494 total views, 1 views today

بنوں کی ثقافت عظیم اور قدیم ثقافت ہے۔ بنوں کے لوگوں کا یہ خاصہ ہے کہ چاہے ثقافت کے اچھے پہلو ہوں یا برے، انہوں نے روایتی انداز میں ان کو سینے سے لگائے رکھا ہے۔ بنوں کی ثقافت کے چند پہلوؤں کے علاوہ باقی پہلوؤں میں اسلامی، پختون اور مشرقی رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ چاہے زبان کا خالص پن ہو یا لباس کا، روایتوں کی پابند ی ہو یا دوستی و دشمنی، سب پہلوؤں میں آبا و اجداد کی چھوڑی ہوئی اقدار اور عادات کو یوں سینے سے لگایا گیا ہے کہ گویا یہ ان کے اجتماعی وجود کی شہ رگ ہو۔
دورِ جدید کے پُرفتن، تیزتر اور نمود و نمائش اور گلیمر سے بھرپور دور میں بھی بنوں کی ثقافت تقریباً ’’محفوظ‘‘ رہی۔ اس کا اندازہ بنوں میں رہنے والے باسیوں کو شائد نہ ہو لیکن باہر سے آنے والوں پر یہ عظیم و قدیم ثقافت جلد آشکارا ہو جاتی ہے اور وہ اس پر جلدی فریفتہ ہو جاتے ہیں۔ مثلاً اندرونِ ملک یا بیرونِ ملک سے جو تبلیغی جماعت کے دوست بنوں آتے ہیں، تو وہ بنوں کی مہمان نوازی اور یہاں کی مستورات کے پردے کے سسٹم سے بہت متاثر نظر آتے ہیں۔ چند سال پہلے کی بات ہے ۔ میں کھیتوں میں واک کے لئے گیا تھا کہ اچانک سوات کی تبلیغی جماعت کے کئی دوست ملے۔ ایک دوسرے کے ساتھ تعارف کے بعد انہوں نے مجھے ایک بات کہی جو میرے دل کو لگی کہ ’’بیٹا! آپ کی ماؤں، بہنوں کی طرح پردے کا ہم نے سوچا بھی نہیں تھا۔ آفرین ہو، آپ کے بزرگوں اور آپ لوگوں پر۔آپ اصل پختون اور مسلمان کہلانے کے لاحق ہیں۔‘‘ اسی طرح جب 2003ء میں طارق جمیل صاحب بنوں آئے تھے، تو انہوں نے بنوں کے پردہ نظام کے بارے میں بہت اچھے الفاظ استعمال کئے تھے اور برملا کہا تھا کہ پوری دنیا میں ان کی نظریں نیچی ہوتی ہیں لیکن بنوں میں زبردست پردہ سسٹم ہونے کی وجہ سے اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔

بنوں کی ثقافت کے چند پہلوؤں کے علاوہ باقی پہلوؤں میں اسلامی، پختون اور مشرقی رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ چاہے زبان کا خالص پن ہو یا لباس کا، روایتوں کی پابند ی ہو یا دوستی و دشمنی، سب پہلوؤں میں آبا و اجداد کی چھوڑی ہوئی اقدار اور عادات کو یوں سینے سے لگایا گیا ہے کہ گویا یہ ان کے اجتماعی وجود کی شہ رگ ہو۔

اس سے چند سال قبل ہمارے گاؤں میں کورئین مہمان آئے۔ اتفاق سے اس دن شادی تھی۔ ہزاروں لوگ آتے اور پُرتکلف کھانا کھاتے۔ اسے اس معاشرتی میل ملاپ سے بہت پیار ہوا۔ اس نے کوریا جا کر لوگوں کو بتایا کہ پاکستان میں ایسے علاقے بھی ہیں جہاں مہمان نوازی کی لاجواب نظیر ملتی ہے۔
اب آتے ہیں اپنے ٹاپک کی طرف کہ پچھلے کچھ سالوں سے ہماری ثقافت کس طرح اپنا خالص پن کھو رہی ہے اور کس طرح ہم اپنی اقدار سے دور ہوتے جا رہے ہیں؟ سرسری سا جائزہ لیتے ہیں۔
1:۔ کندھے کی چادر اور دستار:۔ یہ دونوں چیزیں بنوں کے لوگوں کا طرۂ امتیاز ہوا کرتی تھیں لیکن نمود و نمائش کے چکر میں یہ دونوں چیزیں جدید نسل میں معیوب ہو چکی ہیں یا ہو رہی ہیں اور ساتھ ساتھ معدوم بھی ہورہی ہیں۔ بنوں کے برعکس لکی مروت میں اس کا اہتمام آج زیادہ ہے۔
2:۔ مہمان نوازی کی روایت:۔ شائد کوئی مجھ سے اختلاف بھی کرے، لیکن میرے مشاہدے کے مطابق بنوسیوں میں یہ رواج اب دم توڑ رہا ہے۔ میں گہرائی سے اس کا مشاہدہ کر رہا ہوں کہ بنوسیوں میں مہمان نوازی کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ دوبارہ میں کہونگا کہ مہمان نوازی کی روایت اس وقت مروت کے دیہاتی علاقوں میں ہم سے کئی گناہ زیادہ مضبوط بھی ہے اور عام بھی۔




بنوسیوں کی مہمان نوازی کا اندازہ اس تصویر سے باآسانی لگایا جاسکتا ہے

3:۔ حجرہ سسٹم کا خاتمہ:۔ تقریباً پچھلے دس سال حجرہ سسٹم کی تباہی کے سال تھے ۔ ان سالوں میں مشترکہ حجروں کی جگہ اب گھر سے منسلک بیٹھکوں نے لی ہے۔ بنوں کے کسی گاؤں میں آج مشترکہ حجرے نظر نہیں آ رہے۔
4:۔ مستورات کے پردے میں غفلت:۔ مستورات میں نرم اور پتلے برقعوں کا رواج عام ہوتا چلا جا رہا ہے، جس میں اندر کا لباس تک نظر آتا ہے۔ اگرچہ عمومی طور پر بے پردگی عام نہیں ہوئی، لیکن بنوں شہر میں چند خواتین جو باہر کی ہوتی ہیں، ان کی وجہ سے ماحول خرابی کی طرف گامزن ہے۔
5:۔ عورتوں کی شاپنگ:۔ چند سال قبل بنوں میں نامحرم کے بغیر خواتین کی شاپنگ کا تصور ہی نا ممکن تھا۔ آج بازار خواتین سے بھرے ہیں۔ اب یہ رواج عام ہوتا چلا جا رہا ہے کہ خواتین دکان داروں سے خود سودا کر رہی ہیں اور مزے کی بات کہ دکانداروں سے پردہ کرنا بھی اب نہیں رہا۔
6:۔ ٹینگہ یا بگاڑا:۔ ٹینگہ جسے بعض لوگ بگاڑا بھی کہتے ہیں، جب گاؤں میں کسی کے گھر میں تعمیراتی کام ہوتا یا کھیتوں میں بوائی یا کٹائی ہوتی، تو گاؤں کے ہر گھر سے ایک ایک بندہ اس میں شرکت کرتا۔ یوں گاؤں میں اجتماعیت کو فروغ ملتا۔ اب یہ چیزیں معدوم ہو گئی ہیں۔
7:۔ بیٹیوں کا سرویر:۔ جب شادی شدہ خواتین میکے آتیں، تو سسرال واپسی پر ایک خاص مٹھائی دے کر واپسی ہوتیں۔ اسے مقامی زبان میں مڑپڑے کہتے۔ اس سرویر کا نظام تقریباً اختتام کے قریب ہے ۔
8:۔ بٹ/ تیبی کا رواج:۔ ہر گھر میں مٹی سے بنا ایک چولہا ہوتا جس پر مٹی کے بنے توے جسے تیبہ کہتے ہیں، رکھا جاتا۔ اسے بٹ کہا جاتا ہے۔ اس پر لذیذ روٹی بنتی۔ اگرچہ دیہاتی علاقے میں یہ اب بھی لازم ہے لیکن شہر کے قریب علاقوں میں گلیمر کی وجہ سے اسے متروک کیا جا رہا ہے۔
9:۔سروستہ/ ڈامبوریے:۔ ہر گھر میں نماز کے لئے ایک کونے میں روسٹرم سا بنایا جاتا جسے صاف ستھرا رکھا جاتا۔ اسے سروستہ یا ڈامبوریے کہتے۔ آج کے اس دور میں یہ چیز خال خال گھروں میں نظر آتی ہے۔
9:۔عورتوں کا آتنڑ یا دراب اور ٹپے گانا:۔ شادی بیاہ کے موقعوں پہ بنوں کی عورتیں گھر کی چاردیواری میں جمع ہوتیں اور آتنڑ یعنی بھنگڑا ڈالتیں اور پشتو ٹپے گاتیں۔ کئی سالوں سے یہ چیزیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ میں نے بہت تحقیق کی۔اب شادی بیاہ پر ’’ڈی جے سسٹم‘‘ لایا جاتا ہے اور نوجوان لڑکیاں انڈین فلموں سے سیکھے ہوئے رقص کو ترجیح دیتی ہیں۔ دراب اور ٹپوں کی روایت آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے۔
درج بالا چیدہ چیدہ پہلوؤں کے علاوہ بنوں کی ایک اور عظیم روایت اگرچہ ختم نہیں ہوئی، لیکن کمزور ضرور ہوئی ہے۔ پہلے جب کسی ہمسایہ یا گاؤں میں فوتگی ہوتی، تو چالیس دن تک پورے گاؤں میں نہ کوئی ٹیپ ریکارڈر لگاتا اور نہ ٹی وی سنتا، لیکن اب پہلے دن تھوڑا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ اگلے دن سے ٹی وی اور ڈش آن ہوتے ہیں اور آواز بھی بڑی بے باکی سے اونچی رکھی جاتی ہے۔ اگر ان قباحتوں کو دور کرنے میں مزید غفلت یا کوتاہی برتی گئی، تو بنوں عظیم و قدیم ثقافتی ورثے سے جلد محروم ہو جائے گا۔ لہٰذا اہلِ دانش، لکھاریوں، شاعروں، ادیبوں اور معاشرے کے تعلیم یافتہ طبقہ سے دردمندانہ اپیل ہے کہ سب آگے آئیں اور اس عظیم ثقافت کو بچانے کے لئے مشترکہ جدوجہد کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری اور نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے