151 total views, 2 views today

اُردو ادب میں علامہ شبلی نعمانی کا نام اِک معتبر حوالے کے طور پر جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ کیوں نہ ہو کہ انہوں نے سیرت النبیؐ، الفاروق، المامون اور شعر العجم جیسی معرکۃ الآرا کتب لکھ رکھی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے نددۃ العلماء جیسے ادارے کی بھی داغ بیل ڈالی، جس کے اثرات اُس وقت بھی برصغیر کے سیاسی، مذہبی اور تعلیمی ماحول کو متاثر کرتے رہے اور آج بھی اس کا اثر کسی نہ کسی صورت میں ’’جماعتی‘‘ سطح پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔
اُردو کے پہلے ناول نگار ’’ڈپٹی نذیر احمد‘‘ جیسے کٹر مولوی پر اگر سود پر پیسے قرض دینے کا الزام ہے (یاد رہے: لکھ پتی ہونے کی وجہ سے اُن کے گھر پہ یونین جیک لہراتا تھا اور ایک سرکاری سنتری ہمہ وقت ڈیوٹی پہ بھی مامور رہتا تھا)، تو مولانا شبلی نعمانی پہ بہ یک وقت ابوالکلام آزاد اور عطیہ فیضی سے عشقیہ پینگیں بڑھانے کا الزام بھی نہیں دھویا جاسکتا۔
یوں تو اس حوالے سے بہت سے لوگوں مثلاً نیاز فتح پوری، ماجد دریا بادی، امین زبیری (شبلی کی زندگی کا ایک رنگین ورق) اور شبلی کے اپنے بھائی مہدی حسن وغیرہ نے شبلی کے اصل چہرے کے متعلق بہت کچھ لکھا ہے۔ لیکن آج ہم ڈاکٹر وحید قریشی کی کتاب ’’شبلی کی حیاتِ معاشقہ‘‘ پر کچھ سطور رقم کریں گے۔ گو کہ میں شبلی کی عظمت کا معترف ہوں اور اُنہیں ’’جی نیس‘‘ ہی مانتا ہوں، کیوں کہ وہ بہ یک وقت مؤرخ، محقق، خطیب، عالم، شاعر اور نقاد بھی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اُنہیں مولانا سے بڑھا کر ’’شمس العلما‘‘ کا خطاب بھی دیا گیا، لیکن جب ادب کا کوئی سنجیدہ لکھاری کسی ’’غازہ خور‘‘ کی طرح کسی کا اصل چہرہ سامنے لاتا یا دکھاتا ہے، تو خوشی ہوتی ہے۔
ڈاکٹر وحید قریشی جنہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی بھی ملا۔ جو اک نابغہ محقق، ماہر اقبالیات وغالبیات ہونے کے ساتھ ساتھ اردو فارسی کے پروفیسر بھی تھے۔ انہوں نے 1950ء میں ’’شبلی کی حیاتِ معاشقہ‘‘ لکھی جو بڑی تہلکہ خیز ثابت ہوئی (یاد رہے اُن دنوں یہ مضمون انہوں نے اسی عنوان سے حلقۂ ارباب ذوق میں بھی پڑھا تھا۔ جب وہ ترقی پسند بھی شمار ہوتے تھے۔ بعد میں انہوں نے اپنے معاشی تحفظ کے لیے جماعتی ’’چھتری‘‘ تلے پناہ لی)۔ اس کتاب پہ جب اسلامی حلقوں نے شور مچایا، تو مصنف بہت جلد ہی اپنی تصنیف سے نہ صرف دستبردار ہوگئے، بلکہ مارکیٹ سے بھی اٹھوا ڈالی اور لائبریریوں سے بھی غائب کروالی۔ لیکن کچھ من چلے کھوجی، کھوج لگاہی لیتے ہیں۔ ایسے ہی سرپھروں میں ایک نام لاہور کے ڈاکٹر عرفان احمد خان (غازہ خور فیم) کا بھی ہے۔ جو دربدر خاک بہ سر لاہور چھان کر پنڈی اسلام آباد تک بھی آئے۔ بالآخر اُنہیں اس کتاب کی ایک فوٹو سٹیٹ کاپی مل ہی گئی۔ بس پھر کیا تھا۔ اسے نئے سرے سے ترتیب و تہذیب کا پیرہن پہنا کر (پچاس سال بعد) پھر سے مارکیٹ میں لے آئے۔ آنکھ جھپکتے ہی تین چار ایڈیشن یوں اُڑتے چلے گئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ (یاد رہے جب یہ کتاب دوبارہ مارکیٹ میں آئی، اُس وقت وحید قریشی حیات تھے)۔




ڈاکٹر وحید قریشی کی کتاب "شبلی کی حیاتِ معاشقہ” (فوٹو: تصدیق اقبال بابو)

فاضل مؤلف لکھتے ہیں کہ ’’پاکستان کی ادبی تاریخ میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں جب کوئی مصنف اپنی ہی تخلیق کے ساتھ ’’ناجائز‘‘ اولاد کا سا سلوک کرے اور اُس سے مکر جائے۔ خان عبدالقیوم خان نے باچا خان کی مدح سرائی میں اک کتاب لکھی تھی، لیکن جب وزیراعلیٰ بنے، تو مکر گئے‘‘۔ وہ اپنے ابتدایئے میں لکھتے ہیں کہ ’’شبلی کسی کام کے سلسلے میں لکھنؤ سے بمبئی گئے، تو وہاں اُن کی ملاقات اِک بے ریش لڑکے سے ہوئی جس نے اپنا نام مولوی ابوالکلام محی الدین آزاد دہلوی بتایا۔ اس کے بعد وہ مولانا کی خلوت و جلوت کا ’’ساتھی‘‘ بن گیا۔ اس ہیرے کو مزید چمکانے دمکانے کے لیے انہوں نے اُسے اپنے ساتھ ساتھ رکھا۔ ’’یہاں تک کہ اُسے ’’الندوہ‘‘ کی ایڈیٹری تک سونپ دی‘‘۔
کتاب ہذا میں اصل موضوع تو شبلی اور عطیہ فیضی کا ہے۔ چوں کہ عطیہ فیضی سے علامہ اقبالؒ بھی عشق فرماتے تھے اور اُن کی ڈائری میں اس قسم کے شعر بھی لکھ دیا کرتے تھے کہ :
عالم جوش جنوں میں ہے روا کیا کیا کچھ
کہیے کیا حکم ہے، دیوانہ بنوں یا نہ بنوں!
یہی وجہ ہے کہ فاضل مؤلف پہلے اس کتاب کا نام ’’دو ملاؤں (شبلی و اقبال) میں مرغی (عطیہ) حرام‘‘ رکھنے لگے تھے، لیکن پھر سابقہ عنوان ہی بحال رکھا گیا۔
کتاب کے مندرجات میں وحید قریشی لکھتے ہیں کہ ’’شبلی کی ماں کی وفات کے بعد باپ نے دوسری شادی کرلی۔ یہی وجہ ہے کہ شبلی نے تمام عمر سوتیلی ماں سے بات نہ کی اور باپ سے نفرت کرتے رہے۔‘‘
باپ نے شبلی کو اسلامی درسگاہوں میں پڑھایا، تو دوسری بیوی کے بیٹے کو انگریزی تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔ یہاں تک کہ اُسے ولایت بھی بھیجا۔ شبلی جن درسگاہوں میں پڑھے، وہ حنفی تھیں جبھی تو اُنہوں نے وہابیت کی سخت تردید کی۔ شبلی وکالت کے امتحان میں تو فیل ہوگئے، لیکن مولوی ضرور بن گئے۔ جبھی تو وہ بعض لڑکوں کو دو دو گھنٹے تک اس لیے پیٹا کرتے کہ وہ نماز پڑھنے کا مستحکم وعدہ کریں۔ جب شبلی حیدر آباد گئے، تو دینی عقائد کی زنجیریں ڈھیلی ہونا شروع ہوگئیں اور داغؔ وغیرہ کی صحبت میں غزل سرائی شروع کردی۔ پھر آپ بمبئی جیسے رنگین شہر بھی جانے لگ گئے۔
مولانا کی پہلی شادی اور بیوی کی فوتگی کے متعلق تو کچھ معلوم نہ ہوسکا، تاہم اُن کی دوسری شادی 1900ء میں اِک بہت ہی چھوٹی عمر کی لڑکی سے ہوئی۔ اتنی چھوٹی کہ مولانا اس بات پر راضی تھے کہ شادی کے بعد وہ کچھ عرصہ مجددی میں گزاردیں گے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ ’’معلوم نہیں کہ شادی کے بعد کا زمانہ علامہ نے ’’مجددی‘‘ میں گزارا یا نہیں، تاہم اتنا معلوم ہے کہ وہ خاتون جلد ہی فوت ہوگئیں اور یوں مولانا پھر خالی رہ گئے۔‘‘
کتاب کے صفحہ نمبر 74 پہ درج ہے کہ ’’اس کے بعد مولانا ابوالکلام آزاد و عطیہ فیضی سے بیک وقت محبت کا آغاز ہوتا ہے۔ شبلی اور عطیہ اِک دوسرے کو خطوط لکھتے اور باہم ملاقاتیں بھی کرتے۔ شبلی لکھنؤ سے بمبئی عطیہ ہی سے ملنے آتے وہ بھی لکھنؤ آتی۔ ہفتوں ساتھ رہتے۔ سارا سارا دن باغوں اور تفریح گاہوں میں گھوما کرتے۔ انہی دنوں مولانا کے تخیل کا پنچھی بھی ہواؤں میں خوب اڑا کرتا اور ایسے ایسے رنگین شعر بھی اعجاز کی صورت لکھتے جاتے:
مست و پر عربدہ تنگش بکشم در آغوش
تشنہ وصلم و تاکی بہ محابہ ہشم
ترجمہ:۔ مَیں کیوں نہ مستی اور دیوانگی میں اسے اپنی آغوش میں کھینچ لوں۔ میں وصل کا پیاسا ہوں، کب تک صبر کرتا رہوں گا۔
مزید لکھتے ہیں:
من فدائی بت خوشی کہ بہ ہنگام وصال
بمن آموخت خود آئین ہم آغوش را
ترجمہ:۔ قربان جایئے اس محبوب کی اس مہربانی پر، اس نے خود ایک دفعہ وصال کے موقع پر مجھے ہم آغوشی کا طریقہ سکھایا تھا۔
چوں کہ علامہ اقبال بھی عطیہ فیضی کے شیدائی تھے۔ ایک دفعہ وہ عطیہ سے ملنے آئے۔ دیکھا، تو مہمان خانے میں شبلی بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ اقبال نے کہا: ’’یہ یہاں کیا لینے آیا ہے؟‘‘ تو عطیہ نے کہا: ’’وہی جو تم لینے آئے ہو!‘‘
شبلی کا یہ شعر کتنا معنی خیز ہے۔ ذرا ملاحظہ ہو:
گوئیا دشمن ہم از ذوقش نصیبے بردہ است
بادۂ وصلش چشیدم، از مذاق افتادہ بود
ترجمہ:۔ ہمیں جو مئے وصل نصیب ہوئی، اس میں وہ کیف و سرور نہ تھا جو ہونا چاہیے۔ معلوم ہوتا ہے میرا کوئی دشمن اسے جھوٹا کر گیا ہے۔
فاضل مصنف لکھتے ہیں کہ ’’ایک طرف ان کے اشعار سے جنسیت کی بو آتی ہے، تو دوسری طرف وہ عطیہ کے ساتھ جانماز کا تعلق پیدا کرنے کے بھی خواہش مند ہیں۔ یہی ان کی نرگسیت کا سیل رواں ہے جو بہ یک وقت ندوے کے ریگزاروں میں بھی بہتا ہے اور عطیہ کے دو پٹے اور ابوالکلام آزاد کی دستار کو بھی ایک ہی لڑی میں پروتا جاتا ہے۔‘‘
شبلی اور عطیہ کی عمروں میں بھی کافی بعد تھا، یہ بھی کہ شبلی کی ایک ٹانگ نقلی یعنی لکڑی کی تھی۔ اقبال بھی ایک آنکھ سے معذور تھے جبھی تو جج نہ بنائے گئے۔ یہ وجہ ہو یا کوئی اور، عطیہ نے شبلیؔ اور اقبالؔ دونوں کے ساتھ مراسم ضرور رکھے، دوستی بھی نبھائی، دونوں کو بھرپور خطوط بھی لکھے لیکن دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی شادی نہیں کی، بلکہ اک رحمین نامی مصور سے شادی کی جو یہودی تھا۔ شنید ہے کہ وہ مسلمان ہوگیا تھا (واللہ اعلم!)
لیکن اتنا تو سبھی کو معلوم ہے کہ عطیہ فیضی کی آخری عمر نہایت کسمپرسی میں گزری۔ زندگی کے آخری دن اُس نے کراچی میں پورے کیے۔
یہ کتاب آج کل پھر مارکیٹ میں آؤٹ آف پرنٹ ہے، لیکن شنید ہے کہ ڈاکٹر عرفان احمد خان (0332-4822090) اسے، 2021ء میں پھر مزید تحقیقی اضافوں کے ساتھ شائع کرانے والے ہیں۔ کسی کو چاہیے تو مَیں فوٹو کاپی مہیا کرسکتا ہوں۔
……………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے