57 total views, 1 views today

تصویر کا دوسرا رُخ کیسا ہوگا؟ اس پر قبل از وقت قیاس آرائی تو نہیں کی جاسکتی، لیکن یہ رُخ ہے کون سا؟ اس پر البتہ اظہاریہ بنتا ہے۔
تصویر کا دوسرا رُخ کیا ہے؟ اس حوالے سے سوچ بچار اور سیاسی شخصیات کی متلون مزاجی کا جائزہ لینے کے بعد اک مبہم سی صورتحال کا خاکہ بنتا بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ سیاست میں حرفِ آخر کچھ نہیں ہوتا، لچک اور ’’کچھ دو، کچھ لو‘‘ کے اصولوں کے تحت چلنے والے اس نظام میں کسی بھی وقت، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
سنجیدہ حلقوں کی جانب سے بار ہا کہا گیا کہ ریاستی اداروں کو اپنے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاستی ستونوں کے ایک ستون میں بھی دراڑ سے پورے نظام کو ہی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم اس حوالے سے نقار خانے میں توتی کی آواز نہ سننے کا گلہ کرنا بے سود ہے۔ کیوں کہ موجودہ نظام میں “ڈی جے سسٹم” آگیا ہے۔ بھلا اس کے آگے توتی کی آواز کی کیا حیثیت ہے؟
حزبِ اختلاف میں شامل جماعتوں کی جانب سے پاؤر شو کے بعد حکومتی غلطیاں، معاملے کو سنگینی کی طرف لے جا رہی ہیں۔ بالخصوص کراچی جلسے کے بعد جو کچھ ہوا، وہ ایک پیج پر رہنے والوں کی صفوں میں دراڑ کا باعث بن چکا ہے۔ سیاسی پنڈتوں نے قانون نافذ کرنے والوں کو سیاست میں اس طور استعمال ہونے کو نیک شگون قرار نہیں دیا۔ وزیرِ اعظم عمران خان اپنے فیصلوں میں مداخلت میں بے بس ہونے اور “یُو ٹرن” کے حوالے سے مخصوص شہرت حاصل کرچکے ہیں۔ اقتدار کے تخت پر بیٹھنے کی وجہ سے انہیں کئی معاملات میں اپنے ماضی کے کئی دیرینہ اصولی مؤقفوں سے پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔ ماضی میں دیے گئے ان کے بیانات کا اجمالی جائزہ لیں، تو باآسانی سمجھ میں آجاتا ہے کہ عمران خان، مروجہ نظام میں تبدیلی کے لیے کثرت سے مصلحت پسندی سے بھی کام لے رہے ہیں۔
بظاہر تو تمام ادارے ایک پیج پر ہیں، لیکن شخصی بنیادوں پر نظریات اور مفادات کا ٹکراؤ بھی واضح نظر آرہا ہے۔ پی ٹی آئی کو توقع کے مطابق قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت نہیں ملی، جس کا انہیں بھرپور یقین تھا۔ ہاتھوں میں رسی بندھی ہوئی ہے، لیکن وہ اتنی سخت نہیں کہ انہیں تکلیف محسوس ہو۔ بے بسی اور مکمل خودمختاری کا حاصل نہ ہونا، عمران خان کی فطرت اور مزاج کے خلاف ہے۔ اقتدار کی مسند پر بیٹھنے سے قبل کے عمران خان کی سوچ، نظریہ اور عملی کاوشوں سمیت بیانات، نئے عمران خان سے قطعی مختلف ہیں۔ اسے حکومتی مجبوری کا نام بھی دیا جاسکتا ہے، لیکن یہ امر واضح ہے کہ وہ خود کو مکمل آزاد تصور نہیں کرتے۔ کسی انسان کی سوچ مختصر وقت میں تبدیل نہیں ہوتی۔ خاص طور مخصوص سوچ اور نظریے پر چلنے والا، برس ہا برس انتہائی کم تعداد میں عوام کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوا، لیکن اقتدار کے لیے سمجھوتے پر راضی کیوں ہوا؟ اب یہ راز، “راز” نہیں رہا۔
اپوزیشن، حزبِ اقتدار کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو کھلم کھلا چیلنج دے رہی ہے۔ جلسے جلوس کی حد تک تو اسے وقتی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے، لیکن عوامی رائے کو بدلنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اس کے لیے حزبِ اختلاف کو کڑی محنت کرنا ہوگی۔ سیاست “اناڑی” یا “کھلاڑی” کا کھیل نہیں کہ جس میں کسی کی ہار اور جیت سے فرق نہ پڑتا ہو، بلکہ وطنِ عزیز کو درپیش چیلنجز میں تمام ریاستی ادارے سہ جہتی حکمت عملی سے کام کرتے ہوئے باریک بینی سے عمل پیرا ہیں۔ بظاہر اس وقت سیاسی طور پر ایسی قیادت کا فقدان پیدا کرنے کا تاثر دیا جا رہا ہے کہ مملکت کے مسائل حل کرنے کے لئے کوئی ایسی جماعت نہیں جس پر تیسری مرتبہ اعتماد کیا جاسکے۔ متبادل قیادت کے فقدان کے نظریے کو گویا پی ٹی آئی اپنے کھیل میں فرنٹ فٹ پر کھیل رہی ہے۔
قانون سازی کرنے والے اداروں کی بے وقعتی کا ایک ایسا تاثر بھی عوام میں جا رہا ہے کہ کھربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود دو ایوانی اور پارلیمانی نظام مسائل کا حل تلاش نہیں کرسکتا۔ سوا دو برس ہنگامہ آرائیاں اور پارلیمنٹ کو سیاسی پلیٹ فارم بنانے کی روش نے ووٹر کے اعتماد کو مجروح کر دیا ہے، اور صدارتی نظام کو پارلیمانی نظام سے بہتر قرار دینے کی کوششیں جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق ماضی کے دھرنے میں دی جانے والی تجویز “ٹیکنو کریٹ گورنمنٹ” بھی زیرِ غور ہے۔
عمومی رائے جو سامنے آئی ہے کہ موجودہ حکومت کو پارلیمان میں ایسی اکثریت حاصل نہیں جس کی وجہ سے وہ من پسند قوانین بنائے۔ بالخصوص سینیٹ میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے قانون سازی کے مرحلے میں حکومتی پسپائی، آرڈیننس جاری کرنے سے عیاں ہو جاتی ہے۔
تیسری حکمت عملی بہت حساس نوعیت کی ہے۔ سیاسی پنڈتوں نے عمران خان کی شخصیت کے جائزے میں اجمالی رائے قائم کی ہے کہ سینیٹ انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے تک عمران خان کئی معاملات میں مصلحت کے تحت پرانی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے۔ اسے دباؤ سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے، تاہم جیسے ہی انہیں سینیٹ میں اکثریت مل جاتی ہے، تو وہ اُن قیود کو پھلانگ بھی سکتے ہیں جو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ اور سیاست دانوں میں تلخی کا سبب بنتی رہی ہیں۔
ریاستی اداروں کا ایک پیج پر ہونے کا بیانیہ، گو کہ اس وقت کمزور ہوچکا ہے اور اس میں واضح دراڑیں دیکھی جاسکتی ہیں، لیکن فی الوقت سینیٹ انتخابات تک نئے عمران خان کا بیانیہ عملی طور پر اپوزیشن کے لیے زیادہ پریشان کن نظر نہیں آ رہا۔
حزبِ اختلاف اس وقت جانتی ہے کہ حکومت کو کئی ایسے داخلی و خارجی مسائل درپیش ہیں کہ انہیں مفاہمت کی سیاست کے لیے بیک ڈور چینل بالآخراستعمال کرنا ہوں گے۔
ریاستی اداروں کے خلاف لب کشائی، دشنام طرازی اور الزامات نئی بات نہیں، لیکن موجودہ دور میں جس طرح کابینہ کے بعض اراکین،حزبِ اختلاف کے خلاف بیانیہ میں ریاستی اداروں کے خود ساختہ ترجمان بنے ہوئے ہیں، ان کی وجہ سے ریاستی اداروں کی غیر جانب داری متاثر ہو رہی ہے اور سخت بیان بازیوں سے عالمی سطح پر ریاستی اداروں کا کردار بدقسمتی سے حکومتی ردِ عمل کی وجہ سے بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔ اپوزیشن حکومت گرانے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں، اس سے اہم اَمر یہ ہے کہ اپوزیشن کے خلاف حکومتی اقدامات سے ریاستی اداروں اور حکومت کے درمیان ایک غیر مرئی دراڑ پیدا ہوچکی ہے۔ یہ دراڑ وقت کے ساتھ گہری ہو سکتی ہے اور اس کے اثرات کو سینیٹ انتخابات کے فوراً بعد دیکھا جاسکے گا۔ ایسے موقعوں پر عموماً یہی کہا جاتا ہے کہ مملکت اس وقت نازک دور سے گذر رہی ہے۔
……………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے