48 total views, 2 views today

آج کل میڈیا میں شہزاد رائے کا گانا ’’کون کس کا آدمی ہے، یہ جاننا لازمی ہے‘‘ بہت شہرت لے گیا ہے۔ حقیقت میں موجود سیاسی حالات نے تمام افراد کو مشکوک کیا ہوا ہے۔ ہر واقعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے؟ اس گانے کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچانے میں ایک ویڈیو نے بھی بہت کردار ادا کیا کہ جس میں بقولِ حکومت پچھلے الیکشن میں خرید و فروخت ہوئی جب کہ حزبِ اختلاف کا خیال ہے کہ یہ سب ’’حکومتی کمال‘‘ ہے۔ پیسے لینے دینے سے لے کر ویڈیو بنانے تک تمام کام حکومت نے خود ترتیب دیے اور اب الزام دوسروں پر لگا رہی ہے۔ سو ان حالات میں، مَیں نے غور کیا کہ پاکستان بننے سے اب تک ہمارا ہر بڑا واقعہ کنفیوژن کا شکار ہے۔ بذاتِ خود ملک کا قیام، قائد اعظم کی موت، لیاقت علی خان کا قتل، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، ضیاء الحق کا حادثہ، محترمہ بینظیر بھٹو کا قتل، ملک میں لگے چار مارشل لا، ہند سے چار جنگیں حتی کہ ملک کا ٹوٹنا، اسی طرح ہر انتخابات کا مشکوک ہونا یعنی اب تک ہم کسی ایک بھی واقعہ کی واضح اور سچائی پر مبنی حقیقت عوام کے سامنے نہ لاسکے۔ ہماری اس دوغلی پالیسی کی وجہ سے ہم بحیثیتِ قوم اپنی سمت کو سیدھا نہ کرسکے۔ سو ان واقعات میں سے ایک اہم واقعہ کارگل کا بھی تھا۔ کارگل کیوں ہوا؟ کس نے کیا، کیسے ہوا، اس کا نتیجہ کیا نکلا اور اس کی وجہ سے ہم کو کیا نقصان ہوا؟ اب تک عوام کو کچھ بھی معلوم نہیں۔ اب تک اس پر مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔
رائے نمبر ایک:۔ یہ رائے اس دور کی فوجی قیادت کی ہے کہ جس نے یہ بتایا کہ کارگل میں ہم نے بھارت کو گچی سے دبوچ لیا تھا، لیکن ہماری سیاسی قیادت نے نہایت ہی بزدلی کا مظاہرہ کیا اورامریکہ اوربھارت کے دباؤ پر ہماری قربانیوں کو ضائع کر دیا گیا۔یہاں تک کہا گیا کہ تب کی سیاسی قیادت کے چوں کہ مغرب اور ہند سے ذاتی، معاشی اور کاروباری مفادات وابستہ تھے۔ سو اس وجہ سے ایک لحاظ سے غداری کی گئی۔
رائے نمبر دو:۔ یہ رائے تب کی سیاسی قیادت کی تھی کہ یہ سب کیا دھرا فوجی قیادت کا تھا۔ اس پر سول حکومت کو اندھیرے میں رکھا گیا، لیکن جب معاملات بگڑگئے، تو فوجی قیادت نے ایک باعزت خروج واسطے سیاسی حکومت کو آگے کیا اور سیاسی حکومت نے سفارتی حکمت عملی سے بل کلنٹن کو درمیان میں ڈال کر نسبتاً بہتر منطقی حل نکالا۔ جب حکومت نے اس پر فوجی قیادت کی باز پرس کی، انہوں نے سیاسی قیادت کو ہی اٹھا کر باہر پھینک دیا اور خود ہی سیاہ و سفید کی مالک بن بیٹھی۔ پھر ہمارے خلاف پروپیگنڈا یک طرفہ شروع کر دیا گیا۔
٭ رائے نمبر تین:۔ یہ رائے اکثر غیر جانب دارانہ صحافتی حلقوں اور تب کی سیاسی اپوزیشن کی اکثریت کی تھی۔ اس کے مطابق کارگل کے واقعہ کی ذمہ دار دونوں یعنی سیاسی اور فوجی قیادتیں تھیں۔ تب کی قائد حزبِ اختلاف اور سابقہ وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو کا یہ بیان میڈیا خصوصاً بین الاقوامی میڈیا میں بہت مقبول ہوا کہ جب وہ وزیر اعظم تھیں اور جنرل مشرف تب پنڈی میں فوج کے ادارۂ پالیسی اور پلاننگ میں تھے۔ تب انہوں نے یہ منصوبہ بنایا تھا۔ بقول محترمہ کے ’’مَیں نے تب جنرل پر واضح کر دیا تھا کہ یہ منصوبہ قابلِ عمل بالکل نہیں۔ کیوں کہ فوجی معاملات کی تو مجھے سمجھ نہیں، ممکن ہے آپ صحیح کہتے ہوں، لیکن اس اقدام کو سفارتی طور پر سنبھالنا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ ملک کے واسطے ایک بہت بڑی حزیمت اور نقصان کا باعث ہوگا۔ سو اب اس ناکامی کا اعتراف کیا جائے اور اس میں شامل دونوں فریقین کا محاسبہ کیا جائے۔‘‘
٭ رائے نمبر چار:۔ یہ رائے کچھ سیاسی و دفاعی تجزیہ نگاروں کی ہے جو بنا کسی سیاسی تعصب اور نفرت کے اس پر تبصرہ کرتے ہیں۔ مَیں ذاتی طور پر منطق اور عقل کی بنیاد پر اس سے متفق ہوں۔ اس رائے کے مطابق بے شک اس میں سیاسی حکومت کی نااہلی بہت زیادہ ہے اور حکومت کو اس کی اجازت ہی نہ دینا چاہیے تھی، جیسے محترمہ بینظیر نے نہ دی تھی۔ لیکن ظاہر ہے بین الاقوامی سفارتی معاملات میں نواز شریف کی دانش کو بینظیر کے لیول پر سمجھنا زیادتی ہے۔ لیکن نواز شریف کی اس بات میں دم نہیں کہ ان کو اعتماد میں نہ لیا گیا یا ان سے خفیہ رکھا گیا۔ اصل غلطی بہرحال فوجی قیادت ہی کی تھی جو اس سے پڑنے والے اثرات کا احاطہ ہی نہ کرسکے، جو نہ تو سیاسی و سفارتی اثرات کا درست اندازہ لگا سکے اور نہ فوجی اقدام میں ہونے والی جوابی کارروائی کا توڑ ہی سوچ سکے۔ ویسے منطق تو یہی ہے کہ کارگل کی فتح سرینگر تک جاتی، تو اس کا سب سے زیادہ سیاسی فائدہ میاں محمد نواز شریف کو ہوتا۔ شاید میاں صاحب کی پہلے سے موجود کم عقلی میں اس تصوراتی کامیابی نے مزید اضافہ کر دیا، تبھی وہ اس کے نتائج کو سمجھ ہی نہ پائے اور بعد میں کارگل میں جب ان کی یہ خوش فہمی قصۂ پارینہ ثابت ہوئی، تو اس نے ان کو جذباتی طور بہت تنگ کیا۔ اس کا نتیجہ بارہ اکتوبر کا مارشل لا کی صورت میں نکلا۔
قارئین، تمام آراکے بعد قابلِ غور بات یہ ہے کہ اب اس کا حل کیا ہے؟ ویسے تو اعلا باخبر حلقوں کا یہ ماننا ہے کہ کارگل میں جو ہوا وہ محض بغیر سوچے سمجھے جنرل مشرف کی فضول مہم جوئی تھی، لیکن بہرحال ہر بات کو واضح کرنے کے واسطے یہ بہت ضروری ہے کہ حکومت ایک اعلا سطح کا تفتیشی کمیشن تشکیل دے جس میں اعلا پائے کے غیر جانب دار اور نیک شہرت کے حامل سابقہ فوجی افسران، صحافی، بیورو کریٹ، وکلا، سیاست دان اور جج ہوں۔ اس کمیشن کو مکمل بااختیار بنایا جائے۔ اس کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ کسی بھی شخص خواہ کوئی عام فوجی سپاہی ہو یا جنرل، اس حکومت کے وزرا ہوں یا اعلا عہدیدار، ان کو اپنے سامنے طلب کر کے انٹرویو کرے۔ یہ کمیشن چھے ماہ کے اندر اندر اپنی رپورٹ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کر وائے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ اس کو باقاعدہ ایک رفرنس کی شکل دے کر کھلی عدالت میں سماعت کرے اور دو ماہ کے اندر اندر اس پر حتمی فیصلہ سنا ئے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اور کمیشن کی رپورٹ لفظ بہ لفظ عوام کے سامنے لائی جائے۔ بے شک ذمہ داران کو سزا نہ دی جائے، یا نیت بارے حسنِ ظن کا اصول لے کر ان کو مجرم نہ بنایا جائے، لیکن کم از کم ان کا تعین کر لیا جائے۔ غلطیوں کی نشان دہی کر دی جائے۔
اگر ایسا ہوا، تو اس کے دو فوائد براہِ راست ہوں گے۔ ایک تو ہم کو یہ سمجھ آ جائے گی کہ اس طرح کے معاملات میں کون سے حلقے یا افراد عمومی طور پر اس قسم کے مسائل کا باعث بنتے ہیں؟ دوسرا، ہم کو آئندہ مستقبل کے حوالے سے کوئی حکمتِ عملی بنانے میں ان غلطیوں کو پیشِ نظر رکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔ یقینا آئندہ کوئی بھی اس سلسلے کا قدم ہمارے واسطے بہتر نتائج لاسکتا ہے۔
ہمارے ذمہ داران اور اربابِ اختیار کو اب اس نفسیاتی رویہ سے باہر نکلنا ہوگا کہ وہ ہمیشہ صحیح ہوتے ہیں، اور ان کا دیا گیا نکتۂ نظر عوام کو بلا چوں و چرا تسلیم کر لینا چاہیے۔ اس جدید دور میں کم از کم یہ مؤقف کلی طور پر ناقابلِ عمل ہے۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک دفعہ مَیں نے ایک بنگالی سابقہ سول افسر کو پڑھا تھا کہ جس میں وہ لکھتا ہے کہ اس نے ایک مرتبہ ایک ہائی لیول کے اجلاس میں یہ تجویز دی کہ ہم کو سنہ 1965ء کی جنگ بارے ایک تحقیقاتی کمیٹی بنانی چاہیے۔ بقول اس افسر کے یہ سنتے ہی ایک جنرل صاحب غصہ میں آگئے اور ایوب خان کی موجودگی میں براہِ راست مجھے مخاطب کرکے بولے، دیکھو صاحب! جنگ ہوئی۔ مَیں نے کہا، ’’جی سر!‘‘ وہ بولے، ’’جنگ ختم ہوگئی!‘‘ میں نے کہا، ’’جی سر!‘‘ تو انہوں نے کہا، ’’ہم نے اس پر ایک بیانیہ دیا جو قوم نے تسلیم کر لیا!‘‘ مَیں نے دھیرے سے کہا، ’’جی سر!‘‘ تب اس جنرل نے قہقہہ لگایا اور کہا، ’’سو بات ختم۔ اب مزید اس موضوع کو مت چھیڑو۔‘‘ سو مَیں حکم کے مطابق خاموش ہوگیا۔
مگر اب اس دور میں یہ رویہ چلنے والا نہیں۔ اب آپ کو ہر چیز کو واضح طور پر عوام کے سامنے رکھنا ہوگا۔ وگرنہ دوسری صورت میں عوام کے اندر غلط فہمیاں بڑھانے والوں کو کھلی چھوٹ ہوگی۔ یہ بات بے شک تمام اداروں کے خلاف باعثِ نفرت ہوگی جو ملک و قوم واسطے بہرحال نقصان دہ ہے۔ ہم کو بھی بحیثیتِ قوم یہ مطالبہ پوری شدت کے ساتھ کرنا ہوگا کہ ہم کو اب سچ بتایا جائے۔ ہم کسی بھی قسم کے رسمی بیانات پر یقین کرنے واسطے بالکل تیار نہیں۔ اگر کارگل پر حقیقت سامنے آگئی، تو پھر یہ دوسرے المناک واقعات بارے جاننے کی بھی راہ کھل جائے گی۔
…………………………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے