86 total views, 1 views today

معاشرے میں سماجی انصاف کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال 20 فروری کو سماجی انصاف کا عالمی دن ’’ورلڈ ڈے آف سوشل جسٹس‘‘ منایاجاتا ہے۔
26 نومبر 2007ء کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس دن کے منانے کی باضابطہ منظوری دی تھی ۔
اس دن مختلف سرکاری و نیم سرکاری اداروں اورسماجی انصاف کی فراہمی سے متعلق خدمات سرانجام دینے والی این جی اوز کے زیرِ اہتمام سیمینارز، کانفرنسز، مذاکروں، مباحثوں اور دیگر تقریبات کا انعقاد کیاجاتا ہے، جس میں اہم سیاسی شخصیات، صحافتی، مذہبی رہنما، ماہرینِ قانون، دانشور اور جوڈیشل افسران اپنے خطابات میں سماجی انصاف کی اہمیت کو اجاگر اور سماجی انصاف کی فراہمی میں بہتری کے لیے تجاویز کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ممبر ممالک میں مختلف معاشروں میں انصاف کے تقاضوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف آواز بھی اٹھائی جاتی ہے۔
’’سماجی انصاف‘‘ کا مطلب ہے کہ لوگوں کے درمیان روزمرہ معاملاتِ زندگی میں اس طرح عدل و مساوات کا فیصلہ ہو کہ کسی کی بھی حق تلفی نہ ہو۔
بلاشبہ سماجی انصاف کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ کیوں کہ جب معاشرے میں لوگوں کو انصاف کے یکساں مواقع نہیں ملتے، تواس سے بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں جو کہ معاشرے میں غربت، کرپشن اور جرائم میں اضافے کا باعث بنتے ہیں اور لوگ جنگ و جدل کی طرف مائل ہوتے ہیں۔
اگر سماجی انصاف کی فراہمی کا بغور جائزہ لیا جائے، تو اقوام و مذاہب کے تقابلی مطالعہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام سماجی انصاف کی فراہمی اور معاشرتی مساوات کا سب سے بڑا علم بردار، قائل اورسچا داعی مذہب ہے، جس نے معاشرے میں موجود تمام انسانوں کو ایک جیسے مقام سے نوازا ہے۔
اسلام میں رنگ و نسل، قوم و قبیلہ،ذات پات، دولت و ثروت،اختیار و اقتدار، غریب و امیر،پختون و پنجابی، سندھی، بلوچی، سرائیکی وغیرہ ہونے پر کوئی امتیاز روا نہیں رکھاگیا، بلکہ اس کی تقسیم کا واحد قاعدہ اوراصول صرف اور صرف ’’تقوا و للہیت‘‘ پرقائم ہے۔
اللہ ربّ العزت کا ارشاد ہے: ’’ اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرداور ایک عورت سے پیدا کیا ہے۔ اور تم کو مختلف شاخوں اور قبیلوں میں تقسیم کیا، تاکہ تم ایک دوسروں کو پہچان سکو، اللہ کے نزدیک زیادہ متقی ہی عزت والا ہے۔‘‘
بلا امتیاز عدل و انصاف کا قیام اسلامی معاشرے کا ایک اہم اور بنیادی ستون ہے۔ بلاشبہ عدل و انصاف ہی کی وجہ سے ہی حق دار حق پالیتا ہے اور مجرم سزا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’ جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو، تو عدل کے ساتھ کرو۔‘‘
خاتمِ انبیا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ ’’جو لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں، انہیں اسی چیز نے ہلاک کیا کہ جب ان میں سے کوئی بڑا آدمی چوری کرتا، تو وہ اسے چھوڑ دیتے، اور جب کوئی کمزور چوری کرتا، تو اس پر سزاجاری کردیتے، اور اللہ کی قسم اگرمحمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے گی، تو میں اس کا ہاتھ بھی ضرور کاٹوں گا۔‘‘
لیکن اگر ہم آج کے معاشرے میں اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں سماجی انصاف کی صورتِ حال اسلامی تعلیمات کے بالکل برعکس دکھائی دیتی ہے۔ کیوں کہ ہم اسلام کی روشن تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر اغیار کی ننگی تہذیب کے دل دادہ ہو چکے ہیں۔ اسی وجہ سے معاشرے میں محبت و الفت ناپید ہوگئی ہے اور بدامنی و انتشار بڑھ گیا ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ دنیا میں ترقی کرنے والی اقوام نے اپنے شہریوں کو صرف صنعتی ترقی اور آگے بڑھنے کے مواقع ہی نہیں دیے بلکہ اپنے پورے معاشرے پر انصاف کو غالب کرکے انہیں بہت سی فکروں اور پریشانیوں سے آزاد کیا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جس کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ یہاں پر سماجی انصاف کی حالت کچھ زیادہ بہترنہیں۔ لوگ پینے کے صاف پانی، صحت و تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں جب کہ صرف پچاس فیصد پاکستانیوں کو بنیادی سہولتیں میسر ہیں۔
حکومتی اقدامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافے کے باوجود معاشرے میں روز بروز بڑھتے جرائم، چوریاں، ڈکیتیاں، رسہ گیری اور رہزنی کے واقعات لمحۂ فکریہ ہیں۔ جب کہ معاشرے کی درست تشکیل و تعمیر کے لیے سماجی انصاف بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
آج بھی ہمارے معاشرے میں امن و امان قائم ہو سکتا ہے۔ الفت و محبت کے جذبات پیدا ہوسکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم مسلمان صحیح طور پر تعلیماتِ اسلام کے مطابق زندگی گزارنے والے بن جائیں۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعلیمات تمام انسانوں کے لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم، حق و مساوات اور سماجی انصاف پر مبنی ہیں اور انسانوں کے تحفظ و بقا کی ضامن ہیں۔ کیوں کہ آپ نے سماجی زندگی کا ایسا تصور پیش کیا جس میں افراد مل جل کر رہتے ہوں۔ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور حسنِ سلوک سے پیش آتے ہوں۔ چوں کہ ایک شخص معاشرے سے کٹ کر نہیں رہ سکتا اور نہ اپنے معاملاتِ زندگی بخوبی انجام ہی دے سکتا ہے۔
آج اگر ہمیں اپنے ملک کو امن وسلامتی کا گہوارہ بنانا ہو، یا عدل و انصاف پر مبنی قوانین کو رواج دینا ہو، یا ایک حقیقی فلاحی ریاست کا قیام عمل میں لانا ہو:
ایک ایسی فلاحی ریاست :
٭ جہاں ہر شخص کو شخصی اور مذہبی آزادی میسر ہو۔
٭ جہاں عورت کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو۔
٭ جہاں قوانین پر عمل درآمد دشوار نہ ہو۔
٭ جہاں انسانیت کا تمسخر اڑایا جاتا ہو۔
٭ جہاں امیر و غریب کو قابلیت کی بنیاد پر ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہوں۔
قارئین، ان سب کا حصول آج بھی ممکن ہے۔ اگر ہم آپ صلی علیہ و آلہ و سلم کے اسوۂ حسنہ کی حقیقی اتباع کرنے والے بن جائیں۔
معاشرے میں بلاامتیاز سماجی انصاف کے لیے افراد کو چاہیے کہ وہ معاشرے میں سماجی انصاف کی قدروں کوپروان چڑھانے کے لیے دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کریں، جو وہ اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ وہ ریاست کے قوانین کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالے۔
اس دعا کے ساتھ اجازت کا خواست گار ہوں کہ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو، آمین!
………………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے