195 total views, 1 views today

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ زیرِ گردش ہے، جسے اتنی بار لوگ دیکھ چکے ہیں کہ اب یہ ’’وائرل‘‘ ہوگیا ہے۔ نتیجتاً ’’مین سٹریم میڈیا‘‘ تک بات پہنچ گئی۔ یوں اب ایک ملک گیر بحث شروع ہوچکی ہے جو کہ حوصلہ افزا ہے۔ کیوں کہ اکثریت لوگوں کی رائے میں اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ اگر کسی کو انگریزی زبان پر عبورحاصل نہیں، تو وہ نااہل یا نالائق ہے۔
قارئین، چلیے، سب سے پہلے آپ کو اس ویڈیو بارے بتاتے ہیں۔ ممکن ہے اب تک کسی قاری کی نظروں سے یہ اوجھل ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی قاری خود کو سوشل میڈیا کی بیماری سے دور رکھنا چاہتا ہو۔
دراصل ہوا کچھ یوں کہ اسلام آباد میں واقع ایک نجی ہوٹل جس کی مالکن اپنے منیجر سے انگریزی میں سوالات کرتی ہے۔ منیجر بے چارا ممکنہ حد تک جواب دینے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے، لیکن ہوٹل کی مالکن اپنی سہیلی کے ساتھ مل کر اس کا مذاق اڑاتی ہے کہ ’’یہ دیکھو، 9 سال سے ہمارے ہاں کام کر رہا ہے، لیکن یہ ہے اس کی انگریزی کا حال!‘‘
ویڈیو وائرل ہوگئی اور اکثریت لوگوں نے خواتین کے روئے کو تکبر سے بھرا، افسوس ناک اور انگریزوں کی نقالی قرار دیا۔ کچھ لوگوں نے غریب منیجر کو ’’ہیرو‘‘ قرار دیا۔ کیوں کہ ہوٹل مالکن مبینہ طور پر منیجر کی توہین کرچکی ہیں اور وہ برداشت کرچکا ہے۔ کیوں کہ انگریزی اچھی نہ ہونا کوئی عار ہے نہ خامی اور نہ یہ کوئی کمی ہی ہے۔
خوش کن امر یہ ہے کہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے نے مذکورہ ہوٹل منیجر کو اپنے ہاں کام کرنے کی آفر دی ہے اور اب یہ مژدہ بھی سنایا گیا ہے کہ مذکورہ منیجر ایک پیشہ ور اور قابل انسان ہے۔ اس سے معاملات طے ہونے کو ہیں۔
قارئین، انگریزی نہ آنے پر کسی کی توہین کرنا، کہاں کا انصاف ہے! انگریز کب کا رخصت ہوچکا، لیکن انگریز ذہنیت ابھی تک اس ملک کی اشرافیہ کو نہیں چھوڑ پائی۔ جہاں کوئی تھوڑی بہت انگریزی سمجھتا ہے، خود کو اَن داتا تصور کر بیٹھتا ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ اس قبیل کے اکثر لوگوں کی اُردو یا اپنی مادری زبان کا برا حال ہوتا ہے۔ برسبیلِ تذکرہ، ایک اچھی خاصی بڑی پارٹی کے چیئرمین صاحب کی اُردو ملاحظہ ہو۔
گذشتہ جمعرات کو وزیرِ اعظم پاکستان نے کسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بہت زبردست بات کی کہ ملک کی اکثریت انگریزی سے نابلد ہے۔ لہٰذا ان کے سامنے انگریزی میں تقریر کرکے ان کی توہین نہ کی جائے، بلکہ اپنے لوگوں کو عزت دی جائے اور قومی زبان میں ہی بات کی جائے۔
مجھے نہیں معلوم اس نام نہاد اعلا طبقے کو اُردو سے نفرت کیوں ہے؟ حالاں کہ یہ خود بھی سمجھتے ہیں کہ ان کی ’’انگریزی‘‘ چند ایک کے سوا کسی کی سمجھ میں نہیں آتی۔
اس وقت دنیا بھر کے ممالک زبان کے حوالے سے تین قسموں میں تقسیم کیے جاسکتے ہیں۔
پہلی قسم ان ممالک کی ہے جہاں مادری، قومی اور سرکاری زبان ایک ہی ہے۔ ان ممالک میں سعودیہ، مصر، ایران وغیرہ شامل ہیں۔
دوسری قسم ان ممالک کی ہے جہاں مادری زبانیں زیادہ ہیں لیکن قومی وحدت کی خاطر ایک ہی زبان کو قومی و سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے یعنی امریکہ یا سوویت یونین وغیرہ۔
تیسری قسم، وہ ممالک جہاں مادری اور قومی زبانیں کچھ اور جب کہ سرکاری زبانیں کچھ اور ہیں، ان میں پاکستان، بھارت، نیپال یا دیگر نو آبادیاتی ممالک شامل ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جو کسی زمانے میں انگریزوں کے غلام رہ چکے ہیں۔
اب انگریز کو ہندوستان چھوڑے 70 سال سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے، لیکن ان ممالک میں انگریزی سوچ اور انگریزی زبان کا غلبہ اور دبدبہ ہنوز قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بھی یہاں قابلیت کا معیار انگریزی زبان ہی ہے۔
مَیں یہ ہرگز نہیں کہہ رہا کہ انگریزی زبان مت سیکھیں، ضرور سیکھیں، جتنی زیادہ زبانیں کوئی انسان سیکھ سکتا ہے، اتنا ہی فائدہ مند رہے گا۔ لیکن یہ یاد رکھیے کہ دوسروں کی زبان سیکھنا اور پھر اس کے ذریعے اوروں پر رعب جھاڑنا باعثِ فخر ہرگز نہیں۔ دنیا میں وہ اقوام رو بہ ترقی ہیں، جنہوں نے اپنی ہی زبانوں کو قومی و سرکاری طور پر رائج کیا۔ چین، ترکی، جاپان، فرانس، جرمنی، امریکہ، دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں میں سے ایک بھی ایسی نہیں جس نے پرائی زبان کو قومی یا سرکاری درجہ دیا ہو۔ نہیں معلوم پاکستانی اشرافیہ کے ذہن میں یہ بات کب بیٹھے گی کہ قومی ترقی کے لیے قومی زبان کی ترویج ہی شرطِ اول ہے۔ اپنی زبان کی بجائے انگریزی پر فخر کرنے والوں کے لیے وہ کسی شاعر کا کیا خوب کہنا ہے کہ
اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤگے
خواب ہو جاؤگے، افسانوں میں ڈھل جاؤگے
اپنی مٹی ہی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگ مرمر پہ چلوگے تو پھسل جاؤگے
……………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے