68 total views, 2 views today

اُن دنوں "PACKAGES” میں تھا جب مجھے ہندوستان کے سفر کا موقع ملا۔ اپریل 1986ء کی بات ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ پر ہندوستان اور اسرائیل کا نام پرنٹ نہیں تھا۔ اس لیے ہندوستان جانے اور ویزا لگوانے کے لیے ’’انڈورسمنٹ‘‘ضروری تھی۔ پہلے وہ بڑی مشکل سے کروائی۔ ایک ایجنٹ ہندوستان کا ویزا لگوانے کے نام پر پیسے بھی کھا گیا۔ پھر دوست عثمان نے ہندوستان سے ویزا لگوانے کے لیے ہم دونوں کے مستقل ایڈریس پر ایرو گرام منگوایا جس میں ہمیں ’’شادی‘‘ میں آنے کی دعوت دی گئی تھی۔ ہندوستان میں عثمان کے والد نے دوسری شادی کر رکھی تھی۔
خدا خدا کر کے ہمارے ویزے لگے۔ میرا اور عثمان کا معاملہ ایک سا تھا۔ وہ بھی اپنی بیوی اور بچی کے ساتھ جا رہا تھا اور مَیں بھی۔ ہم لاہور سے بذریعہ ٹرین ہندوستان جا رہے تھے۔ ہمیں ہندوستان جانے والوں نے ماہرانہ مشوروں سے نوازا تھا۔ اُن دنوں ہندوستان میں پاکستانی فلیٹ کریپ کی بڑی ڈیمانڈ تھی۔ رہبر واٹر کولر بھی وہاں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا۔ پاکستانی کرنسی بھی ہندوستان سے اُوپر تھی۔ پاکستانی ڈرائی فروٹس کی بھی ہندوستان میں بڑی مانگ تھی۔ پاکستانی سگریٹ گولڈ لیف تو وہاں فوراً ہونٹوں میں داب لیا جاتا تھا۔ کیمرے کی فلمیں بھی وہاں اُن دنوں اچھے نرخوں پر نکل جاتی تھیں۔ بذریعہ ٹرین سامان لے جانے کی خاصی گنجائش اور سہولت تھی۔
ہندوستان کے لیے ٹرین پر جانے کے لیے جب ہم لاہور ریلوے اسٹیشن کے مخصوص پلیٹ فارم پر پہنچے، تو رش اور گرمی دیکھ کر ہوش اُڑ گئے۔ مسافروں کی چیکنگ میں خاصا وقت لگا۔ ٹرین نے لاہور سے اٹاری پہنچنے میں تو زیادہ وقت نہ لیا لیکن وہاں جو کچھ ہوا وہ بڑا بے زار کن تھا۔
ٹرین نے جیسے ہی واہگہ کراس کیا، ہمیں ہندوستان کا بدلا ہوا ماحول نظر آنے لگا۔ اُن کی طرف کا بارڈر ویران اور سنسان بھی تھا۔ سکھ کھیتوں میں نیکریں پہن کر گندم کی فصل کاٹ رہے تھے۔ اتنی تعداد میں مردوں کو نیکریں پہنے دیکھنا ہماری بیگمات کے لیے بالکل نیا تھا۔ پاکستان میں تو بچے سکول کی حد تک نیکریں پہن لیتے ہیں مگر اتنی بڑی عمر کے مردوں کا کھیتوں میں کاچھے پہن کر کام کرنا واقعی عجیب تھا۔
اٹاری ریلوے اسٹیشن پر کچا ناریل اور انناس خوب کھایا۔ یہی پھل وہاں سستے تھے۔ باقی پکوڑے، پوڑی حلوہ اور ہلکی ہلکی روٹیاں کھانے کے لیے دستیاب تھیں۔ ڈالرز کو ہندوستانی کرنسی میں تبدیل کروایا اور تقریباً ساری رات سامان کا ’’کسٹم‘‘ کرواتے رہے۔ حرام خور سرحد کے دونوں طرف ہی تھے۔ اُدھر مسلمان تھے، اِدھر سکھ تھے۔ ہمارے سامان میں کوئی ایسی غیر معمولی چیز تھی ہی نہیں جو کسٹم والوں کی آنکھوں میں کھٹکتی۔ انہوں نے سب سے فی پاسپورٹ سیدھا سیدھا سو روپیہ پکڑا اور ٹرین کو کلیئر کر دیا۔ رات 3 بجے گاڑی نے ایک وِسل دی۔ ہم نے سمجھا کہ ٹرین چلنے لگی ہے۔ پھر صبح 5 بجے ایک وِسل ہوئی۔ ٹرین پھر بھی نہ چلی۔ پھر سات بجے ایک وِسل ہوئی اور گاڑی اچانک دِلّی کی طرف چل پڑی۔ صبح کا وقت تھا۔ آدھے مسافر ٹرین سے باہر منھ ہاتھ دھو رہے تھے۔ ناشتہ کر رہے تھے۔ چائے وغیرہ پی رہے تھے۔ ٹرین کے مسافروں کے بوگی میں لگی زنجیریں کھینچ دیں۔ ٹرین ریلوے سٹیشن سے ایک فرلانگ کی دوری پر رُک گئی۔ مسافروں کو انجن ڈرائیور کی یہ احمقانہ حرکت سخت ناگوار گذری تھی۔ کچھ جذباتی لوگ انجن کے پاس گئے۔ انجن ڈرائیور سکھ تھا اور وہ شراب کے نشے میں صاف ٹن دکھائی دے رہا تھا۔ اُس نے مسافروں کو سمجھاتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے کہا : ’’تِن وسلاں دئی دیاں نیں۔ اے ریلوے دا اصول اے۔ آپاڈ اک وسل راتی 3 وجے دِتی، دوجی 5 بجے تے تیجی وسل7 وجے دِتی۔ کی غلط کیتا آپاں؟‘‘ مسافروں نے اُس سے بحث کرنے کی بجائے اپنے اپنے ڈبے میں گھس جانے ہی میں بہتری سمجھی۔ پھر ٹرین چلتی رہی۔ رستے میں امرتسر، لدھیانہ، جالندھر اور پھر پانی پت آئے۔ ٹرین سے نیچے اُترنے کی کسی کو اجازت نہیں تھی۔ ٹرین کے اندر بھی بے پناہ شور اور لڑائی جھگڑا تھا۔ ریلوے لائن کے کناروں پر دیکھا، تو مرد و زن ٹرین ہی کی طرف منج کیے رفع حاجب میں بڑی بے فکری کے ساتھ مصروف تھے۔ یہ منظر دیکھ کر دل بڑا خراب ہوا۔
ہندوستانی پنجاب میں بڑی ہریالی تھی جو ہمارے پاکستانی پنجاب کے مقابلے میں رقبے کے لحاظ سے تو کم تھا مگر زرعی پیداوار میں آگے تھے۔ وجہ……؟ وہاں کی حکومت کی اچھی زرعی پالیسیاں تھی۔ پاکستان میں تو زراعت کے نام پر عالمی امداد لینا اور کھا جانا عام چلن تھا۔ سیم و تھور والی زمین کو زیرِ کاشت زمین بنانے پر پیسہ لگایا جاتا تھا اور زیرِ کاشت زمین پر تعمیرات کی جاتی تھیں۔ چاول کی کاشت کے اعلا ترین علاقے گوجرانوالہ میں وسیع و عریض زرعی زمین پر ’’گوجرانوالہ چھاؤنی‘‘ بنا دی گئی۔ دور کیوں جائیں، لاہور میں بیدیاں اور برکی روڈ بھی تو زرعی اور سرحدی علاقے ہی تھے۔ آج کیا ہے؟ تعمیرات کا ایک ناختم ہونے والا سلسلہ۔
ہم شام 4 بجے پرانی دِلّی کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچے۔ ہماری ٹرین سبزی منڈی جیسے گندے ترین اسٹیشن سے گذر کر یہاں پہنچی تھی۔ دِلّی کا ریلوے اسٹیشن اچھا تھا مگر لاہور ریلوے اسٹیشن جیسا نہیں تھا۔ لاہور ریلوے اسٹیشن تو پاکستان میں ریلوے کا ہیڈ کوارٹر تھا اور انگریز نے کیا خوب بنایا تھا۔ جان ماسٹرز کے مشہور ناول ’’بھوانی جنکشن‘‘ پر مبنی فلم کی شوٹنگ لاہور ریلوے سٹیشن پر ہی ہوئی تھی۔ دِلّی ریلوے سٹیشن پر قلیوں کا نظام لاہور کے مقابلے میں بہتر لگا۔ ہم نے قلی کیا جس نے سٹیشن سے باہر ہمیں تانگہ کروا دیا اور تانگہ ہمیں جامع مسجد، دِلّی کے سامنے محلہ مچھلی دالان کے باہر اُتار کر چلا گیا۔
عثمان جا کر اپنے والد صاحب اور بھائی کو بلا لیا جو ہمارا سامان اُٹھا کر اپنے گھر لے گئے۔ پورے محلے اور گلی میں مچھلی کی مخصوص بُو پھیلی ہوئی تھی۔ مچھلی وہاں کی منڈی میں کلکتہ سے آتی تھی۔ مجھے تو مچھلی کی بُو سے کوئی خاص مسئلہ نہیں تھا مگر ہماری بیگمات کو یہ ناگوار گذر رہی تھی۔
عثمان کے والد کا مکان اندرون لاہور کے پرانے مکانوں جیسا تھا۔ سُرخ پتھر کی سیڑھیاں تھیں۔ پہلی منزل پر چھوٹے سے صحن کے بعد ایک لمبا کمرہ تھا۔ بس وہی کمرہ کل کائنات تھی جہاں ہمیں رہناتھا۔ مجبوری کا نام شکریہ! میری اور عثمان کی بیوی ایسے گھٹے ہوئے ماحول میں کبھی رہے نہیں تھے۔ اس لئے اُن کے چہروں پر کوئی اچھا تاثر نہیں تھا۔ گھر کی کھڑکیوں اور باہر منڈیروں پر جنگلی کبوتر غٹرغوں کرتے تھے۔ ہمارے بچوں کو یہ غٹر غوں بڑی پیاری لگتی تھی۔ گرمی کی وجہ سے ہم نے آتے ساتھ غسل کیا۔ مَیں نے غسل کے بعد کمرے میں آکر جب پیسے گنے، تو وہ مجھے کم کم سے محسوس ہوئے۔ مَیں سوچ میں پڑ گیا۔ مَیں نے عثمان سے ذکر کیا، تو پہلے اُس نے میری بات کو سنجیدگی سے نہ لیا۔ پھر سنجیدہ ہوا تو کہا! ’’یاد کرو تم نے کہاں کہاں پیسے خرچے تھے؟ ’’مَیں نے اُسے صاف کہا کہ صرف تانگے والے کو پچاس روپے دیے تھے اور تو کہیں پیسے نہیں نکالے۔ عثمان کاروبار ی بندہ تھا۔ بات کی تہ تک پہنچ گیا۔ میں نے تانگے والے کو دس، دس کے پانچ نوٹوں کی جگہ سو، سو کے پانچ نوٹ دے دیے تھے۔ ہندوستانی کرنسی سے میری آشنائی نہیں تھی۔ اس لیے یہ غلطی ہو گئی تھی۔ پرایا ملک تھا۔ پیسے کی بڑی قدر تھی۔ عثمان نے اپنے سوتیلے بھائی کو ساتھ لیا۔ اُس کا نام بھی عرفان ہی تھا اور ہم دِلّی ریلوے سٹیشن پہنچے۔ عثمان کو قلی کا نمبر 333 یاد تھا۔ ہم نے وہاں استقبالیہ پر اُسے بلانے کے لیے اعلان کروایا۔ کچھ دیر بعد وہ آگیا اور اُس نے ہمیں پہچان بھی لیا۔ ہم نے اُسے اپنا مسئلہ بتایا، تو وہ ہمارے ساتھ باہر تانگہ سٹینڈ آیا۔ وہاں وہی تانگے والا تلاش کیا، تو وہ نہ ملا۔ پوچھ تاچھ سے اُس کے کسی سنگی ساتھی نے اُس کا پتہ عرفان کو سمجھا دیا۔ اُس کا نام گردھاری تھا اور وہ جمنا پار کے علاقے میں رہتا تھا۔
وہ اپنے گھر شراب پی کر سویا ہوا تھا۔ عرفان نے اُسے جگایا اور اپنا مسئلہ بتایا۔ وہ مان گیا کہ ہم نے اُسے 450 روپے زیادہ کی ادائیگی کی تھی۔ اُس نے ہمیں 415 روپے فوراً واپس کر دیے اور اُن 35 روپیوں کے لیے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی جن کی اُس نے شراب کی بوتل خرید لی تھی۔ اُس نے تو ہمیں شراب کی خالی بوتل دینے کی بھی مخلصانہ آفر کی مگر ہم نے 415 روپے کی واپسی کو ہی بہت کافی سمجھا۔ وہ تو ہمیں واپسی پر گھر چھوڑنے کا بھی کہہ رہا تھا مگر ہم اُس سے رخصت ہوئے ۔ ’’حلال کے پیسے تھے اس لیے واپس مل گئے!‘‘ واپسی پر تانگے میں عثمان نے تبصرہ کیا۔ مجھے بھی معاملے کا اس طرح حل ہو جانا اچھا لگا تھا، ورنہ ہندوستان میں ہماری شروعات ہی بُرے طریقے سے ہوئی تھی۔ انجام بخیر نکلا تھا۔
عثمان کے ماں، باپ اور بہن، بھائی ہماری آمد سے بڑے خوش تھے۔ عثمان اُن کے لیے پاکستان سے اُن کی فرمائش کے بہت سے تحائف لے کر آیا تھا۔ ویسے بھی اُس کی جنرل سٹور کی دکان تھی، اُسے اچھی چیزیں خریدنے کی سمجھ تھی۔ صبح ہم ناشتے کے بعد باہر بازار میں گھومنے نکلے۔ باہر شیوا جی پارک تھا، جت سہنا تھا، جامع مسجد تھی اور کچھ دور دکھائی دینے والا لال قلعہ بھی تھا۔ جامع مسجد کے ساتھ ہی پالیکا بازار (انڈر گراؤنڈ) تھا۔ وہاں جا کر ایسے ہی چیزوں کے ریٹ معلوم کیے۔
اب مجھے اُن چیزوں کا خیال آیا جو مَیں یہاں فروخت کی نیت سے لے کر آیا تھا۔ پاکستانی فلیٹ کریپ تو اچھے ریٹ پر گھر ہی میں نکل گئی۔ گولڈ لیف کے دو ڈنڈے لے کر جامع مسجد کے قریب ہی ایک پان سگریٹ والے کے پاس پہنچا۔ اُس نے بھی اچھا ریٹ آفر کیا۔ مَیں نے اُسے دو ڈنڈے دے دیے۔ اُس نے میرے سامنے ہی سگریٹ کی کرش پروف ڈبیاں (جو ہماری پیکیجز ہی میں تیار ہوتی تھیں) پھاڑنی شروع کر دیں۔ مجھے حیرت ہوئی: ’’یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟‘‘، ’’بھائی صاحب! میڈ ان پاکستان یہاں نہیں چلے لگا۔ سگریٹ بیچنا ہمارا کام ہے۔ ہم بیچ لیں گے۔‘‘ اُس نے مجھے ادائیگی کی اور میرا تعلق سگریٹوں سے بھی ختم ہوگیا۔
اُسی دن ’’فیوجی‘‘ (جاپان) کی کیمرہ فلمیں بھی سیل کرنے کے لیے چاندنی چوک اور جامع مسجد کے درمیان واقع فوٹو گرافی کے سامان کی مارکیٹ میں چلا گیا۔ اُس دکان دار نے بھی وہی حرکت کی۔ پیکنگ پھاڑی ڈالی اور اس کی وضاحت کرتے ہوئے بولا: ’’آج سے دو ماہ پہلے آپ کے پاکستانی بھائی آئے تھے اور ہمیں 150 فلموں کی جگہ 150 گنڈیریاں دے گئے تھے۔ اس لیے اب ہم اعتبار نہیں کرتے۔ پیکنگ کھول کر دیکھتے ہیں۔‘‘ مَیں پاکستانی فراڈیے کی حمایت کیسے کرتا؟ چُپ رہا۔ دکان دار نے مجھے فلموں کی ادائیگی کرنے کے بعد اپنے ساتھ چائے پینے کی آفر کی، جو مَیں نے قبول کرلی۔ چائے تو بہت کالی سی تھی مگر اُس کی باتیں بہت مزیدار تھیں۔ چائے پیتے ہوئے مَیں نے اُس سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’150 فلموں کی قیمت میں 150 گنڈیریاں! آپ کا تو بہت نقصان ہوا ہوگا؟‘‘ دکان دار خوش مزاج تھا، کہنے لگا: ’’کچھ ایسا نقصان بھی نہیں۔ ہم نے پانی کا ایک ٹب منگوایا۔ اُس میں برف ڈالی اور 150 پاکستانی گنڈیریاں ہم سب دکان داروں نے ٹھنڈی کرکے مزے مزے سے کھائیں۔‘‘
مَیں اس بات میں چھپی کاروباری حکمت پاگیا ۔ اُسے تو کچھ نہیں کہا، مگر خود سوچا کہ اُس نے 150 گنڈیریاں پوری مارکیٹ کو کھلا کر انہیں مزید نقصان سے بچا لیا اور یہ میٹھا سبق دیا کہ وہ پاکستانی پر اعتبار نہ کریں۔
ہندوستان جا کر خود دیکھ لیا کہ وہاں کا دکان دار پاکستانی دکان دار سے بدرجہا بہتر اور پروفیشنل ہے۔ انہیں کاروبار کرنا آتا ہے۔
مَیں پاکستان سے 15 لیٹر بادام روغن نکلوا کر لایا تھا، مگر مجھے یہاں اُس کا اچھا ریٹ نہیں مل رہا تھا۔ پوری مارکیٹ کا ایکا تھا۔ سب مجھے قریب قریب فی لیٹر ایک ہی ریٹ آفر کر رہے تھے۔ 2 کلوبادام کی گری سے ایک کلو بادام روغن حاصل ہوتا تھا۔ تیل نکلوایا الگ سے تھا مگر یہ لوگ ثابت بادام والا ریٹ بھی نہیں دے رہے تھے۔ مَیں پریشان تھا۔ ایک بوڑھے دکان دار نے مجھ سے ایک چھوٹی بوتل میں بادام روغن کا سیمپل لیا اور مجھے اگلے روز آنے کا کہتے ہوئے کہا : ’’یہ مَیں رات کو سوتے وقت پیوں گا۔ اگر صبح اُٹھ کر اجابت کھل کر آئی، تو آپ کا سیمپل پاس۔ پھر اسے خریدنے کی بات ہوگی۔‘‘ یہ بات معقول تھی۔ میں سیمپل دے کر چلا آیا۔
اگلے روز مجھے خوشخبری ملی۔ میرا سیمپل پاس تھا۔ دکان دار کو اِجابت بڑی سہولت کے ساتھ ہوئی تھی۔ اُس نے روغن بادام کا ریٹ بھی اچھا دیا اور مجھ سے پوچھا کہ میرے پاس کتنا بادام روغن ہے؟ مَیں نے اُسے بتایا کہ مَیں نے اور دکان داروں سے بھی بات کر رکھی ہے۔ صبح جتنا ہوا آپ کے پاس لے آؤں گا۔ میرے پاس تو بادام روغن کا محدود سٹاک تھا، مگر اب مجھے لگ رہا تھا کہ مارکیٹ میں ڈیمانڈ زیادہ ہے۔ اس لیے مَیں نے روغن بادام میں کوکنگ آئل کی 50/50 کے تناسب سے ملاوٹ کرنے کا ہنگامی فیصلہ کیا۔ نقصان پر چیز فروخت کرنے سے منافع پر چیز فروخت کرنا ہر لحاظ سے بہتر اور افضل ہے۔
پاکستان سے لیا ہوا میرا سب مال اچھے نرخوں پر ٹھکانے لگ گیا تھا۔ اب میرے پاس پیسہ ہی پیسہ تھا لیکن اب مجھے پاکستانی دوستوں کی فرمائشوں کے مطابق خریداری کرنی تھی۔
پاکستان میں ہندوستانی ’’شوگر کی لکڑی‘‘ کی بڑی ڈیمانڈ تھی۔ اُس کا اصل نام ’’وجے سال لکڑی‘‘ تھا۔ اُس کے بنے ہوئے پیالے بھی بکتے تھے جن میں رات کو پانی بھر دیا جاتا تھا اور صبح پی لیا جاتا تھا۔ جو لوگ اس کی اِفادیت پر یقین رکھتے تھے، وہ اس کی قدر بھی کرتے تھے۔ شوگر کی لکڑی والے پیالے تو زیادہ جگہ گھیرنے والے تھے اور مہنگے بھی تھے۔ مَیں نے وجے سال لکڑی اور صندل کی لکڑی خام حالت میں لے لی جو بڑی سستی ملی۔ انہیں پاکستان جا کر اپنے حساب سے سیل کیا جا سکتا تھا۔ میرا یہ آئیڈیا بہت کامیاب رہا۔ موٹی کالی مرچ اور چھوٹی الائچی بھی بڑی سستی مل گئی۔ ہندوستان سے زیادہ تر پاکستانی پان کی ٹوکریاں خرید کر لے جاتے تھے اور لاہور میں پان منڈی میں فروخت کر دیتے تھے۔ پان لے جانے والے کسٹم کی نظروں میں اشتہاری مجرم تھے۔ فوراً پکڑے جاتے تھے۔ مَیں نے پان والا پنگا نہیں لیا۔ ہندوستان کافی اور خس کے عطر کی فرمائش سوشل سیکورٹی ڈسپنسری کی ایک مہربان لیڈی ڈاکٹر نے کی تھی۔ سو اُن کے لیے یہ اشیا بھی خرید لیں۔ ’’ہندوستانی کافی‘‘ کافی گھٹیا تھی، اس لیے سستی بھی تھی۔ بعد میں لیڈی ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ اُس نے کافی ’’پینی‘‘ کم تھی، مگر اسے بطورِ ہیئر کلر مکس کر کے استعمال کرنی تھی۔
خواتین گھومنے پھرنے پر اصرار کر رہی تھیں۔ انہیں گھر سے باہر نکالا۔ دِلّی کی جامع مسجد، لاہور کی بادشاہی مسجد سے آدھی تھی اور پوری طرح ہر طرف سے مارکیٹوں میں گھری ہوئی تھی۔ اُسے لاہور کی بادشاہی مسجد کی طرح صاف ستھرا اور محفوظ رکھنے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا۔ صحن جنگی کبوتروں کی بیٹوں سے اَٹا ہوا تھا جو دِلّی کے مسلمانوں کی حالت تھی، وہی مسجد کی بھی تھی۔ ہر علاقے کی مسجد وہاں کے لوگوں کی معاشی حالت ظاہر کرنے کا پیمانہ ہوتی ہے۔ یہی معاملہ یہاں بھی نظر آرہا تھا۔
لال قلعہ بھی دیکھا جہاں سیاحوں سے زیادہ گائیڈوں کی بھرمار تھی جو غیر ملکی سیاحوں کو وہاں کی جھوٹی سچی کہانیاں سنا رہے تھے۔ لال قلعہ لاہور کے شاہی قلعہ کے مقابلے میں بچونگڑا سا لگ رہا تھا۔
میرے اس دورۂ ہندوستان سے قبل جو لوگ دِلّی کی مذکورہ تاریخی عمارات کے بارے میں مبالغہ آرائی کرتے تھے، مَیں لاعلمی کے باعث اُن سے اتفاق کرنے پر مجبور ہوتا تھا، مگر اس دورے کے بعد جس نے بھی ان عمارات کے بارے میں مجھ سے مبالغہ آرائی کی، منھ کی کھائی۔ حقیقت پسندی اور حقیقت نگاری شروع ہی سے میری شخصیت کا خاصہ رہی ہے، اس لیے مقامات اور لوگوں کے بارے میں اپنی ذاتی رائے قائم کرنے کے لیے سفر بھی کرتا ہوں اور ملاقاتیں بھی۔ عقیدت پسندی اور آنکھیں بند کرکے کسی پر ایمان لانا میری عادت نہیں۔
لال قلعہ کے اندر بنی گفٹ شاپس پر ہاتھ کی بنی ہوئی، ہاتھی دانت کی بنی ہوئی کئی خوبصورت اشیا فروخت ہو رہی تھیں۔ دل تو سب کی سب خریدنے کو چاہ رہا تھا، مگر دوستوں کی فرمائشیں فہرست میں سب سے اُوپر تھیں۔
لال قلعہ میں پہلی بار پلاسٹک کی بوتلوں میں پانی بکتا دیکھا جو BISLIRI برانڈ تھا۔ شیشے کے بنے ہوئے پرندے اور جانور شو پیس کے طور پر خرید لیے۔ تاج محل کے سنگ مرمر سے بنے ہوئے ماڈلز بھی لیے۔
ہم نے وہاں سائیکل رکشا کی سواری بھی کی جو انسان پر انسان کے ظلم کی شرمناک مثال تھی۔ پاکستان میں تو اسے وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے زمانے میں ختم کر دیا تھا۔ پاکستان میں سائیکل رکشاصرف احمد پور شرقیہ اور بہاول پور کی حد تک تھا، مگر پاکستان نے اس ذلت سے چھٹکارا حاصل کر لیا۔
رات کو مَیں نے بیوی کے ساتھ گولچہ سنیما (آنند مارگ روڈ) میں راج کپور کی زیرِ ہدایت بننے والی مشہور فلم ’’رام تیری گنگا میلی‘‘ دیکھی۔ یہ سنیما اعلا ترین سنیما تھا۔ قالین میں پاؤں دھنستے تھے۔ ہندوستانی سنیماؤں سے پاکستان سنیماؤں میں مروج BOX کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ کیوں کہ وہاں ان BOXES کا ناجائز استعمال بہت عام ہو گیا تھا جس پر ہندوستانی حکومت کو یہ قدم اُٹھانا پڑا تھا۔ ’’رام تیری گنگا میلی‘‘ میں ایک دو بے باک مناظر تھے۔ فلم سنیما سکوپ تھی۔ اس لیے فلم کا بڑی سکرین کی وجہ سے زیادہ لطف آیا۔ ہم گیلری میں بیٹھے تھے جہاں ہمارے دائیں بائیں آگے پیچھے سرعامِ بوسہ بازی ہو رہی تھی۔ ہماری نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ جذبات جوان تھے، اس لیے یہ سب اچھا لگ رہا تھا۔ گولچہ سنیما ایک کمرشل کمپلیکس کاحصہ تھا۔ فلم کے بعد ہم نے باہر آ کرایک آئس کریم شاپ پر بیرے کو قلفے کا آرڈر دیا۔ ’’فل قلفہ؟‘‘ بیرے نے پوچھا۔ مَیں نے اثبات میں سر ہلایا۔ اُس نے پھر پوچھا: ’’سر فُل قلفہ؟‘‘ جی، جی! ’’اس بار مَیں نے زور دے کر کہا۔ تو بیرا ہنس کر بولا: ’’سر یہاں زیادہ تر لوگ کوارٹر قلفے کا آرڈر دیتے ہیں۔ فل قلفے کا آرڈر دینے والا جوڑا کوئی کوئی ہوتا ہے۔ اس لیے مجھے یقین نہیں آ رہاتھا۔ ‘‘ بیرا آرڈر لے کر چلا گیا۔ ہندوستان میں دودھ، دہی اور اُس سے بنی ہوئی دیگر اشیا پاکستان کے مقابلے میں دُگنی مہنگی تھیں اور اُن کا معیار بھی پاکستان جیسا نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دودھ سے وہاں زیادہ تر پنیر بنا لیا جاتا تھا جو ہندو سالن میں گوشت کی جگہ استعمال کرتے تھے۔ وہی ڈیمانڈ اینڈ سپلائی والا پرانا اصول اور دُکھڑا تھا۔
ہم نے بھی پنیر والا سالن کھایا مگر گوشت جیسا مزہ نہ آیا۔ دِلی کی نہاری کی بڑی شہرت سنی تھی۔ بڑے شوق سے منگوا کر کھائی، تو مرچیں ہی مرچیں۔ مقعد سُلگ اُٹھا۔ جب شکایت کی، تو عذر گناہ بدتر از گناہ کے مصداق ہمیں آگرے کی نہاری کا بتا کر ڈرایا گیا کہ اُس میں دِلی کی نسبت دوگنی مرچیں ہوتی ہیں۔ ایک دن ہمارے لیے خصوصی طور پر لمبے چاول، بریانی کی صورت میں پکائے گئے جو ہندوستان میں دہرہ دون کے چاول کے نام سے مشہور ہیں۔ چاول کی پیداوار کے حساب سے چین (موٹاچاول) دنیا میں نمبر ون ہے اور چاول کی کوالٹی کے حساب سے پاکستان نمبر ون ہے۔ سپر کرنل چاول ایجاد کرنے والے پاکستانی ماہر کا کچھ سال پہلے انتقال ہوا، تو اخبار میں اُن کی آل اولاد کی طرف سے ایک بڑا اشتہار شائع ہوا۔ مجھے بھی اُس قابلِ فخر شخصیت کی وفات کا صدمہ ہوا جس نے پاکستان کا نام چاولوں کی عالمی منڈی میں ’’ٹاپ‘‘ پرپہنچا دیا۔ ہندوستان بھی ہمارا چاول خرید کر، دہرہ دون کا چاول کہہ کر دبئی، ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں فروخت کرتا رہا۔ کیوں کہ وہ ہم سے بہتر مارکیٹنگ کرنے کے گُر جانتے ہیں۔ اور تو اور امریکہ میں کسی نے ’’باسمتی‘‘ کے نام سے نام رجسٹر کروا لیا تھا جب کہ اُن کا باسمتی سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ وہ اس نام کی رائلٹی کھانا چاہتے تھے۔ پاکستان نے عالمی عدالت میں یہ مقدمہ لڑا اور جیت لیا، ورنہ یہ ہونا تھا کہ چاول پیدا کرنے والے، محنت کرنے والے سے زیادہ صرف نام رجسٹر کروانے والے نے ہی کھا جانا تھا۔
پاکستانی نمک کے ساتھ ہندوستان آج بھی یہی کام کر رہا ہے۔ وہ پاکستان سے’’راک سالٹ‘‘ (ROCK SALT) خریدتا ہے اور اسے نئی پیکنگ کر کے ’’ٹیبل سالٹ‘‘ (TABLE SALT) کے نام سے بہت مہنگا فروخت کرتا ہے۔ یہی معاملہ پاکستانی (سندھی) چھوہارے کے ساتھ بھی ہے جو پاکستان سے ہندوستان جا کر ’’پرشاد‘‘ بن جاتا ہے اور مندروں میں چڑھایا جاتا ہے۔
ایک دن بستی نظام الدین (حضرت نظام الدین اولیاؒکا مزار) بھی گئے۔ تنگ سی ٹیڑھی میڑھی گلیاں تھیں۔ لاہور کے داتا دربار کی طرح وہاں بھی پھولوں کے ہار، پُھل مخانے، بتاشے فروخت ہو رہے تھے۔ مجھے وہاں چمڑے کے بنے ہوئے موزے، سستے اور اچھے لگے، خرید لیے۔ مرزا غالبؔ کے مزار پر بھی گئے۔ کچھ قبریں تھیں احاطے میں، جن میں سے ایک نمایاں قبر مرزا غالبؔ کی بھی تھی، وہاں پاس ’’غالب اکیڈمی‘‘ تھی جو خاصی بڑی اور شان دار تھی۔
جمعہ کا دن تھا۔ بادشاہ ہمایوں کے مقبرے پر گئے۔ مسلمانوں کے لیے جمعہ کا دن فری رکھا گیا تھا، مسلمانوں کی تاریخی عمارات کے حوالے سے۔ مفت میں اندر گئے اور کئی جھاڑیاں اور سرکنڈے، سرسراتے بلکہ کسمساتے ہوئے محسوس کیے۔ بادشاہوں نے اپنے عہدِ اقتدار میں خوب عیاشیاں کی تھیں او ر اب عوام اُن کے مقبروں پر عیاشیاں کرنے کے لیے آتے تھے۔ وقت، وقت کی بات تھی جو سدا ایک سا نہیں رہتا۔
دِلّی گئے اور قطب صاحب کی لاٹھ نہ دیکھی، یہ کیسے ہو سکتا تھا۔ یہ مینار غلام بادشاہ قطب الدین ایبک نے بنوایا تھا۔ قطب صاحب کی لاٹھ یہاں تھی اور خود قطب الدین ایبک کا مزار لاہور کے مشہور بازار، انار کلی کے اندر تھا۔ سادہ سا خاموش مسافر اور جس کے پاس مشہور شاعر احسان دانشؔ کا’’مکتبۂ دانش‘‘ کسی زمانے میں بڑا مشہور تھا اور وہاں بڑی بڑی نابغہ روزگار شخصیات احسان دانشؔ سے ملنے آیا کرتی تھی۔ بادشاہ اور فقیر سب اپنا اپنا وقت گذار کر چلے گئے۔ یہی دنیا کا چلن ہے اور رہے گا۔
قطب مینار واقعی اپنے وقت کا ایک شاہکار ہے جس پر قرآنی آیات کندہ کی گئی ہیں۔ اُن دنوں وہاں مرمت کا کام ہو رہا تھا، اس لیے پھر اُس پر چڑھنے سے محروم رہے۔ قطب مینار سے ملحق ایک اچھا باغ تھا وہاں وقت گذارا۔ سنا ہے قطب مینار کے بالمقابل کسی ہندو راجہ نے بھی ایسا ہی مینار بنانے کی ناکام کوشش کی۔ وہ ناکام اور اَدھوری کوشش بھی یہاں موجود تھی۔ اَدھورے کام کے کسی کوکیا نمبر دیے جا سکتے ہیں اور اسے کسی حد تک ڈسکس کیا جا سکتا ہے؟
شام کے وقت ہم ’’انڈیا گیٹ‘‘ گئے جو سو فیصد فرانسیسی ’’فتح محراب‘‘ کی کاپی ہے۔ فرانسیسی ’’فتح محراب‘‘ کے ساتھ تو روشنیوں میں نہائی شان دار شاہراہ ’’شانز الیزے‘‘ ہے اور مشہور زمانہ ’’ایفل ٹاؤر‘‘ بھی مگر ’’انڈیا گیٹ‘‘ کے دونوں طرف والے پارک تو خاصی حد تک اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھے اور نوجوان جوڑے اندھیرے کا بھرپور فائدہ اُٹھا رہے تھے۔ برصغیر کے لوگوں میں جنسی فرسٹریشن تھی ہی اتنی کہ ختم ہونے میں نہ آتی تھی۔ کسی زمانے میں تو اسے ’’مردم خیز خطہ‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔ یہاں مرد زیادہ اور خواتین کم تھیں مگر اس علاقے کا یہ فخر بھی اب ختم ہوچکا ہے۔ پاکستان میں خواتین کی آبادی 55 فی صد اور مردوں کی آبادی 45 فی صد تک پہنچ گئی ہے۔ خواتین کی شرح مزید بڑھنے کے امکانات نظر آرہے ہیں۔ عورت ہر میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ایران میں تین عورتوں کے مقابلے میں ایک مرد ہے۔ روسی آزاد ریاست ’’یوکرائن‘‘ تو دنیا میں خواتین کی تعداد کے تناسب سے سب سے اوپر ہے۔
ہندوستان میں صنفِ نازک کے لیے کوئی خاص احترام ہمیں تو نظر نہیں آیا۔ بسوں میں خواتین کے لیے نشستیں مخصوص نہیں، وہاں مرد، عورت مکس نظر آتے ہیں۔ جنرل سٹورز میں خواتین سیلز سٹاف اکثر نظر آتا ہے۔ خواتین سائیکلیں اور بائیکس بھی چلاتی ہیں۔
مجھے ہندوستان میں جو چیز سب سے زیادہ پسند آئی وہ وہاں کے Bajaj رکشا تھے جن کی ایمان داری اُن کے Non Tempeared میٹرز سے ظاہر تھی۔ ہمیں دِلّی میں اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لیے وزارتِ داخلہ کے دفتر جا کر اپنی حاضری لگوانی پڑتی تھی، جہاں جانے کا کرایہ اُس زمانے میں رکشا پر 3 روپے 50 پیسے، 3 روپے 40 پیسے یا 3 روپے 60 پیسے بنتا تھا جو مناسب بھی تھا اور اطمینان بخش بھی۔
ہمارے پاکستان میں میٹر پر چلنے والے رکشا چلتے تو تھے، مگر ان کے میٹروں میں گڑبڑ کی گئی ہوتی تھی۔ رکشا والا جان بوجھ کر رکشا کھڈے میں مارتا تھا جس کے جھٹکے سے میٹر کا یونٹ بلاجواز سرک جاتا تھا۔ سواری رکشے کا میٹر دیکھتے دیکھتے اختلاجِ قلب کا شکار ہو جاتی تھی۔ لڑائی جھگڑا الگ سے ہوتا تھا۔ پھر رکشا والوں نے یہ رسمی میٹر بھی ختم کر دیے اور سواری کرایہ طے کر کے بیٹھنے لگی۔ سیاحت کی کمائی پر چلنے والے ممالک ایسی بے ایمانیاں افورڈ نہیں کر سکتے۔ اس لیے ہندوستان مالی معاملات اور لین دین میں پاکستان سے خاصا بہتر ہے۔
ہندوستانی فلموں نے ہندوستانی عوام کی آنکھوں پر وہ پٹی باندھ رکھی ہے جو وہ اُتارنا نہیں چاہتے۔ فلم اُن کا نشہ بنا دیا گیا۔ فلم کا مقام ایک ہندوستانی کی زندگی میں کیا ہے؟ اس کی وضاحت یہ ہے کہ ہندوستان میں ہر سنیما میں روزانہ 5 شو ہوتے ہیں۔ پہلا شو پرانی ہندوستانی فلم کا جس کا ٹیکس معاف ہوتا ہے۔ یہ شو صبح 9 صبح سے 12 بجے تک ہوتا ہے جسے بابے، بابیاں دیکھتے ہیں۔ نئی انگلش فلم کا شو 12 سے 3 بجے تک ہوتا جو ینگ جنریشن سکول، کالج، یونیورسٹی سے بھاگ کر دیکھتی ہے۔ باقی 3 شو نئی ہندوستانی فلم کے ہوتے ہیں یعنی پانچ ضرب تین (15گھنٹے) تو اس کام میں گئے۔ فلم آپریٹر نے صرف 9 گھنٹے آرام کیا۔ اتنی ڈیوٹی تو فوجی بھی فوجی محاذ پر نہیں دیتے، مگر ہندوستان کو اپنے ثقافتی محاذ کی بڑی فکر ہے جہاں فلم آپریٹر 15 گھنٹے پروجیکٹر روم کے مورچے میں ڈٹا رہتا اور بھوکے، ننگے عوام کو فلم والی افیون پر لگائے رکھتا ہے اور دنیا کے سامنے اپنا خوشحال چہرہ پیش کرتا ہے۔ دور کے ڈھول سہانے کے مصداق جب کوئی پاکستانی، ہندوستان آکر ہندوستان کا اصل چہرہ دیکھتا ہے، تو بڑا مایوس ہوتا ہے۔ یہاں کھانے پینے میں صرف انناس، ناریل اور پنیر سستا اور اچھا معلوم ہوتاہے۔ باقی کچھ بھی لاہور (پاکستان) کے مقابلے میں اچھا نہیں۔ پنیر کو تو عزت پیزا نے بخشی ہے اور بند گوبھی کو مختلف چائینز سوپ نے عطا کی ہے۔ ورنہ پاکستان میں ان دونوں کو کوئی پوچھتا بھی نہ تھا۔
ہندوستانیوں کی صحت کا عمومی معیار بڑا پست ہے۔ بازار میں عام چمڑیس اور بے رونق سے چہرے دکھائی دیں گے اور اگر اتفاقاً کوئی خوش شکل چہرہ دکھائی دے بھی جائے گا، تو وہ کوئی پنجابی یا کشمیری ہوگا۔ دِلّی میں اکثر مردوں کو زنانہ سے رنگوں والی شرٹیں پہنے دیکھا، جو رنگ کہیں نہ چلے وہ ہندوستان میں مل جاتا ہے۔
چاندنی چوک (بازار) میں خواتین کو شراب خریدنے کے لیے لائن میں لگا دیکھنا بھی ایک عجیب تجربہ تھا۔ وہاں شراب پرمٹ پر ملتی ہے۔ ساڑھی فلموں کی حد تک تو بڑا خوبصورت لباس لگتی ہے مگر ہندوستان میں اپنی آنکھوں سے دیکھنے پر یہ لباس ذلیل ترین لگا۔ خواتین کے میلے پسینے میں تر ڈھلکے ہوئے پیٹ بڑے بھدے لگے۔ ساڑھی کے مقابلے میں خواتین کے لیے شلوار قمیص اور دوپٹا بڑا پُروقار اور باعزت لباس ہے۔
ایک روز اندرون دِلّی کے بازار میں شاپنگ کرنے گئے، وہاں گؤ ماتا صاحبہ مست پھر رہی تھیں، اِدھر اُدھر منھ مار رہی تھیں۔ جسمانی حالت اُن کی بھی پتلی تھی۔ پسلیاں نمایاں تھیں۔ آوارہ کتے اور سؤر ماحول کو مزید گندا کر رہے تھے۔ ایسے میں شاپنگ کرنا ہندوستانیوں ہی کا کمال تھا۔ ہم تو باز آئے ایسی جگہ شاپنگ کرنے سے۔
چاندنی چوک کے تقریباً درمیان میں ایک سکھ کی بڑی مٹھائی شاپ تھی۔ اُس نے میرے حلیے سے ہی اندازہ لگا لیا کہ مَیں پاکستان سے آیا ہوں۔ مَیں نے لاہور کا بتایا، تو لاہور کی باتیں کرید کرید کر پوچھتا رہا۔ آنکھیں نم ہو گئیں اور اُس نے مجھ سے مٹھائی کے پیسے بھی نہیں لیے۔
مسلمان سر پر پڑنے کے وقت سوچتے ہیں اور سکھ وقت گزرنے کے بعد سوچتے ہیں۔ سکھوں نے جو کتابیں تاریخ کے حوالے سے لکھی ہیں، اُن میں اب اکثر یہ ذکر نظر آنے لگا ہے کہ ہم نے قائد اعظم کی آفر قبول نہ کر کے بہت بڑی غلطی کی مگر اب اس کے اِزالے کا وقت بھی نہیں۔ اب ہم یہ غم کینیڈا میں بیٹھ کر ہی غلط کرسکتے ہیں۔
جگجیت سنگھ اروڑا جس نے ڈھاکہ میں پاکستانی فوج سے ہتھیار ڈلوائے تھے، اپنی آپ بیتی میں لکھتا ہے: ’’ڈھاکہ فال کے بعد میرا خیال تھا کہ مجھے فوجی خدمات کے صلے میں کسی اعلا ترین فوجی اعزاز سے نوازا جائے گا مگر مجھے ہندوستانی وزیر اعظم نے طلب ہی نہیں کیا۔ 6 ماہ بعد بلایا گیا، تو مجھے ایسے کمرے میں انتظار کرنے کو کہا گیا جہاں کوئی کرسی ہی نہیں تھی۔ مجھ سے کہا گیا تھا کہ میں سرخ بلب کے گرین میں تبدیل ہونے کا انتظار کروں۔ خاصے انتظار کے بعد سرخ بلب گرین میں تبدیل ہوا، تو میں خوش خوش اندرا گاندھی کے کمرے میں گیا۔ خاصی دیر انہوں نے اپنے سامنے موجود فائلوں کے ڈھیر سے سر ہی نہ اُٹھایا نہ مجھے کرسی پر بیٹھنے ہی کو کہا۔ پھر انہوں نے مجھے توجہ دی مگر ایسے ہی رسمی سی باتوں کے بعد یہ ملاقات ختم ہوگی۔‘‘ یہ فرق ہے ہندوستانی جمہوری حکمرانوں کا اپنے فوجی جرنیلوں کے ساتھ اور پاکستان میں معاملہ کیا ہے؟ یہ سب جانتے ہیں۔
ہندوستان میں اُس زمانے میں ہندوستانی اپنی شناخت کے لیے راشن کارڈ دکھایا کرتے تھے جب کہ پاکستانیوں کو قومی شناختی کارڈ جیسی باعزت، باوقار سہولت حاصل تھی۔ ہندوستانی کرنسی بھی خوبصورت نہیں تھی۔ اُن کے ڈاک ٹکٹ بھی کنجوسی اور کفایت شعاری کی مثال تھے۔ ہندوستان میں سو روپے کا چینج تلاش کرنا بھی ہمارے لیے اکثر مسئلہ بن جاتا تھا۔ لوگوں کے پاس پیسہ تھا ہی نہیں، قوتِ خرید تھی ہی نہیں۔
جب میں بادام گری اور کشمکش لے کر چاندنی چوک کے آخر میں موجود بڑے بازار میں گیا، تو مجھے وہاں پستے سے ملتی جلتی ایک چیز نظر آئی۔ پوچھا تو اُس کا نام ’’چُرنجی‘‘ بتایا گیا۔ مَیں نے چکھ کر دیکھی، تو بالکل پستے ہی کے ذائقے والی تھی۔ مَیں نے تھوڑی سی پاکستان میں دکھانے کے لیے خرید لی۔ وہاں املی بڑی سستی مل رہی تھی وہ بھی 10 کلو خریدلی۔ اُس کو خریدنے کا ایک خاص مقصد تھا جو بعد میں پورا کرنا تھا یعنی اپنے ٹور کے آخر میں ہمارے پاس آگرہ کا ویزا نہیں تھا مگر ہم تاج محل دیکھے بغیر جانا نہیں چاہتے تھے۔ ہم نے عثمان کے والد صاحب سے بات کی اور اُن کے مشورے کے مطابق عرفان کے پینٹ شرٹ پہن لیے صرف ایک دن ہی کی تو بات تھی۔
صبح ساڑھے چھے بجے کی ٹرین سے ہماری دِلّی سے آگرہ کی سیٹیں بک ہوگئیں۔ ہندوستانی ریلوے دنیا کا سب سے زیادہ ملازم رکھنے والا محکمہ ہے اور بڑا منظم بھی ہے اور شان دار بھی۔ ٹرین پورے ساڑھے چھے بجے چلی اور ساڑھے دس بجے آگرہ پہنچ گئی۔ وہاں سے ہم نے فتح پور سیکری دیکھنے کے لیے ٹیکسی کی۔ تاج محل ہم نے وہاں سے واپسی پردیکھنا تھا۔
فتح پور سیکری زمین سے اونچائی پر تھا۔ نیز پہاڑی سا علاقہ تھا۔ پاکستان کے جہلم جیسا۔ رستے میں ایک مور نے ناچتے ہوئے ہمیں مسحور کر دیا اور ہم نے اُس کا رقص دیکھنے کے لیے ٹیکسی رکوا دی اور کچھ فاصلے سے رقصِ طاؤس دیکھتے رہے۔ فتح پور سیکری ہی میں حضرت سلیم چشتیؒ کا مزار تھا۔ وہاں فاتحہ پڑھی۔ وہاں پاس ہی زندگی میں پہلی بار باؤلی دیکھی۔ یہ ایک بڑے قطر والا کنواں تھا جس کے کنارے گھومتی ہوئی سیڑھیاں اندر پانی تک جاتی تھیں۔ تہ میں سبزی مائل پانی نظر آرہا تھا۔ مجھے تو دیکھ کر ہی خوف آرہا تھا مگر لڑکے بالے اس کے اندر نہا رہے تھے، کھیل رہے تھے۔ سیاح اُن بچوں کو خوش کرنے کے لیے سکے پھینکتے تھے جو وہ اُچک لیتے تھے اور دن بھر اکٹھے ہونے والے سکوں سے اپنے گھر کو سپورٹ کرتے تھے۔
ہندوستان میں عام انسان کی زندگی بہت مشکل تھی۔ ایک نہیں کئی جگہ ایسے دیکھا۔ سب سے زیادہ ترس مجھے گنے کا رس بیچنے والے پر آیا جو گھر سے چھیل کر گنے لایا تھا اور انہیں لکڑی کے بیلن میں اپنی تمام تر جسمانی قوت استعمال کر کے پیل رہا تھا۔ ہم نے اُس سے ہمدردی کرتے ہوئے، گنے کا جوس پیا جس میں برف بھی ڈالی گئی تھی اور ریٹ بھی کچھ زیادہ نہیں تھا۔
فتح پوری سیکری میں ایک اطالوی جوڑا بھی اپنی نوخیز بچی کے ساتھ سیر کر رہا تھا۔ بچی والدین کے ساتھ رہ رہ کر بور ہو گئی تھی۔ وہ انہیں رکنے کا کہہ کرخود ہی آگے بڑھی اور فتح پور سیکری کی وسیع و عریض عمارات دیکھنے لگی جو کہ اندر سے ٹھنڈی تھیں۔ اُس روز باہر بڑی گرمی پڑ رہی تھی۔
خواتین گود کی بچیاں لیے حضرت سلیم چشتیؒ ہی کے مزار پر بیٹھ گئیں۔ وہ تھکاوٹ کا شکار ہو گئی تھیں۔ عثمان بھی انہی کے آس پاس تھا۔ مجھے اطالوی لڑکی نے بڑا "Attract” کیا۔ مَیں نے اُسے ایک سنسان عمارت میں جا لیا اور فری ہوگیا، مگر اُس لڑکی نے مجھ سے حلف لیا کہ میرے ساتھ وہ کام نہ کرنا جو اپنے ہر سفر نامے میں مستنصر حسین تارڑ کرتا ہے۔ مَیں نے اُسے یقین دہانی کروا دی اور ہمارا اچھا وقت گذرا۔
ٹیکسی میں واپس تاج محل کی طرف جاتے ہوئے ہمیں رستے میں ایک ہوٹل پر ’’پشاوری ہوٹل‘‘ لکھا ہوا نظر آیا۔ بہت بھوک لگی تھی۔ نام سے مرعوب ہو کر ہوٹل میں چلے گئے۔ ہمیں جو سالن دیا گیا وہ مونگ ثابت اور پنیر تھا۔ کچھ خاص مزہ نہ آیا۔ روٹیاں بھی چھوٹی چھوٹی سی، چائے کی طشتری جتنی تھیں۔ اس پر مجھ سے رہا نہ گیا۔ مَیں کاؤنٹر پربیٹھے مالک کی طرف گیا اور کہا: ’’نام آپ نے پشاوری ہوٹل رکھا ہے کبھی پشاوری روٹی دیکھی ہے آپ نے؟‘‘ مالک میرا غصہ سمجھ گیا: ’’میرے دادا بھی پشاور کے تھے، اس لیے انہیں کے نام پر ہوٹل کا نام رکھا ہے۔ آپ درست کہتے ہیں، وہاں کی روٹی تو واقعی بہت بڑی ہوتی ہے مگر یہاں یہی روٹی چلتی اور بکتی ہے۔ آپ خفا نہ ہوں ہم آپ سے زیادہ پیسے نہیں لیں گے۔ آپ ہمارے مہمان ہیں۔‘‘ میں اپنی ٹیبل پر آ گیا۔
تاج محل کی ’’انٹرنس‘‘ مجھے مقبرہ جہانگیر جیسی لگی۔ مقبرہ جہانگیر میں داخل ہوں، تو اصل مقبرہ دائیں جانب آتا ہے اور تاج محل داخلے کے بعد بائیں جانب تھا۔ ایک پتھریلے سے خشک شہر میں سفید سنگِ مرمر کی دودھ جیسی عمارت واقعی آنکھوں کو سکون بخشتی تھی۔ تاج محل کے ایک طرف جمنا بہ نہیں رہی تھی گھسٹ اور سسک رہی تھی۔ سبزہ اور پھل دار درخت صرف تاج محل کے اندر ہی تھے، باقی سارا شہر آگرہ ایک خشک سا منظر پیش کر رہا تھا۔
جس روز ہم تاریخی تاج محل دیکھنے آئے یہ بھی ایک تاریخی دن تھا، یعنی جمعہ 18 اپریل 1986ء کا جس روز ہندوستان اور پاکستان کا شارجہ میں آسٹریشیا کپ کا فائنل میچ تھا مگر ہمیں اس میچ کا کچھ پتا نہ تھا۔
ہندوستان کے اس ٹور میں مجھے بے نظیر بھٹو کی لاہور تاریخی واپسی کا لمحہ مس کر جانے کا بھی افسوس تھا جو پاکستانی عوام کے لیے تبدیلی کی ہوا بن کر آئی تھی۔ ہم نے سارا دن تاج محل ہی کو دیکھتے ہوئے گذار دیا۔ شام کو واپسی دِلّی جانے کے لیے آگرہ سٹیشن پہنچے، تو سٹیشن سنسان پڑا تھا۔ ہمیں حیرت ہوئی۔ ٹرین میں بیٹھ گئے، تو پتا چلا کہ جاوید میانداد نے پورے ہندوستان کو اُداس کردیا اور اُن سے جیتا ہوا میچ چھین لیا۔ ہم پاکستان میں ہوتے، تو اس تاریخی فتح کی خوشی مناتے مگر اب ہم ایسی حالت میں یہ سب کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے گھر پہنچنے تک ہم خاموش رہے۔
عثمان کے گھر والوں کو مَیں نے مٹھائی کے لیے پیسے دیے اور پھر سب نے مل کر مٹھائی کھائی۔ گھر والے ٹی۔ وی پر میچ کی خبریں سُنیں مگر دل کو تسلی نہ ہوئی۔ اگلے دن صبح باہر سٹال پر دستیاب تمام اُردو اور کچھ انگلش اخبارات بھی میانداد کا کارنامہ پڑھنے کے لیے خرید لیے جن کے تراشے آج بھی میرے پاس محفوظ ہیں۔
یہاں مجھے ہندوستان والوں کی ایک اور خوبی نظر آئی۔ انہوں نے میانداد کے کارنامے کو دل کھول کر سراہا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ کسی ملک کی ہار جیت نہیں ہوئی، اصل فتح کرکٹ کی ہوئی ہے۔ اُن کا یہ اندازِ فکر مثبت اور درست تھا۔ آنے والے دنوں میں پاک ہند کرکٹ پر اس میچ کے گہرے اثرات نظر آتے ہیں۔ یہ میچ پاک ہند کرکٹ کا گیم چینجر ثابت ہوا تھا۔
بے نظیر بھٹو نے سیاسی محاذ پر حاکمِ وقت جنرل ضیاع کو جو شکست دی تھی۔ وہ اس میچ کی خبر میں وقتی طور پر چھپ گئی تھی مگر یہ ضیاع کی خوش فہمی تھی۔ حالات تیزی سے اُس کے خلاف جانے لگے تھے۔
دِلّی میں جی بی روڈ پر ریلوے لائن کے سامنے، زنان بازاری کا اڈا ہے۔ عثمان اور مَیں صرف تجسس کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے کہ یہ ہمارا صرف مطالعاتی دورہ تھا۔ ہم دونوں وہاں گئے۔ کام تو پہلے ہی گندا تھا مگر وہاں کا جائزہ لینے پر مزید گندا لگ رہا تھا۔ کئی دلال ہماری طرف لپکے۔ عثمان نے اُنہیں صاف بتا دیا کہ آج ہم صرف مال دیکھنے آئے ہیں، لین دین بھر کبھی کریں گے۔ دلالوں کا کیا جانا تھا۔مالِ مفت دلِ بے رحم والا معاملہ تھا۔ وہ ہمیں فلیٹ ٹائپ مارکیٹ کے اوپری حصے میں لے گئے اور فخریہ پور پر بتایا کہ یہاں ہندوستان کے ہر علاقے اور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والی عورت موجود ہے۔ کسی کے لیے بھی کوئی معافی نہیں۔ ہاں! اُبلی رنگت والی نیپالی لڑکیوں کا ریٹ ڈبل ہے اور بمبئی میں تو اُن کے نام کی علیحدہ سے ’’سفید گلی‘‘ مشہور ہے۔ مَیں اور عثمان ایسے ہی مختلف فلیٹوں میں تاک جھانک کر کے اور دل پشوری کر کے، دلال کو بیڑی چائے کے نام پر 5 روپے پکڑا کر’’باعزت‘‘ واپس گھر چلے آئے۔
ایک روز عرفان مجھے میری فرمائش پر آل انڈیا ریڈیو لے گیا۔ وہاں جا کر پاکستانی بھائیوں کی فرمائش پر چلنے والے ہندوستانی فلمی گانوں کا راز بھی کھل گیا۔ جس سٹوڈیو میں یہ فرمائشی پروگرام ہوتا تھا، وہاں کبوتروں کے کابک جیسے 31 خانے بنے ہوئے تھے۔ ہر خانے میں سائیکلو سٹائل شدہ پاکستانی ناموں پر مشتمل کاغذوں کے موتے سوتی دھاگے میں پروئے ہوئے کاغذوں کے بنڈل ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔ روزانہ کوئی مردانہ یا زنانہ آواز رٹے کے انداز میں یہ نام تاریخ کے ترتیب کے ساتھ پڑھتی اور ہندوستانی پروپیگنڈے کا فن ادا ہو جاتا کہ آج بھی پاکستانی، ہندوستانی گانے سُننے کے لیے ترستے ہیں اور فرمائشی خطوط بھجواتے رہتے ہیں۔
مَیں نے آل انڈیا ریڈیو والوں سے پوچھا کہ کون پاگل ہے جو انہیں ایک گانے کے لیے اتنا مہنگا خط لکھتا ہے؟ تو وہ شرمندہ شرمندہ سا ہنسا: ’’چھوڑیں یہ بات۔ دونوں ممالک کی حکومتیں اپنے اپنے عوام کو احمق بنا رہی ہیں۔ فوجی اور جمہوری سطح پر دونوں ملکوں کے درمیان لاحاصل مذاکرات ہوتے ہی رہتے ہیں۔ دونوں طرف کے اعلا افسران مذاکرات کے نام پر اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آتے جاتے ہیں۔ سیر سپاٹا کرتے ہیں۔ شاپنگ کرتے ہیں۔ جی بھر کے شرابیں پیتے ہیں اور بس!‘‘ مَیں نے آل انڈیا ریڈیو کی پوری عمارت کا دورہ کیا جو بہت بڑی تھی۔ وہاں سے تمام مقامی زبانوں اور بہت سی عالمی زبانوں کی نشریات کی جاتی تھیں۔ اُس وقت تک ہندوستان میں ٹی وی پاکستان جتنا پاپولر نہیں تھا۔ لوگوں میں اسے خریدنے کی سکت ہی نہیں تھی۔
مجھ سے ہندوستانی کاٹن کے کُرتے لانے کی فرمائش بھی کی گئی تھی۔ ایک دن بازار وہ خریدنے چلا گیا۔ پورے بازار میں کھمبوں کے ساتھ لاؤڈ سپیکر لگے تھے جن پر صبح کی شروعات کے حوالے سے بھجن لگے ہوئے تھے۔ بھجن اور بھوجن میں کچھ زیادہ فرق نہیں۔ اس بات کا یہاں آکر پتا چلا تھا۔ قریب قریب ہر دکان پر ’’شبھ لابھ‘‘ (جائز منافع) کا سائن لگا تھا۔ مارکیٹ کا آپس میں ایکا تھا، یہ راز تو مَیں جان چکا تھا نہ وہ خود خراب ہوتے تھے، نہ گاہک ہی کو خراب کرتے تھے۔ میں نے کُرتے کے تھان (چار کُرتے) کی قیمت پوچھی، تو سب نے 72 روپے بتائی۔ ایک دکان دار نے قیمت 71روپے بتائی اور اُس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک روپیا وہ ہے جو ہمیں وہ لکڑی فروخت کر کے ملے گا جس پر تھان لپیٹا جاتا ہے۔ مَیں سناٹے میں آ گیا کہ یہ لوگ اتنے کم مارجن پر کام کرتے ہیں؟ کُرتے کے دو، تین تھان مَیں نے لے لیے۔ پھر اُسے زنانہ سوٹ دکھانے کو کہا، مگر وہ مجھے بھڑکیلے رنگوں کی وجہ سے پسند نہیں آئے۔ مَیں واپس نکلنے لگا، تو دکان دار نے کہا: ’’جناب! ساری دکان ہی آپ کی ہے۔ بہت ورائٹی ہے ہمارے پاس!‘‘ میں نے وضاحت کی: ’’بچہ مجھے کپڑے دکھا دکھا کر نڈھال ہو رہا ہے۔ مجھے پسند نہیں آرہے۔ مجھے بڑی شرمندگی ہے۔‘‘ دکان دار بھڑ اُٹھا: ’’جناب! ملازم کے نڈھال ہونے کی کیا بات کری آپ نے؟ یہ ہمارا ملازم ہے۔ صبح سے شام تک تھان کھولنا، تھان لپیٹنا اس کی ڈیوٹی ہے۔ بگار ملتی ہے اُسے اِس کا م کی۔ آپ بھلے نہ خریدیں مگر دیکھنے میں حرج ہی کیا ہے؟‘‘ مجھے رُکنا پڑگیا۔ ورنہ مَیں نے انارکلی لاہور میں کپڑے کے دکان داروں کو دیکھا تھا جو ملازمتوں کے ساتھ مکس ہو کر رہتے تھے۔ ٹی وی پر میچ بھی دیکھتے تھے اور جب گاہک قریب قریب کپڑا خرید لیتا تھا، تو اُس کے لیے سافٹ ڈرنک کی ٹھنڈی بوتل یا چائے بھی منگوا لیتے تھے مگر اُن کا اخلاق اور اپروچ ہندو دکان دار یعنی بنیے جیسی نہیں تھی۔ ہندو حساب کتاب کے معاملے میں مسلمان سے بہت آگے تھا۔ مسلمانوں نے تو کلاس کا ایک ہی سیاست دان علامہ مشرقی پیدا کیا تھا مگر وہ بھی سیاست میں قائد اعظم کے ساتھ ٹکراؤ کی صورت میں قائم ہوگیا۔ علامہ مشرقی نے ہی کہا تھا: ’’کائنات میں دائرے ہی دائرے ہیں ’’صراطِ مستقیم کوئی نہیں۔‘‘ آخر مجھے کچھ لیڈیز سوٹ خریدنے ہی پڑے جن پر ہندوستانی سٹائل کی چھاپ تھی، ورنہ پاکستان میں تو یہ بھی ہوتے دیکھا تھا کہ دوست حج تو سعودی عرب سے واقعی کر کے آتے تھے مگر تبرک کے طور پر دی جانے والی کھجوریں پاکستان ہی سے خرید کر، سعودی عرب کی کہہ کر بانٹ دیتے تھے۔ یہی معاملہ آبِ زم زم کے ساتھ بھی ہوتا تھا۔لے کر ایک کین آتے تھے اور پاکستان میں آکر اس کے 10کین بن جاتے تھے۔
دِلّی سے آگرہ جاتے ہوئے رستے میں متھرا (ہندوؤں کا مذہبی مقام) بھی آیا تھا جہاں کے پیڑے (کھوئے کے) بڑے مشہو رتھے۔ ہمارے میزبان عثمان کے والد احسان صاحب نے ہمیں متھرا کے بارے میں بتایا: ’’متھرا کے پیڑے بڑے مشہور ہیں، اس لیے وہاں مٹھائیوں کے بہت سی دکانیں ہیں۔ مذہبی لوگوں نے پیڑوں کے نام پر لوگوں کو لوٹنے کے لیے پیڑے کھانے والی ایک مخلوق تیار کی ہے جنہیں ’’چوے‘‘ کہتے ہیں۔ یہ ننگ دھڑنگ سے پندرہ، بیس سالہ موٹے موٹے ہوتے ہیں۔ یہ رہڑیوں میں بیٹھے رہنے سے مزید موٹے ہو جاتے ہیں۔ انہیں مذہبی رسم اور بھگوان کی خوش نودی کے طور پر دکان سے پیڑے خرید کر کھلائے جاتے ہیں جیسے چڑیا گھر میں بندروں کو بُھنے ہوئے چنے ڈالے جاتے ہیں۔ یہ چوبے متھرا میں، متھرا کے گرد و نواح میں درجنوں، سینکڑوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی بس ایک ہی خوراک ہے ’’متھرا کے پیڑے!‘‘ چوبے مسلسل یہ میٹھی خوراک کھا کر، جلد ہی شوگر کے مریض بن جاتے ہیں۔ لمبی عمر نہیں پاتے۔ چھوٹی عمر ہی میں مر جاتے ہیں۔ ایک چوبا مرتا ہے، تو اُس کی جگہ (رہڑی) سنبھالنے ایک اور چوبا آ جاتا ہے۔ یہ سلسلہ جانے کب سے آج بھی جاری ہے۔ یہ ہے مذہب کے نام پر انسان کا انسان پر ظلم۔‘‘
مَیں نے جواباً احسان صاحب کو گجرات (پاکستان) میں ہونے والا اسی طرح کا مذہبی ظلم بتایا: ’’پاکستان بالخصوص پنجاب میں ایسے مذہبی متاثرین کو ’’دولے شاہ کے چوہے‘‘ کہا جاتا ہے۔ گجرات میں دولے شاہ نامی کسی شخص کا دربار ہے۔ بے اولاد جوڑے وہاں جا کر منت مانگتے ہیں کہ وہ اپنی پہلی اولاد کا چڑھاوا مزار پر چڑھائیں گے۔ پھر بیٹا ہو یا بیٹی، بچہ دولے شاہ کے مزار پر مجاوروں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ وہ بچے کے سر پر لوہے کی ٹوپی چڑھا دیتے ہیں۔ بچے کاسر بڑھ نہیں پاتا۔ اُس کی ذہنی نشوونما نہیں ہو پاتی اور وہ ذہنی طور پر پس ماندہ رہ جاتا ہے۔ بڑا ہونے پر اُسے سبز رنگ کا چولا پہنا دیا جاتا ہے اور پھر اُسے در در مانگنے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔ ساری آمدنی دربار کے مجاوروں کے پاس آتی ہے اور وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ عیش و عشرت کرتے ہیں۔ دولے شاہ کے چوہے، دولے شاہ کی چوہیوں کے ساتھ شادیاں بھی کرتے ہیں؟ مجھے اس کا علم نہیں مگر میں اسے ظلم اور ناانصافی سمجھتا ہوں۔ میرے لیے اس میں خیر کا کوئی پہلو نہیں۔‘‘
میری بات سننے کے بعد احسان صاحب نے اپنا خطبۂ صدارت پیش کرتے ہوئے کہا: ’’تو ہم دونوں کی گفتگو کا حاصل یہ نکلا کہ ہر مذہب میں مذہب کے نام پر ظلم ہو رہا ہے جسے کمزور اور ضعیف الاعتقاد لوگ برداشت کر رہے ہیں اور پروان بھی چڑھا رہے ہیں۔ انگریز نے ہندوستان سے ستی کی رسم ختم کر کے یہاں کے باشندوں بالخصوص بیواؤں پر ایک احسان کیا تھا۔ اُن کی نظر چوبوں اور دولے شاہ کے چوہوں پر نہیں پڑی، ورنہ وہ ان کا خاتمہ بھی کر جاتے۔ تعلیم یافتہ لوگ آہستہ آہستہ ان جاہلانہ رسومات اور عقائد سے کنارہ کشی اختیار کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ہندوستان میں ہر وہ مسلمان کامیاب ہے جس نے ہندوؤں سے بنا کے رکھی ہے، یا ہندو کی لڑکی لی ہے یا ہندو کو اپنی بیٹی دی ہے۔ خاندانی امیر اور مضبوط مسلمان ہندوستان میں بہت کم ہیں۔ اب تو وہی ہیں جو یہ گٹھ جوڑ کر کے اپنا کام چلا رہے ہیں۔ کاش! ابوالکلام آزاد کو اتنی عقل آ جاتی کہ وہ کانگریس چھوڑ کر باقی ماندہ مسلم لیگ کی قیادت سنبھال لیتے اور کسی ایک صوبے کو مرکز مان کر وہاں مسلمانوں کو اکٹھاکر دیتے۔ جرنیل کے بغیر فوج اور لیڈر کے بغیر قوم کبھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ محلہ مچھلی والا میں بڑے سستے ہوٹل یا رہائشی یونٹ بھی تھے جہاں پاکستانی پھیرے باز آکر رہتے تھے۔ ایک بار وہاں ڈھرکی سے ٹھرکی آکر ٹھہرے۔ اُن دنوں دِلّی کے حالات خراب تھے، کرفیو لگ گیا۔ ڈہرکی کے ٹھرکی رونے لگے۔ ہم نے وجہ پوچھی، تو کہنے لگے یار ہمیں کوئی ننگی مورتی ہی دکھا دو۔ پھر پاکستان واپس جا کر قسم کھانے والے تو بنیں کہ ہم ننگی مورت دیکھ کر آئے ہیں۔ ہم تو ہندوستان بڑی عیاشی کا سوچ کر آئے تھے مگر یہاں تو ہماری حالت اپنے ڈہرکی سے بھی ابتر ہے۔ ہماری توبہ جو یہاں دوبارہ آئیں۔‘‘
جگت سنیما میں دلیپ کمار کی نئی فلم ’’دھرم ادھیکاری‘‘ لگی تھی۔ شوق شوق سے دیکھنے گئے مگر فلم ڈبہ نکلی۔ اتنی خوبصورت اور سٹائلش اُردو بولنے والا دلیپ کمار اَدق ہندی یعنی سنسکرت بول بول کر پھاوا ہو رہا تھا۔
جگنت سنیما ایک تیسرے درجہ کا سنیما تھا۔ لوہے کی کرسیاں اور بنچ تھے۔ مرد، عورت مکس بیٹھے تھے۔ سنیما، ہندوستان میں غریبوں کے ڈرائنگ روم کا درجہ رکھتا تھا۔ لوگ اپنے دوستوں کو سنیما میں ملاقات کا وقت دے دیتے تھے۔ وہیں چائے پانی، آئس کریم سب کچھ چلتا تھا اور 3 گھنٹے بھی ہنستے کھیلتے، گپیں مارتے گذر جاتے تھے۔
ہندوستان میں فلم بینی کا شوق لڑکے، لڑکیوں میں یکساں ہے۔ سنیما ہال سے باہر لڑکوں میں لڑکیوں کے لیے ایک مخصوص کوڈ ورڈ چلتا ہے: ’’دو ٹکٹیں ہیں میرے پاس!‘‘ جس کا مطلب ہوتا ہے کہ ایک ٹکٹ میری اور دوسری تمہاری۔ یعنی میں تمہیں مفت میں فلم دکھاؤں گا۔ جس لڑکی کو لڑکا 3 گھنٹے کے لیے پسند آ جائے، وہ ’’ہاں‘‘ کر دیتی ہے اور لڑکے کا ہاتھ تھام کر سنیما ہال میں چلی جاتی ہے۔ آگے اُن کی مرضی کہ فلم دیکھیں یا اپنی فلم چلائیں۔
انڈیا گیٹ کے دونوں جانب والے پارکوں میں جیسے نظارے مَیں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے، اگر ضیاء الحق ہیلی کاپٹر سے ان کا فضائی جائزہ لیتے، تو بیشتر کے لیے کوڑوں کی سزا یا سنگساری کا اعلان فرماتے۔ وہ اعلان کچھ یوں ہوتا: ’’میرے ہم وطنو! چوں کہ میرا تعلق جالندھر سے رہا ہے، اس لیے میں آج بھی ہندوستانیوں کو ایسی ویسی حالت میں نہیں دیکھ سکتا۔ ایسی سول نافرمانی اور گستاخی مَیں نے آج تک نہیں دیکھی، نہ اللہ دکھائے۔ کیا ان لوگوں کے پاس کرنے کو کوئی اور کام نہیں؟ کیا ہندوستانی حکومت سو رہی ہے؟ یا وہ بھی ایسے ہی کام کرکے سوئی ہے اور اُسے گھوگی چڑھی ہے؟ جو بھی ہے ان سب کا احتساب بہت ضروری ہے۔
ہندوستان آکر بھی ہمارے ذہنوں پر ضیاء الحق چڑھا تھا۔ ایسا عفریت تھا وہ، مگر اب بے نظیر آ گئی تھی اُسے ٹف ٹائم دیکھنے کے لیے۔ ہم نے اگلی رات ٹرین سے واپس پاکستان روانہ ہونا تھا۔ مَیں اپنا سازوسامان پیک کر رہا تھا۔ ہم نے چاندی کے گولڈ پاش زیورات خریدے تھے جو قیمتی تھے اور پاکستانی کسٹم کی نظر میں آسکتے تھے۔ مَیں نے انہیں موٹی پلاسٹک کے لفافوں میں ڈالا اور ایک طرف رکھا۔ املی کو بہت بڑے پتیلے میں بڑی مشکل سے کھولا۔ اُس کے درمیان چاندی کے زیورات والا لفافہ رکھا۔ کالی مرچیں اور چھوٹی الائچی بھی اسی طرح پلاسٹک کے موٹے لفافوں میں پیک کر کے درمیان میں رکھی اور پھر انہیں چاروں طرف سے املی کی مدد سے پیک کر دیا اور املی کو ایک گندے مندے سے پلاسٹک کے توڑے میں ڈال دیا۔ یوں مَیں نے قیمتی ترین اپنی چیزیں محفوظ کر لی تھیں، باقی سامان ایسا نہیں تھا کہ کسی کی نظر میں آتا۔
احسان صاحب اور عرفان ہمیں رات 10 بجے والی ٹرین میں سوار کروا گئے اور ہم اگلے دن صبح 9 یا 10 بجے کے قریب لاہور ریلوے سٹیشن پہنچ گئے۔ سامان بہت زیادہ تھا، اس لیے عثمان ایک ٹیکسی میں گیا اور ہم دوسری ٹیکسی میں۔ گھر پہنچے، تو ایسی رونق لگی جیسی کبھی عید پر بھی دیکھنے کو نہیں ملی تھی۔ تقریباً سب ہی کی فرمائشیں ہم نے پوری کر دی تھیں۔ سب خوش تھے جو مال برائے فروخت تھا وہ بھی کچھ ہی دن میں اچھے منافع پر نکل گیا۔ شوگر کی لکڑی کے پیالے پہلے بکے، پھر لکڑی باقی رہ گئی۔ مَیں نے اُسے آرے پر جا کر کٹوا کر لکڑی کی چھوٹی چھوٹی سٹکس بنوا لیں اور انہیں پلاسٹک کے لفافوں میں علیحدہ علیحدہ پیک کر دیا۔
پیکیجز میں نوکری دوبارہ جوائن کرتے ہی وہاں نوٹس بورڈ پر نوٹس لگا دیا کہ شوگر کی لکڑی خریدنے کے خواہش مند اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں عرفان احمد خان سے رابطہ کریں۔ ہمارے پاس تو لوگ ویسے ہی آتے جاتے رہتے تھے۔ شوگر کی لکڑی کی وجہ سے اور مشہوری ہوگئی۔ ہندوستان سے آیا ہوا تمام مال ٹھکانے لگ گیا۔ پیسا بھی کما لیا، سیر بھی کرلی اور سب سے بڑھ کر شوگر کے مریضوں سے پیسے بھی ملے اور دعائیں بھی لیں۔ ہندوستان کے دورے نے مجھے جو ذہنی وسعت دی، میرے لیے اصل اثاثہ وہی ہے۔ اب میں ہندوستان کے جھوٹے ڈھول پیٹنے والوں کے ساتھ اپنے ذاتی تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں زیادہ اعتماد کے ساتھ معقول بات کر سکتا ہوں۔ ایک سفر اگر آپ کو اتنا کچھ دے جائے، تو پھر اس کے کامیاب ہونے پر کسی کوکوئی شک نہیں ہونا چاہیے!
…………………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے