639 total views, 1 views today

مائیکل جیکسن نے امریکہ کے ایک غریب اور سیاہ فام گھرانے میں آنکھ کھولی۔ اپنے ماں باپ کے اس ساتویں بچے کو بچپن سے ہی موسیقی سے بہت لگاؤ تھا۔ کسی کو کیا پتا تھا کہ یہ ایک دن دنیائے موسیقی کا بادشاہ کہلائے گا۔

کنگ آف پاپ مائیکل جیکسن جس کا پورا نام جوزف مائیکل جیکسن تھا۔ جیکسن کو دنیا کا مشہور انٹرٹینر مانا جاتا تھا۔ اس کا شمار دنیا کے چند ایسے بہترین لوگوں میں ہوتا ہے جن کو کم عرصہ میں بہت زیادہ دولت، شہرت اور عزت ملی۔ جیکسن دنیا کا وہ باکمال سنگر تھا جسے دنیا کے ہر ملک میں سنا جاتا تھا۔ وہ دنیائے موسیقی کا وہ نام تھا جس نے ایک سیاہ فام گھرانے میں جنم لیا۔ اس کو شروع سے ہی اپنی سیاہ رنگت سے نفرت تھی۔ وہ اکثر اپنے آپ کو آئینے میں دیکھ کر بہت کوستا تھا۔ بچپن میں اُس نے کسی نجومی کو اپنا ہاتھ دکھایا۔ نجومی نے جیکسن سے کہا کہ تم ستّر سال کی عمر پاؤگے، تو جیکسن نے ہنستے ہوئے جواب دیا تھا کہ میں ایک سو پچاس سال تک زندہ رہوں گا۔ امریکہ میں کئی سال تک نسل پرستی رہی۔

مائیکل جیکسن نے ایک سیاہ فام گھرانے میں جنم لیا۔ اس کو شروع سے ہی اپنی سیاہ رنگت سے نفرت تھی۔ وہ اکثر اپنے آپ کو آئینے میں دیکھ کر بہت کوستا تھا۔

جیکسن انتہائی غریب اور سیاہ فام گھرانے سے تھا، اس وقت اس کے بھائیوں نے ایک چھوٹا سا بینڈ بنایا اور یہ لوگ مختلف جگہوں پر گاتے اور پیسے سمیٹتے۔ انہوں نے 1969ء میں ایک چھوٹا سا البم ریلیز کیا، مگر وہ کامیاب نہ ہوسکا۔ جیکسن اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ اس کا رول تنبورا بجانے کا تھا۔ اس کے والد اور اس کے بھائی اس پر سخت تشدد کرتے تھے۔ اس لیے جلد ہی وہ اپنے خاندان سے الگ ہوا اور اپنا ذاتی البم مشہور امریکی موسیقار ’’کوزی جانز‘‘ کے ساتھ مل کر 1978ء میں ریلیز کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس البم کی ایک کروڑ کاپیاں فروخت ہوئیں اور وہ دنیا کا سپر سٹار بن گیا۔ یوں جیکسن راتوں رات کامیاب ترین انسان بلکہ ایک سلیبرٹی بن گیا۔ رفتہ رفتہ اس کی کامیابی دولت اور تکبر میں تبدل ہوگئی۔
جیکسن نے 1982ء میں ’’تھریلر‘‘ نامی اپنا دوسرا البم ریلیز کیا۔ یہ دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والا البم تھا۔ صرف ایک ماہ میں اس کی چھے کروڑ کاپیاں فروخت ہوئیں اور اس طرح یہ البم ’’گینز بک ورلڈ آف ریکارڈ‘‘ کا حصہ بن گیا۔
جیکسن کی عجیب و غریب خواہشات تھیں۔ وہ گمنام نہیں رہنا چاہتا تھا۔ وہ زیادہ سے زیادہ مشہور ہونا چاہتا تھا۔ اُسے سیاہ رنگت سے نفرت تھی، تو اس لئے اس نے اپنا پیسہ پانی کی طرح بہایا اور اپنے آپ کو گورا بنا کے ہی دم لیا۔




جیکسن نے 1982ء میں ’’تھریلر‘‘ نامی اپنا دوسرا البم ریلیز کیا۔ یہ دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والا البم تھا۔ صرف ایک ماہ میں اس کی چھے کروڑ کاپیاں فروخت ہوئیں اور اس طرح یہ البم ’’گینز بک ورلڈ آف ریکارڈ‘‘ کا حصہ بن گیا۔

اس کی تیسری خواہش اُسے اپنے ماضی کو خود سے الگ کرنا تھی۔ کیوں کہ اُسے اپنے ماضی سے سخت نفرت تھی۔ اُس نے مشہور گلوکارہ کی بیٹی سے پہلی شادی کی جو دو سال تک قائم رہی اور بعد میں ان کے درمیان طلاق ہوئی۔ اس نے اپنے لئے گورے ماں باپ ڈھونڈے اور بڑی حد تک خود کو اپنے ماضی سے دور کیا۔ جیکسن نے اس کے بعد اپنی دوست سے دوسری شادی کی جس سے اُس کے دو بچے ہوئے۔ یہ شادی بھی دو سال سے زیادہ نہ ٹک سکی۔
جیکسن کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ جہاں بھی وہ پرفارم کرتا، وہاں پہلے سے ہی ایمبولینس اور فائر بریگیڈ گاڑیاں کھڑی رہتی تھیں۔ کیوں کہ جیکسن کے پرفارمنس کے وقت لوگ اس طرح دیوانے اور پاگل ہوجاتے کہ دیواروں سے اپنا سر ٹکراتے اور خود کو آگ تک لگاتے۔ ایسا کرنے والوں میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہوتی تھی۔ جیکسن کو کم عمری میں مرنا بالکل پسند نہیں تھا۔ وہ عام لوگوں کی طرح ستّراسّی سال کی عمر میں مرنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ ایک سو پچاس سال کی عمر تک جینا چاہتا تھا۔ اُس نے اس حوالہ سے ایک نجومی کو چیلنج کیا تھا کہ وہ ٹھیک ایک سو پچاس سال کی عمر پائے گا۔ اس وجہ سے وہ رات کو اکسیجن ٹینٹ میں سوتا اور اپنے لیے چھے سات ڈاکٹرز ہر وقت گھر میں موجود رکھتا۔ اُبلی ہوئی چیزیں کھاتا تھا اور اپنے لیے مختلف اعضا بھی منگواتا تھا جن میں دل، پھیپھڑے وغیرہ شامل تھے۔ وہ ہاتھوں میں دستانے اور منہ پر ماسک پہنتا تھا۔ پھر اچانک پچیس جون 2009ء کی رات آئی جیکسن کو سانس لینے میں دشواری پیدا ہوئی۔ اس کے ذاتی ڈاکٹر نے دنیا کے قابل ترین ڈاکٹروں کو اس کی رہائش گاہ پہ بلایا مگر وہ سب ناکام ہوئے۔ یوں جیکسن کی چوتھی خواہش پوری نہ ہوسکی اور وہ پچاس سال کی عمر میں رخصت ہوا۔

مائیکل جیکسن کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ جہاں بھی وہ پرفارم کرتا، وہاں پہلے سے ہی ایمبولینس اور فائر بریگیڈ گاڑیاں کھڑی رہتی تھیں۔ کیوں کہ جیکسن کے پرفارمنس کے وقت لوگ اس طرح دیوانے اور پاگل ہوجاتے کہ دیواروں سے اپنا سر ٹکراتے اور خود کو آگ تک لگاتے۔ ایسا کرنے والوں میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہوتی تھی۔

جیکسن کی موت کی خبر ’’گوگل‘‘ پہ دس منٹ میں آٹھ لاکھ لوگوں نے پڑھی۔ جو اب بھی گوگل پر کسی بھی خبر کے پڑھنے کا ریکارڈ ہے۔ جیکسن دنیا کا وہ واحد راک سٹار ہے جس نے اپنی موت کے بعد بھی اربوں ڈالر کمائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری اور نیچے ہونے والے بحث و مباحثہ سے متفق ہونا ضروری نہیں)




تبصرہ کیجئے