187 total views, 1 views today

میں ذاتی طور پر جمہوریت کا بہت زیادہ حامی ہوں، اور کسی بھی شکل یا حالات میں مارشل لا کا حمایتی نہیں ہوں۔ ماضی میں تھا اور نہ مستقبل میں بھی ہی کبھی ہوں گا (ان شاء اللہ) کیوں کہ میری یہ رائے ہے کہ جمہوریت کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو، بہرصورت آمریت سے بہتر ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے میں نہ صرف نظریاتی طور پر آمریت سے نفرت کرتا ہوں بلکہ باقی عملی طور پر بھی میں نے آمریت کے خلاف اپنی اوقات سے بڑھ کر جد و جہد کی اور ضیا دور میں مار بھی کھائی۔
اب آمریت سے نفرت اپنی جگہ درست قدم ضرور ہے، لیکن بہرحال یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری جمہوریت نے بھی کوئی خاص ڈیلیور نہیں کیا۔ یہ سچ ہے کہ اس کی بنیادی وجہ بے شک آمرانہ ادوار میں کچھ ایسے اقدامات ہیں کہ جن کی وجہ سے ہماری سیاسی جماعتیں کم زور ہوئیں اور انہوں نے بجائے خود کو مضبوط کرنے اور عوام کی خدمت کرنے کے اول ترجیح اپنی لیڈرشپ کا تحفظ کیا، اورلیڈر شپ نے اول مقدم اپنا ذاتی مفاد رکھا۔ بہرحال یہ بات قابلِ فکر ہے کہ ہماری جماعتوں نے کم سے کم سطح پربھی وہ کام نہ کیے جو کہ ملکی یا عوامی مفاد میں ہوتے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ آمرانہ دور میں سیاسی انجینئرنگ اپنی جگہ لیکن ہماری سیاسی قیادت کی کم زوریاں اور خامیاں بھی قابلِ نظر انداز نہیں۔ سو آئیں، جائزہ لیں کہ اس کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ میں ماضی میں نہیں جاتا، وہ وجوہات بھی اپنی جگہ، لیکن آئیں حال میں دیکھتے ہیں، تو معلوم ہوگا کہ اس کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟
اولین اور ایک مضبوط وجہ یہ ہے کہ ہماری کوئی بھی سیاسی جماعت، سیاسیات کے مروجہ اصولوں پر سیاسی جماعت بنی ہی نہیں۔ عام حالات میں ایک جماعت بنتی ہے اور پھر وہ جماعت اپنے تنظیمی ڈھانچے کی مضبوطی کی وجہ سے اپنے اندر سے ایک قیادت پیدا کرتی ہے۔ وہی اصل قیادت ہوتی ہے۔ چوں کہ یہ قیادت خود جماعت کی تنظیم کی پیداوار ہوتی ہے۔ سو یہ بِنا جماعت چل ہی نہیں سکتی اور اس کو ہر حال میں تنظیم کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہوا کہ ہم نے جماعتیں بنائی ہی نہیں، بلکہ ہم نے اول ایک گلیمرس شخصیت لی۔ پھر اس کے نیچے جماعت بنی۔ اب جماعت کا مرکزی ایکسل تنظیم نہیں رہی بلکہ ایک شخصیت بنی اور تمام جماعت اسی کے ارد گرد فکس ہوگئی، جس طرح بائیسکل کے مرکزی ایکسل کے ارد گرد سپوکیں۔ جہاں کسی نے اعتراض کیا، قیادت نے اس کو اسی طرح نکال باہر کیا جس طرح خراب سپوکوں کو نکال باہر کیا جاتا ہے۔ ہمارے پاس اس وقت مین سٹریم میں یا ملکی سطح پر چار جماعتیں ہیں۔ پاکستان جماعت اسلامی، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ، پاکستان تحریک انصاف۔
ان میں سے اول والی دو محض ایک شخص کا کرشمہ تھیں اور آخر الذکر دو جماعتیں سیاسی انجینئرنگ نے دیں۔ تو نتائج کیسے حاصل ہو سکتے تھے؟
آپ دیکھیں جماعت اسلامی مکمل طور پر مودودی کی ذاتی کاوش، خیال اور تعلیمات پر مبنی تھی۔ اس کو باقاعدہ ایک جماعت کا درجہ بھی مولانا مودودی ہی نے دلوایا، اور جب کبھی کسی طرف سے کوئی اختلافِ رائے ملی، اس کو فارغ کر دیا گیا۔ مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا کوثر نیازی، ارشاد حقانی اور عبدالقادر حسن جیسی قد آور شخصیات اس کی واضح مثال ہیں، یعنی ایسا نہیں تھا کہ چند بندوں نے اول ایک خاص منشور اور نظریہ کو لے کر جماعت بنائی ہو، بلکہ اول سارا تبلیغی کام اور تمام اقدام مولانا مودودی کے اپنے تھے۔ منشور، تنظیم وغیرہ سب مولانا کا ذاتی کام تھا۔
دوسری طرف پاک پیپلز پارٹی تھی۔ یہ بھی بالکل حادثادتی طور پر بنی۔ ایک شخصیت جو ماضی میں حکومت کا حصہ رہ چکی تھی۔ بے شک جس کی قابلیت مسلمہ اور کرشماتی تھی۔ اس نے ایک مخصوص حالات میں اپنی مقبولیت کو کیش کروا کر ایک جماعت کی داغ بیل ڈالی اور اس میں بھی اول و آخر تمام بنیادی نظریات و حکمت عملی محض ایک شخص جس کا نام ذوالفقار علی بھٹو تھا، کی مرہونِ منت تھی۔ اسی وجہ سے جماعت پر بھٹو صاحب کی گرفت مکمل اور حتمی تھی، اور اسی وجہ سے میاں محمود قصوری، احمد رضا قصوری، حاکم زرداری، افتخار تاری اور مصطفی کھر جیسے لوگ نکال باہر کر دیے گئے۔ بدقسمتی کی بات یہ تھی کہ اتنی بڑی جماعت اور مقبول ترین جماعت کا لیڈر کسی تنظیمی پالیسی کا پابند نہ تھا۔ کسی جماعتی آئین کا پابند نہ تھا بلکہ بھٹو صاحب جماعت میں فیصل آباد کے گھنٹا گھر والا مقام رکھتے تھے کہ جہاں سارے راستے آکر ملتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اتنی بڑی جماعت کہ جس کے پاس اپنے اپنے شعبوں کے بہت نادر اشخاص تھے ایک 19 سالہ طالب علم کو اپنا چیئرمین بنانے پر مجبور ہوگئی۔
اب دوسری طرف جب نظر ڈالیں، تو میاں محمد نواز شریف ایک بالکل اوسط درجے کے کاروباری شخص تھے۔ پیسے کے زور پر آگے آئے۔ اس وقت بینظیر شہید کا راستہ روکنے واسطے اسٹیبلشمنٹ نے ان کو آگے کیا اور ایک سطحی ذہن کے بندے کو راتوں رات ’’میڈ ان پاکستان‘‘ اور ’’مسیحا‘‘ بنا کر پیش کیا گیا۔ سو اوپر کی سطح پر کنٹرول بے شک اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ تھا، لیکن نیچے کی سطح پر جماعت میاں صاحب کی لونڈی بن گئی۔ جوں جوں میاں صاحب مضبوط ہوتے گئے، توں توں جماعت کی تنظیم ختم ہو کر محض چند چاپلوس شخصیات کے ارد گرد گم ہو گئی۔ بالکل اسی طرح نواز شریف کو کارنر کرنے واسطے اسٹیبلشمنٹ ایک معمولی کرکٹر کہ جس کا نہ سیاسی فہم تھا نہ فکر، محض بطورِ ایک کھلاڑی کے وہ ایک گلیمر رکھتا تھا، اس کو راتوں رات مسیحا بنا دیا گیا اور ’’تبدیلی‘‘ کے خوش کن نعرے سے عوام کو احمق بنایا گیا۔ سو تحریکِ انصاف بھی حسبِ ماضی ایک جماعت نہیں بلکہ ’’عمران خان فین کلب‘‘ بن کر رہ گئی۔ آج تحریکِ انصاف میں تنظیم کی حیثیت صفر جمع صفر ہو کر رہ گئی ہے۔ منشور، نہ تنظیم بس حکومت کا نام اور خان شو پیس۔ سو یہ حالت بن گئی۔ اب جب تک ملک میں حقیقی حماعتیں نہ ہوں۔ بس کہیں بھٹو کی پرکشش شخصیت یا بی بی شہید کا نام بکتا ہو، کہیں میاں دے نعرے وجڑگے کے علاوہ معلوم ہی نہ ہو کہ مقصد اور منشور کیا ہے؟ کہیں خان صاحب ہی ’’آخری امید‘‘ کا فضول منترہ ہو، وہاں سیاست کیسے چل سکتی ہے؟ یہ منطقی طور پر ممکن ہی نہیں۔
سو ان حالات میں حل کیا ہے؟ میرا خیال ہے کہ اس کا واحد اور مکمل حل صرف اور صرف سیاسی کارکنان کے پاس ہے۔ معاشرہ کے جو لوگ سیاست کو بطورِ عبادت کرنا چاہتے ہیں، ان کا کام ہے کہ وہ آگے آئیں۔ یا تو موجود جماعتوں میں بنیادی تبدیلی لانے کی جد و جہد کریں جو کہ موجود صورتحال میں ممکن ہی نہیں۔
دوسرا حل یہ ہے کہ تمام سیاسی سوچ والے کارکن کسی نئی جماعت میں شامل ہوں یا اپنی جماعت بنائیں۔ اول دن ہی سے ان کا مقصد ’’پاور پالیٹکس‘‘ کے بجائے فلاحی سیاست ہو۔ ایک ایسی جماعت کہ جس کا منشور قابل عمل ہو، اور جس پر مکمل گرفت تنظیم کی ہو۔ پھر جو لیڈر شپ نکلے، وہ نہ تو کسی کرکٹ گلیمر کی وجہ سے ہو، نہ کسی وصیت کی پرچی سے ہو، نہ محض ایک باپ کی وارثت ہو بلکہ وہ تنظیم کے آگے جواب دہ ہو اور تنظیم کی حکمت عملی کے تحت فیصلہ سازی کرے۔ کیوں کہ جب تنظیمی ڈھانچا لیڈر شپ کو پیدا کرے گا، تو پھر وہ قیادت خالصتاً میرٹ اور قابلیت پر ہوگی۔ اس کا ہر اقدام مجموعی سوچ کا عکاس اور مشترکہ عقل کا نتیجہ ہوگا۔ وہی جماعت ملک کو آگے لے کر جاسکتی ہے۔
مَیں ماضی یا حال کے قائدین کو غلط یا بدنیت نہیں کہتا، مگر ان کی ناکامی کی بنیادی وجہ محض اختیارِ کل کی وجہ سے ہے۔ بقولِ امام شافعیؒ، مَیں یہ تو مان سکتا ہوں کہ کسی نے دو بوتل شراب پی اور نشہ میں نہ آیا، مگر یہ نہیں مان سکتا کہ کسی شخص کے پاس بے تحاشا اختیار ہو اور وہ نشہ میں نہ آئے۔
سو یہ نشہ ہی قیادت کو صیح کام نہیں کرنے دیتا۔ اس اختیارات کے مرکز کو توڑنا ہوگا۔ سیاست کو اس جمہوریت سے نکالنا ہو گا کہ جہاں بس عوام کو ووٹ کی پرچی تک محدود کر دو، بلکہ اب سیاسی جماعتوں میں بذاتِ خود جمہوری رویوں کا اجرا کرنا ہوگا۔ ہر شخص کو احتساب کا سامنا کرنا ہوگا اور کارکنان کو ڈسپلن کے نام پر شخصی غلامی سے دور کرنا ہوگا۔ اس واسطے نئی سیاسی جماعتوں کی ضرورت اب ناگزیر ہے۔ اس واسطے میں اپیل کرتا ہوں کہ وہ جماعتی ڈسپلن کے نام پر غلامی کو خیر باد کہیں اور اندھی عقیدت سے جان چھڑائیں، تبھی آپ ملک کی خدمت کرسکتے ہیں۔ قوم آپ کی منتظر ہے۔ سو آگے بڑھیں اور ایک نئے جذبہ سے اختیارات کو خود ہاتھ میں لیں۔ تبھی ہماری نسلیں ایک بہتر مستقبل دیکھ پائیں گی۔
………………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے