41 total views, 1 views today

پولیس کے چند ناہنجار اہلکاروں نے اسلام آباد کے نواح میں ایک نوجوان اسامہ کی گاڑی پر اندھادھند فائرنگ کی۔ چند لمحوں میں ایک ہنستے مسکراتے چراغ کو ہمیشہ کے لیے گُل کردیا۔ یہ حرکت ان کے خاندان اور پولیس کے محکمے کے ماتھے پر رہتی دنیا تک کلنک کا ٹیکہ بنی رہے گی۔
اخباری اطلاعات کے مطابق چند روز قبل نوجوان اسامہ کی پولیس سے معمولی تلخ کلامی ہوئی تھی، جس کے بدلے پولیس اہلکاروں نے اسے قتل کرکے لیا۔اس لرزہ خیر واقعے نے پورے ملک پر لرزہ طاری کردیا۔ معمولی تلخ کلامی یا غلطی پر کسی بھی شخص کو گولیوں سے بھون دینا محض ایک اتفاق یا حادثہ نہیں کہ اسے نظر انداز کردیا جائے۔ ایسے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ سانحۂ ساہیوال اور ماڈل ٹاؤن لاہور کے کرب انگیز مناظر ابھی حافظے کی سکرین سے پوری طرح محونہیں ہوئے تھے کہ ایک اور تکلیف دہ واقعہ رونماہوا۔ اسلام آباد پولیس کے ان اہلکاروں کو عبرت ناک سزا ضرور ملے گی، ان شاء اللہ!
یہ موقع ہے کہ پولیس کے اس طرزِ عمل کے بارے میں زیادہ گہرائی کے ساتھ غورکیا جائے کہ آخر پولیس کو کیا بیماری لاحق ہے کہ وہ شہریوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کرتی ہے اور پھر بے غم سوتی بھی ہے۔ بیچ چوراہے مخلوقِ خدا کی تذلیل کرتی ہے۔ تھانے اور کچہری کا رُخ کرتے ہوئے شہریوں کو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ میری نظر میں بنیادی وجہ یہ ہے کہ پولیس کی بنیاد ہی سروس فراہم کرنے والے ادارے کی نہیں، بلکہ کنٹرول کرنے، حکم چلانے اور شہریوں پر خوف طاری کرنے والے ایک ادارے کی ہے۔ قدیم بادشاہوں، راجوں مہاراجوں یا پھر فرنگیوں کے عہدِ غلامی میں یہ طرزِ عمل روا تھا، لیکن اب نہیں۔ آزادی کے ما بعد پولیس کی تشکیلِ نو کی ضرورت تھی، لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ فرنگی قیامِ پاکستان کے بعد منظر سے غائب ہوگئے، لیکن ان کے پیروکاروں نے ملک کی زمامِ کار سنبھال لی۔ انہوں نے بھی پولیس کے استعماری استعمال کے تسلسل کو جاری وساری رکھا۔ جنرل محمد ایوب خان او ربعدازاں جنرل محمد یحییٰ خان نے اقتدار سنبھال لیا، جنہیں جمہور کی تائید حاصل نہ تھی۔ پولیس اور فوج کو ان دونوں حکمرانوں نے شہریوں کو کنٹرول کرنے اور اپنی حکومت کو طول دینے کے لیے بے دریغ استعمال کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو اگرچہ عوامی تائیدسے برسرِاقتدار آئے، لیکن انہوں نے آمروں سے بھی بڑھ کر پولیس کا بے دریغ استعمال کیا۔ حتیٰ کہ سیاسی مخالفین کو زد و کوب کیا۔ فیڈرل سیکورٹی فورس کے نام سے ایک ایسا ادارہ بنایا جس کا مقصد ہی سیاسی مخالفین کو خوف زدہ کرنا اور ان کی عزتیں اچھالنا تھا۔ افسوس! سات دہائیاں گزرنے کے باوجود پرنالہ وہیں گررہاہے۔
پولیس میں اصلاحات کے موضوع پر درجنوں کمیشن بنے۔ کتابیں رقم ہوئیں۔ سیمینار ہوئے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی جوہری تبدیلی نہ آئی۔ پولیس آج بھی خوف ودہشت کی علامت ہے۔ ریاست کے ایک اہم ستون کو درست خطوط پر استوار کرنے کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کی جاسکی اور نہ ضروری وسائل ہی فراہم کیے گئے۔ پولیس اصلاحات نہ ہونے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ خود حکمران بنتے رہے۔ وہ پولیس کو جیسے کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ مخالفین کے خلاف استعمال کرتے۔ پولیس ریفارمز کرنے کے لیے جس سیاسی عزم کی ضرورت تھی، وہ ان میں نہ تھا۔ اگر ہوتا تو وفاقی اور صوبائی حکومتیں سر جوڑ کر بیٹھ جاتیں۔ مسلسل تربیت، معیاری بھرتی اور کڑے احتساب کے اصولوں کی بنیاد پر پولیس کو جدید خطوط پر استوار کیا جاسکتا تھا۔
پولیس افسران بتاتے ہیں کہ ان کے محکمے میں ہونے والے تبادلے اور ترقی کا معیار عمومی طور پر کارکردگی اور میرٹ نہیں بلکہ سیاست دانوں اور اعلا افسران کی خوشنودی اور ذاتی پسند و ناپسند ہوتاہے۔ فوج یا اور کوئی ادارہ ملازمین بھرتی کرتے وقت سو طرح کے ٹیسٹ لیتا ہے۔ ترقی کے لیے بے شمار مسابقتی امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس پولیس کے اندر یہ نظام زیادہ مؤثر نہیں بنایا گیا۔ پولیس کے پاس معیاری تربیتی اداروں کی بھی کمی ہے۔ جو ہیں ان میں دماغ کے بجائے طاقت کے استعمال کے اسرار و رموز زیادہ سکھائے جاتے ہیں۔ ادارے کے اندر پیشہ ورانہ مہارت اور عالمی معیار کے پیمانے ازبر کرانے کی کوشش نہیں کی جاتی۔
’’پولیس ریفارمز‘‘ موجودہ حکومت کی کلیدی ترجیحات کا ایک اہم جزو ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اس پر جنگی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے۔ فوجداری نظام کے اندر جس اصلاح کی ضرورت ہے، اسے بھی بلاتاخیر عمل میں لایا جائے۔ پاکستانی عوام کبھی پولیس کو ایک پیشہ ور تنظیم کے طور پر قبول نہیں کریں گے، جب تک کہ وہ حقیقی معنوں میں بدل نہیں جاتی۔ اس کے لیے پاکستان کو بین الاقوامی اداروں کی مدد کی بھی ضرورت ہے، جن کے پاس طویل تحربہ اور فنی مہارت ہے۔آج کے زمانے میں روایتی آلات کے برعکس جدید ٹیکنالوجی سے لیس پولیس زیادہ کارگر اور برق رفتار ہوتی ہے۔ دوست ملک اور اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے پاکستان کو پولیس ریفارمز میں مدد دینے کے لیے ’’مائل بہ کرم ہیں، لیکن کوئی سائل ہی نہیں۔‘‘
اسامہ! تمہارے قاتل اِن شاء اللہ ضرور کیفرِ کردار تک پہنچیں گے۔ ریاست کو ایسا انتظام کرنا ہوگا کہ کل کسی اور کا لختِ جگر پولیس گردی کا شکار نہ ہو۔
یاد رہے کہ پولیس ریفارمز ایک ایسا مسئلہ ہے جسے اب مزید ٹالا نہیں جاسکتا۔ اسامہ کے اندوہناک قتل نے ایک بار پھر موقع عطاکیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس مسئلہ کی سنگینی کا احساس کریں۔ اس میں عدالتِ عالیہ بھی اپنا حصہ ڈالے۔ قومی اتفاق رائے سے پولیس کا ایک ایسا نظام متعارف کرایا جائے جس پر حکومتوں کے آنے جانے سے کوئی اثر نہ پڑے۔
…………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے