136 total views, 1 views today

یورپ اور خاص طور پر برطانیہ میں آباد پاکستانی تارکینِ وطن کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو مالی طور پر خوشحال اور آسودہ ہونے کے بعد واپس پاکستان جاکر اپنے آبائی علاقوں سے انتخابات میں حصہ لینے اور کوئی انقلاب لانے کے خواب دیکھتی رہتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنے اور عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یونائٹڈ کنگڈم میں آباد سمجھ دار پاکستانیوں کی اکثریت نہ تو اسلامی جمہوریۂ پاکستان میں ووٹ کا حق حاصل کرنے کی حامی ہے، اور نہ وہ پاکستان کے عام انتخابات میں حصہ لینے کو کوئی دانش مندانہ کام ہی سمجھتی ہے۔ کیوں کہ موجودہ حالات میں پاکستان کے عام انتخابات میں جیتنا تو درکنار ہارنے کے لیے بھی کروڑوں روپے چاہئیں۔ جنرل الیکشن میں حصہ لینے کا استحقاق ملنے کے بعد اوورسیز پاکستانیوں کو کسی بڑی سیاسی جماعت کا ٹکٹ حاصل کرنے اور انتخابی مہم چلانے کے لیے کم از کم آٹھ کروڑ روپے کی ضرورت ہوگی، مگر پھر بھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہوگی کہ وہ قومی اسمبلی کے کسی محفوظ حلقے سے کامیاب ہوجائیں گے۔ یہ وسائل اور توانائی اگر وہ برطانیہ کی سیاست کا حصہ بن کر صرف کریں، تو یہ ان کے لیے زیادہ مفید ہوگا۔ بہت سے برٹش پاکستانی ماضی میں وطنِ عزیز جاکر قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے کا تجربہ کرچکے ہیں، لیکن ان کے حصے میں مایوسی کے سوا کچھ نہیں آیا۔
لندن سے ایک برٹش پاکستانی ڈاکٹر چند سال پہلے بہت سے خواب اور لمبے چوڑے منصوبے لے کر پنجاب اسمبلی کا انتخاب لڑنے گئے تھے۔ پہلی بار ناکامی ہوئی۔ دوسری بار پارٹی کا ٹکٹ خریدا اور صوبائی اسمبلی کے رکن بن گئے۔ خیال تھا کہ پارٹی انہیں پنجاب کا وزیرِ صحت بنا دے گی، لیکن وزیر بنانا تو درکنار پارٹی کی لیڈرشپ ان سے سیدھے منھ بات تک کرنا گوارا نہیں کرتی تھی۔ کیوں کہ یہ ڈاکٹر موصوف پارٹی اور اس کی قیادت کے لیے پیسے خرچ کرنے کے معاملے میں کنجوسی سے کام لیتے تھے۔ انہیں شاید اندازہ نہیں تھا کہ اب پاکستان کی سیاست محض پیسے کی نہیں بلکہ بہت زیادہ پیسے کا کھیل بن چکی ہے۔
کئی اوورسیز پاکستانی ایسے بھی ہیں جنہوں نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے علاوہ سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اپنی غیر ملکی شہریت بھی ترک کی اور پھر الیکشن میں ناکامی کے بعد انہیں طرح طرح کی مشکلات اور مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
برطانیہ میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی جو شاخیں قائم ہیں، اُن کی وجہ سے ہماری کمیونٹی پہلے ہی آپس کی کشمکش میں مبتلا رہتی ہے، اور پاکستان سے آنے والے سیاست دان اور لیڈر اِن پارٹی عہدیداروں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے، اور مقاصد پورا ہونے پر نئے عہدیداروں کی طرف متوجہ ہونے لگتے ہیں یعنی جن گنّوں کارس نکل جاتا ہے، اُن کو ایک طرف پھینک کراپنے مقاصد کے بیلنے میں ڈالنے کے لیے نئے رس دار گنّوں کی تالاش شروع ہوجاتی ہے۔
پاکستان کی ہر بڑی سیای جماعت اوورسیز پاکستانیوں کو بیرونِ ملک اپنی پارٹی کا عہدیدار بنا کر انہیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیتی ہے۔ ہر پاکستانی حکمران اپنے اپنے دورِ حکومت میں اوور سیز پاکستانیوں کو وطنِ عزیز میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیتا ہے، لیکن وہ خود اور اُن کے خاندان کے لوگ اپنا سرمایہ بیرون ملک لاتے ہیں۔ انہی تضادات کی وجہ سے بیرونِ ملک پاکستانیوں کا اپنے سیاست دانوں اور حکمرانوں پر سے اعتبار اُٹھ گیا ہے۔ پاکستان کے سیاست دان ہوں یا بیورو کریٹ، جج ہوں یا جرنیل، وہ جب برطانیہ اور یورپ کے دوروں پر یا چھٹیاں گزارنے یہاں آتے ہیں، تو ان ملکوں میں امن و امان، ٹریفک کے انتظامات، تعلیم، انصاف، پبلک ٹرانسپورٹ اور صحت کی سہولتوں کو دیکھنے اور مشاہدہ کرنے کے بعد واپس اپنے ملک میں جاکر کوئی بہتری لانے کی بجائے ریٹائرمنٹ کے بعد خو یا اپنی اولادکو کو ان ترقی یافتہ ملکوں میں ایڈجسٹ یا آباد کرنے کے لیے ہر طرح کے جتن کرتے ہیں ۔
برطانیہ اور پاکستان کی ریاست اور جمہوریت میں بنیادی فرق یہ ہے کہ یوناٹیڈ کنگڈم میں جمہوری سیاست ابھی تک پیسے کا کھیل نہیں بنی اور اس ملک کی سیاست میں کرپشن کوئی گنجائش نہیں۔ یہاں برطانوی پارلیمنٹ کا انتخاب لڑنے کے لیے امیدوار کو نہ تو کوئی جلسہ کرنا پڑتا ہے، اور نہ اُسے انتخابی مہم پر پیسے خرچ کرنے کی ضرورت ہی پڑتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ اس کی پارٹی کارنرمیٹنگ کا اہتمام کر لیتی ہے، یا کہیں امیدوار کو اپنی پارٹی کا منشور پہنچانے کے لیے ’’ڈور ٹو ڈور‘‘ جانے کی ضرورت پیش آئے، تو وہ بخوشی یہ کام کرتا ہے۔ باقی مہم پارٹی کے دیگر اراکین اور کارکن چلاتے ہیں۔ اسی لیے میری اُن تمام اوور سیزپاکستانیوں سے گذارش ہے کہ جو پاکستان جاکر انتخابات میں حصہ لینا اور کروڑوں روپے خرچ کرنا چاہتے ہیں، وہ برطانیہ کی سیاست میں دلچسپی لیں، پاکستان کی بجائے برطانیہ کی سیاسی جماعتوں کا حصہ بنیں، کیوں کہ اب اُن کا اور اُن کی اگلی جنریشن کا مستقبل اس ملک سے دابستہ ہے۔ معین قریشی اور شوکت عزیز جیسے اوور سیز پاکستانی جب وطنِ عزیز کے اعلا ترین عہدے پر فائز رہ کر کوئی انقلاب نہیں لاسکے، تو محض پاکستان کے انتخاب میں حصہ لینے سے کچھ حاصل وصول نہیں ہوگا۔ صرف آپ کے وسائل اور توانائی ضائع ہوگی۔ پاکستان کے ذرائع ابلاغ کے سرکردہ لوگ سیاست دان اور دانشور، اوور سیز پاکستانیوں کی دوہری شہریت کو دوسری ولدیت قرار دیتے رہے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان جاکر انتخابات میں حصہ لینا، کامیاب ہونا اور کسی تبدیلی کے خواب دیکھنا محض اپنے آپ کو فریب دینے کے مترادف ہے۔ پاکستان میں ہر شعبے کا ایک سے ایک ذہین اور ماہر شخص موجود ہے، اگر وہ پاکستان کے حالات کو تبدیل نہیں کرسکے یاتبدیل کرنا نہیں چاہتے، تو ہمیں اسلامی جمہوریۂ پاکستان سے زیادہ اُن ملکوں کی فکر کرنی چاہیے جہاں ہم اپنے خاندانوں کے ساتھ رہ رہے ہیں اور یہاں کی تمام سہولتوں سے استفادہ کررہے ہیں۔ برطانیہ میں سیاست اور جمہوریت کا راستہ بہت آسان اور سیدھا ہے۔ آج ہمارے جودرجنوں پاکستانی برطانیہ میں کونسلرز، میئر اور رکنِ برطانوی پارلیمنٹ ہیں یا لندن کے جو مئیر ہیں، وہ محض اپنی سیاسی اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر منتخب ہوئے ہیں۔ برطانیہ میں سیاسی تربیت اور پولی ٹیکل کمٹمنٹ ہی سیاست دانوں کے لیے آگے بڑھنے کا بنیادی معیار ہے۔ یہاں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ بلی کالے رنگ کی ہے یا سفید، یہ پرکھا جاتا ہے کہ وہ چو ہے پکڑ سکتی ہے یا نہیں؟
……………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے