252 total views, 1 views today

خواجہ محمد آصف نے وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالتے ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے غیر معمولی بیانات جاری کیے جنہوں نے قومی سطح پر ارتعاش پیدا کیا۔ دورۂ امریکہ میں انہوں نے فرمایا: جو لوگ پاکستان اور اس کے پڑوسیوں کے لیے بوجھ ہیں، انہیں ختم کرنا ضروری ہے۔ اس حوالے سے وہ بیرونی مطالبے ڈومور سے متفق ہیں۔

مزید کہا کہ حافظ محمد سعید اور حقانی نیٹ ورک بوجھ ہیں۔ ان سے جان چھڑانے کے لیے وقت درکار ہے۔ موصوف پہلے بھی فرما چکے ہیں کہ ہمیں گھر کی صفائی کرنا ہوگی۔

خواجہ آصف کی گفتگو پر کئی پہلوؤں سے بحث کی جاسکتی ہے۔ بظاہر یہ ایک صحت مندانہ علامت ہے کہ وزیر خارجہ حکومت اور ریاست کی ٖغلطیوں اور ناکامیوں کے دفاع کے بجائے ان کا برملا اعتراف کرتے ہیں۔ اصلاح کے لیے درکار وقت مانگ رہے ہیں۔ تاہم یہ حقیقت فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ یہ دنیا کوئی درسگاہ نہیں جہاں اخلاقیات کا بھاشن دیا جاتا ہو۔ کہے گئے ایک ایک حرف، حرکات و سکنات کو تولا جاتا ہے۔ نادانستگی یا پھر سادگی میں کہی ہوئی باتوں کو اعترافِ گناہ کے طور پر آپ کی ریاست کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔
حافظ سعید ہوں یا حقانی، یہ طالب علم کبھی بھی ان کے طریقہ کار اور مذہبی فہم سے سیمت نہیں رہا لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایک طویل عرصے تک ان شخصیات اور تنظیموں کو ہماری ریاست نے استعمال اور برداشت کیا۔ نائن الیون کے بعد ان عناصر کو لگام دینے کا ایک تدریجی عمل شروع ہوا۔ لشکرطیبہ سے ملی مسلم لیگ کے قیام تک ایک تکلیف دہ سفر کیا گیا۔ حافظ محمد سعید جو ہر روز مختلف چینلز پر براجماں نظر آتے تھے نہ صرف نظر بند ہیں بلکہ ان کی جماعت کی سرگرمیاں بھی محدود ہوچکی ہیں۔ مالی وسائل کم ہو رہے ہیں اور عوامی پذیرائی میں بھی کمی نظر آتی ہے۔
گذشتہ چار برس کے دوران میں نون لیگ کی حکومت کا مسئلہ یہ رہا ہے کہ ریاست کو درپیش مسائل کے حل میں شراکت دار بننے کے بجائے اس نے سلامتی کے متعلقہ تمام معاملات سے لاتعلقی اختیار کرلی۔ انہیں سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری قرار دے کر خود بری الذمہ ہوگئی۔ نیشنل ایکشن پروگرام کی کامیابی میں بھی حکومتی اداروں نے قابلِ ذکر سرگرمی نہیں دکھائی۔

گذشتہ چار برس کے دوران میں نون لیگ کی حکومت کا مسئلہ یہ رہا ہے کہ ریاست کو درپیش مسائل کے حل میں شراکت دار بننے کے بجائے اس نے سلامتی کے متعلقہ تمام معاملات سے لاتعلقی اختیار کرلی۔

باخبر ذرائع بتاتے ہیں کہ چند سال قبل وزیراعظم نواز شریف کی افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ملاقات ہوئی، تو انہوں نے پاکستان کے حساس اداروں کے خلاف شکایات کا ایک دفتر کھول دیا۔ وزیراعظم نواز شریف کو اس ملاقات سے قبل اعلیٰ حکام نے پاکستانی مؤقف اور حکمت عملی سے متعلق مکمل معلومات فراہم کی تھیں لیکن انہوں نے صدر اشرف غنی کے کسی بھی اعتراض کا مسکنت جواب دینے کے بجائے اپنے ساتھ گئے ہوئے حساس ادارے کے سربراہ کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا اور کہا کہ وہ جواب دیں۔ یہ واقعہ حکومت اور اسٹبشلمنٹ کے درمیان موجودہ چپقلش کا نکتۂ آغاز ثابت ہوا۔ اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کو احساس ہوا کہ نوازشریف قومی سلامتی کے امور میں بالکل مختلف بلکہ متحارب نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔
بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے اختیار کیے گئے ہر طریقۂ کار میں قومی سلامتی سے متعلقہ اداروں کو شراکت دار بنانے اور انہیں ذمہ داری میں شریک کرنے کے بجائے انہیں حریف تصور کرکے ایک مخاصمانہ اپروچ اختیار کی گئی۔ حلف برداری کی تقریب میں بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو بلانے کا فیصلہ آخری وقت میں بڑی مشکل سے ملتوی کرایا گیا۔نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کا فیصلہ بھی نواز شریف نے تمام اداروں کو اعتماد میں لیے بغیر کیا ۔چنانچہ اس سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ اٹھایا جاسکا۔
گذشتہ چار برسوں میں خارجہ اور داخلی امور پر حکومت اور سلامتی سے متعلقہ اداروں کے مابین کوئی تال میل پیدا نہیں کیا جاسکا۔ چودھری نثار علی خان رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ تھے لیکن انہیں بھی پارٹی کے اندر سخت نکتہ چینی اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ حتیٰ کہ انہیں اعلیٰ سطحی مشاورت سے باہر نکال دیا گیا۔ مشاہداللہ خان اور پرویز رشید کی وزارتیں اسی کشمکش کی نذر ہوئیں۔ وزیردفاع خواجہ آصف کو وزارتِ دفاع میں کسی نے گھاس تک نہ ڈالی۔ وہ کچھ اداروں کے نزدیک ناپسندیدہ ترین افراد میں شمار ہوتے رہے۔ بعض سرکاری تقریبات میں ان کی تصویر دکھانے سے بھی گریز کیا جاتا۔




چودھری نثار علی خان رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ تھے لیکن انہیں بھی پارٹی کے اندر سخت نکتہ چینی اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ حتیٰ کہ انہیں اعلیٰ سطحی مشاورت سے باہر نکال دیا گیا۔

نون لیگ کی حکومت نے خواجہ آصف کو وزیرِ خارجہ تعینات کرکے سکیورٹی حکام کو پیغام دیا کہ حکومت عالمی برادری کے مطالبات پر کان بند نہیں کرسکتی۔ اصولی طور پر یہ موقف درست ہے کہ پاکستان عالمی تنہائی برداشت نہیں کرسکتا۔ بالخصوص امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ پیدا کرنا اس کے مفاد میں نہیں۔ امریکہ بھی سویلین حکومت کی حمایت کرنا چاہتا ہے، تاکہ پاکستان میں عسکری اداروں کی قائم بالادستی کمزور ہوسکے۔ علاوہ ازیں نون لیگ کا خارجہ امور پر نقطۂ نظر ان کے خیالات کے قریب تر ہے۔ اطلاعات ہیں کہ شریف خاندان نے ایک امریکی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کی ہیں جو اعلیٰ سرکاری اداروں اور میڈیا میں ان کے نقطۂ نظر کو بہتر طور پر پہنچانے کے لیے کام کرنا شروع ہوچکی ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ نون لیگ کی حکومت اور سکیورٹی اسٹبشلمنٹ کے مابین محاذ آرائی روز بہ روز شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ خواجہ آصف جس طرح شدت پسندی کے مسئلہ کو حل کرنا چاہتے ہیں، وہ طریقۂ کار ریاستی پالیسیوں کے برعکس ہے ۔سکیورٹی اداروں کے قریبی حلقے بتاتے ہیں کہ اگر ایک دم تمام شدت پسند گروہوں کے خلاف محاذ کھولا گیا، تو پاکستان زبردست عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا۔ ابھی تک ملک بھر میں ان تنظیموں کا مضبوط نیٹ ورک قائم ہے۔ ان کے سلیپر سیل ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ ابھی تک الطاف حسین کے حامی دہشت گردوں کا بھی پوری طرح خاتمہ نہیں ہوسکا۔ وہ زیادہ تر زیرِ زمین چلے گئے اور کسی بھی وقت الطاف حسین کے حکم پر کراچی اور حیدر آباد کو خون میں نہلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مدارس کی ایک بڑی تعداد میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو پاکستانی ریاست سے زیادہ عالمی جہادی نظریات سے وابستگی رکھتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان تحریک طالبان کی آخری وقت تک حمایت کی اور ان کے خلاف لڑنے اور شہادت پانے والوں کے جنازوں کو کندھا دینے والوں کو کافر قرار دیا۔

سکیورٹی اداروں کے قریبی حلقے بتاتے ہیں کہ اگر ایک دم تمام شدت پسند گروہوں کے خلاف محاذ کھولا گیا، تو پاکستان زبردست عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا۔ ابھی تک ملک بھر میں ان تنظیموں کا مضبوط نیٹ ورک قائم ہے۔ ان کے سلیپر سیل ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔

دوسری جانب بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف کنٹرول لائن پر جاری جارحیت معمول بن چکی ہے۔ کوئی دن جاتا نہیں کہ پاکستانی شہری شہید یا زخمی نہ ہوتے ہوں۔ جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے موقع پر شہر کے در و دیوار پر “آزاد بلوچستان” کے نعرے چسپاں کر دیئے گئے۔ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس سٹولٹن برگ غیر علانیہ دورے پر کابل پہنچے۔ صدر اشرف غنی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انہوں نے پاکستان کو ایک بار پھر آڑے ہاتھوں لیا۔ صدر اشرف غنی نے کہا کہ بال پاکستان کے کورٹ میں ہے کہ وہ ہمارے ساتھ کھڑا ہوتا ہے یا پھر ہمارے مخالفین کے ساتھ؟ قبل ازیں امریکی وزیردفاع نے دہلی سے پاکستان مخالف بیان جاری کیے تھے۔
پاکستان کے خلاف علاقائی اور عالمی طاقتوں کا ابھرتا ہوا اتحاد غیر معمولی رسپانس کا متقاضی ہے۔ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان میں سویلین اور سکیورٹی اداروں کا ایک صفحے پر ہونا ازحد ضرور ی ہے۔ دو مختلف اور باہم متحارب پالیسیاں نہیں چلائی جاسکتی ہیں۔ چنانچہ حکومت اور اسٹبشلمنٹ کے مابین بھی کھلے دل و دماغ کے ساتھ مکالمہ ہونا چاہیے کہ کس طرح مشترکہ طور پر ملک کو درپیش مسائل سے نبرد آزما ہوا جائے۔ سیاسی اختلافات کو کیسے ایک حد تک محدود رکھا جائے اور انہیں اداروں کے مابین محاذ آرائی کی شکل نہ دی جائے۔ ریاستی ادارے کس طرح اپنے آپ کو داخلی سیاست سے دور رکھیں اور تمام سیاسی جماعتوں اور گروہوں کے ساتھ یکساں، مساوی اور شفاف سلوک کریں۔ وہ قومی سیاست میں فریق نہ بنیں بلکہ جس بھی پارٹی کو عوام منتخب کرےں، اس کے ساتھ کام کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری اور نیچے ہونے والے بحث و مباحثہ سے متفق ہونا ضروری نہیں)




تبصرہ کیجئے