55 total views, 1 views today

پاکستان میں جمہوریت اگر سیاسی رہنماؤں کے مفادات، پسند و ناپسند کی راہ میں رکاوٹ ہو، تو جمہوریت جائے بھاڑ میں۔ اور جب جمہوریت سیاسی قائدین کی راہیں آسان بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہو، تو انہیں جمہوریت کی بقا ستانے لگتی ہے۔ اور جمہوریت ڈی ریل ہونے کا خطرہ نظر آنے لگتا ہے۔
کئی عشروں سے پاکستان مسلم لیگ نون (پی ایم ایل این) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہی ہیں، لیکن انہیں جمہوریت کی کوئی فکر تھی اور نہ جمہوری اقدار کی مضبوطی کے لیے قانون سازی کرنے کی۔
پی پی پی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو ایک فوجی آمر او ر اور اُس وقت کے ’’سلیکٹر‘‘ فلیڈ مارشل محمد ایوب خان کی نرسری میں پھولے پلے اور ایوب خان کو ’’ڈیڈی‘‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ جب ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے مفادات متصادم ہوئے، تو بھٹو کو غریب عوام اور جمہوریت یاد آگئی۔
اس طرح پی ایم ایل این کے قائد میاں محمد نواز شریف بھی ایک فوجی آمر جنرل ضیاء الحق اور سلیکٹر کی نرسری کی پیداوار ہیں۔ لیڈر بن کر اُبھرے اور اقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔ آج جب سلیکٹرز اور نواز شریف کے مفادات متصادم ہیں، تو میاں صاحب نے ان سلیکٹرزکی مخالفت شروع کی جو بے وقت کی راگنی ہے۔ جب سلیکٹرز اور دونوں سیاسی پارٹیاں اکھٹے ہوکر اقتدار کا کھیل کھیلتی رہتی ہیں، تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا، سلیکٹرز کے فیصلے مانتے رہتے ہیں، ان کی مرضی کے فیصلے کرتے بھی رہے اور ان کے وضع کردہ قواعد و ضوابط کے تحت کھیل بھی کھیلتے رہے۔
قومی الیکشن 25 جولائی 2018ء میں جب دونوں بڑی پارٹیوں سمیت بعض چھوٹی چھوٹی پارٹیاں اقتدار کے کھیل سے باہر ہوگئیں، تو انہوں نے دھاندلی کا رونا شروع کیا۔ حالاں کہ اس سے پہلے دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کو الیکشن میں دھاندلی نظر آ رہی تھی، اور نہ جمہوریت خطرے میں تھی۔ کیوں کہ دھاندلی اُن کے حق میں اور اُن کو اقتدار تک پہنچانے کے لیے ہو رہی تھی۔
قومی الیکشن 2013ء کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) چار حلقوں میں دھاندلی کی تحقیقات کا حکومت سے مطالبہ کرتی رہی، لیکن اس وقت برسرِ اقتدار نون لیگ اور اپوزیشن پی پی پی، پی ٹی آئی کا مطالبہ ماننے کو تیار نہیں تھیں، جس کے لیے پی ٹی آئی کو 126 دن کا تاریخی دھرنا دینا پڑا۔ اُس وقت بھی پاکستان کی چھوٹی بڑی سیاسی پارٹیاں دھاندلی دھاندلی کا وِرد کر رہی تھیں، لیکن پھر بھی دونوں بڑی پارٹیاں دھاندلی کا راستہ روکنے کے لیے قانون سازی سے گریزاں رہیں۔ کیوں کہ یہ ان کے حق میں نہیں تھا۔ اقتدار کے کھیل سے باہر ہونے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاؤل زرداری نے اسمبلی کے فلور پر وزیرِ اعظم عمران خان کو سلیکٹڈ وزیرِ اعظم کے نام سے مخاطب کیا۔ اپوزیشن کی تمام سیاسی پارٹیاں آج بھی عمران خان کو سلیکٹڈ وزیرِ اعظم کہتی ہیں۔
پی ڈی ایم کی گیارہ سیاسی پارٹیاں عمران خان کو “دھاندلی کی پیداوار” اور سلیکٹرز کا کرشمہ قرار دے رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان تو پہلے دن سے الیکشن کو مسترد کرچکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے نو منتخب ممبرانِ اسمبلی حلف نہ اُٹھائیں، لیکن اپوزیشن کی دو بڑی پارٹیوں نے مولانا کا مطالبہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ مولانا فضل الرحمان نے ’’لانگ مارچ‘‘ اور دھرنے سے دوسری بار بھی حکومت گرانے کی کوشش کی، لیکن پی پی پی اور نون لیگ نے مارچ کی حد تک مولانا کا ساتھ دیا جب کہ دھرنے سے گریز کیا۔ مولانا پھر بھی بے مزہ نہیں ہوئے اور آج تک اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس بار نون لیگ، مولانا کے ہمرکاب نظر آرہی ہے۔ پی پی پی لانگ مارچ، اسمبلی سے استعفوں کی دھمکیوں کی حد تک تو مولانا کے ساتھ ہے، لیکن اسمبلی سے استعفا دینے کے حق میں نہیں۔ اس لیے پی پی نے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان جو اپوزیشن کی گیارہ جماعتوں (پی ڈی ایم) کے سربراہ ہیں، وزیرِ اعظم عمران کو “سلیکٹڈ” سمجھ رہے ہیں۔
دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام کے بانی ارکان اور ان کے ساتھی مولانا فضل الرحمان کو سلیکٹڈ سمجھتے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے سینئر رہنما مولانا شیرانی، مولانا گل نصیب خان، مولانا شجاع الملک اور حافظ حسین احمد نے مولانا فضل الرحمان پر الزام لگایا ہے کہ مولانا نے جمعیت علمائے اسلام کے دستور کو پسِ پشت ڈال کر اس کو موروثی پارٹی میں تبدیل کردیا ہے۔ مولانا پارٹی امور کو نمٹانے میں سینئر ارکان سے مشورہ نہیں کرتے اور گذشتہ لانگ مارچ اور دھرنے کے دوران مولانا نے اسٹیبلشمنٹ، چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین سے ملاقاتیں کیں، لیکن ہمیں بے خبر رکھا گیا۔ میڈیا کے توسط سے ہمیں اس کے بارے میں معلوم ہوا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں رام کرنے مولانا نے یہ خوش خبری سنا دی کہ مارچ 2020ء تک پی ٹی آئی کی حکومت ختم کر دی جائے گی۔
مولانا فضل الرحمان سیاست کے حمام میں اپنے آپ کو باپردہ شخصیت سمجھ رہے تھے، لیکن انہیں اپنے ہی ساتھیوں نے ننگا ثابت کر دیا۔ اب تو اس حمام میں سبھی ننگے نظر آتے ہیں، لیکن پارٹی ورکرز اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ڈراما کھیلا جا رہا ہے۔ پی ڈی ایم میں شامل تمام سیاسی پارٹیاں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جب کہ درپردہ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز، عمران خان کے علاوہ ہر کسی سے بات چیت کے لیے تیار ہیں، اگر نون لیگ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہے اور عمران سے مذاکرات کرنا نہیں چاہتی، تو وہ کون لوگ ہیں جن سے مریم نواز بات چیت کرنے کو تیار ہیں؟
طرفہ تماشا یہ ہے کہ پی پی پی کے چیئرمین بلاؤل زرداری اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بھی ہیں اور ان کے لیے نرم گوشہ بھی رکھتے ہیں۔ ایسے میں پی ڈی ایم کی حکومت کے خلاف لانگ مارچ، دھرنے اور وزیر اعظم کے استعفا کی بیل منڈھے چڑھتے نظر نہیں آ رہی۔
……………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے