244 total views, 1 views today

وہ سکاٹ لینڈ کے ایک ریستوران میں کام کرتا تھا۔ نیلی آنکھوں اور سنہرے بالوں والی ایک خوبصورت لڑکی کبھی کبھار وہاں اپنی فیملی کے ساتھ ڈنر کے لئے آیا کرتی تھی۔ لڑکی اسے بہت اچھی لگتی تھی۔ ایک بار یہ حسینہ اپنی کسی دوست کے ہمراہ کھانے کے لیے وہاں آئی، تو اس نے ہمت کرکے اس سے بات چیت کا آغاز کیا اور پھر یہ بات چیت تعارف اور جان پہچان میں بدل گئی۔
مارگریٹ، ایڈنبرا کے ایک سپر سٹور میں منیجر تھی اور اکلوتی ہونے کی وجہ سے اپنے ماں باپ کے ساتھ ہی ایک مضافاتی گاؤں میں رہتی تھی۔ ندیم 6 برس پہلے منگیتر کے طور پر گلاسگو آیا تھا، لیکن اس کی شادی 2 سال بعد ہی ناکام ہوگئی اور پھر وہ گلاسگو سے ایڈنبرا منتقل ہوگیا۔ اسے یہاں ایک ریستوران میں ملازمت مل گئی۔ اس ملازمت کے دوران اسے سکاٹش لوگوں کے رویے کو سمجھنے میں کافی مدد ملی۔ اسی لیے مارگریٹ سے اس کی بہت جلد دوستی ہوگئی۔ کئی بار وہ اسے اپنے گھر بھی لے گئی، اور اپنے والدین سے متعارف کرایا۔ ندیم اپنے دوست اشرف کے ساتھ ایڈنبرا میں ہی ایک کرائے کے اپارٹمنٹ میں رہتا ہے۔ ندیم نے جب اشرف کو مارگریٹ کے بارے میں بتایا، تو وہ بھی اس سکاٹش دوشیزہ سے ملنے کے تجسس میں مبتلا ہوگیا۔
چند ہفتے بعد ندیم نے مارگریٹ کو اپنے اپارٹمنٹ پر آنے کی دعوت دی۔ اشرف اپنے اپارٹمنٹ میں آنے والی اس پہلی مہمان لڑکی سے مل کر بہت متاثر ہوا۔ اس کی خوب صورتی اور شخصی نفاست واقعی دل موہ لینے والی تھی۔
چند ماہ بعد ندیم نے جب اشرف کو بتایا کہ وہ مارگریٹ سے شادی کا پروگرام بنا رہا ہے، تو اسے ایک دم دھچکا لگا کہ مخمل میں ٹاٹ کا پیوند کیسے لگ سکتا ہے؟ ظاہری طور پر اس نے خوشی کا اظہار کیا، لیکن ساتھ ہی اس نے ندیم کو سمجھانے کی کوشش کی کہ مذہب اور تہذیب کا اختلاف آگے چل کر ازدواجی زندگی میں بہت سی مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے اپنے فیصلے کے بارے میں پھر سے سوچ لو۔
دراصل اشرف خود کو پرستان کا شہزادہ سمجھتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ مارگریٹ جیسی حسینہ ندیم جیسے لڑکے کے لائق نہیں، جس کا فیملی بیک گراؤنڈ بھی بہت اچھا نہیں ہے، جب کہ اشرف کے والد پاکستان میں ایک بیوروکریٹ تھے، جنہوں نے اسے پڑھنے کے لیے ’’ایڈنبرا یونیورسٹی‘‘ بھیجا تھا، مگر اشرف پڑھنے کی بجائے ہر وقت موج میلے کے چکر میں رہتا، اور ہر ایک پر اپنے خاندانی پس منظر کا رعب جھاڑنے کے چکر میں رہتا۔ اس کے والد پاکستان سے ہر ماہ باقاعدگی سے اسے پیسے بھیجتے، جنہیں وہ اللوں تللوں میں اڑا دیتا۔
مارگریٹ اور ندیم کی آپس میں قربت سے اسے بلاوجہ احساسِ کمتری ہونے لگا۔ اسی احساسِ کمتری کے سبب ایک دن وہ مارگریٹ کے سپر سٹور جا پہنچا اور خریداری کے بہانے اسے ہیلو ہائے کر کے واپسی پر بتا آیا کہ ندیم کے والد پاکستان میں ایک (حجام؍ نائی) ہیں، بلکہ ان کا پورا خاندان اس پیشے سے منسلک ہے، اور ندیم خود بھی ایک نائی ہے۔
چند روز بعد جب ندیم اور مارگریٹ کی ملاقات ہوئی، تو مارگریٹ نے بڑی خوشگوار حیرانی سے پوچھا کہ ندیم تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ تمہارا خاندان ہیئر ڈریسنگ کے پیشے سے وابستہ ہے، اور تم بھی اس کام کے ماہر ہو! مارگریٹ خوش ہو کر بتانے لگی کہ میری بیسٹ فرینڈ کے والد ایڈنبرا کے بہترین ہیئر ڈریسر ہیں اور بہت دولت مند ہیں۔ مارگریٹ کا خوشگوار ردِعمل دیکھ کر ندیم کو سمجھ نہ آئی کہ وہ جواب میں کیا کہے؟ مارگریٹ کے کہنے پر ندیم چھٹی والے دن اس کی بیسٹ فرینڈ کے والد مسٹر جارج سے ملا جس نے اسے اپنے ہیئر ڈریسنگ سٹوڈیو میں چند روز کے لیے ٹریننگ کے لیے بلایا۔
ندیم تو اپنے اس آبائی کام میں پہلے ہی ماہر تھا۔جارج اس کے کام کی مہارت دیکھ کر بہت خوش ہوا اور اسے ایڈنبرا کے ایک شان دار علاقے میں ’’ہیئر ڈریسنگ سٹوڈیو‘‘ کھولنے کی تجویز دی اور ہر طرح کی مدد کا وعدہ بھی کیا۔
مارگریٹ نے اس علاقے میں ایک بلڈنگ کو کرائے پر لینے اور وہاں ایک بہت شان دار ہیئر ڈریسنگ سٹوڈیو بنانے میں ندیم کی پوری مدد کی جس کے لیے ندیم نے اپنی پوری جمع شدہ پونجی صرف کر دی اور ایک بینک سے بھی اسے کچھ قرض مل گیا۔
مارگریٹ اور مسٹر جارج نے تربیت یافتہ ہیئر ڈریسرز کی بھرتی میں بھی معاونت کی اور یوں چند ہی مہینے کے اندر ندیم کے ہیئر ڈریسنگ سٹوڈیو کا کام چل نکلا اور اسے مالی مشکلات سے بھی چھٹکارا مل گیا۔
ندیم نے جب اشرف کو بتایا کہ وہ اور مارگریٹ ایڈنبرا کے ایک بہت اچھے رہائشی علاقے میں گھر خریدنے والے ہیں، جس کے بعد وہ شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔ ندیم نے اشرف سے کہا کہ تم نے اچھا کیا تھا کہ مارگریٹ کو میرے اور میرے خاندان کے پیشے کے بارے میں بتا دیا تھا، شاید میں اسے خود یہ بات نہ بتاسکتا اور ساری زندگی ریستوران پر برتن دھوتا رہ جاتا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ برطانیہ میں پیشوں کی اتنی عزت ہے۔ یہاں کوئی پیشہ حقیر یا برا نہیں ہے۔ یہاں ہنر اور پیشوں کی بڑی قدر ہے۔
قارئین، یہ پاکستان سے سکاٹ لینڈ آنے والے ایک نوجوان کی زندگی کی حقیقی داستان ہے جس کی تفصیل ذرا سی تبدیلی کے ساتھ تحریر کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ دنیا بھر کے مہذب ملکوں اور خاص طور پر برطانیہ میں مختلف پیشوں سے وابستہ لوگوں اور اپنے کام میں مہارت رکھنے والوں کی یہاں کے معاشرے میں کتنی اہمیت اور ضرورت ہے۔
کسی بھی پیشے یا ہنر میں مہارت اور تربیت کے لیے یہاں خاص ادارے قائم ہیں۔ مثلاً اگر کسی نے ’’الیکٹریشن‘‘ یا ’’پلمبر‘‘ بننا ہو، تو برطانیہ کے طول و عرض میں ایسے سیکڑوں تربیتی ادارے موجود ہیں جہاں سے کوئی بھی شخص تربیت مکمل کر کے اس کام میں مہارت کا سرٹیفکیٹ لے سکتا ہے اور یہ ادارے کسی بھی ہنر کی تربیت دینے میں بخیلی سے کام نہیں لیتے اور نہ سیکھنے والے کا وقت ہی ضائع کرتے ہیں۔
اس ملک میں کام کرنے والے پلمبر ہوں یا کار پینٹر، شیف ہوں یا ڈریس ڈیزائنر، کارمیکینک ہوں یا سوشل ورکر، مالی ہو یا میک اَپ آرٹسٹ، سب کسی نہ کسی ادارے کے تربیت یافتہ ہنر مند ہوتے ہیں۔ ایسے ہنرمندوں کی نہ صرف بڑی قدر کی جاتی ہے بلکہ یہ لوگ اپنے کام کی مہارت کی وجہ سے ملازمت پیشہ لوگوں کے مقابلے میں زیادہ دولت کماتے ہیں۔
یونائیٹڈ کنگڈم میں سیکنڈری سکول کی تعلیم کے دوران ہی طلبہ اپنے رجحان کے مطابق اپنے لیے پیشوں اور شعبوں کا انتخاب کر لیتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کی مکمل حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
برطانیہ میں بہت سے نامور اور بڑے بڑے لوگ ایسے ہیں جن کی اولادوں نے اپنی پسند کے پیشوں کا انتخاب کیا۔ کسی دولت مند باپ کی بیٹی نے نرس بننا چاہا، یا کسی نامور شخص کے بیٹے کو ڈی جے بننا اچھا لگا، تو انہوں نے اپنی پسند کے پیشے اختیار کرلیے، یہاں والدین اپنی اولاد کو زبردستی ڈاکٹر یا انجینئر بنانے پراصرار نہیں کرسکتے۔
طالب علموں کی قابلیت، اہلیت اور رجحان کے مطابق ان کے لیے مختلف شعبوں اور پیشوں کے انتخاب میں رہنمائی کی جاتی ہے۔ ویسے تو دنیا بھر میں ایسے لوگوں کا تناسب بہت کم ہے جو اپنی مرضی اور پسند کے شعبوں سے وابستہ ہیں، مگر برطانیہ میں اپنی مرضی کے ہنر میں بہترین مہارت حاصل کر کے اپنی پسند کے شعبوں میں کام کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو بھی لوگ اپنی مرضی کے جس بھی پیشے کو اختیار کرتے ہیں ساری زندگی اس کام کو کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں۔
پاکستان میں میرے بہت سے دوست ایسے ہیں جو اپنی ذہانت اور والدین کے دباؤ پر ڈاکٹر یا انجینئر بن گئے، یا مقابلے کا امتحان پاس کرکے بڑے افسر ہوگئے لیکن اندر سے وہ اپنے لیے ان پیشوں کے انتخاب سے کسی بھی طرح خوش اور مطمئن نہیں۔ یہی لوگ اگر اپنی مرضی اورپسند کے شعبے اختیار کرتے، تو زیادہ اچھی اور مطمئن زندگی گزار رہے ہوتے۔ ہمارے وہ لوہار پیشہ سیاست دان جن کی زبان یہ مطالبہ کرتے خشک نہیں ہوتی کہ ’’ووٹ کو عزت دو!‘‘ اگر یہی سیاست دان مطالبہ کریں کہ ’’پیشوں کو عزت دو!‘‘ تو معاشرے میں ایک خوشگوار سوچ اور تبدیلی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے ۔
میرے جو بھی پیارے قارئین یہ تحریر پڑھ رہے ہیں، وہ ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ کیا وہ اپنے اس کام اور پیشے سے وابستہ ہیں جو وہ اپنی مرضی اور پسند سے اختیار کرنا چاہتے تھے؟
اور اگر نہیں تو کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ ’’خوش نصیب وہ ہوتا ہے جو اپنے نصیب پر خوش ہو۔‘‘
……………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے