361 total views, 1 views today

16 دسمبر پھر قریب ہے اور چند لوگ وہی پرانی توتے والی کہانی کہ ’’بھٹو نے ملک توڑ دیا‘‘ کا منترہ سُر میں گانا شروع ہو گئے ہیں۔
یہ تحریر لکھنے سے پہلے میں ایک بات واضح کر دوں کہ میرا آج ’’پاکستان پیپلز پارٹی‘‘ (پی پی پی) سے کوئی تعلق نہیں۔ حتی کہ میں آج اس کا بنیادی رکن بھی نہیں، بلکہ گذشتہ جولائی انتخابات میں، مَیں نے ’’پاکستان تحریک انصاف‘‘ (پی ٹی آئی) کی مہم چلائی۔ میری بیگم اور بیٹی نے رات دو بجے تک بطورِ پولنگ ایجنٹ ڈیوٹی دی۔ مَیں نے سالوں پہلے ذاتی دوستوں اور رشتہ داروں (کہ جن میں ایک نام قاضی سلطان محمود کا بھی شامل ہے، جس کی ہمیشہ مجھے تکلیف باقی رہے گی) کی ناراضی برداشت کی۔ لیکن حقیقت کا واضح نہ کرنا مَیں علمی بدیانتی سمجھتا ہوں۔ یہ صیح ہے کہ مَیں نے خود ’’جیے بھٹو‘‘ کے ماحول میں آنکھ کھولی اور جس دن بھٹو صاحب کو پھانسی ہوئی، میرے والد صاحب کی حالت قابلِ ترس تھی۔ پھر وہی حالت میری مرحومہ اماں جان کی بھی ہوئی جس دن بی بی کو شہید کیا گیا۔ لیکن مَیں نے جب شعور کو چھوا اور عملی سیاست شروع کی، تو پی پی پی کی لیڈرشپ بے نظیر شہید کے پاس تھی۔ سو یہ سمجھنا غلط ہے کہ مَیں بھٹو کے ساتھ اس طرح کا جذباتی رویہ رکھتا ہوں، جو میرے والدین کا تھا۔ لیکن مجھے بھٹو کی ذات اور شخصیت سے دلچسپی اُس وقت بڑھی کہ جب مَیں نے دیکھا کہ جہاں ایک طرف میرے والد صاحب جیسے جیالے تھے کہ جو بھٹو کو خدا کا نامزد مسیحا مانتے تھے، تو دوسری طرف میرے ایک استاد تھے جو بھٹو کو شیطانی طاقت کا پرتو مانتے تھے۔ مجھے سنہ 80ء میں بھٹو بارے جاننے کا تجسس اسی رویہ نے دیا اور پھر میں نے ذاتی دلچسپی سے اس شخصیت کو جاننے بارے کام شروع کیا۔ درحقیقت جن چند تاریخی شخصیت بارے میں نے تھوڑا بہت سمجھا جیسے مختار ثقفی سے لے کر مہاتما گاندھی تک، ان میں سے ذوالفقار علی بھٹو بھی شامل تھے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میرے دوست جو میرے ساتھ ’’پی ایس ایف‘‘ اور ’’پی وائی اُو‘‘ میں تھے، نے مجھے بھٹو ازم میں ’’پی ایچ ڈی‘‘ کا اعزازی ٹائٹل دے دیا۔ مَیں مکمل دعوا تو نہیں کرتا، لیکن مجھے فخر ہے کہ بھٹو صاحب کہ ساتھ کام کرنے والے راجہ انور نذر کیانی وغیرہ نے بارہا مجھ سے بھٹو بارے پوچھا۔ میرے پاس شائد آج بھی اُن بارے یا ان کی کتب بڑی تعداد میں موجود ہیں، جیسے گریٹ ٹریجدی آف آئی بی ایسینٹڈ، مطلب پیلو مودی کی زلفی میرا دوست سے لے کر کرنل رفیع کی بھٹو کے آخری تین سو تیرہ دن تک تقریباً ہر کتاب پتے کی ہے۔
ویسے بھٹو کی شخصیت کو سمجھنے واسطے اگر صرف معروف مغربی فلاسفر برٹرینڈرسل جو ماضی کا نوم چومسکی تھا، کی رائے ہی جان لی جائے، تو بہت کچھ مزید تحقیق نہ کرکے بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ اسی طرح مَیں نے بے شمار سیاسی کارکنان سے اس پر گفتگو کی۔ معراج محمد خان، پروفیسر غفور، شیخ رشید، حبیب جالب وغیرہ اور بہت سارے دیگر ’’وغیرہ‘‘ بھی اس میں شامل ہیں۔ مَیں نے ہر پہلو سے بھٹو کی شخصیت، کام، ٰطریقہ اور فطرت کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اس میں ایک اہم ترین واقعہ ’’المیۂ مشرقی پاکستان‘‘ ہے کہ جس کو مختصر بیان کرنا ممکن نہیں۔ مَیں اس تحریر میں اس المیہ کے ایک پہلو پر تحریر کروں کہ جو واقعاتی اور منطقی ہے اور اگر آپ غیر جانب داری سے اس پر غور کریں، تو آپ کو سمجھ آجائے گی کہ اس کی حقیقت جاننے کے واسطے کسی ’’راکٹ سائنس‘‘ کی ضرورت نہیں۔
یہاں اس بارے تحریر کرنے سے پہلے میں یہ بھی واضح کردوں کہ میں اپنے والدین کی طرح بھٹو صاحب کو کوئی ’’مہاتما‘‘ یا ’’ناخدا‘‘ نہیں مانتا۔ بھٹو صاحب کی بہت سی شخصی کمزوریوں اور غلطیوں سے آگاہ ہوں اور شاید جس طرح بڑے لوگ غلطیاں بڑی کرتے ہیں اور پھر اس کی قیمت بھی بڑی ہی چکاتے ہیں، سو بھٹو صاحب نے بھی چکائی۔
ویسے بھی بھٹو سے میرا کوئی خونی یا ذاتی تعلق تو نہیں تھا بلکہ میرا اول تعارف ہی بھٹو سے یہ تھا کہ میرا پولیس ملازم والد، بھٹو کا دیوانہ اور فوجی ملازم چچا، بھٹو کا شدید مخالف تھا۔ سو آئیں، اس المناک واقعہ کو میری نظر سے دیکھیں یا جو مَیں نے سمجھا اور اس کو جانا وہ میری نظر سے سمجھیں۔ خصوصاً تاریخ اور سیاسیات کے نوجوان طالب علم۔ مَیں پہلے یہ بیان کر چکا ہوں کہ اس المیہ کا ذمہ دار کسی ایک شخص یا حکومت کو قرار دینا بہت ہی سادگی ہے۔ ملک کوئی کانچ کا گلاس نہیں ہوتا کہ ایک شخص ہتھوڑا لے کر اسے توڑ دے، نہ ملک کسی ایک فیصلہ، کسی ایک حرکت، کسی ایک بیان ہی سے ٹوٹا کرتے ہیں۔ المیۂ مشرقی پاکستان تو انسانی تاریخ کا واحد عجیب واقعہ تھا جب ’’اکثریت‘‘، ’’اقلیت‘‘ سے علیحدہ ہوئی۔ اس موضوع پر اگر 100 کتب بھی لکھی جائیں، تب بھی اس کا احاطہ کرنا ممکن نہ ہوں۔
میری نظر میں تو اس کی سب سے بڑی وجہ اس کا غیر فطری ہونا تھا، یعنی ایک قوم کہ جس کا کلچر، زبان، ثقافت اور سماج آپ سے مختلف ہے، اس کو محض مذہب کے نام پر جوڑنا ممکن ہی نہیں۔ ان حالات میں کہ جب جغرافیائی طور پر ہزار میل کا فیصلہ ہو، دونوں کی زمینی سرحد ہی نہ ملتی ہو، اور پھر جوڑ کر بجائے آپ ان کو عزت دیتے، حقوق دیتے، آپ نے ان کو پیسنا شروع کر دیا اول ہی دن سے۔ ویسے بھی جو پاکستان 1947ء کو بنا، وہ تو مصورِ پاکستان حضرت علامہ اقبال کی تصویر میں موجود ہی نہ تھا۔ آپ ذرا علامہ اقبال کا وہ مشہورِ زمانہ خطبۂ اِلہ آباد پڑھیں، وہاں علامہ نے اس پاکستان کا تصور تو دیا ہی نہ تھا بلکہ وہاں علامہ نے دو متوازن مسلمان ریاستوں کی بات کی تھی۔
دوسرا، قائد اعظم کا پاکستان بھی تو قرار دادِ لاہور پر تھا جس کو بعد میں قرار دادِ پاکستان قرار دیا گیا۔ ذرا اس قراداد کو تو پڑھیں، جو شیرِ بنگال مولوی فضل الحق نے پیش کی تھی، لیکن آپ نے 14 اگست 1947ء کو بننے والے پاکستان کو بنا آئین، قراردادِ مقاصد کے زور پر چلانے کی کوشش کی۔ پھر تاریخی طور پر تو یہ بات ثابت شدہ ہے کہ مغربی پاکستان کے بہت سے سیاسی اور اسٹیبلشمنٹ کے کھلاڑی اول دن سے ہی بنگال کو بوجھ اور مصیبت سمجھتے تھے۔ اُردو کو قومی زبان قرار دینے سے لے کر جرنل نیازی کے 16 دسمبر کے کارنامے تک ایسے بے شمار واقعات ہوئے کہ جن پر قیامت تک رویا ہی جاسکتا ہے۔ آئین کا نہ بنانا، قائد اعظم اور لیاقت علی خان کی غیر فطری موت، ایوانِ اقتدار میں حکومت کی وھیل چیر کا کھیل، آئین کو بنانے میں جان بوجھ کر تاخیر، بنگلہ آبادی کو سروس سے دور کرنا، مولوی تمیز الدین کیس میں جسٹس منیر کا نظریۂ ضرورت کا اجرا، دارالحکومت کی تبدیلی مارشل لائی نفاذ، 64ء میں قائد کی بہن مادر ملت کی دھاندلی زدہ شکست، اگرتلہ سازش، عوامی لیگ کے چھے نِکات، اکثریتی جماعت کو اقتدار نہ دینا بلکہ بلیک میل کرنا، 70ء سے 71ء تک بنگالیوں کا قتلِ عام،ہر بنگالی کو غدار قرار دینا، البدر اور الشمس کو طاقت دے کر منھ زور درندے کا کردار دینا، غلط خارجہ پالیسی، دوست ملکوں کی دوری، غلط فوجی کارروائی، بین الاقوامی سازش اور بھارت کا باقاعدہ اس میں فریق بننا وغیرہ۔ ان میں سے ہر موضوع بہت جامع ہے اور ایک ایک کو اگر آپ پڑھیں، تو چودہ نہیں بلکہ چودہ سو طبق روشن ہو جائیں۔ ان میں سے ہر ایک کا کردار اس تیز دھار چھری کا تھا کہ جو پاکستان کی نرم گردن پر طاقت سے چل رہی تھی۔
جب بنگال لہو لہو تھا، تو مغربی پاکستان میں ریڈیو پاکستان ’’ستے خیراں‘‘ بیان کر رہا تھا۔ اس وقت بھی سچ بولنے والے وارث میر، حبیب جالبؔ، غلام جیلانی اور خان عبدالغفار خان (باچا خان) غدار کہلائے جا رہے تھے (غلام جیلانی، عاصمہ جہانگیر کے والد اور وارث میر معروف صحافی حامد میر کے والد ہیں)۔ اس طرح بے شمار سچے لوگ ’’غدار‘‘ کہلائے۔ آخر یہ غلط پالیسیاں دن بدن غلط تر ہوگئیں۔ ایوانِ اقتدار شراب اور جنرل رانی قماش کی رکھیلوں میں ڈوبا رہا۔ ادھر ڈھاکہ ڈوبتا گیا۔ ادھر جرنل رانی ایوانِ صدر میں داخل ہوتی گئی۔ اُدھر بنگال، پاکستان کے نقشہ سے باہر نکلتا گیا اور مغربی پاکستان کو ہوش تب آیا جب جنرل اروڑہ۔ جرنل نیازی کا ریوالور لے چکا۔ بے شرم عبید ﷲ نیازی پستول دے کر بھی یہ بک رہا تھا کہ ’’مَیں لڑا اچھا۔‘‘ قوم رو رہی تھی اور نیازی مسکرا رہا تھا۔
بہرحال، اب کیا کیا جائے! لیکن چوں کہ میرا موضوع اس سانحہ میں بھٹو کا کردار ہے، سو میں صرف اسی موضوع پر فوکس رکھوں گا۔ اب کے بعد میں بھٹو صاحب کو تاریخ کی عدالت میں کھڑا کروں گا۔ ان الزامات پر بحث کروں گا کہ جو ایک سچے قوم پرست راہنما پر لگانے کی مکروہ کوشش کی گئی۔
اب ذرا آئیں جائزہ لیں کہ اس المیہ میں بھٹو کا کردار کیا تھا؟ جیسا کہ پہلے حصہ میں بیان کیا جاچکا ہے کہ نہ تو اس سانحہ کی ذمہ داری کسی ایک حرکت پر لگائی جا سکتی ہے، نہ ایک حکومت پر۔ یہ تو ایک حماقتوں کی ایک سیریز تھی کہ جو اُردو کو سرکاری زبان قرار دینے سے لے کر ہتھیار ڈالنے تک پر مشتمل ہے۔ اس میں بھٹو کا تو ادنا سا کردار بھی نہیں ملتا۔ لیکن بہرحال اس حوالے سے ذوالفقار علی بھٹو پر یہ الزامات لگائے جاتے ہیں۔
٭ بھٹو نے ’’اُدھر تم اِدھر ہم‘‘ کا نعرہ لگایا۔
٭ بھٹو نے عوامی لیگ کا مینڈٹ تسلیم نہ کیا۔
٭ بھٹو نے کہا کہ جو ممبر ڈھاکہ جائے گا، اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔
٭ بھٹو نے پولینڈ کی قرارداد پھاڑ کر آخری اینٹ رکھی۔
٭ بھٹو نے بنگالیوں کو برا بھلا کہا اور اُس کی ایک ویڈیو وائرل کی گئی ہے اب یوٹیوب پر۔
٭ میرے دوست انتخاب متیلا نے ایک اور کمال الزام لگایا کہ یحییٰ اور ایوب کی حماقتوں کا ماسٹر مائنڈ بھٹو تھا۔
اب تک درجِ بالا الزامات ہی مجھے پڑھنے اور سننے کو ملے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر کوئی الزام ہے، تو اس حوالہ سے میرا کوئی بھی دوست میری مدد کرے۔ اب ان الزامات کا آپریشن تو مَیں اِن شاءﷲ آئندہ اقساط میں کروں گا، اور ثابت کروں گا کہ یہ تمام الزامات لغو، بے ہودہ اور بے وزن بلکہ جھوٹ ہیں۔ لیکن قطعِ نظر اس کے اگر بالفرض ان کو سچ بھی مان لیا جائے، تو یہ بات قابلِ غور ہے کہ اس وقت بھٹو کی سرکاری، قانونی اور آئینی حیثیت کیا تھی؟ کیا لایکشن میں شکست کھانے والے ایک عام سے سیاسی لیڈر کی یہ حرکات اتنے بڑے سانحہ کو جنم دے سکتی تھیں؟ کیا بھٹو اس وقت جب ملک میں مکمل حکومت مارشل انتظامیہ کی تھی، صدر، کابینہ، گورنر، کور کمانڈر، عدلیہ، فوج اور انتظامیہ ایک دوسرے نمبر والے لیڈر کے ان بیانات کے آگے بے بس تھی؟ رنگ پور سے چٹاگانگ تک بنگالیوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح کچل دینے والی انتظامیہ اتنی کمزور تھی کہ دوسرے نمبر کی جماعت کا لیڈر بس ڈائیلاگ مار کر فتح یاب ہوگیا؟ اگر ایسا ہوا، تو غلطی بھٹو کی نہیں بلکہ من حیث القوم ریاست کی تھی کہ اس کو ایک شخص استعمال کرگیا، اور ایوانِ صدر سے ایوانِ گورنر تک، کابینہ سے فوج تک اور عدلیہ سے انتظامیہ تک سب ریاست تکتی رہ گئی؟ کیا اس سے بڑا کوئی تاریخی لطیفہ ہوسکتا ہے! کیا یہ بات کرکے ہم خود اپنی کمزوری اور نااہلی کا اعتراف نہیں کر رہے؟ کیا یہ بات قابلِ غور و فکر نہیں کہ اسلام کا قلعہ زمیں بوس ہو رہا ہے ایک شخص کے بیانات سے، اور ریاست بے بس ہے! نوجوان دوست سوچیں کہ کیا یہ حقیقت ہوسکتی ہے یا صرف خود فریبی کی مثالِ باکمال ہے؟
اس سے پہلے کہ مَیں مذکورہ الزامات پر بات کروں، دو باتیں مزید قابلِ تحریر سمجھتا ہوں: ایک تو یہ کہ ایک دوست نے یہ کہا کہ چوں کہ بھٹو، اندرا گاندھی اور شیخ مجیب اس کے ذمہ دار تھے، سو اسی وجہ سے قدرت نے ان کو مع ان کی نرینا اولاد یعنی بیٹوں سمیت عبرت ناک موت کا شکار کیا۔ دوسری بات یہ کہ کچھ دوست میری اس سلسلہ وار تحریر پر معترض ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ ان کو دلچسپی نہیں اور کچھ تحریک انصاف کے ساتھی اس کو پی پی پی کے حق میں وکالت سمجھتے ہیں۔ جہاں تک بھٹو صاحب کی المناک موت کا تعلق ہے، اس کو تو میں الزامات کی فہرست میں شامل کرتا ہوں۔ البتہ جہاں تک تحریر پر اعتراض کی بات ہے، تو سب کو پڑھنے کی پابندی بالکل نہیں، جس کا دل نہیں کرتا نہ پڑھے۔ ایک منٹ میں ڈیلیٹ کر دے۔ دوسرا اس تحریر کا موجودہ پی پی پی سے قطعی طور پر تعلق نہیں۔ کیوں کہ آج ہر باشعور پاکستانی اس المیہ اور اس میں بھٹو کے کردار کو صرف ایک تاریخی حقیقت کے طور پر ہی دیکھتا ہے۔ آج بھٹو کسی پی پی پی کے جلسہ میں بلاول کا نانا بن کر نہیں بولتا، بلکہ تاریخ کے دریچوں میں واضح ایک کردار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ آج بلاول بھٹو کی سیاسی اہمیت پی پی پی کے لیڈر کی ہے، نہ کہ بھٹو کے نواسے کی۔ اسی طرح جس طرح آج ولید اقبال عمران خان کا سینیٹر ہے، علامہ اقبال کا پوتا نہیں۔ راہول گاندھی نہرو کا پڑنواسا نہیں بلکہ کانگریس کا لیڈر ہے۔ سو اس کو سیاسی طور لینا بالکل جہالت ہے۔ اسی طرح کسی بھی مقدس، مشہور یا اہم شخصیت کی رشتہ داری اس کو شہرت تو دے سکتی ہے، لیکن نتیجہ اس کے اپنے کام ہی دیں گے، بلکہ کچھ معمولات میں یہ رشتہ داری ’’’کونٹر پروڈکٹیو‘‘ ہوجاتی ہے۔ یعنی لوگ اعتراض زیادہ کرتے ہیں کہ فلاں کا رشتہ دار ہے، تو بہتر کام کرے۔ بہرحال میں دوستوں سے پھر گزارش کروں گا کہ اس کو ایک تاریخی واقعہ کے طور پر لیں، کسی سیاسی ایجنڈا کی نظر سے نہیں۔ جن کو اس میں دلچسپی نہیں، یا خواہ مخواہ وہ خود ہی دل پر مونگ دل رہے ہیں، وہ اس کو بنا پڑھے ڈیلیٹ کر دیں۔ کسی غصہ یا مشکل کی ضرورت نہیں۔
بہرحال میری نظر میں آج اس واقعہ اور شخصیات کا تعلق کسی سیاسی گروہ سے بالکل نہیں۔ آج اس کی اہمیت صرف تاریخی ہے ۔ اور تاریخ کو سچائی کے ساتھ ہی لینا ہوگا۔ اب یہ بات تو اخلاقی باختہ پن اور تاریخی ظلم ہے کہ ایک شخص کہ جس کو دنیا سے گئے 40 سال ہوچکے۔ اگر وہ بے گناہ ہے، تو محض اس وجہ سے گناہ گار بنایا جائے کہ وہ ذرداری کا سسر ہے، یا اگر وہ مجرم ہے، تو اس وجہ سے مظلوم بنایا جائے کہ وہ بلاول کا نانا ہے۔ بہرحال آپ سے التماس ہے کہ اگر دل نہیں مانتا، تو اس کالم کو بالکل مت پڑھیں۔ اور اگر پڑھنا ہے، تو تنقید، لاجک اور حقائق کی بنیاد پر کریں، نہ کہ ویسے ہی ذاتی نفرت پر، شکریہ!
مَیں نے اس حصہ میں بھٹو صاحب پر لگائے گئے الزامات کی سرجری کرنا تھی کہ رات ایک دوست کا میسج ملا جس نے کل (کالم تحریر کرتے وقت) شاید دنیا نیوز پر شیخ مجیب الرحمان کی گرفتاری کے دوران ان کے سیکورٹی آفیسر جمیل غوری کا انٹرویو دیکھ لیا، اور وہ اس بات پر جذباتی تھا کہ جب یحییٰ خان شیخ مجیب کو غداری میں قتل کرنا چاہتا تھا، تو بھٹو نے اس کو قتل کیوں نہ کیا؟ سو اس کا مطلب یہ کہ بھٹو سازش میں ملوث تھا۔ سو مَیں اپنے قارئین کی آسانی واسطے ان الزامات کی فہرست دوبارہ لکھنا چاہتا ہوں:
٭ بھٹو نے ’’اُدھر تم اِدھر ہم‘‘ کا نعرہ لگایا۔
٭ بھٹو نے عوامی لیگ کا مینڈٹ تسلیم نہیں کیا
٭ اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور کہا جو میرا ممبر ڈھاکہ جائے گا، اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔
٭ بھٹو نے پولینڈ کی قراد داد پھاڑ کر آخری امید ختم کردی۔
٭ بنگالیوں کو گالیاں دیں، نفرت بڑھائی اور اس کی ایک ویڈیو وائرل کی گئی۔
٭ ایوب اور یحییٰ کی غلط پالیسیوں کا بھٹو ماسٹر مائنڈ تھا۔
٭ بھٹو نے موقع ملنے کے باجود بھی شیخ مجیب الرحمان کو قتل نہ کیا، مطلب سزا نہ دی۔
٭ بھٹو نے بنگلہ دیش منظور کرنے کی تحریک چلائی۔
مَیں یہ بات اس تحریر کے اولین سطور میں رقم کرچکا ہوں کہ اگر بالفرض یہ تمام الزامات کو اپنی مکمل بدنیتی کے ساتھ سو فیصد اتفاق بھی کرلیا جائے، تو تب بھی بھٹو کا جرم کم اور ریاست کی کمزوری زیادہ نظر آتی ہے۔ بہرحال آئیں، درجِ بالا الزامات کا ایک ایک کرکے جائزہ لیں۔ اگر آپ ان کو تعصب سے ہٹ کر دیکھیں گے، تو معلوم ہوگا کہ کس طرح جو لوگ 58ء سے 71ء تک مسلسل حکومت پر قابض رہے، انہوں نے کس ہوشیاری سے خود کو بچا کر الزام ان پر دھر دیا جو بیچارے اس میں حصہ دار تو کجا، بلکہ اس کو بچانے چاہتے تھے۔
سو آئیں، ان الزامات کی سچائی کو تاریخ منطق اور دانش کی کسوٹی پر پرکھیں، شکریہ!
قارئین، سو آئیں جائزہ لیں لگائے جانے والے الزامات کا۔
الزام نمبر ایک:۔ ’’اُدھر تم، اِدھر ہم!‘‘ الزام لگایا جاتا ہے کہ بھٹو نے اُدھر تم، اِدھر ہم کا نعرہ لگایا، جو ’’بنگلہ دیش‘‘ کے وجود کا سبب بنا۔ اول تو اس بات پر غور کیا جائے کہ جب ’’جیے سندھ‘‘ اور ’’آزاد بلوچستان‘‘ کی باقاعدہ تحاریک چلیں، تو ملک نہیں ٹوٹا، تو کیا صرف ایک ’’نعرہ‘‘ ملک توڑ سکتا ہے؟
دوسری بات، مَیں پوری ذمہ داری سے کروڑوں کی شرط لگا سکتا ہوں کہ یہ بات ذوالفقار علی بھٹو نے کلی یا جزوی کہی تھی، حتمی طور پر بالکل نہیں کہی تھی۔ مَیں ہزار فی صد چیلنج کرتا ہوں کہ یہ الزام لغو اور جھوٹ ہے۔ ایسی کوئی بات بھٹو صاحب نے بالکل نہیں کی۔ تمام تاریخ کے اساتذہ، سیاسیات کے طلبہ، معاشرت اور عُمرانیات کے ماہرین کو چیلنج کی دعوت دیتا ہوں کہ وہ یہ الفاظ ثابت کریں کہ بھٹو نے یہ کب اور کہاں استعمال کیے؟
اب سوال یہ ہے کہ پھر یہ بات مشہور کیوں ہوئی؟دراصل بات اتنی سی تھی کہ عوامی لیگ کسی صورت میں بھی چھے نِکات پر تصفیہ کی قائل نہ تھی۔ ایک انچ ہٹنے کو تیار نہ تھی اور وہ نئی حکومت کی تشکیل انہی نِکات پر کرنے پر بضد تھی۔ شیخ مجیب نے پوری انتخابی مہم مغربی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ بلکہ عوام کو غاصب کہہ کر چلائی تھی۔ اب وہ اس بات پر مصر تھے کہ ملک پر قرضوں کا بوجھ 80 فیصد مغربی پاکستان کیوں برداشت کرے؟ چند دن قبل تاج الدین نے یہ ڈھاکہ میں پریس کے سامنے کہہ بھی دیا تھا۔ سو اس تناظر میں بھٹو صاحب نے کراچی میں ایک جلسۂ عام میں بات یوں کی تھی کہ ’’شیخ مجیب، تم مشرقی پاکستان سے جیتے ہو، لیکن مغربی پاکستان کا نمائندہ میں ہوں۔ اور مغربی پاکستان کے عوام کے مفاد کا تحفظ کرنا میری ذمہ داری ہے۔ مَیں مغربی پاکستان کے عوام پر بوجھ نہیں ڈالنے دوں گا۔‘‘ بہرحال اس تقریر کا لب لباب یہی تھا کہ جس کو مرحوم عباس اطہر نے اگلے دن اخبار کی سرخی بنایا کہ ’’اُدھر تم، اِدھر ہم‘‘ (اور خود عباس اطہر مرحوم مرتے دم تک اس کی توجیح دیتے رہے کہ اس سرخی کا وہ مفہوم نہ تھا جو لیا گیا) یہی سرخی سالوں بعد بطورِ سیاسی ہتھیار جماعتِ اسلامی کے قبضے میں آئی۔ یہ بات اگر سچائی پر مبنی ہوتی، تو یاد رکھیں ملک میں دو آئین بنے، 5 سال اسمبلی چلی، ریکارڈ چیک کرلیں کہ کبھی کسی نے یہ بات بولی ہو۔ اس کا ذکر 1977ء تک کہیں نہ تھا، پھر راتوں رات مذکورہ سرخی برآمد ہو گئی اور مارشل لا دور میں اس کو بہت ذیادہ استعمال کیا گیا۔
یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ جس روزعباس اطہر نے ’’اُدھر تم، اِدھر ہم‘‘ کی سرخی لگائی، اگلے روز اُسی اخبار میں عباس اطہر کی یہ سرخی نہ دیکھی گئی کہ ’’نہ ہم، نہ تم اور ایک پاکستان!‘‘ شرم آنی چاہیے ان نام نہاد جھوٹوں کو کہ جنہوں نے سیاسی مفاد واسطے اس سو فی صد جھوٹ کو پروان چڑھایا، لیکن بہرحال یہ بات قابلِ اطمینان ہے کہ پاکستان کے عوام نے اس جھوٹ کو قبول نہ کیا اور جب بھی موقع ملا، انہوں نے اس بکواس کو ردی کی نذر کیا۔ سو یہ ہے حقیقت اس لغو الزام کی۔
اب سوال ہے نام نہاد محب الوطن اشرافیہ سے کہ کیا بھٹو عوامی لیگ کی یہ بات مان لیتا، چھے نِکات مان لیتا، جو دو نہیں پانچ پاکستان بنا دیتے؟ اب فیصلہ خود کریں!
الزام نمبر دو:۔ ’’بھٹو نے عوامی لیگ کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا۔‘‘ گو کہ یہ الزام بھی قطعی غلط ہے، لیکن قطعِ نظر اس کے میں ایک سوال عقل مندوں کے سامنے رکھتا ہوں کہ الیکشن میں چند جماعتیں میدان میں ہوتی ہیں، اور بعد ہارنے والی جماعت اگر جیتنے والی کی فتح کو ماننے سے انکار کر دے، تو کیا اس سے ملک ٹوٹ جاتا ہے؟ مَیں ثابت کرسکتا ہوں کہ 1977ء سے لے کر 2018ء تک پاکستان میں ایک بھی انتخابی نتیجہ کو ہارنے والے نے تسلیم نہیں کیا، بلکہ ’’پی پی پی‘‘ نے تو 88ء میں جیت کر بھی کہا کہ 36 سیٹیں ان کی چھین لی گئی ہیں۔ 2002ء کے بعد دونوں بڑی جماعتیں ڈسک بجاتی رہیں۔ 2013ء کے بعد لانگ مارچ دھرنا، استعفا سب کچھ ہوا۔ ’’نہیں مانتے‘‘، ’’تسلیم نہیں کرتے‘‘ کا شور اٹھا، تو کیا ملک ٹوٹ گیا یا اس طرح ملک ٹوٹ جایا کرتے ہیں؟ ملک تب ٹوٹتے ہیں کہ ماضی کی طویل آگ نے لوہا کو گرم کیا ہو، اور آخری ضرب اگر وہ طاقتیں لگائیں کہ جو اقتدار منتقل کرنے کا اختیار رکھتی ہیں، تو تب مسئلہ ہوتا ہے۔ بھٹو کی اس وقت حیثیت کیا تھی؟ ایک دوسری نمبر پر آنے والے جماعت کے لیڈر کی، جس کی پانچ میں سے تین صوبوں میں کوئی حیثیت ہی نہ تھی۔ ان کے نہ ماننے سے کیا فرق پڑتا تھا! بہرحال یہ الزام سچ ہو کر بھی بے ضرر ہے۔ دوسری طرف تاریخی حقائق اس کو جھوٹ ثابت کرتے ہیں۔ مثلاً مینڈٹ کو نہ ماننے کی مثال کیا ہو سکتی ہے: دندھلی کا الزام، حکومتی تعصب کا الزام،حکومت کو نہ بننے دینے کا الزام، عوامی احتجاج، مظاہرے، دھرنے اور جلوس ، جیتنے والوں سے استعفا کا مطالبہ، سپریم کورٹ یا عدلیہ میں پٹیشن، خود احتجاجاً مستعفی ہونا، لاک ڈاؤن کی کوشش کرنا وغیرہ۔
اب میرا تمام مؤرخین، سیاسی کمنٹیٹروں اور عُمرانیات کے ماہرین کو چیلنج ہے کہ اُس وقت کے اخبارات، ٹی وی، ریڈیو اور بین الاقوامی میڈیا پر کوئی ایک ہلکی سی خبر، کوئی ایک رپورٹ دکھا دیں جہاں بھٹو نے درجِ بالا اقدامات میں سے کوئی ایک بھی کیا ہو، بلکہ کسی ایک کا ارادہ بھی کیا ہو، یا کسی ایک کا اظہار بھی کیا ہو! بھٹو صاحب تو آئینی خلا پر بحث واسطے کئی بار شیخ مجیب سے ملے۔ کتنی بار ان کی جماعت کا وفد عوامی لیگ سے ملا، تو بھٹو نے پھر کیسے مینڈیٹ نہ مانا؟یہ جھوٹ تھا اور ہے۔ اس میں تاریخی حقیقت ہے اور نہ کوئی منطقی اور جواز۔ پھر یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ عموماً جماعتیں وہاں مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کرتیں، جہاں ان کی سیاسی طاقت ہو۔ عوامی لیگ تو مشرقی پاکستان سے جیتی تھی، جہاں پر 90 فیصد حلقوں میں ’’پی پی پی‘‘ کے امیدوار تھے ہی نہیں۔ جماعتِ اسلامی تو پھر بھی یہ کہہ سکتی تھی لیکن بھٹو کے پاس جواز کیا تھا؟
بہرحال حقیقت یہ ہے کہ بھٹو نے نہ صرف عوامی لیگ کی فتح کو تسلیم کیا، بلکہ اسی وجہ سے بطورِ دوسری جماعت کے سربراہ کے مجیب الرحمان سے نئے آئینی ڈھانچے پر مذاکرات بھی کیے۔ اس لیے یہ الزام لگانے والے یقینا جھوٹے ہیں، اور اس الزام پر یقین کرنے والے بہت معصوم اور سادہ ہیں۔ یہ بہت سادہ بات ہے، لیکن اس کو سمجھنے واسطے انسان کو تعصب اور نفرت کی عینک اتارنا ہوگی۔
٭ الزام نمبر تین:۔’’بھٹو نے کہا کہ جو میرا ممبر ڈھاکہ جائے گا، اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔‘‘ یہ بات صحیح بھی ہے اور سو فی صد درست بھی۔ مَیں اس کی آج بھی حمایت کرتا ہوں۔سب سے پہلے میں اس حمایت کی وجہ بیان کروں۔ یہ بات جاننا ضروری ہے کہ اس کا مطلب تو سادہ لفظوں میں ’’بائیکاٹ‘‘ ہے، تو اب کوئی مجھے یہ بات سمجھائے کہ کیا اگر کوئی سیاسی جماعت اجلاس کا بائیکاٹ کرتی ہے، تو کیا اس سے ملک ٹوٹ جاتے ہیں؟ ماضیِ قریب کی بات ہے کہ 2013ء کے بعد تحریکِ انصاف نے کتنا طویل بائیکاٹ کیا، تو کیا ملک ٹوٹ گیا؟ 77ء کے الیکشن کے بعد ’’پی این اے‘‘نے نہ صرف صوبائی الیکشن کا بائیکاٹ کیا، بلکہ قومی اسمبلی میں آئے ہی نہیں۔ الٹا الیکشن میں دھاندلی پر تحریک شروع کردی، جو آہستہ آہستہ وزیرِ اعظم کے استعفا تک پہنچ گئی۔ پھر مکمل نئے الیکشن کے مطالبہ پر، پھر اول احتساب بعد انتخاب، پھر نظام مصطفی تک بات پہنچ گئی۔ اس آنکھ مچولی کے نتیجے میں مارشل لگا۔ جمہوریت ڈی ریل ہوئی۔ بھٹو کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ کارکنان کو جیل، کوڑوں اور پھانسیوں کا شکار کیا گیا، لیکن ملک تو نہ ٹوٹا اور نہ کسی جماعت کے بائیکاٹ سے ملک ٹوٹا ہی کرتے ہیں۔ آپ اسمبلی کا اجلاس بلا لیتے اور حکومت عوامی لیگ کے حوالے کرتے۔ ’’پی پی پی‘‘ نہ آتی نہ سہی، ان کا جمہوری حق تھا۔ سو الزام ان پر کیوں؟ لیکن قطعِ نظر اس کے مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ تب اگر ’’پی پی پی‘‘ یہ نہ کرتی، تو آج دنیا کے نقشہ پر دو ملک نہ ہوتے، اور قائد اعظم کا پاکستان بکھر چکا ہوتا، بلکہ آج بنگلہ دیش کے ساتھ گریٹر بلوچستان، آزاد پختونستان، سندھو دیش اور پنجابستان نام کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں بھارت کی غلامی میں موجود ہوتیں اور اس کی وجہ ہے۔ تب تک عوامی لیگ مکمل طور پر مکتی باہنی کے حصار میں تھی، جو براہِ راست تاج الدین سے ہدایت لیتی تھی۔ اسی وجہ سے شیخ مجیب الرحمان نے گرفتاری دی تھی کہ فوجی جنتا کوئی سیاسی حل نکالے۔ کیوں کہ شیخ مجیب کو تاج الدین اور کمال احمد کے ’’را‘‘ سے رابطوں کا علم تھا اور مکتی باہنی کے تو اکثر جوان ہند کے تربیت یافتہ بھی تھے۔ یہ بات ایجنسیوں کو پتا چل چکی تھی کہ تاج الدین نے بنگلہ دیش کا جھنڈا اور ترانہ تک تیار کیا ہوا ہے۔ وہ اسمبلی اجلاس میں قرارداد تیار کیے بیٹھا تھا کہ اول اجلاس میں بنگال کی علاحدگی کی قرار داد پیش کرتا، اکثریت تو ان کی تھی اور باقاعدہ قانونی طور پر یہ قرارداد منظور بھی ہو جاتی۔
اب بات یہاں تک نہ تھی بلکہ یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ ’’پی پی پی‘‘ کی مکمل اکثریت صرف پنجاب سے تھی، اور پھر سادہ اکثریت سندھ سے۔ اس وقت کے سرحد اور بلوچستان سے تو تب کی ’’نیپ‘‘ جیتی تھی۔ اب جب یہ قراداد منظور ہوجاتی، تو نیپ کو کوئی رکن کہہ دیتا کہ ہم بھی وفاق پاکستان سے علیحدہ ہونا چاہتے ہیں، تو آپ کا کیا خیال ہے کہ تب عوامی لیگ کہتی کہ ’’نہیں نہیں، آپ مل جل کر رہیں، بس ہم علیحدہ ہوتے ہیں!‘‘ بلکہ وہ توکہتے بسمﷲ، تو پھر نتیجہ کیا ہوتا؟ سو اس وجہ سے بھٹو کا یہ اقدام درست تھا۔ بھٹو کا یہ مطالبہ تھا کہ اسمبلی کے اجلاس سے پہلے تمام جماعتوں کو ایک آئینی فریم ورک پر متفق کیا جائے۔
اس دوران میں بھٹو کی یہ مشہور زمانہ سٹیٹمنٹ آئی تھی کہ ہم ساڑھے پانچ نِکات بعد مذاکرات مان سکتے ہیں، لیکن عوامی لیگ کی دو کرنسیوں والی بات ممکن نہیں۔ اب میں اگر کوئی ریفرنس دوں، تو آپ اس کو مسترد کرسکتے ہیں، لیکن منطقی طور پر ایک غیر متنازعہ ثبوت حاضر ہے۔ عوامی لیگ کی اس اجلاس پر درجِ ذیل شرائط تھیں:
٭ یہ اجلاس اسلام آباد نہیں بلکہ ڈھاکہ میں ہوگا۔
٭ اجلاس کے ہال کی مکمل سیکورٹی مکتی باہنی کے نوجوان کنٹرول کریں گے۔
٭ ڈھاکہ شہر کی مکمل سیکورٹی لوکل پولیس کی ہوگی کہ جن کی اکثریت بلکہ 98 فیصد بنگالی تھی اور اکثریت عوامی لیگ کی حمایتی تھی۔
٭ پاکستان آرمی کو ڈھاکہ شہر سے باہر نکال دیا جائے گا۔
٭ اس کی صدارت عوامی لیگ کا کوئی ممبر کرے گا۔
اب یہ بات قابل غور ہے کہ عوامی لیگ یہ بندوبست کس واسطے کرنا چاہتی تھی؟ جب پاکستان کی قومی اسمبلی کا اولین اجلاس ہے، تو اسلام آباد جو سرکاری دارالحکومت ہے، وہاں کیوں نہیں؟ پھر اس کی کارروائی اور حفاظت آئینی طور پر مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ جس کا ذمہ دار صدر پاکستان ہے، تو مکتی باہنی کیوں کرتی؟ یہ واضح اشارہ تھا کہ عوامی لیگ کا کیا ایجنڈا تھا۔ پھر بھٹو نے کیا کیا؟ اس نے بس ایک بات کی کہ ہم اس میں حصہ دار نہیں بن سکتے۔ آپ اجلاس سے پہلے نئے آئین کے بنیادی خدوخال طے کریں۔ جیسے ماضیِ قریب میں نواز شریف اور محترمہ بینظیر بھٹو کے درمیان ’’چارٹر آف ڈیمو کریسی‘‘ ہوا۔ پھر اس معاہدہ کی روشنی میں اجلاس طلب کر کے نئے آئین کا مسودہ بنایا جائے، تو کیا یہ جرم تھا؟ بجائے آپ اس پر بھٹو کو خراجِ تحسین پیش کریں، آپ نے اس آڑ میں اس کو مجرم اور مطعون بنا دیا۔ وجہ……؟ مَیں بحیثیتِ پاکستانی اس اقدام پر بھٹو کا مشکور ہوں کہ اس نے کم سے کم قائد اعظم کا نصف پاکستان بچا لیا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ بھٹو نے طاقت لے کر فوراً ایک عبوری آئین بنایا، اور پھر مکمل آئین جو ہر لحاظ سے متفقہ تھا۔ سو یہ بھٹو کا احسان مانو پاکستانیو!
اب سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر یہ بات اتنی سادہ تھی تو پی پی پی کو تو دفع کرو، دوسری چھوٹی جماعتیں جن میں نیپ جو بلوچستان اور سرحد کی اکثریت رکھتی تھی، جماعتِ اسلامی، جمیعت علمائے اسلام اور جے یو پی نے کیوں نہ یہ اعلان کیا؟ پگاڑا اور قیوم کی مسلم لیگ نے یہ کیوں نہ کہا کہ بھٹو نہ آئے، ہم آئیں گے اور شیخ مجیب سے مل کر نیا آئین تشکیل دیں گے؟ اگر یہ جرم ہے، تو پھر مجرم یہ بھی ہیں، خاص کر البدر اور الشمس کی مؤجد جماعت اسلامی۔ پھر ان کو بھی برابر کا ذمہ دار قرار دو، ان کو بھی غدار قرار دو۔
٭ الزام نمبر چار:۔’’بھٹو نے پولینڈ کی قرار داد پھاڑ کر آخری اینٹ رکھی۔‘‘ یہ الزام بھی سراسر کم علمی پر مبنی ہے۔ اول تو یہ بات سمجھ لی جائے کہ جب تمام سیاسی راستے یحییٰ خان نے بند کرکے شیخ مجیب الرحمان کو گرفتار کرلیا اور عوامی لیگ کو دیوار سے لگا دیا اور ہند باقاعدہ فوج کے ساتھ داخل ہوگیا، وہاں تحریکِ پاکستان کے کارکن اور محترمہ فاطمہ جناح کے چیف پولنگ ایجنٹ شیخ مجیب الرحمان کی گرفتاری عوامی لیگ کو عملاً مکتی باہنی کے ہاتھ دے گئی۔ پورا بنگال باغی بنا دیا گیا۔ انڈین آرمی عملاً قابض ہوگئی۔ جرنل نیازی شراب و شباب میں محو تھا، اور یحییٰ خان جرنل رانی کی بانہوں اور نور جہان کی نگاہوں میں۔ کھیل ہاتھ سے نکلا جا رہا تھا۔ تب بھٹو کو ذاتی اپیل کرکے باقاعدہ ڈپٹی وزیراعظم بنا کر اقوامِ متحدہ بھیجا گیا۔ اگر بھٹو کی نیت خراب ہوتی، تو کیوں جاتا؟ لاڑکانہ شکار کھیلتا، اور پھر ٹوٹے ہوئے پاکستان کو سنبھال لیتا، لیکن بھٹو گیا اور وہاں پہنچ کر اس کو اندازہ ہوا کہ بھارت کی سفارت کاری کامیاب ہوچکی ہے۔ اب دو ہی حل تھے، یا میدان میں بھارت کو مار بھگا دیا جائے، کیوں کہ یحییٰ خان بارہویں امریکی بیڑے کا منتظر تھا۔ یا پھر یہ تجویز کیا جائے کہ بھارت نکل جائے، ہم عوامی لیگ کے مطالبہ پر بنگال کو آزاد کرتے ہیں۔ سو اسی دوران میں پولینڈ کی قرار داد آئی۔ کاش، آج کوئی نوجوان اس کو پڑھے۔
اول پڑھنے سے پہلے یہ سمجھ لیا جائے کہ تب دنیا ’’یونی پولر‘‘ نہ تھی بلکہ روس اور امریکہ کی طاقتوں میں تقسیم تھی۔ پاکستان امریکن بلاک میں اور بھارت روسی بلاک میں تھا۔ پولینڈ تب کمیونسٹ ملک تھا، جو روس کی اجازت کے بغیر سانس بھی نہیں لیتا تھا، جب کہ روس نہ صرف بھارت کا اتحادی تھا، بلکہ پاکستان کا دشمن نمبر ون بھی تھا۔صرف کچھ عرصہ قبل بڈھ بیر سے اُڑنے والے طیارے کی یاد تازہ تھی۔ سو اس صورت میں پولینڈ کی قرارداد کیسے غیر جانب دار ہو سکتی تھی؟ مَیں کتنی دفعہ دوستوں کو کہتا ہوں، وہ قرارداد تو پڑھ لیں، جہاں مطالبہ تھا کہ پاکستان اپنی فوج کو بنگال سے نکال لے۔ اس قرارداد کو کوئی عام پاکستانی بھی قبول نہیں کرسکتا تھا۔ وہ ایک لمحہ میں قابلِ مسترد تھی، لیکن اس کے باجود بھی بھٹو جیسے ذہین دماغ نے دو دن بیماری کا بہانہ کیا جس کو حضرت طفیل محمدؒ وقت کا ضیاع کہتے تھے۔ اس دوران میں بھٹو نے اسلام آباد سے معلومات لی۔ ویسے بھی اس کو مسترد بِنا اسلام آباد کی منظوری کے کیسے کیا جا سکتا تھا؟ لیکن دکھ یہ ہے کہ اسلام آباد بلیک بیوٹی اور ڈھاکہ عیش کوشی میں غرق تھا۔ اسی وقت جب انڈین ترجمان نے کہا کہ ڈھاکہ عملاً فال کرچکا ہے، تو ٹائیگر نیازی گورے صحافیوں کے جھرمٹ میں آیا اور ظاہر شاہ کی بھڑک مار کر گم ہوگیا۔ ریڈیو پاکستان بھارت کی تباہی کی نوید سنا رہا تھا اور مغربی پاکستان میں ہر ٹانگے سے لے کر فورڈ کار پر تحریر کریش انڈیا جگمگا رہا تھا، یعنی اقوامِ متحدہ میں موجود وفد کو بتایا جا رہا تھا کہ مسئلہ بس عوامی لیگ کا ہے، وگرنہ ہم نے چٹاگانگ کو بھارتیوں کا قبر ستان بنا دیا ہے۔ سو اس صورت میں بھٹو نے اقوامِ متحدہ میں ایک جذباتی تقریر کی۔ میرا خیال ہے کہ وہ تقریر پاکستان کی تاریخ کا ایک کلاسیک ورثہ ہے۔ ملاحظہ ہو: ’’بجائے اس کے کہ عالمی برادری ہند کی جارحیت روکے، ہند کو واپس جانے کو بولے، ہم کو کہا جا رہا ہے کہ ہماری فوج اپنے وطن سے نکل جائے۔ کیوں……! اگر عالمی ضمیر مردہ ہے، تو پھر میں یہاں وقت ضائع کیوں کروں! مادرِ وطن مجھے پکار رہی ہے۔ مَیں واپس جاؤں گا اور لڑوں گا۔ آخری وقت تک لڑوں گا۔‘‘ اور پھر انہوں چند اوراق پھاڑ کر پھینک دیے، لیکن اس کو یہ پتا نہ تھا کہ اُدھر جب اقوامِ متحدہ کا عملہ وہ ٹکڑے شدہ قرارداد کے کاغذ کچرے کے ڈرم میں ڈال رہا تھا، اِدھر ٹائیگر نیازی اپنا ریوالر جرنل اروڑہ کے ہاتھ میں پکڑا رہا تھا۔ سو یہ تھی ساری کہانی اس قرار داد کی۔
مَیں اس عمل پر شہید بھٹو کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ پھر بات لمبی ہو جائے گی کہ کس طرح اٹلی سے بلا کر بادہ نوش جرنل رانی کے کمانڈر نے اقتدار منتقل کیا؟
٭ الزام نمبر پانچ:۔ ’’بھٹو بنگالیوں سے نفرت پروان چڑھاتا رہا، گالیاں دیں ان کو۔‘‘
٭ الزام نمبر سات:۔ ’’بھٹو نے بنگلہ منظور کی تحریک شروع کی۔‘‘
٭ الزام نمبر آٹھ:۔ ’’بھٹو نے مجیب کو سزا نہ دی۔‘‘ یہ الزامات بھی صد فی صد غلط ہیں۔ ان کے ثبوت میں ایک ویڈیو اکثر نظر آتی ہے۔ اب میرے معصوم دوست نہ تو اس ویڈیو کو پورا دیکھتے ہیں اور نہ یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ کب کی ہے؟ مَیں ان کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ عین انارکی کے وقت بھٹو نے بارہا بھارت اور غدار طاقتوں کو مخاطب کرکے کہا کہ ہم سنہرے بنگال کی طرف کسی کو دیکھنے نہیں دیں گے۔ جب عوامی لیگ کے اکثر ارکان کو نااہل قرار دیا گیا، تو ’’پی پی پی‘‘ نے ضمنی الیکشن میں وہاں سے امیدوار دیے، بلکہ بھٹو نے اقتدار میں آکر جو اپنا پہلا وزیراعظم بنایا، وہ بنگالی تھا۔ سو کیسی نفرت! دراصل ان معصوموں کو یہ بھی پتا نہیں کہ یہ ویڈیو تو 71 عیسوی سے پہلے تو دُور بلکہ 72 عیسوی سے بھی بعد کی ہے۔ اب جب عملاً بنگلہ دیش بن گیا۔ اس کو اقوام متحدہ نے رکنیت دے دی، تو پاکستان کے پاس آپشن کیا تھا؟ اب صورتِ حال یہ تھی کہ یا تو آپ جماعتِ اسلامی کا غیر فطری اور جذباتی مؤقف لیں کہ نہیں مانتے بنگلہ دیش کو، اسے واپس لیں گے۔ یا حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرکے حقیقت کو قبول کرتے۔ اگر آپ جماعت اسلامی کا مؤقف لیتے تو کیا ہوتا؟ بنگلہ دیش آپ سے مزید دور ہوجاتا اور بھارت کا اثر مذید بڑھتا جاتا۔ سو اس صورتِ حال میں دور اندیش بھٹو نے یہ سوچا کہ جو ہونا تھا، ہو گیا۔ اب غلط یا درست، پسند ہو یا نہ ہو، لیکن قائد اعظم کا ملک تو ٹوٹ گیا۔ اب بجائے احمقانہ جذبات کے حقیقت کا سامنا کرو، اور بنگالی بھائیوں کے دل سے نفرت ختم کرو۔
سو ذوالفقار علی بھٹو نے نہ صرف شیخ مجیب الرحمان کو باعزت انداز میں رہا کر کے بنگلہ دیش واپس کیا، بلکہ یہ فیصلہ کیا کہ ہم بنگلہ دیش کو تسلیم کرکے نہ صرف اس کو 74 عیسوی کی لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں شریک کریں، بلکہ بنگلہ دیش سے تعلقات کو وسعت دیں، تاکہ بنگلہ دیش پر بھارت کا اثر و رسوخ کم ہو اور پاکستان کے مفاد کا تحفظ ہو۔ اس کا بہت مثبت اثر ہوا جو کہ میرا موضوع نہیں، لیکن یہاں پر جماعتِ اسلامی نے تماشا بنایا ہوا تھا، اور کچھ نوجوان طالب علم راہنماؤں جن میں جاوید ہاشمی، شیخ رشید وغیرہ نمایاں تھے، نے ’’بنگلہ دیش نامنظور‘‘ کے نعرے پر احتجاج شروع کر دیا، جس کے جواب میں بھٹو صاحب نے عوام سے رابطہ کا فیصلہ کیا، اور عوام کو بتانے کی کوشش کی کہ ’’بنگلہ دیش نامنظور‘‘ تحریک سے آپ بنگالیوں کو مزید اندرا گاندھی کی گود میں بٹھا دیں گے۔ سو بہتر ہے ان کو احساس دلاؤ کہ ہم آپ کے بھائی ہیں۔
اب بھٹو صاحب نے عوامی جلسوں کا انعقاد شروع کر دیا۔اب ہوتا کیا، جہاں بھٹو صاحب جلسہ کرتے، شیخ رشید اور جاوید ہاشمی اپنے گرگے لے کر آجاتے، اور ’’نامنظور، نامنظور‘‘ کے نعرے مارنا شروع کر دیتے۔ جو ویڈیو گردش میں ہے ہے، وہ پنڈی کے جلسہ کی ہے۔ اس کو غور سے مکمل سنیں، وہاں شہید کیا کہہ رہا کہ ’’وہ تمہارے مسلمان بھائی ہیں۔ انہوں نے تمہارے ساتھ مل کر پاکستان کی تحریک چلائی۔ سو بولو کیا ان کو منظور نہ کریں؟‘‘
لیکن مجمع سے آوازیں ’’نامنظور‘‘ کی آتی ہیں۔ اب ایک عوامی راہنما پولیس کے ذریعے ان پر تشدد تو نہیں کرسکتا تھا، سو تب وہ کہتے ہیں کہ ’’اگر تم کو منظور نہیں، تو مجھے بھی نہیں۔ جہنم میں جائیں۔‘‘
یہ ہے مکمل سچ!
آپ بے شک ان الفاظ پر جائز تنقید کرسکتے ہیں، لیکن اس کا سقوطِ ڈھاکہ سے قطعی اور حتمی کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ واقعہ بنگلہ دیش بننے کے بہت بعد کا ہے۔
دوسری بات، اگر بھٹو پر مجیب کو سزا نہ دینے کا الزام ہے، تو اول مجرم تو جنرل ہیں، جب مجیب متحدہ پاکستان کا قیدی تھا، تو تب آپ اس کو مار دیتے۔ لیکن جب بھٹو نے اقتدار سنبھالا، تو بنگلہ دیش بن چکا تھا۔ اب آپ کس طرح ایک آزاد ملک کے سربراہ کو سزا دے سکتے ہیں؟ کیا بین الاقوامی برادری یہ قبول کر لیتی؟
دوسری بات، اس سزا سے کیا ہوتا؟ بنگال تو واپس نہ آتا، لیکن بنگالیوں کی نفرت مزید بڑھ جاتی۔ بھارت کا ان پر اثر دس گنا ہوجاتا۔ سو یہ ایک بہت بڑی حماقت ہوتی۔
دراصل بھٹو تو بنگالیوں کے زخموں پر مرحم رکھ رہا تھا۔ ان کو یہ باور کروا رہا تھا کہ علاحدگی کے باجود بھی آپ ہمارے مسلمان بھائی ہیں۔ آپ سے نفرت نہیں کرتے۔ ہم آپ کے دشمن نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم بنگلہ دیش سے نارمل تعلقات میں آگے بڑھ کر ہیں۔ آپ ہم کو بھائی ہی سمجھتے ہیں اور یہ بات بہت ہی معقول اور حب الوطنی پر مبنی تھی۔
کاش، یہی پالیسی رہتی، لیکن بعد میں آمروں نے بہت خرابی کی، جو فی الحال ہمارا موضوع نہیں۔ بہرحال مذکورہ تینوں الزامات کی حقیقت وہی ہے جو بیان کر دی گئی۔
٭ الزام نمبر چھے:۔ ’’یحییٰ اور ایوب کی غلط پالیسیوں کا ماسٹر مائنڈ بھٹو تھا۔‘‘ قطعِ نظر اس کے کہ بھٹو یحییٰ اور ایوب کی پالیسوں کا ماسٹر مائنڈ تھا، یا نہیں…… لیکن اگر اس بات کو مان لیا جائے، تو پھر یقینا فوج کی قابلیت پر بہت سنجیدہ سوالات اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں کہ پاکستان آرمی کے دو ایسے چیف جو مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی تھے، بلکہ ایک تو فیلڈ مارشل بھی تھا، ایک ایسے سیاست دان کے ہاتھوں کا کھلونا تھے، جو ’’غدار‘‘ تھا۔ مطلب، آپ کی فوج کا ڈھانچا اتنا کمزور ہے کہ وہ ایک سیاست دان کے ہاتھوں تباہ کیا جاسکتا ہے۔ واہ جی واہ!
دوسری یہ بات یاد رہے کہ بھٹو اول سکندر مرزا کی دریافت تھا۔ سکندر مرزا بھٹو کو لایا تھا اور اس کے بعد ایوب خان۔ بھٹو نے ’’ٹیکنوکریٹ‘‘کے طور پر ایوب کے ساتھ 9 سال بطورِ وزیرِ تجارت اور وزیرِ خارجہ کام کیا، اور اپنی قابلیت سے پاکستان کو ’’سرو‘‘ (Serve) کیا۔ پھر 1967ء کو بھٹو نے جب بطورِ سیاست دان کام شروع کیا، تو ایوب کی کرسی کو لات مار کر ’’پاکستان پیپلز پارٹی‘‘ (پی پی پی) بنائی۔
1967ء تک بے شک بہت سی حماقتوں کی وجہ سے مغربی اور مشرقی پاکستان میں دوریاں جنم لے چکی تھیں، لیکن آزاد بنگلہ دیش کا تصور بھی نہ تھا۔ اس کے بعد 1971ء تک بھٹو حزبِ اختلاف ہی میں رہا اور فوجی آمروں کے عتاب کا شکار رہا۔ بھٹو پر دو دفعہ قاتلانہ بھی حملہ کیا گیا، بلکہ 1970ء کے الیکشن میں تو فوجی حکمران بھٹو کے خلاف تھے۔ عمومی تاثر یہ تھا کہ جماعتِ اسلامی مغربی پاکستان سے ’’کلین سویپ‘‘ کرے گی اور مشرقی پاکستان سے معقول طاقت لے کر آئے گی۔
اس تمام تر صورتحال میں جس ’’ٹکا خان‘‘ کو بھٹو کا فرنٹ مین بنایا گیا، وہ بقولِ مولانا کوثر نیازی کے ’’پی پی پی‘‘ کے لوگوں کو بلا کر کہتا تھا کہ ’’جنرل ہیڈ کوارٹر‘‘ (جی ایچ کیو) کبھی بھٹو کو نہ آنے دے گا۔ سو تم وقت ضائع مت کرو۔
یحییٰ خان کی عوامی لیگ سے مخالف کی کچھ اور وجوہات تھیں جیسے اگرتلہ کیس، مکتی ہاہنی کی فوج کے خلاف ایکشن اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یحییٰ خان عوامی لیگ کی مدد سے اسی طرح کا ’’پاؤر فل‘‘ صدر بننا چاہتا تھا کہ جیسے مشرف ’’ق لیگ‘‘ کا تھا اور یہ بات مجیب الرحمان تسلیم کرنے سے منکر تھا۔ وہ تو یہ چاہتا تھا کہ حکومت اس کے حوالے کر کے فوج واپس جائے۔ یحییٰ خان اس بات سے خوف زدہ تھا کہ جو کام ’’ٹکا خان‘‘ نے کیا اور خاص کر ’’ٹائیگر نیازی‘‘ نے، کہیں اس کو کھول نہ دیا جائے۔ یحییٰ کے کور کمانڈرز کو پھانسی کا پھندا نظر آ رہا تھا۔
پھر جماعتِ اسلامی، البدر و الشمس کے کرتوتوں سے آگاہ تھی کہ مکتی باہنی کے نوجوان انتقام سے بھرے پڑے تھے۔ وہ بھی یحییٰ کی حمایتی تھی۔ بہرحال جتنا مرضی اس موضوع پر تحقیق کرلیں۔ بھٹو پر یہ الزام غلط ہی ثابت ہوگا۔
اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ بھٹو نیویارک سے واپس آتے اٹلی رک گیا تھا۔ اس کا یہ خیال تھا کہ اسلام آباد اترتے ہی اس کو گولی مار دی جائے گی۔ بھٹو شاہ فیصل اور شاہِ ایران کی ضمانت لے کر آیا تھا۔ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جس تحفظ اور کرسی کی خاطر ملک توڑ دیا گیا تھا، بڑی آسانی سے اُس کو بھٹو کے حوالے کر دیا جائے گا۔
لیکن پاکستان میں عوام تو ایک طرف فوج کی جونیئر قیادت میں بغاوت برپا تھی، اور یحییٰ خان کو یہ بتا دیا گیا تھا کہ اگر حکومت بھٹو کے حوالے نہ کی گئی، تو عین ممکن ہے کہ فوج کے جونیئر افسران خونی بغاوت کر دیں۔ اس مجبوری کے تحت حکومت ’’پی پی پی‘‘ کو دی گئی۔
مصطفی کھر ابھی زندہ اور باہوش ہے۔ کبھی یہ کہانی اس سے ہی جان لی جائے۔ سو یہ الزام ’’بکواس ترین‘‘ ہے۔
٭ الزام نمبر نو:۔ ’’چوں کہ بھٹو، اندرا گاندھی اور شیخ مجیب الرحمان اس سانحہ کے ذمہ دار تھے۔ سو اس وجہ سے ان کا عبرتناک انجام ہوا کہ اپنے بیٹوں کے ساتھ قتل ہوئے۔‘‘ ویسے چلیں یہ الزام بھی کہ جو اول منصورہ سے برآمد ہوا، یہ تو مان لیا کہ شاہنواز کی موت بھی ایک قتل تھی۔ بہرحال تاریخ کی سچائی یہی ہے کہ ہمیشہ سے آزادی پسند اور ملت دوست عظیم لوگوں کو اسی بے رحمی سے غاصبان کے ظلم کا شکار ہونا پڑا۔ مَیں چاہوں، تو تاریخ سے سیکڑوں مثالیں لکھ دوں، لیکن صرف ایک مثال سمجھانے واسطے، وہ یہ کہ بھٹو مجیب یا اندرا تو کوئی شے ہی نہیں۔ آئیں دیکھیں، کائنات کی مقدس ترین ہستیوں میں سے ایک یعنی علیؓ کا بظاہر دنیاوی انجام کیا ہوا؟ خود ان کی ذات سے لے کر بیٹے، پوتے اور پڑپوتے تک شہید ہوئے۔ لیکن آج علیؓ کو دیکھیں اور ان کے اور ان کی نسل کے قاتلوں کو دیکھیں! تو (نعوذ باﷲ!) کیا علیؓبھی ’’سقوطِ ڈھاکہ‘‘ کے ذمہ دار تھے؟
بہرحال یہ بھی دیکھا جائے کہ آج ہند میں گاندھی خاندان، بنگلہ دیش میں شیخ خاندان اور پاکستان میں بھٹو خاندان کی کیا اہمیت ہے! شیخ حسینہ آج بھی حکمران، اندرا، راجیو اور اب راہول ہند کی سیاست کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ ٹھیک اسی طرح بھٹو اس ملک کا وزیرِ تجارت بنا، سائنس کا وزیر بنا، وزیرِخارجہ بنا، پھر سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنا، پھر صدر، پھر دو بار وزیراعظم، اس کے بعد ان کی بیٹی دو بار وزیراعظم، پھر ان کا متنازعہ ترین داماد وزیر بنا اور آخرِکار صدر بنا۔ آج بھی ان کی سیاسی طاقت بہت زیادہ ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ آپ بے شک ان ذکر شدہ شخصیات کی ڈھیر ساری باتوں سے جائز اختلاف کرسکتے ہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ آج بھی اپنی اپنی قوم کے ہیرو ہیں۔
یہ بات یاد رکھیں کہ تاریخ کی بے رحم عدالت کبھی غداروں، غاصبوں اور ظالموں کو عوامی مقبولیت اور ’’ہیرو شپ‘‘ کا درجہ نہیں دیتی۔ یہ تینوں آج تاریخ کی عدالت میں پاس ہوچکے ہیں۔
ہاں، کچھ روحیں اپنی جہالت میں آج بھی بے چین ہی ہیں۔
٭ ’’تو حل کیا ہے؟‘‘
اب بے شک یہ المیہ ہوچکا جو ہمارے دلوں پر اب بھی مونگ دل رہا ہے، لیکن ابھی یہ کوئی اتنی پرانی بات تو نہیں۔ اس واقعہ کے بہت سے عینی شاہدین زندہ ہیں۔ میجر نادر پرویز، مبشر حسن، مصطفی کھر، ممتاز بھٹو وغیرہ۔ پھر ان کی اولادیں، سو حکومت ایک اتنہائی طاقت ور کمیشن بنائے، جو نہ صرف حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ کو من عن شائع کرے، بلکہ نئے سرے سے کام کرے۔ یہ کمیشن ’’جے آئی ٹی‘‘ کی طرز کا ہو کہ جو نہ صرف تحقیقی رپورٹ دے ،بلکہ اپنی طرف سے سفارشات بھی دے سکے اوراس سانحہ میں ملوث ایک ایک شخص کو بے نقاب کیا جائے۔ اس کمیشن میں آرمی اور پولیس کے نیک شہرت افسر، عدلیہ کے ریٹائر جج، بیورو کریٹس کے ساتھ ساتھ نیک نام سیاست دان ہوں۔ ہماری تجویز ہے کہ اس کو وزیراعظم خود چیئر کریں۔
اس بات کی بھی تحقیق ہو کہ سانحۂ اے پی ایس بھی 16 دسمبر کو ہی کیوں ہوا؟ کہ آج میڈیا سقوطِ ڈھاکہ سے زیادہ ’’اے پی ایس‘‘یاد کرواتا ہے۔ اگر حکومت یہ کام کروا دے، تو اس کا قوم پر بہت احسان ہوگا۔ کیوں کہ اب اتفاق سے حکومت میں وہ لوگ ہیں جو نہ 70 عیسوی کی دہائی کی بھٹو نفرت میں سیاسی طور پر پروان چڑھے اور نہ وہ لوگ ہیں جن کی سیاست 80ء اور 90ء کی دہائی کی انارکی میں پلی بڑھی۔ موجودہ وزیر اعظم کسی بھی حوالے سے بھٹو نفرت کا شکار نہیں، بلکہ انہوں نے بارہا بھٹو صاحب کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ سو موجودہ حکومت اگر یہ اہم کام کرے، تو کوئی وجہ نہیں کہ عوام کی اکثریت اس کو تسلیم نہ کرے۔
مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ موجودہ حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ اس عظیم قومی المیہ پر بہر صورت تحقیق کروائے۔ کیوں کہ اس میں مسئلہ محض ملک کا دو لخت ہونا نہیں۔ تاریخ میں ملکوں کے جغرافیے بدلتے رہتے ہیں اور یہ انسانی معاشروں واسطے کوئی اہم بات نہیں ہوتی۔ لیکن ہمارا ملک کسی سیاسی مطالبہ یا انتظامی مسائل کی وجہ سے دو لخت نہیں ہوا تھا، بلکہ اس پر باقاعدہ جارحیت کی گئی تھی۔ ہماری فوج سے ہتھیار پھنکوائے گئے تھے۔ ہم کو ذلت آمیز شکست سے ہم کنار کیا گیا تھا۔ آج بھی ملک میں کوئی لبرل ہو یا بنیاد پرست، کسی ممبر پر تقریر کرنے والا مولوی ہو یا کسی کلچر ہاؤس میں ناچنے والا، کسی دینی مدرسہ کی طالبہ ہو یا ہیرا منڈی کی طوائف، جب بھی دسمبر آتا ہے، جب بھی یہ بات ہوتی ہے، تو ہر شخص کی آنکھوں میں عبید اﷲ نیازی کا جنرل اروڑہ کو دیا گیا پستول نظر آتا ہے۔ ساتھ ہی جسم میں کپکپی اور آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔
یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ سانحۂ مشرقی پاکستان ہوا۔ ہم نے ہتھیار ڈالے۔ ہماری فوج اور سویلین آبادی کی ایک بڑی تعداد قیدی بنائی گئی۔ اندرا گاندھی نے انتہائی ہتک آمیز بیانات دیے۔ سو پھر کیا امر مانع ہے کہ ہم اس کی سرکاری سطح پر مکمل تفتیش نہ کروائیں؟ آخر ہم کو اس المیہ کے تمام کردار بے نقاب کرنے میں حجت کیا ہے؟ کیا ہماری قوم کا یہ حق نہیں کہ وہ قومی مجرموں کو جان لے اور اُن وجوہات کو سمجھ لے، تاکہ مستقبل میں ہم کسی ایسی صورت حال سے بچ سکیں۔
چلو ایک منٹ واسطے مان لیتے ہیں کہ کچھ حلقے اس کو گوارا نہیں کریں گے، تو تب کم از کم عوام کو یہ تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ حلقے کون ہیں، اور کیوں ایسا کرنا نہیں چاہتے؟ کم از کم حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کہ جس کا دائرہ کار محدود تھا، ہی کو شائع کر دیا جائے۔ یہ ایک قرض ہے قوم پر، اور فرض ہے حکمرانوں پر۔ سو ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک مضبوط اور با اختیار کمیشن بنایا جائے اور اس کو حمود الرحمان کمیشن ، سول اور فوجی انتظامیہ کے پاس موجود کاغذات، جو بھٹو کی پھانسی پر زرداری حکومت نے عدلیہ میں ریفرنس پیش کیا ہے، اس تک مکمل رسائی دی جائے۔ اس کے علاوہ بذریعہ میڈیا دعوتِ عام دی جائے کہ پاکستان اور پاکستان سے باہر جو بھی گواہی واسطے، شہادت واسطے یا کسی ثبوت کو دینے واسطے آنا چاہے، اس کو خوش آمدید۔
آپ یقین کریں پاکستان کے علاوہ بھارت، بنگلہ دیش، ایران سمیت مغربی اور عرب سفارت کار ضرور آنا چاہیں گے، بلکہ کچھ لوگ تو اس بارے تعاون کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔
یہ بات تو اظہر من شمس ہے کہ یہ صرف لوکل سازش نہ تھی بلکہ اس میں بین الاقوامی چوہدری براہِ راست ملوث تھے، اور کچھ بھی نہ ہو، تب بھی ہم کو کم از کم بحیثیتِ مجموعی اور من حیث القوم یہ سمجھنے میں تو آسانی ہوگی کہ ہمارے خلاف کس طرح کی اور کس طریقہ سے آئندہ مستقبل میں بھی سازش ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میں قوم کے دانش وروں، سول سوسائٹی اور خاص کر تاریخ کے اساتذہ سے بھی اپیل کروں گا کہ وہ اس موضوع کو اب تابوت مت سمجھیں۔ تاریخ کے بے رحم پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا۔ اب کسی ضیاء الحق کے جبر کا کوئی امکان نہیں۔ اب سچ کی ترویج اور حق کی بات کہنے کا وقت آچکا ہے۔ وہ اس پر کھل کر اپنا بیانیہ دیں، تاکہ قوم کی فکری راہنمائی ہو۔ تاریخ کے دریچے سورج کی روشنی میں نظر آئیں۔ ہر پردہ اٹھتا جائے اور مستقبل کا مؤرخ آسانی سے حالات کا احاطہ کر پائے۔ مَیں بحیثیتِ عام پاکستانی منتظر ہوں۔ میرے ادارے کے اخبارات اس پر کسی بھی جوابی بیانیہ واسطے حاضر ہیں۔ اگر مَیں نے کہیں غلط بیانی کی ہو، یا تاریخ کو مسخ کیا ہو، یا کسی تعصب یا جذباتیت کا شکار ہوا ہوں، تو آپ بے شک جوابی رائے دیں، اور قوم کو گمراہ ہونے سے بچائیں۔ ختم الخیر۔
مَیں نے اس سانحہ بارے جو پڑھا، سنا اور سمجھا، وہ دیانت داری سے لکھنے کی کوشش کی۔ میرا اس سے ملتا جلتا ایک کالم اُردو نیوز جدہ میں 2001ء میں شائع ہوا تھا، جس کو میں نے قسط وار سوشل میڈیا پر بھی لکھا۔ مَیں آج بھی ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمان کو اس کا مجرم نہیں سمجھتا، بلکہ اس کے مجرم کچھ اور ہیں۔ کچھ کی نشان دہی تو حمود الرحمان نے کر دی، کم ازکم اُن کو تو قومی غدار قرار دیا جائے۔
بہرحال میرا خیال تھا کہ اس پر جیالوں کی جانب سے گرم جوشی، مسلم لیگ کی جانب سے مخالفت اور جماعت اسلامی کے شاید کچھ دوستوں کی جانب سے شدید مخالفت ہو، اور جوابی بیانیہ ہو، لیکن مجھے حیرت ہوئی کہ جو میں نے سوچا تھا، ایسا کچھ نہ ہوا بلکہ تحریکِ انصاف کہ جس کا اس سے لینا دینا ہے ہی نہیں، وہاں سے سب سے زیادہ مخالفت ہوئی۔
مَیں واٹس اَپ پر محترم نیاز احمد مہر سے طویل بحث پر ان کا مشکور ہوں۔ محترمہ میمونہ کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے سراہا۔ جناب الماس شیر دل کا بھی جنہوں نے میری بہت سی باتوں کی تصدیق کی اور ساتھ کچھ اختلاف بھی۔ اس کے علاوہ چند دوستوں نے اس کو پرائیویٹ بھیجنے کی بات کی، جن میں سے ایک نام محترم مبشر انوار جیسے دانشور اور سینئر کالم نگار کا بھی ہے، جو میرے واسطے باعثِ اعزاز ہے۔ اس کے علاوہ میری حوصلہ افزائی پر میں محترم ظہیر کیانی اور اویس چوہدری کا بھی مشکور ہوں۔ محترم احسن عباسی کی اس موضوع پر رائے کا انتظار ہے۔ محترم ویکاس اور جناب جعفری صاحب کا بھی شکریہ۔ اس کے علاوہ میں پیارے دوست انتخاب متیلا کہ جو دماغ کی لسی بنا دیتے ہیں اور اچھا خاصا خوشگوار موڈ کا انسان ایک دم حسن نثار بن جاتا ہے کا بھی مشکور ہوں کہ کم ازکم یہ تو احساس دلاتے ہیں کہ وہ پڑھ رہے ہیں اور سب سے خوب صورت اور مزیدار تبصرہ جناب احسن مسعود کا کہ ’’تم ہزار قسطیں لکھو، تب بھی ہم بھٹو کو ہی ذمہ دار سمجھیں گے۔‘‘
بے شک میری اس تحریر سے اختلاف کی گنجائش ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ میرا نکتۂ نظر ذاتی ہے۔ بے شک مزید تحقیق اور مطالعہ کی ضرورت ہے، لیکن میں نے بحیثیتِ ایک عام پاکستانی کے اس کو فرض سمجھ کر لکھا، وگرنہ میرا تمام کرداروں سے ذاتی کوئی فائدہ و نقصان نہیں۔ میں نے درجن بھر قسطیں اردو ٹائپنگ میں لکھیں، جو بہت مشکل کام ہے۔ اس بات سے قطعِ نظر کون پڑھتا ہے، کون نہیں اور مَیں نے جن دوستوں کو بور کیا ان سے معذرت۔
……………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے