86 total views, 1 views today

سوات پریس کلب میں صحافتی کنونشن میں مہمانِ خصوصی کے طور پر ایم این اے ڈاکٹر حیدر صاحب نے صحافتی اخلاقیات پر جتنی سیر حاصل گفتگو کی، اس سے یوں لگا کہ ایم این اے صاحب پیشہ کے لحاظ سے ڈاکٹر نہیں بلکہ صحافت کے استاد رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادیِ صحافت پر قدغن کی مثال ریاست کے ایک مضبوط ستون کو ڈھانے کے مترادف ہے، لیکن جس طرح سے ڈیجیٹل صحافت نے ترقی کی ہے اور آسانیاں پیدا کی ہیں، اسی تناسب سے صحافتی اخلاقیات کی دھجیاں بھی بکھیر کر رکھ دی ہیں۔ پہلے جب کسی سیاست دان یا اہم شخصیت کا انٹریو لیا جاتا تھا، یا اگر کسی تقریب کو کور کرنا مقصود ہوتا تھا، تو ایڈیٹر اِن چیف کی نگرانی میں پوری ٹیم مع شو میزبان اسائنمنٹ کی مکمل تیاری کے ساتھ انٹرویو لینے یا تقریب کو کور (Cover) کرنے جاتی تھی۔ جس میں اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاست اور نظام کی ساکھ کے لیے نقصان دہ چیزیں حذف کرکے صرف وہ مواد صرف عوام تک پہنچایا جاتا تھا، جس سے نہ صرف ریاست کی بلکہ خود اس صحافتی ادارے کی ساکھ بھی بحال رہتی تھی۔ اب مگر صورتِ حال اس نہج تک پہنچ چکی ہے کہ ملک کا ہر وہ شہری صحافی بن بیٹھا ہے، جس کے پاس سمارٹ فون اور انٹرنیٹ میسر ہو۔ اس کے ساتھ اگر اس کے پاس ایک عدد یوٹیوب چینل یا چند ہزاری لائیکس والا فیس بک کا کوئی صفحہ ہے۔ بغیر کسی اجازت کے، بغیر صحافتی اقدار سے آگاہی کے بس انٹرنیٹ آن کرکے براہِ راست نشریات شروع کر دی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں منفی اور نفرت انگیز رجحانات مسلسل بڑھتے جار رہے ہیں۔ ایسے میں اگر ریاست اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اس طرح کی نقصان دہ چیزوں کو محدود رکھنے کی کوشش کرتی ہے، تو ’’آزادیِ صحافت‘‘ کا واویلا شروع کر دیا جاتا ہے۔ پھر اپوزیشن جماعتیں بھی اس طرح کے اہم فیصلوں کو محض سیاسی فوائد کی خاطر مسترد کر دیتی ہیں۔ نتیجتاً ملک میں انتشار اور افراتفری پھیلانے والے بے لگام گھوڑے کی طرح نکل پڑتے ہیں۔
قارئین، مَیں ڈاکٹر موصوف کی باتوں سے اتفاق رکھتا ہوں۔ اب آپ ہی بتا دیجیے کہ بغیر کسی ایڈیٹر اِن چیف کے، بغیر کسی ایڈیٹر یا سب ایڈیٹر کے، بغیر کسی نیوز ایڈیٹر کے، کسی یو ٹیوب چینل یا سوشل میڈیائی صفحہ پر اپنے من مرضی کا مواد نشر کرنا اور ذاتی عناد کی خاطر کسی کی پگڑی اچھالنا کہاں کی آزادیِ اظہارِ رائے ہے؟ کیا یہ صحافتی اصولوں کی پائے مالی اور ریاست کے چوتھے ستون کی مسماری خود اپنے ہاتھوں نہیں؟ کیا صحافتی تنظیموں اور میڈیا ہاؤسز کو ساتھ بٹھا کر سوشل میڈیا کا کوئی ایسا ایکٹ لانا ناگزیر نہیں جو صحافت اور آزادیِ رائے کو مزید نقصان سے بچائے اور مملکتِ خداداد کا بھرم بھی قائم رہے؟
………………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے