40 total views, 2 views today

صفائی بذاتِ خود حسن و زیبائی ہے۔ قدرت کے تمام مظاہر میں صفائی نظر آتی ہے، لہٰذا انسان پر اس کی ذاتی صفائی کے ساتھ ساتھ ماحول کی صفائی بھی لازم ہے۔
ہم میں سے بیشتر لوگ ذاتی صفائی کو تو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ماحول کی صفائی سے لاپروائی برتتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمانِ مبارک ہے کہ ’’بے شک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے اور صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘
سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے کہ ’’صفائی نصف ایمان ہے۔‘‘
غور کا مقام ہے کہ آسمانی اور آفاقی مذہب ’’اسلام‘‘ نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے، لیکن اس کے ماننے والوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔
ہمارا اپنا بھی مشاہدہ ہے کہ ہم وطنِ عزیز کے جس شہر میں بھی گئے، تو ہر جگہ گندگی کے ڈھیر اور بھبھوکے ہمارا منھ چڑاتے نظر آئے۔
عموماً یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جہاں کہیں تعلیمی ادارہ ہو، ’’پارک‘‘ ہو یا ’’عوامی لیٹرین‘‘ وغیرہ، یہ جگہیں عموماً اہلِ وطن کی صفائی سے متعلق بے حسی اور صحت و صفائی کے شعور کے فقدان کا منھ بولتا ثبوت ہوں گی۔
ذرا اپنے آس پاس پر بھی نظر ڈالیں، تقریباً ہر شخص ’’فیشن‘‘ اور دیگر کاموں میں اہلِ مغرب کی نقالی کرتا نظر آئے گا، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہم نے اہلِ مغرب سے اچھی باتیں نہیں سیکھیں۔
مثال کے طور پر لندن، پیرس، بیجنگ، یورپ اور امریکہ کے دوسرے شہروں کی صفائی اور خوبصورتی قابلِ مثال ہے۔ کیوں کہ حکومت کے ساتھ ساتھ عوام بھی اپنے شہروں کی صفائی اور خوبصورتی کا پورا خیال رکھتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ہمارا حال یہ ہے کہ پھلوں کے چھلکے اور سگریٹ کے ٹوٹے وغیرہ ’’ڈسٹ بن‘‘ میں ڈالنے کے بجائے سڑک اور راستے پر پھینکتے ہیں۔
ہماری گلی کوچے گندگی اور تعفن کے مراکز نظر آتے ہیں اور نالیاں اور گٹر ’’لیک‘‘ ہوتے ہیں، جب کہ اس کے مقابلے میں ہم اپنے گھروں کو صاف ستھرا اور آراستہ و پیراستہ رکھنے کی حتی المقدور کوشش کرتے ہیں، تاکہ دوسروں پر اپنا رُعب اور برتری ثابت کریں۔
ہمارے لیے یہ غور کا مقام ہے کہ کہ ایسا کردار ادا کرکے ہم دوسری اقوام میں خود کو کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟
ہمیں اپنا گھر جتنا پیارا ہوتا ہے، تو یہ ملک بھی ہمارا مشترکہ گھر ہے۔ لہٰذا اس کے پارک اور گلی کوچے وغیرہ پاک و صاف رکھنا ہم سب کا فرض ہے۔ اگر کوئی لاپروا شخص سڑک یا راستے پر پھل کا چھلکا وغیرہ ڈالے یا راستے اور سڑک کے بیچ کوئی پتھر وغیرہ پڑے ہوں، تو انہیں ہٹانے آسمان سے کوئی فرشتہ نہیں اُترے گا، بلکہ اس سلسلے میں وطن کے ہر باسی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
الغرض، ہم کتنے بھی پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ کیوں نہ ہوں، اگر ہمیں احساسِ زیاں نہ ہو اور ہمارے دلوں میں فکر و عمل کی تبدیلی نہیں آتی، تو ہمارے خیال میں ہم اُجڈ جاہلوں سے کم نہیں۔
مل جل کے ارضِ پاک کو رشکِ چمن کریں
کچھ کام آپ کیجیے، کچھ کام ہم کریں
…………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے