اگر ہماری اولاد کو ہمارے جیسا ہی بننا ہوتا، تو اللہ تعالا اولاد کی بجائے ہمیں ہی ایک اور زندگی عطا کر دیتا۔
………………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے