213 total views, 1 views today

والیِ سوات کے دور میں سوات میں تعلیم کے شعبے پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا گیا۔ انھوں نے سوات کے کونے کونے میں تعلیم کی روشنی پہنچائی اور دور دراز علاقوں میں سکول بنوائے۔ اس کے لیے اعلا اور ذہین اساتذہ کا انتخاب کیا، جس کی وجہ سے سوات کے لوگ تعلیم کے میدان میں آگے رہے۔ جناب میانگل جہانزیب کی دور اندیشی کو دیکھ کر بڑے بڑوں کا عقل دنگ رہ جاتا ہے کہ اُس دور میں انھوں نے اپنی رعایا کے لیے بہتری کا سوچا۔ سوات کو اگر ایک طرف اس کی خوب بصورتی کی وجہ سے ایشیا کا سوئٹزرلینڈ کہا گیا ہے، تو یہاں کا تعلیمی نظام بھی سوئٹزرلینڈ کے تعلیمی نظام سے کچھ کم نہ تھا۔ اس کی مثال جہانزیب کالج کا قیام ہے، جو خیبرپختونخوا کی وادیِ سوات میں موجود اعلا تعلیمی اداروں میں سے سب سے اہم ہے ۔
گورنمنٹ جہانزیب کالج کی بنیاداصل میں 1950ء میں رکھی گئی، لیکن کالج میں موجود کتبے پر 1952ء درج ہے، جو ریاستِ سوات کے سابق حکمران میانگل عبدالحق جہانزیب نے کالج کو باقاعدہ کھولنے پر لگوایا تھا۔ والیِ سوات کا خواب تھا کہ اس خطے کے لوگوں کو اعلا تعلیم فراہم کی جاسکے۔ یہ بین الاقوامی معیار کا ادارہ ہے جس میں اُس دور کے مطابق ہر سہولت موجود تھی۔ اپنی ذاتی عمارت، ذاتی کھیل کا میدان، ایک بڑا کتب خانہ، سائنس بلاک، ودودیہ ہال، ذاتی پریس اور ہاسٹل وغیرہ نے اس کالج کے معیار اور خوبصورتی کو دوبالا کیا تھا۔
مختلف ادوار میں قدرتی و انسانی آفات کی وجہ سے اس کالج کی مین بلڈنگ کو نقصان پہنچا تھا۔ اس لیے حکومت نے اسے گرا کر اسی طرز پر نئی عمارت بنانے کا ارادہ کیا،جس میں پہلے سے زیادہ طالب علموں کو جگہ دینے کی سہولت موجود ہے۔ پہلے اس ادارے میں صرف انٹرمیڈیٹ، بی اے اور ایم اے تک تعلیم دی جا تی تھی، مگر اَب اس میں تقریباً 19 مختلف شعبوں میں بی ایس کی ڈگری دی جاتی ہے۔ آج تک جہانزیب کالج سے بڑے نامور لوگ تعلیم حاصل کرچکے ہیں، جو ملک میں اور ملک سے باہر بھی بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔ اس کالج نے کئی ڈاکٹر، پروفیسر، انجینئر، سائنس دان، کاروباری، سیاسی و سماجی اور زندگی کے دیگر شعبوں میں نامور شخصیات پیدا کی ہیں۔ اس ادارے سے فارغ التحصیل پانچ پروفیسر صوبے کے مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر جیسے اہم ترین منصب پر بھی فائز ہوئے، جو ’’جہانزیبین‘‘ کی حیثیت سے اس ادارے کا نام روشن کر رہے ہیں۔
مختلف ادوار میں مختلف حکومتی فیصلوں کی وجہ سے ریاستِ سوات اب کئی ضلعوں میں تقسیم ہوچکا ہے۔ اب ہر ضلع کے منتخب امیدوار اپنی طاقت کے بل بوتے پر متعلقہ ضلع میں تعلیم کے علاوہ دوسری سہولیات لانے کی پوری کوشش میں لگے ہوتے ہیں،جس کے نتیجے میں وہاں کے لیے اپنی اپنی یونیورسٹیاں بھی بنائی گئیں۔ شاید یہ ان کے منتخب نمائندوں کی تعلیم میں دلچسپی کا نتیجہ ہے۔ موجودہ سوات کے لیے کئی دفعہ مرکزی حکومت نے یونیورسٹی بنانے کے وعدے کیے، لیکن کبھی اس پہ عمل نہیں ہوپایا۔ پچھلی کئی دہائیوں میں حکومتِ وقت نے مختلف ادوار میں سوات میں یونیورسٹی بنانے کے وقتی وعدے کیے ، لیکن اس کے با وجود سوات کے بجائے ڈی آئی خان، ملاکنڈ، شرینگل یا پھر ہزارہ میں یونیورسٹیاں بنائی گئیں۔ سال 2009ء میں جب سوات میں حکومت اور طالبان کے مابین معاہدہ ہوا، تو اس میں بھی سوات کے عوام کے لیے یونیورسٹی بنانے کا وعدہ کیا گیا۔ بعد میں اس کو اسلامک یونیورسٹی کے نام سے بنانے پر اتفاق ہوا، جس کو امام ڈھیرئی میں بنانے کا منصوبہ تھا۔
بالآخر 2010ء میں سوات یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا، جس کی بنیاد سیدو شریف کی عارضی عمارت میں رکھی گئی۔ اب کافی عرصہ سے یہ یونیورسٹی کانجو ٹاؤن شپ کے مختلف بنگلوں میں عارضی طور پرچلائی جا رہی ہے۔ چارباغ کے علاقے میں زمین مختص کی گئی تھی اور اب اس پہ اپنی عمارت کی تعمیر کا کام شروع ہو چکا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے سوات خیبر پختونخوا کا تیسرا بڑا ضلع ہے، جس کے لیے ایک یونیورسٹی کافی نہیں ہے۔ یہاں کے لوگ اعلا تعلیم حاصل کرنے کے شوقین ہیں اور یہ معیاری تعلیم اُن کو گھر کے قریب مہیا کرنا اس علاقے کے منتخب نمائندوں کا فرض ہے۔
یہ سچ ہے کہ مینگورہ کے آس پاس کوئی بھی ایسی مناسب جگہ نہیں، جہاں پہ یونیورسٹی تعمیر کی جاسکے، لیکن مو جود ہ جہانزیب کالج کو اسلامیہ کالج کی طرز پر یونیورسٹی کا درجہ دیا جاسکتا ہے۔ گذشتہ عوامی نیشنل پارٹی کے دورِ حکومت میں اس پہ ابتدائی کاغذی کارروائی بھی ہوئی تھی۔ کچھ حد تک قانون سازی بھی ہوئی تھی، جس کا ذکر پروفیسر ڈاکٹر سلطانِ روم کی کتاب ’’سوات تاریخ کے دوراہے پر‘‘ میں کیا جاچکا ہے، مگر بعد میں اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اگر یہ احسن قدم اٹھایا گیا، تو اس سے سوات کی محرومی کا اِزالہ کیا جا سکے گا۔ میری اس تجویز کو یقینا بہت سے محترم لوگ نا پسند بھی کریں گے، جیسا کہ جنوری 2010ء میں پروفیسر سیف اللہ (مرحوم) نے روزنامہ آزادی میں اپنے ایک کالم میں اس کا اظہار کیا تھا۔ پروفیسر صاحب نے جن باتوں کا ذکر کیا ہے ، ان کو یہاں تفصیلاً بیان کرنا ضروری نہیں۔ البتہ یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ان سارے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہمارے پاس گورنمنٹ کالج یونیور سٹی لاہور، گورنمنٹ کالج یونیور سٹی فیصل آباد، اسلامیہ کالج یونیور سٹی پشاور اور ان جیسی ڈھیر ساری مثالیں موجود ہیں، جن کی مدد سے منتظمینِ اعلا کو جہانزیب کالج کو یونیورسٹی میں اپ گریڈ کرنے اور کامیاب بنانے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ کالج کی تاریخی عمارت کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ عمارت چوں کہ زلزلوں کی وجہ سے قابلِ استعمال نہیں تھی، اس لیے اسے گرا کے دوبارہ تعمیر کرایا گیا ہے۔ اب رہ گئی بات اس یونیورسٹی کو کامیاب بنانے اور چلانے کی، تو وہ چلانے والوں کی صلاحیتوں پر منحصر ہے کہ ان کا وِژن کیا ہے؟ اگر جہانزیب کالج، صوبہ کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں کے لیے قابل وائس چانسلر پیدا کر سکتا ہے، تو اس نے کہیں نہ کہیں اپنے لیے بھی کوئی ہیراتراشا ہوگا۔
سوات کے ایک شہری کی حیثیت سے یہ ہمارے لیے افسوس کا مقام اور سوچنے کی بات ہے کہ پانچ وائس چانسلر، کئی پروفیسر، سیاسی رہنما اور بیوروکریٹ بنانے کے بعد بھی ہم اس عظیم ادارے کو اس مقام تک نہیں پہنچا پائے جس کا یہ مستحق ہے۔ ایک زمانہ تھا جب جہانزیب کالج کو صوبے کے بہترین کالجوں کی فہرست میں اسلامیہ کالج پشاور کے بعد دوسرے نمبر پر یاد کیا جاتا تھا۔ آج اس کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ جہاں اسلامیہ کالج کو سال 2008ء میں یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا، وہاں جہانزیب کالج کو بھی ملنا چاہیے تھا۔ حکومت کو اس سلسلے میں کسی نئی عمارت بنانے کی ضرورت پڑے گی اور نہ باہر سے پروفیسر اور محققین ہی بلانا پڑیں گے۔ کیوں کہ کالج نے پہلے ہی سے اپنے لیے ایسے لوگ تیار کرلیے ہیں جو سوات میں تعلیم کو اپنے پرانے مقام تک پہنچانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑیں گے۔ یونیورسٹی اَپ گریڈیشن سے ایک اور بڑافائدہ یہ بھی ہوگا کہ موجودہ سٹاف کی اگلے گریڈ میں ترقی ہو جائے گی، اور نئے لوگوں کو نوکری ملنے کے مواقع بھی فراہم ہو جائیں گے۔ یقینا جہانزیب کالج کی دنیا میں موجود ایلومینائی اس تجویز کے حق میں ہوگی۔
جلد ہی کالج کی نئی عمارت کو استعمال کے لیے کھول دیا جائے گا۔ اگر عوامی نمائندے اور حکومتِ وقت اس کے کھولنے سے پہلے اسے یونیورسٹی کا درجہ دے دیں، تو یہ اس خطے کے لوگوں کے لیے بہت بڑا تحفہ ہوگی۔
……………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے