98 total views, 2 views today

وہ کلاس لیٹ آتی تھی۔ یہ اس کا معمول بن چکا تھا۔ سو پوچھنے پر معلوم ہوا کہ بے چاری گھریلو اخراجات کے لیے ایک نجی سکول میں کلاسیں لیتی ہے۔ اس کے بعد خود پڑھنے کے لیے یونیورسٹی آتی ہے۔ لہٰذا اس کا لیٹ ہونا فطری امر ہے۔
یہ دوسرا طالب علم ہے جو اکثر و بیشتر استاد کی جانب سے ملا ہوا ’’ہوم ورک‘‘ لیٹ کر دیتا ہے۔ پتا کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ موصوف گھر کا اکیلا کفیل ہے۔ کیوں کہ دوسرا بھائی اور باپ کچھ عرصہ پہلے دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بنے تھے۔ لہٰذا طالب علم صبح یونیورسٹی آتا ہے، شام کو کسی ریسٹورنٹ میں کام کرتا ہے۔ رات کو دیر سے سوتا ہے۔ اس لیے ہوم ورک کے لیے وقت نہیں ملتا۔
یہ ایک اور طالبہ ہے جو خاموش ہی رہتی ہے۔ کسی فنکشن میں نظر نہیں آتی۔ سبب کچھ معلوم ہوا، تو وہ بھی یہ کہ گھر کے مرد سارے دہشت گردوں نے مار دیے ہیں۔ اب گھریلو اخراجات کے لیے اس بچی کی ماں صبح سویرے دوسروں کے گھر میں کام کاج کرتی ہے، تاکہ بچوں کو پال پوس سکے۔ ایسے میں یہ بچی کیسے خوش ہوسکتی ہے؟
ایک اور طالب علم اس وجہ سے سبق ادھورا چھوڑ کر چلا گیا کہ گھر کے لیے کمانے والے بے گناہ قتل کر دیے گئے تھے۔ جب کہ کھانے والے ابھی کم سن اور توجہ کے مستحق تھے۔ سو چار و ناچار یونیورسٹی کو خیر باد کہنا پڑا۔
ابھی گذشتہ اتوار کو ’’مچھ‘‘ کے علاقے میں بے گناہوں کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے، اس ظلم کو کیسے بیان کیا جاسکتا ہے؟ جمعہ کے دن یہ الفاظ لکھتے وقت بھی کوئٹہ میں مشرقی بائی پاس پر دھرنے میں وہ لاشیں پڑی تھیں۔ حالاں کہ کوئٹہ کی ان دنوں سردی خون جما دینے والی ہوتی ہے۔ ان لاشوں میں سے ایک مبینہ طور پر مشتاق حسین نام کے طالب علم کی بھی ہے، جو بلوچستان بورڈ کا ٹاپر بتایا جاتا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے، تو پھر کوئلے کی کان میں مزدوری کی وجہ؟ ظاہری بات ہے جب گھر کے سربراہوں کو ناکردہ جرم میں مارا جائے، تو پھر کوئی ٹاپر ہو، قابل ہو، نالائق ہو، بچہ ہو یا بڑا! کام کاج تو کرنا پڑتا ہے کہ آخر بھوک سے بھی تو لڑنا ہے۔ بھوک سے جنگ دنیا کی مشکل ترین جنگ ہے۔ اگر یہ جنگ نہ ہوتی، تو مشتاق حسین جیسا خوبرو اور قابل بچہ کیوں کر زمین کے اندر کوئلوں میں پِستا رہتا؟
کالم کے آغاز میں جن بچوں کا ذکر کیا گیا ہے، یہ سب کے سب ہزارہ قبیلہ سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ ہزارہ قبیلہ کے لوگ وسطی ایشیائی ممالک سے ہجرت کرکے افغانستان اور پاکستان میں آباد ہوئے ہیں۔ افغانستان میں بھی ان کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور پاکستان میں بھی۔ پاکستان میں ان کی اکثریت کوئٹہ کے دو علاقوں ہزارہ ٹاؤن اور مری آباد میں مقیم ہے۔ اپنی مخصوص شکل و صورت کے سبب دور سے پہچانے جاتے ہیں۔ اکثر و بیشتر یہ پہچان ہی ان کے لیے وبالِ جان بن جاتی ہے۔
پاکستان فوج کے سابق سربراہ جنرل موسیٰ کا تعلق اسی برادری سے تھا اور انہی کے نام سے منسوب ایک کالج بھی اس علاقے میں موجود ہے۔
کوئٹہ میں ’’سپنی روڈ‘‘ کا علاقہ اس حوالے سے مشہور یا بدنام ہے، جہاں ہزارہ لوگ زیادہ تر نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو کیوں کر ہر بار نشانہ بنایا جاتا ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں یہ ’’سی پیک‘‘ کو سبوتاژ کرنے کے لیے دشمن ممالک کی کارروائی ہے۔ ممکن یہ بات سچ ہو، لیکن یہ مکمل سچ اس لیے نہیں کہ ہزارہ برادری کو سی پیک سے پہلے بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، بلکہ افغانستان میں بھی اس قبیلے کے لیے زندگی آسودگی کا سامان نہیں۔ ان کی شادیوں تک پر حملے کرکے درجنوں لوگوں کو مارا گیا ہے۔
پھر کیا وجہ ہوسکتی ہے؟
اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے اس قبیلے کے ذمہ دار اور سنجیدہ لوگوں تک کو پوچھا، لیکن وہ بے چارے خود حیران ہیں کہ ’’آخر ہمارا قصور کیا ہے جب ہم دہائیوں سے یہاں رہائش پذیر ہیں۔ خود کو باقیوں کی طرح بلکہ اُن سے بھی بڑھ کر پاکستانی سمجھتے ہیں۔ کبھی ریاست کے خلاف بغاوت نہیں کی وغیرہ وغیرہ۔‘‘
اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک سنجیدہ دوست سے ایک دفعہ کہا کہ شائد آپ لوگوں کی یہ سب سے بڑی غلطی ہے کہ خود کو زیادہ محب وطن پاکستانی سمجھتے ہو۔ اس پر وہ ہنسے لگے اور کہنے لگے کہ ’’اگر یہ غلطی ہے، تو ایک محدود قبیلے سے ہزاروں لوگ کو بے گناہ قتل کیا گیا، لیکن وطن کے لیے باقی سب کچھ بھی حاضر ہے۔‘‘
دوست کے اس عزم کو دیکھ کر میں دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ ان کے جذبوں کو دیکھیں اور وزیراعظم کی ڈھٹائی کو دیکھیں جو کہتا ہے: ’’پہلے لاشوں کو دفنا دو، پھر اشک شوئی کرنے آؤں گا۔‘‘
اس میں یہ سوال فطری ہے کہ کیا واقعی ریاست ماں جیسی ہوتی ہے؟ یہ کیسی ماں ہے جس کا بچہ رو رہا ہے، مر رہا ہے لیکن وہ بے پروا بیٹھی ہوئی ہے۔
شائد ریاست ہزارہ برادری کی سوتیلی ماں ہے!
………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے