222 total views, 1 views today

دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے بعد یورپ کے کئی ملکوں کے سیاسی قائدین نے خطے میں دیرپا امن کے قیام اور اقتصادی تعاون کی ضرورت کو شدت سے محسوس کرنا شروع کیا، تاکہ جنگ کی ہولناک شکست و ریخت کے اثرات کو کم کیا جاسکے۔
یونائیٹڈسٹیٹس آف امریکہ کی طرز پر یونائیٹڈ اسٹیٹس آف یورپ کو حالات کی ضرورت سمجھا گیا، جس کی حمایت اس وقت کے برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل نے بھی کی۔ 1949ء میں ایک کونسل آف یورپ تشکیل دی گئی جس کے بعد1957ء میں ’’یورپین اکنامک کمیونٹی‘‘ یعنی ’’ای ای سی‘‘ بنائی گئی۔اٹلی کے شہر روم میں ایک معاہدہ پر پانچ ممالک بلجیم، فرانس، ہالینڈ، ایسٹ جرمنی، اٹلی اورلگسمبرگ نے دستخط کیے اور یہ معاہدہ ’’روم ٹریٹی‘‘ کہلایا، جو ایک طرح سے یورپی یونین کے قیام کی طرف پہلا قدم تھا۔
9 مئی 1950ء کو فرانسیسی وزیرِ خارجہ ’’رابرٹ شومین‘‘ نے یورپی ملکوں کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعاون کے لیے ایک مشترکہ یونین کے قیام کو حالات کی ضرورت قرار دیا۔ بعد از اں یورپ کے بیشترملکوں نے تجارت کے فروغ کے لیے کسٹمز ڈیوٹی کو ختم کردیا۔ خاص طور پر کوئلے اورسٹیل کی انڈسٹری نے بہت سے یورپی ملکوں کو ایک دوسرے کی اقتصادی ضرورت بنا دیا۔ 1973ء میں برطانیہ، آئرلینڈ اور ڈنمارک نے ’’یورپین اکنامک کمیونٹی‘‘ میں شمولیت اختیار کی، جس کے بعداور بہت سے ممالک ای ای سی کا حصہ بنے۔ کیوں کہ زراعت، ماہی گیری اور علاقائی ترقی کے لیے اس یورپی اتحاد میں شمولیت اُن کے لیے ناگزیر ہوگئی تھی۔ یکم نومبر 1993ء میں اس اتحاد کو باقاعدہ طور پر پورپی یونین کا نام دیا گیا۔ 1979ء میں ناروے نے یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت کے لیے ایک عوامی ریفرنڈم کروایا تھا، جسے نارویجن لوگوں نے مسترد کر دیا اور یوں ناروے اب تک یورپی یونین کا حصہ نہیں ہے۔
2002ء میں یورپی یونین کے 12 ممالک نے اپنی کرنسی کو ختم کر کے یورو کرنسی کو اپنایا اور یوں ڈالر کے بعد یورو کا شمار دنیا کی مستحکم کرنسی میں ہونے لگا۔ 2004ء میں پولینڈ اور 2007ء میں رومانیہ اور بلغاریہ یورپی یونین میں شامل ہوئے، تو اب ان ملکوں سے لاکھوں لوگ ہجرت کر کے برطانیہ، جرمنی اور فرانس جیسے معاشی طور پر مستحکم ملکوں میں آباد ہوگئے۔ اس وقت برطانیہ میں تارکینِ وطن کی سب سے بڑی آبادی پولینڈ کے لوگوں کی ہے۔ اسی طرح رومانیہ کے 40 لاکھ لوگ نقلِ مکانی کر کے یورپ کے مختلف ملکوں میں آباد ہوگئے، جن میں سے 5 لاکھ برطانیہ میں مقیم ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپی یونین کے لوگ بغیر ویزے اور پاسپورٹ کے 29 ملکوں میں آ جا سکتے ہیں۔ یورپی یونین کو انسانی حقوق کی علم برداری اور یورپ میں قیامِ امن اور اقتصادی مساوات کی کوششوں پر 2012ء میں امن کا نوبل پرائز دیا گیا۔
یورپی یونین میں شامل وہ ممالک جو اقتصادی طور پرمستحکم اور خوشحال ہیں، ان کے عوام کی اکثریت کا خیال ہے کہ اس اتحادمیں شامل ہونے کی وجہ سے انہیں فائدہ کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔ اسی لیے کئی ممالک کے لوگ گاہے بگاہے یورپی یونین سے نکلنے کے لیے مطالبات اور احتجاج کرتے رہتے ہیں۔ برطانیہ میں بھی ایسے مطالبات ایک طویل مدت سے کئی جا رہے تھے، جو ٹوری پارٹی کے وزیر اعظم ڈیورڈ کیمرون کے دورِ حکومت میں زور پکڑ گئے اور انہوں نے اس مسئلے پر 23 جون 2016ء میں ایک ریفرنڈم کروایا جس میں 52 فیصد برطانوی عوام نے یورپی یونین سے نکلنے کے حق میں ووٹ دیا۔ اس ریفرنڈم کے نتیجے میں یونائیٹڈکنگڈم ایک ایسے سیاسی بحران کا شکار ہو گیا جس کی وجہ سے حکمران جماعت کے دو وزرائے اعظم ڈیوڈ کیمرون اور ٹریسامے کو اپنے عہدوں سے محروم ہونا پڑا، اور برطانیہ میں مڈ ٹرم الیکشن اور عام انتخابات کے نتیجے میں بورس جانسن دوبارہ برطانوی وزیر اعظم منتخب ہوئے۔
2019ء کے جنرل الیکشن میں ٹوری پارٹی کو سادہ اکثریت حاصل ہونے کی وجہ سے برطانیہ کے لیے یورپی یونین سے نکلنے کا راستہ ہموار ہو گیا۔ 31 دسمبر 2020ء کے بعد جب برطانیہ اس اتحاد کا حصہ نہیں رہے گا، تو یورپی یونین میں شامل ممالک کی تعداد 27 رہ جائے گی۔ یورپی یونین نے ہر ممکن کوشش کی کہ برطانیہ کے اس اتحاد سے نکلنے کو زیادہ سے زیادہ مشکل اور دشوار بنایا جائے، تاکہ کوئی اور ملک یونائیٹڈکنگڈم کی تقلید نہ کرے۔ 2016ء کے ریفرنڈم کے نتیجے نے برطانیہ کے سیاسی اور معاشی مستقبل کا رُخ موڑ دیا ہے۔ اس ریفرنڈم کے بعد سکاٹ لینڈ میں آزادی کا مطالبہ پھر سے زور پکڑنے لگا ہے، جب کہ ٹریڈ ڈیل کے بغیر یورپی یونین سے نکلنے کے باعث برطانیہ کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور برطانوی عوام کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مجھے یاد ہے کہ جب نئی صدی کے آغاز میں یورپی یونین نے مشرقی یورپ کے کچھ ممالک کو اس اتحاد میں شامل کرنے کا عندیہ دیا، تو برطانوی اخبارات نے تسلسل کے ساتھ ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ اگر پاسپورٹ کے بغیر مشرقی یورپ کے لوگوں (رائٹ آف فری مومنٹ کے نام پر) کو برطانیہ آنے اور کام کرنے کی اجازت دی گئی، تو پولینڈ اور رومانیہ سے تارکینِ وطن کا ایک سیلاب برطانیہ آئے گا جس کے نتیجے میں ’’این ایچ ایس‘‘ یعنی ’’نیشنل ہیلتھ سروس‘‘ اور نظامِ تعلیم بُری طرح متاثر ہوں گے اور واقعی گزرنے والے پندرہ برسوں کے دوران میں برطانیہ اور خاص طور پر گریٹر لندن میں تعلیم اور صحت کی سہولتیں اضافی آبادی کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ’’برٹش ویلیوز‘‘ جس پر گورے فخر کیا کرتے تھے، رفتہ رفتہ زائل ہوتی نظر آتی ہیں۔ اینٹی سوشل رویے، گھروں میں چوری، کھلے عام شراب نوشی، ریل گاڑیوں اور سٹیشنوں پر بھیک مانگنے، کاروں کی چوری، بینک اور انشورنس فراڈ، ناجائز مساج سنٹرز، منی لانڈرنگ، ٹیکس اور وی اے ٹی فراڈ اور سرکاری امداد یعنی بینیفٹ ڈس ایبلیٹی یعنی معذوری کے جعلی کلیموں میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا ہے۔
برطانوی دارالحکومت میں اب شاپنگ سنٹر کے باہر ریل گاڑیوں کے اندر، ٹرین سٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازوں پر، ٹریفک لائٹوں پر اور معروف مقامات کے چوراہوں پر جگہ جگہ حجاب والی عورتیں اور لڑکیاں اور داڑھی والے معذور مرد بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ یہ بھکاری (جن میں سے اکثریت کا تعلق مشرقی یورپ کے ممالک سے ہے) تاثر دیتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں۔ یہ پیشہ ور بھکاری ہوتے ہیں جو ایک ملک سے دوسرے ملک سفر کرتے اور علاقے تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر رمضان میں یہ پیشہ ور بھکاری مسلمان اکثریت والے علاقوں پر یلغار کر دیتے ہیں۔ برطانوی مسلمانوں کو چاہیے کہ مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ کربھیک مانگنے والے ان پیشہ ور بھکاریوں کی حوصلہ شکنی کریں۔ اپنی کونسل اور علاقے کی رکن پارلیمنٹ کو اس بارے میں ای میل بھیجیں یا خط لکھیں، کیوں کہ ان بھکاریوں کی وجہ سے برطانیہ میں آباد یورپی مسلمان کمیونٹی کا نام بدنام ہو رہا ہے۔ برطانیہ میں مسلمانوں کی سماجی تنظیموں اور مساجد کی انتظامیہ کمیٹیوں کے لیے یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے، مگر افسوس کہ برطانیہ میں آباد ہماری مسلمان کمیونٹی اور ان کے نمائندوں کو مسلمانوں کی ساکھ اور وقار سے زیادہ اپنے ذاتی مفادات کی فکررہتی ہے۔ بہرحال اب برطانیہ یورپی یونین سے نکلنے جا رہا ہے۔ 2016ء کے ریفرنڈم کے وقت یونائیٹڈ کنگڈم کی تمام سیاسی جماعتوں نے اکٹھے ہو کر اس اتحاد میں شامل رہنے کے حق میں بھرپور مہم چلائی تھی، اور یہ پہلا موقع تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کی جماعتوں نے مل کر برطانوی عوام کو قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ یورپی یونین میں شامل رہنے کے حق میں ووٹ دیں، مگر برطانوی عوام نے سیاست دانوں کی اس اپیل کو یکسر مسترد کر دیا، اور 28 یورپی ملکوں کے اس اتحاد سے نکلنے کے حق میں فیصلہ دیا۔ اسے کہتے ہیں جمہوریت اور ووٹ کی طاقت۔ جس کے بعد برطانوی حکمرانوں اور سیاست دانوں کے پاس ووٹ کو عزت دینے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں رہا۔ یہ ووٹ ہی کی عزت اور طاقت ہے کہ برطانیہ یورپی یونین سے نکل رہا ہے۔
31 دسمبر 2020ء کے بعد برطانیہ کے حالات کیا ہوں گے؟ اس بارے میں برطانوی عوام کی اکثریت کو کوئی ایسی خاص تشویش لاحق نہیں۔ برطانیہ یورپ کی ایک بڑی اور مستحکم معیشت ہے۔ جس طرح کئی تجارتی معاملات میں برطانیہ کو یورپ کی ضرورت ہے، اسی طرح برطانیہ بھی یورپ کی تجارتی مجبوری ہے۔ کیوں کہ یو نائیٹڈکنگڈم کی امپورٹ اور ایکسپورٹ کے تناسب میں زیادہ فرق نہیں۔ یورپی یونین سے نکلنے اور رائٹ آف فری موومنٹ کے خاتمہ کے بعد برطانیہ اپنی امیگریشن پالیسی پر نظرِثانی کرے گا اور وہ کامن ویلتھ کنٹریز یعنی دولت مشترکہ کے ممالک (جس میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں) سے افرادی قوت کے لیے امیگریشن کے دروازے کھولے گا۔ سٹوڈنٹس اور بزنس ویزے کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی، لیکن فی الحال تو کووڈ 19 یعنی کرونا وائرس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں، یونیورسٹیاں اور کالجوں میں تعلیمی سلسلہ جزوی طور پر معطل ہو کر رہ گیا ہے ۔ امید ہے کہ نیا سال مثبت امکانات اور عالمی وبا سے نجات کی توقعات کے ساتھ طلوع ہوگا۔
………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے