206 total views, 2 views today

میں روز گدھا بانوں کو دیکھتا ہوں جو گدھوں کے پیچھے چلتا بے تحاشا بے زبان جانوروں کو مار رہے ہوتے ہیں۔ اگر انہیں مارنے کا مقصد جلد از جلد منزلِ مقصود تک پہنچنا ہوتا ہے، تو گدھے تو تیزی کے ساتھ دوڑ رہے ہوتے ہیں، پھر یہ ظالمانہ طریقے سے انہیں لاٹھی سے مارنا ظلم کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ یہ فعلِ بد گدھا بان کی عادت بن گئی ہے۔
ہم نے ہل جوتتے وقت کسان کو بھی دیکھا ہے جو بیلوں کے جسم میں سوئی چبھوتے ہیں۔ یہ سوئی ایک لاٹھی کے سرے میں ٹھونسی ہوئی ہوتی ہے۔ بیل کو بھگانے کے لیے کسان بار بار اس کے جسم میں چبھوتا ہے۔ اگر قریب جاکر مشاہدہ کیا جائے، تو بے زبان جانور کا جسم کئی جگہ پر زخمی ہوچکا ہوتا ہے۔
اسی طرح اگر ہم اپنے اسلامی معاشرے پر نظر ڈالیں، تو کئی جگہوں پر بے زبان جانوروں، چوپایوں اور پرندوں پر مسلمان ظلم کرتے نظر آئیں گے۔
اللہ تعالا نے مسلمانوں کو اپنی مخلوقات کے ساتھ اچھا سلوک کرنے اور رحم دلی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ کے خاص بندے تو جانوروں تک پر رحم کرتے ہیں جن کے صلے میں دنیا و آخرت میں ان کے درجے بلند ہوتے ہیں۔ حدیثِ رسولؐ میں آیا ہے کہ ایک گنگاہگار عورت کی اس وجہ سے بخشش ہوگئی کہ اس نے ایک پیاسے کتے کو پانی پلادیا تھا، جب کہ ایک دوسری ظالم عورت نے ایک بلی کو بے جا قید قید کردیا تھا، نہ اُسے خود کھانا پینا دیتی تھی اور نہ آزاد کرتی تھی جس کی وجہ سے وہ مرگئی۔ اس ظلم کی وجہ سے اُس عورت کو اُس بے زبان جانور پر ظلم کرنے کی سبب دوزخ کی سزا ملی۔
ہم اور آپ روز دیکھتے ہیں کہ لوگ جانوروں پر ظلم کرتے ہیں۔ مرغیوں کو اُلٹا پکڑتے ہیں جس سے ان بے زبانوں کو سخت تکلیف ہوتی ہے۔ کوئی شخص بھیڑ بکری کو بے دردی سے گھسیٹ رہا ہوتا ہے، یا پیچھے سے زور سے دھکیل رہا ہوتا ہے اور یہ عموماً کھردری زمین پر پھسلتا ہے جس سے اس غریب اور بے زبان جانور کو سخت تکلیف ہوتی ہے۔
بعض لوگ بھاری بھرکم بھینس یا گائے کو جلدی لے جانے کے لیے بے تحاشا مارتے ہیں۔ حالاں کہ موٹاپے کی وجہ سے ان کی چال ایس فطری ہوتی ہے جب کہ یہ لوگ یہ بھی نہیں سوچتے کہ ایک موٹا اور فربہ انسان کیسے تیز دوڑ سکتا ہے؟
ہم بہ فضلِ خدا مسلمان ہیں اور ہمارے لیے سرورِ کائناتؐ کی زندگی مشعل راہ ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ بحیثیتِ مسلمان بے زبان جانوروں کے ساتھ رحم دلی کا سلوک کریں، ان کے آرام و راحت کا خیال رکھیں اور بروقت کھانا پینا مہیا کریں۔ آنحضرتؐ نے اپنی اُمت کو بے زبان جانوروں کے ساتھ رحم دلی کا حکم دیا ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے کہ ’’جانور ذبح کرتے وقت چھری خوب تیز کرو، تاکہ ذبح کے وقت انہیں تکلیف نہ ہو، بلکہ ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے بھی ذبح نہ کیا کرو، تاکہ اُسے تکلیف اور رنج نہ پہنچے۔
ایک دفعہ آپؐ نے اونٹ کے مالک کو بلایا اور اونٹ کی اس حالت کی وجہ پوچھی۔ مالک نے کہا کہ یا رسولؐ! کل رات کو ہم نے گھر میں یہ مشورہ کیا تھا کہ یہ اونٹ اب بوڑھا اور بیکار ہوگیا ہے۔ لہٰذا اس کو قصاب کے ہاتھ بیچیں گے۔ نبیِ رحمتؐ بات سمجھ گئے۔ لہٰذا مالک کو اونٹ کی قیمت دے کر اُسے آزاد کرکے بیت المال میں داخل کرادیا۔
فاروقِ اعظمؓ نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے جانور پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ لادھے جارہا تھا۔ آپؓ نے جانور کے مالک کو سمجھایا کہ آئندہ اس جانور پر ظلم نہ کرنا، ورنہ تمہیں قانون کے مطابق سزا ملے گی۔ یہ تھے ہمارے اسلاف جنہوں نے ہمارے لیے مثالیں چھوڑی ہیں۔
برصغیرِ پاک و ہند میں انگریزوں کے دورِ حکومت میں ایک محکمہ ہوا کرتا تھا جس کا نام ’’محکمۂ انسدادِ بے رحمئی حیوانات‘‘ تھا۔ اس کے اہل کار باقاعدہ گلیوں کوچوں، سڑکوں اور مارکیٹوں میں گھوما کرتے اور جو لوگ جانوروں پر ظلم کرتے، ان سے پوچھتے، ظلم سے منع کرتے اور چالان بھی کرتے۔
اس سلسلے میں یہاں بھی ایسا محکمہ ہونا چاہیے، تاکہ لوگ بے زبان جانوروں پر ظلم نہ ہو۔
کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر
خدا مہربان ہوگا عرشِ بریں پر
……………………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے