117 total views, 2 views today

کچھ عرصہ پہلے ایک تحریر پڑھی تھی۔ تلاش کے باوجود ملی نہیں، ورنہ آپ کے ساتھ شیر کرتا۔ تحریر تو بہت اونچے معیار کی تھی، لیکن میں اس کا خلاصہ پیش کرتا ہوں۔
اسرائیل میں جب کوئی خاتون ماں بنتی ہے، تو اس کا پورا خاندان ایک ٹیم کی طرح آنے والے بچے کے استقبال کی تیاری شروع کرتا ہے۔ مقامی طبی عملہ ماں کی دیکھ بال شروع کرتا ہے۔ ماں کے لیے ’’ڈائٹ پلان‘‘ بنتا ہے جس میں یقینی بنایا جاتا ہے کہ وہ روزانہ دودھ، گوشت، پھل اور سبزی کے ساتھ خشک میوہ جات (از قسم اخروٹ، بادام، کاجو وغیرہ) کثرت سے کھائے۔ وہ باقاعدگی سے مقامی ہسپتال جاتی ہے جہاں پر ماں بننے والی اور بھی بہت سی خواتین آتی ہیں۔ یہ باقاعدہ کلاس یا ٹریننگ کا منظر ہوتا ہے۔ ماں بننے والی خواتین طبی عملہ کی نگرانی میں اپنے تجربات کا تبادلہ کرتی ہیں۔ ان خواتین سے ریاضی کے سوالات حل کروائے جاتے ہیں۔ پینٹنگ ہوتی ہے اور موسیقی کی محفلیں ہوتی ہیں۔ صہیونیوں کا خیال ہے کہ ماں اگر مثبت سوچ کے ساتھ، اچھے ماحول میں، اچھی خوراک کے ساتھ، علمی کام کرے گی اور خوش رہے گی، تو آنے والے بچے کی شخصیت ایسی ہی ہوگی۔
یاد رہے کہ اسرائیل میں ہسپتال ہمارے ہسپتالوں کی طرح نہیں ہوتے۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ وہاں تین کمروں کے تنگ مکان میں چھے چھے خاندان بھی نہیں رہتے۔ ماں اور باپ کو اس بات کی کوئی فکر نہیں ہوتی کہ آنے والے بچے کی آمد پر اخراجات کتنے ہوں گے؟ وہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ، ہنسی خوشی آنے والے بچے کا استقبال کرتے ہیں۔
اب ذرا پاکستانی ماں کا جائزہ لیجیے۔
پہلے تو یہ معلوم نہیں کہ اس کی شادی 16 سال کی عمر میں ہوئی ہے کہ 18 سال کی عمر میں۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کی شادی میں اس کی مرضی شامل ہے کہ نہیں۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ بچے کے لیے کوئی منصوبہ بندی ہوئی ہے کہ نہیں، بلکہ ایک بچہ ابھی ’’پیمپر‘‘ بدلنے کے قابل بھی نہیں ہوتا کہ دوسرا پیدا ہوچکا ہوتاہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں بچے کی پیدائش ایک راز کی بات ہوتی ہے۔ اس لیے پہلی بار ماں بننے والی خاتون ہر کسی کی مدد بھی نہیں لے سکتی۔ اس کو خوراک پوری نہیں ملتی۔ ذہنی طور پر بھی ’’ٹارچر‘‘ ہوتی ہے۔ لڑکا پیدا کرنے کا دباؤ ہوتا ہے۔ اخراجات بچانے کے لیے اسے میکے بھیجا جاسکتاہے ۔
خاتون کا شوہر بھی بچے کی پیدائش میں پورا حصہ نہیں لیتا۔ یہ کام خاندان کی نانیوں یا پھوپھیوں نے سنبھالا ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں مچھلی اور گوشت کھانے سے بچے کو یرقان ہوتا ہے۔ غسل کرنے یا باربار ہاتھ دھونے سے بچہ معذوری کا شکار ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر کے پاس جانا بے حیائی ہے، وغیرہ وغیرہ۔
میرے بھائی، اسرائیل سے جنگ ضروری ہے۔ ظلم حد سے بڑھ گیا ہے، لیکن یہ جنگ اپنے گھر سے شروع کرنی ہے۔ کچھ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ہمارا ایسا کوئی ارادہ ہے۔
اگر آپ کا ہے تو بتائیں!
………………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے