120 total views, 1 views today

نواب محمد بہاول خان دوئم نے 1802ء میں بہاول پور کی بنیاد رکھی۔ 14 اگست 1947ء جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا، تو ہندو اور سکھ ہندوستان کے ساتھ وابستہ ہوئے جب کہ مسلمانوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ مہاجرین 1952ء میں بہاول پور منتقل ہوئے اور اس طرح بہاول پور سابق مغربی پاکستان صوبہ میں 14 اکتوبر 1955ء کو شامل ہوگیا۔
16 دسمبر 1971ء کو پاکستان دولخت ہوگیا۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش کا نام دے دیا گیا۔ بہاول پور کو پھر صوبۂ پنجاب میں شامل کیا گیا۔ اب بہاول پور ایک ڈویژن ہے جس میں بہاول پور، رحیم یار خان اور بہاول نگر اضلاع شامل ہیں۔
بہاول پور میں دی اسلامیہ یونی ورسٹی، قائد اعظم میڈیکل کالج اور صادق سکول ملک بھر میں اپنی منفرد شہرت رکھتے ہیں۔
بہاول پور میں آب پاشی کا بہترین نظام ہے۔ ’’نور محل‘‘ اور ’’بہاول پور سنٹرل لائبریری‘‘ قابلِ دید ہے۔ کئی ایک ترقیاتی پروگرام اس علاقہ میں جاری و ساری ہیں۔
یہ شہر پاکستان ریلوے کی مین لائن پر کراچی اور پشاور کے ٹھیک درمیان میں واقع ہے۔
(کتاب ’’انوارِ پاکستان، پاکستان کے بارے میں مختصر انسائیکلو پیڈیا‘‘ از ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم، مطبوعہ ’’نیشنل بک فاؤنڈیشن‘‘، سنہ اشاعت نومبر 2017ء کے صفحہ نمبر 107 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے