243 total views, 1 views today

قوتِ برداشت دو طرح کی ہوتی ہے، ایک وہ جس کی وجہ سے انسان مشکل سے مشکل حالات کا مقابلہ کرتا ہے۔ بھوک، پیاس اور دیگر بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محرومی، موسموں کی شدت، خطرناک بیماریوں کی تکلیف اور صدمے برداشت کرلیتا ہے۔ حق تلفی اور ظلم سہتا ہے، اور نا انصافی پر صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔
دوسری قوتِ برداشت اپنے سے مختلف انسانوں کے رنگ، نسل، مسلک، مذہب، زبان اور ثقافت کو قبول اور تسلیم کرنا ہے۔ مشرق اور مغرب میں قوتِ برداشت کے پیمانے اور معیار مختلف ہیں۔ برطانیہ ایک ایسا ملٹی کلچرل یعنی کثیرالثقافتی ملک ہے جہاں دنیا بھر کے درجنوں مذاہب، ثقافتوں اور تہذیبوں کے لوگ آباد ہیں جو نہ صرف مختلف زبانیں بولتے ہیں بلکہ اپنی منفرد اقدار کے ساتھ اس ملک میں خوشحال اور آرام دِہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں انگریزوں کی قوتِ برداشت (TOLERANCE) قابلِ تعریف ہے۔ وہ نہ صرف اِن مذاہب اور ثقافتوں کو تسلیم اور قبول کرتے ہیں بلکہ انہیں برطانوی معاشرے کے کثیر الثقافتی حسن کا حصہ قرار دیتے ہیں اور انہیں پنپنے کا پورا موقع فراہم کرتے ہیں۔ سوا چھے کروڑ آبادی پر مشتمل یونائیٹڈ کنگڈم میں تقریباً 8 فیصد ایشیائی، 4 فیصد سیاہ فام اور 5 فیصد سے کم دیگر اقلیتوں کے لوگ آباد ہیں۔ برطانیہ میں 60 فیصد عیسائی، 5 فیصد مسلمان، 2.5 ہندو،0.5 یہودی اور 26 فیصد کسی بھی مذہب کو نہ ماننے والے اور باقی دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں۔
برطانیہ میں 8 8فیصد آبادیانگریز ہیں۔ اس ملک میں لوگوں کی اکثریت یہاں پر آباد اقلیتوں کے برابری کے حقوق کا احترام کرتی ہے۔ یہاں نسلی تعصب سے نمٹنے کے لیے قوانین بہت مؤثر ہیں۔ بچوں کو پرائمری سکول کی تعلیم کے دوران ہی دیگر مذاہب اور ثقافتوں کے بارے میں پڑھایا اور متعارف کرایا جاتا ہے۔ انگریزوں میں ظلم، ناانصافی اور بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محرومی کے خلاف قوتِ برداشت نہ ہونے کے برابر ہے۔ مَیں جب مشرق و مغرب کے اس معاشرتی تضاد پر غور کرتا ہوں، تو حیران ہوکر سوچتا ہوں پاکستان اور مسلمان ممالک کے لوگوں کی اکثریت بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محرومی، ظلم اور ناانصافی کو کیوں برداشت کرلیتی ہے؟ شاید وہ اسے اللہ کی رضا سمجھتی ہے اور اپنی زندگی کی مشکلات، مسائل اور مصیبتوں پر صبر کر کے اس کی جزا کے لیے آخرت کی زندگی کا انتظار کرتی ہے۔ اس معاملے میں ان کی قوتِ برداشت واقعی حیران کن ہے، جب کہ اپنے سے مختلف عقیدے، مسلک، مذہب، رنگ، نسل اور زبان و ثقافت کے لوگوں کے لیے ان کی قوتِ برداشت ناقابلِ یقین حد تک کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں تعصب کی جڑیں اور زیادہ گہری ہوتی چلی جا رہی ہیں۔
ماضیِ قریب میں اسلامی جمہوریۂ پاکستان میں امام بارگاہوں اور مزارات پر خود کش حملے، مندروں اور گرجا گھروں میں دہشت گردی، کراچی میں مہاجروں اور غیر مہاجروں کے درمیان تصادم اسی عدم برداشت کے روّیے کا شاخسانہ ہے۔ بظاہر تو دنیا بھر کے مسلمان اخوت کی رسی تھامے ہوئے ہیں، لیکن اگرآپ صرف مڈل ایسٹ کے ممالک میں مقامی عرب لوگوں کے غیر عرب مسلمانوں سے سلوک اور رویے کے بارے میں جانتے ہوں، تو آپ کو بخوبی اندازہ ہوگا کہ مسلمان رنگ و نسل کے ضمن میں کس قدر شدید تعصب کا شکار ہیں۔ ویسے تو دنیا بھر کے مسلمان اور خاص طور پر پاکستانی مسلمان ظلم، جبر، ناانصافی، عدم مساوات کے خلاف نبردآزما رہنے اور معاشی بدعنوانی کے قبول نہ کرنے کے دعوے تو بہت کرتے ہیں، مگر عملی طور پر معاملات اس کے برعکس ہیں۔ مسلم اور غیر مسلم معاشروں میں قوتِ برداشت کا یہی فرق ہے جس کی وجہ سے وہ ترقی اور خوشحالی کی نئی منزلوں کی طرف رواں دواں ہیں، جب کہ ہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نئے نئے مسائل اور مشکلات کی دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔
حضور نبی کریمؐ، خاتم النبیینؐ نے اپنی امت کو سب سے پہلے علم کی روشنی عطا کی جس کے نتیجے میں آپؐ کے پیروکار ایک ایسے شعور سے سرفراز ہوئے جس نے ظلم، نا انصافی اور تعصب کے اندھیروں کو دور کیا اور مساوات کا ایسا لازوال پیغام دیا جس کی بنیاد رنگ و نسل کی بجائے تقوا اور کردار پر تھی۔ انسانی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ قوموں اور ملکوں کا عروج و زوال صرف اور صرف علم اور تعلیم سے مشروط ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مسلمان علم کے رستے پر چلتے رہے، عروج کی منزلیں اُن کا مقدر بنتی رہیں۔ میڈیکل سائنس، ریاضی، فلکیات، آرکی ٹیکچراور دیگر شعبوں میں مسلمانوں نے جو کار ہائے نمایاں سرانجام دیے، اُن کا اعتراف اہلِ مغرب ہمیشہ کرتے رہے۔ مذہبی تعلیم ہمیں متوازن اور اچھا انسان بناتی ہے جب کہ غیر مذہبی علم ہمیں نئے امکانات اور ترقی کے رستے پر لے جاتا ہے۔ عصرِ حاضر میں ہمارے بہت سے مسلمان دانشور اور مذہبی رہنما، اہلِ مغرب کی ترقی کی ایک بڑی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ِان غیر مسلم ممالک نے اسلام کی بنیادی تعلیمات سے اپنی خوشحالی کا نظام کشید کیا ہے، سوشل ویلفیئر سسٹم ہو، یا نظامِ عدل و انصاف، رنگ و نسل سے بالاتر مساوات کے قوانین ہوں، یا انسانی حقوق کا تحفظ، اہلِ مغرب نے یہ سب اسلام کی تعلیمات سے مستعار لیا ہے۔ اگر ایساہی ہے، تو وہ کون سی رکاوٹ ہے کہ جو ہمیں ان تعلیمات پر عمل کرنے سے روکتی ہے؟ حالاں کہ علم کو مومن کی کھوئی ہوئی میراث قرار دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت کس قدر حیران کن ہے کہ آج دنیا بھر میں غیر مسلموں کی بڑی تعداد قرآنِ کریم کے تراجم پڑھ کر روشنی حاصل کررہی ہے، اور ہم ہیں کہ اسے اپنے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات تسلیم کرنے کے باوجود صرف اس کی تلاوت کرتے اور چوم کر جزدان میں لپیٹ کر رکھ دیتے ہیں۔ اس کے ترجمے کو پڑھنے اور اس پر غور و فکر کرنے کی بجائے ہم نے صرف اس کی تلاوت کو اپنے لیے کارِثواب سمجھ لیا ہے، اور اسی کو اپنے لیے کافی سمجھتے ہیں۔
پاکستان میں قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے والا ہر شخص اگر اس مقدس ضابطۂ حیات کو ترجمہ کے ساتھ پڑھنا اور اس کی تعلیمات پر غور کرنا شروع کر دے، تو یقینا اُسے کسی اور کی پیروی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اللہ اور اس کے رسول خاتم النبیینؐ کی تعلیمات ہی اس کے لیے کافی ہوں گی۔ آج کے حالات میں ہم اگر مشرق و مغرب کے زوال و عروج کا موازنہ کریں، تو ایک حقیقت بہت واضح ہوکر ہمارے سامنے آئے گی اور وہ ہے ترجیحات کا تعین۔ مسلمان ممالک کے لوگوں اور خاص طور پر مسلمان حکمرانوں کی ترجیحات صرف اور صرف اپنے اختیار و اقتدار کا تحفظ اور ہرجائز و ناجائز ذریعے سے اپنے مالی وسائل میں اضافہ بلکہ بے حساب اضافہ کرنا ہے۔ ملک و قوم کی فلاح و بہبود کبھی اُن کی اولین ترجیحات میں شامل نہیں رہی جب کہ مغربی اور غیرمسلم ممالک کے اربابِ اختیار کی ترجیحات میں اپنے ملکوں کے عوام کے لیے بہترین تعلیم و تربیت اولین ترجیح ہے، جس کے بعد بنیادی ضروریاتِ زندگی کی ہر ایک کے لیے فراہمی، انصاف اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اہلِ مغرب نے اس حقیقت کو جان لیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم وتربیت سے ہی ذمہ دار شہریوں پر مبنی معاشرہ تشکیل پاسکتا ہے، جو ملک وقوم کی ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہوتا ہے۔ معلوم نہیں ہم مسلمانوں کی ترجیحات کب درست ہوں گی اور ہم کب روشنی اور اندھیرے میں تمیز کرنے کے قابل ہوسکیں گے؟ ہمارے لوگوں کی حالت اورکیفیت بھی تعلیم و تربیت کے فقدان کی وجہ سے عجیب ہوچکی ہے، جن معاملات پر انہیں صدائے احتجاج بلند کرنی چاہیے، وہاں وہ خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں اور جہاں انہیں خاموش رہنا چاہیے، وہاں جذباتی ہوکر شور مچاتے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ ہم سب کو غور کرنا چاہیے کہ ہمارے پاس دنیا کا بہترین ضابطۂ حیات ہے مگر ہماری زندگیاں اتنی بے ضابطہ، علم اور برکت سے محروم کیوں ہیں؟
بقولِ بیدلؔ حیدری
بیدلؔ لباسِ زیست بڑا دیدہ زیب تھا اور
ہم نے اس لباس کو اُلٹا پہن لیا
…………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے