202 total views, 1 views today

عصرِ حاضر میں تقریباً80 لاکھ پاکستانی دنیا بھر کے 35 ممالک میں آباد ہیں۔ سب سے زیادہ پاکستانی تارکینِ وطن سعودی عرب میں مقیم ہیں جن کی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق26 لاکھ ہے۔ دوسرے نمبر پر ’’یو اے ای‘‘ ہے، جہاں 15 لاکھ کے قریب پاکستانی آباد ہیں۔ تیسرے نمبر پر ’’یونائیٹڈ کنگڈم‘‘ یعنی برطانیہ ہے جہاں 12 لاکھ سے زیادہ پاکستانی اور کشمیری قیام پذیر ہیں۔ اسی طرح امریکہ میں 5 لاکھ، عمان میں ڈھائی لاکھ، کینیڈا میں سوا دو لاکھ، فرانس میں ڈیڑھ لاکھ، اٹلی میں 2 لاکھ، سپین میں 1 لاکھ، ساؤتھ افریقہ میں 1 لاکھ، آسٹریلیا میں 70 ہزار، جرمنی میں 1 لاکھ، ملائشیا میں 60 ہزار جب کہ قطر، بحرین، ناروے، یونان، ڈنمارک، سویڈن، ترکی، ہالینڈ، ایران اور افغانستان میں بھی اُوورسیز پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد مقیم ہے۔
دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ جن غیر مسلم ممالک میں پاکستانی تارکین وطن رہتے ہیں، اُن میں سے اکثریت یعنی 99 فیصد قانونی طور پر وہاں آباد ہیں اور اُن کو اُن ملکوں کے دیگر شہریوں کی طرح مکمل طور پر مساوی حقوق حاصل ہیں، اور اُن سے کسی قسم کا امتیاز غیرقانونی ہے، جب کہ مسلمان ممالک میں رہنے والے اُوورسیز پاکستانیوں کی اکثریت کو نہ تو کبھی اُن ممالک کی شہریت میسر آتی ہے، نہ انہیں مساوی حقوق دینے کا کوئی قانون اور تصور ہی موجود ہے، مگر اس کے باوجود ہم مسلمانوں کی اکثریت خود کو ایک ’’امتِ مسلمہ‘‘ سمجھتی ہے۔
انسان کی زندگی میں ہجرت ایک بہت مشکل، کٹھن اور بے یقینی پر مبنی مرحلہ ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص اپنی خوشی اورخواہش سے اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں، پیاروں، دوستوں اور مٹی کی محبت سے محروم نہیں ہونا چاہتا۔ اپنے گلی، محلے، بستی، گاؤں اور شہر کو نہیں چھوڑنا چاہتا۔ لہلہاتے کھیت کھلیانوں، گیت گاتی ہواؤں، سمندر کی طرف رواں دواں دریاؤں، برف پوش پہاڑوں، تاحدِ نظر صحراؤں (چولستان اور تھر)، دھوپ کی تمازتوں، ساون کی بارشوں، فالسے، جامن اور شہتوت کی لذتوں، موتیے اور چنبیلی کی حقیقی خوشبوؤں سے محروم نہیں ہونا چاہتا، مگر حالات اور محبوریاں اُسے یہ سب کچھ چھوڑنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ ہجرت کے بعد اجنبی ملکوں میں آباد ہونا، اپنے لیے حالات کو سازگار بنانا، نامانوس زبان سیکھنا، ایک مختلف تہذیب اور طرزِ معاشرت کو اپنا کر اس میں اپنے لیے گنجائش پیدا کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ غیر ممالک میں آکر آباد ہونے کے بعد خوشحالی اور آسودگی کی منزل تک پہنچتے پہنچتے عمر گزر جاتی ہے۔ ہجرت کے گرداب سے گزرنے والا ہر شخص سوچتا ہے کہ مادرِ وطن کے حالات سازگار ہوں گے، تو وہ باقی زندگی اپنی مٹی کی خوشبو کے حصار میں گزارے گا، مگر افسوس صد افسوس وطنِ عزیز کے حالات گذشتہ کئی دہائیوں سے سازگار ہونا تو کجا دن بہ دن خراب سے خراب تر ہوتے چلے جا رہے ہیں، جو لوگ تین چار دہائیاں یعنی 30، 40 سال سے پہلے پاکستان چھوڑ کر اجنبی ملکوں میں آباد ہوئے تھے، وہ آج بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمیں ’’نیا پاکستان‘‘ نہیں چاہیے۔ ہمارا وہی ’’پرانا پاکستان‘‘ اچھا تھا، جہاں کوئی بھوکا نہیں سوتا تھا، ہر ایک کو کم از کم دو وقت کی روٹی میسر تھی، خوراک خالص تھی، دوائیں نقلی نہیں تھیں، معصوم بچوں اور بچیوں کو درندے نہیں نوچتے تھے، مہنگائی اور بے روزگاری انتہا پر نہیں تھی، اسلحہ اور نشہ عام نہیں تھا، عدالتوں میں انصاف سرِ عام فروخت نہیں ہوتا تھا، لوڈ شیڈنگ سے زندگی اجیرن نہیں تھی، خود کش حملوں اور مساجد میں بم دھماکوں کا تصور نہیں تھا، مسلک اور فرقے ایک دوسرے کی جان لینے کے درپے نہیں تھے، کرپٹ، بدعنوان اورراشی افسراور سیاست دان قابلِ نفرت تھے، جعلی ڈگری پر استاد بھرتی ہونے اور طلبہ کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی کبھی کوئی خبر سننے اور پڑھنے کو نہیں ملتی تھی، مفاد پرستوں، جرائم پیشہ لوگوں اور تاجروں نے سیاست کو یرغمال نہیں بنایا تھا، ڈاکٹرقصائی اور انجینئر موت کے ٹھیکیدار نہیں تھے۔
پاکستان کو موجودہ حالات تک پہنچانے میں کسی طبقے نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس معاملے میں عوام اور خاص طور پر غریب طبقے نے بہت ’’اہم کردار‘‘ اد ا کیا ہے۔ وہ پاکستان کی آبادی میں بے تحاشا اضافے کے ذمہ دار ہیں۔ ’’پال نہیں سکتے، تو پیدا کیوں کرتے ہو؟‘‘ اب یہ سلوگن اُن غریب ملکوں میں مقبول ہو رہا ہے جن کے وسائل میں کمی اور آبادی میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آبادی اور وسائل کے عدم توازن اور دولت کی غیر مساوی تقسیم نے ملک و قوم کو اس نہج تک پہنچا دیا ہے۔ برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ملک اپنے عوام کی زندگی کو آسان بناتے اور جدید سہولتوں سے مزین کرتے رہے ہیں، جب کہ ہمارے ملک کے لوگوں کی زندگی مشکل ترین ہوکر آسانیوں اور سہولتوں سے محروم ہوتی چلی جارہی ہے۔ ان حالات کے پیشِ نظر وہ پاکستانی تارکینِ وطن جو کبھی واپس آکر وطنِ عزیز میں باقی زندگی گزارنے کے خواب دیکھتے تھے، اب پردیس میں رہنے کو ہی اپنے لیے عافیت سمجھنے لگتے ہیں۔ پرائے ملکوں میں انہیں صاف ستھری آب و ہوا اور ماحول کے علاوہ خالص غذا میسر ہوتی ہے۔ انہیں اپنے کام کے لیے کسی سے سفارش نہیں کروانی پڑتی، کسی کورشوت نہیں دینی پڑتی، علاج معالجے کی سہولت بھی بالکل مفت، 24 گھنٹے پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی دستیاب ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر عدالتیں فوری اور غیر جانب دارانہ انصاف کرتی ہیں۔
اسلامی جمہوریۂ پاکستان کے سابق حکمرانوں کی طرح موجودہ وزیر اعظم نے اُوورسیز پاکستانیوں کو جو سبز باغ دکھائے تھے، اب اُن کی حقیقت سامنے آ رہی ہے۔ تحریک انصاف اگر اقتدار میں آتے ہی عوام کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی، تو بہت سے معاملات میں بہتری آنا شروع ہوجاتی، مگر لگتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کو بھی عوام کے مسائل حل کرنے سے زیادہ اپنی حکومت کی بقا سے دلچسپی ہے۔ پاکستانی تارکینِ وطن نہ صرف ملک کا سرمایہ ہیں بلکہ زرِ مبادلہ کی ترسیل کا بڑا ذریعہ بھی ہیں۔ مشکل حالات کے باوجود اوورسیز پاکستانیوں نے گذشتہ ایک سال کے دوران میں 24 بلین ڈالر کی خطیر رقم وطنِ عزیز بھیجی، جو ایک ریکارڈ ہے۔ بیرونِ ملک سے بھیجے جانے والے اس زرِ مبادلہ میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے، بشرط یہ کہ حکومت بیرونِ ملک پاکستانیوں کو اعتماد میں لے اور اُن کی تجاویز اور مشوروں پر کان دھرے۔
اُوور سیز پاکستانی جب اس حقیقت پر غور کرتے ہیں کہ شوکت عزیز ہوں یا نواز شریف، پاکستان میں اقتدار کے مزے لوٹ کر خود اور اپنی اولاد کو بیرونِ ملک محفوظ تصور کرتے ہیں یا پھر ہماری فوج کے سربراہان ریٹائرمنٹ کے بعد آسٹریلیا، امریکہ اور دبئی میں آباد ہوجاتے ہیں اور ان ملکوں کو اپنے لیے محفوظ پناہ گاہ سمجھتے ہیں، تو پھر خوشحال اُوورسیز پاکستانیوں کو کیا ضرورت ہے کہ وہ تمام آسانیوں اور سہولتوں کو لات مار کر پاکستان جا کر آباد ہوں، یا وہاں سرمایہ کاری کریں؟ جب کہ ہمارے اربابِ اختیار زرمبادلہ سے اپنے اور اپنے بچوں کے لیے بیرونی دنیا میں پناہ گاہیں تلاش کرنے میں لگے رہتے ہیں جو زرِمبالہ اُوور سیز پاکستانیوں کی محنت مشقت کی کمائی سے پاکستان پہنچتا ہے، وہی سرمایہ ہمارے کرپٹ سیاست دان اور مفاد پرست عناصر اپنی جائیدادیں بنانے کے لیے بیرونِ ملک بھیج دیتے ہیں۔ اگر حالات ایسے ہی رہے، تو اوورسیز پاکستانی کب تک مٹی کی محبت کے قرض اتارتے رہیں گے؟
موجودہ وزیر اعظم نے اقتدار میں آنے سے پہلے اُوورسیز پاکستانیوں سے جو وعدے کیے تھے، وہ ذرا سی فرصت نکال اُن پر ایک بار پھر غور کرلیں اور اپنی حکومتی ترجیحات (اگر ہیں تو) پر نظرِ ثانی کریں، وگرنہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ بھوکے لوگ دماغ کی بجائے پیٹ سے سوچتے ہیں اور یہی بھوک ان کو خوابِ غفلت سے جگا دیتی ہے۔ گذشتہ نصف صدی میں جن 80 لاکھ پاکستانیوں نے اپنے ملک سے ہجرت کی ہے، اُن کی مجبوریاں اپنی جگہ لیکن پاکستان کے 20 کروڑ سے زیادہ مفلوک الحال عوام نے جہالت سے شعور کی منزل کی طرف ہجرت کا آغاز کردیا، تو پھر کسی مفاد پرست، دوغلے اور منافق سیاست دان اور حکمران کو پاکستان میں پناہ نہیں ملے گی۔
…………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے