28 total views, 1 views today

پاکستان کی ترقی کی راہ میں جہاں بے شمار مسائل حائل ہیں، ان میں سے ایک بہت بڑا مسئلہ سوچوں پر پہرا بھی ہے۔ عمومی طور پر ہماری اکثریت خود پر تنقید اور اظہارِ رائے کا اختلاف برداشت کر ہی نہیں سکتی۔ اسی طرح ہمارے قومی ادارے ہوں، یا سرکاری محکمہ جات، سب بحیثیتِ مجموعی خود کو تنقید سے ماورا سمجھتے ہیں اور جو کوئی ان پر تنقید کرے، اس کو غلط، گمراہ یا جاہل نہیں کہتے بلکہ صاف صاف ’’غدار‘‘ قرار دے کر اس کے واسطے زندگی مشکل بنا دی جاتی ہے۔ میں چوں کہ خود اس کا ایک نشانہ رہا، بلکہ اب تک ہوں، سو مجھے ذاتی طور پر بہت تلخ تجربات ہیں۔ مثال کے طور پرمیں فوج کے خلاف ہوں۔ کیوں……؟ میرے دوستوں کے پاس میری اکثر باتوں کا جب جواب نہیں ہوتا،تو ایک ہی منترہ ’’میں فوج کے خلاف ہوں۔‘‘ لیکن کیسے، کیوں، اس کا جواب نہ ہے نہ ہوگا۔ میرا آدھا خاندان اور پوراحلقۂ احباب فوجی ہے۔ مَیں فوج اور اس کے ملازمین کی بطور محکمہ اتنی ہی عزت کرتا ہوں، جتنی کوئی اور پاکستانی۔ دوسرا ذرا فوج کا احاطہ اور تعریف کریں۔ ملک کے تمام محافظ محکمۂ جات مثلاً بری، بحری اور فضائی فوج، رینجرز، لیوی بارڈر انٹیلی جنس، سکاؤٹ، رضا کار کسی نا کسی طور پر فوج کا ہی حصہ ہیں۔ میرا کوئی ایک لفظ، کوئی شخص نیوی، ائیرفورس، رینجرز، لیوی وغیرہ بارے دکھا دے۔ جہاں مَیں نے کوئی اعتراض، کوئی تنقید کی ہو۔ اور بری فوج کے خلاف بطورِ مجموعی دکھا دے۔ مَیں بارڈر اور بارکس میں موجود تمام سولجرز کا احترام کرتا ہوں۔ میرے بچے فوجی سکولوں میں پڑھتے ہیں، تو پھر میں کیسے فوج کے خلاف ہوا؟ مَیں نے خود ’’این سی سی‘‘پاس کی ہے۔ میری تنقید کا محور صرف چند کرپٹ آئین شکن جرنل ہی ہوتے ہیں۔ وگرنہ میں نے کبھی جرنل ٹکا خان، آصف جنجوعہ اور اشفاق پرویز کیانی پر قطعی تنقید نہیں کی۔ اور جرنل جہانگیر کرامت کی توتصویر کو سیلوٹ مار کر سلام کرتا ہوں کہ اصل سولجر وہی تھا۔ لیکن ایوب، یحییٰ، ضیا اور مشرف جیسوں پر بات نہ کرنا غداری ہی ہے۔ مَیں ان کو امریکی ٹٹو سمجھتا ہوں، جنہوں نے محض ہوسِ اقتدار میں اس ملک کی تباہی کی۔ بندوق کے زور پر بدمعاشی کی۔ اپنی قوم کو پابندِ سلاسل کیا۔ کوڑے مارے اور قوم کے قائدین کو ذلیل کیا۔ قتل کروایا۔ جلاوطن کیا۔ ان کی فرعونیت سے تو جونیجو اور جمالی جیسے بے ضرر لوگ بھی رسوا ہوئے۔ ان لوگوں نے اپنے مکروہ مقاصد واسطے فوج کے تقدس کا اندھا استعمال کیا۔ جوانوں کی قربانیوں کو ذات واسطے کیش کیا۔ ملک کے علاوہ سب سے زیادہ ’’فوج‘‘ کو بدنام کیا۔ فوج کو متنازعہ کیا۔ سیاست دانوں کے خلاف ہونے والی روایتی نفرت کو ملک کے خلاف بنایا۔ ملک میں صوبائیت اور مسلک کی تقسیم کی۔ سیاسی انارکی کو بڑھاوا دیا۔ قوم کو تقسیم در تقسیم کیا۔ سو ان سے میری نفرت بطورِ پاکستانی مکمل جواز رکھتی ہے۔
قارئین، آج یہ چند جرنل صرف سیاست میں دخل اندازی روک دیں، تو میرا یا کسی کا ان سے لینا دینا بالکل نہیں۔ اور اگر میرے نادان دوست یہ سمجھتے ہیں کہ جرنل ضیا جیسے منافقوں پر تنقید، فوج مخالفت یا غداری ہے، تو بے شک میں غدارِ کامل ہوں۔ مجھے بھی لٹکا دو۔
دوسرا طبقہ ہے مولوی حضرات کا۔ یہ بہت ہی عجیب و غریب صورتِ حال ہے کہ اگر مذہب کے حوالے سے کوئی سوال کیا جائے، تو ہمارے علما حضرات بجائے اس کے کہ اس کا معقول جواب دیں، یا یہ کہہ دیں کہ وہ کچھ تحقیق کے بعد جواب دیں گے۔ بہت ہی سادہ حربہ استعمال کیا جاتا ہے اور مذکورہ شخص کو دائرہ اسلام سے ہی خارج کر دیا جاتا ہے۔ اگر آگے سے جوابی بیانیہ آئے، تو پھر اس چیز کی کوئی ضمانت نہیں کہ آپ پر توہینِ مذہب و مقدس ہستیوں کی ہتک کا الزام ٹھوک دیا جائے۔
اب تیسرا نمبر ہے سیاست دانوں کا۔ ہمارے ملک کا المیہ ہے کہ یہاں بھی جہاں سب سے ذیادہ جمہوری رویہ اختیار کیا جانا چاہیے، وہاں بھی شدت پسندی اسی جوبن سے وارد ہے۔ جہاں آپ نے کسی سیاسی راہنما پر تنقید کی، وہی اس کے کارکن و چمچے بدکلامیوں و گالیوں سے لیس ہو کر آپ پر حملہ آور ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ بے شک اس کا آغاز تو مسلم لیگ ن نے کیا تھا، لیکن اس کو کمال پر تحریکِ انصاف نے پہنچا دیا ہے۔ آپ کی ہلکی سی تنقید آپ کی خاطر گالی گلوچ کا سبب تو بنے گی ہی، ساتھ آپ کو جاہل، کور دماغ کا اعزاز بھی بخشا جائے گا، اور آخر میں آپ کو تمغۂ غداری مکمل پروٹوکول سے ملے گا۔
اسی طرح کا حال عدلیہ کا ہے۔ یہ سارا ملک جانتا ہے کہ ہمارا نظامِ انصاف مکمل طور پر غیر مؤثر ہے۔ عام عوام کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔ اور عدلیہ غیر ضروری طور پر سیاسی مقدمات میں الجھ جاتی ہے۔ لیکن اگر بھول کر بھی کوئی تنقیدی بات کر لی جائے، تو پھر توہینِ عدالت میں آپ پر سختی آنا بہت معمولی بات ہوگی۔
اس سلسلے میں ایک اہم ادارہ صحافت کا بھی ہے۔ اب صحافت میں بے تحاشا گند آچکا ہے، جو سرِ عام باؤ تاؤ کرتے ہیں اور تقریباً ہر سرکاری محکمہ میں بدمعاشی کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اگر آپ ان کو ان کی زیادتیوں پر متوجہ کریں، تو ایک دم بپھر جاتے ہیں اور آپ پر حکومتی یا انتظامی ٹاؤٹ ہونے کا الزام تو لگنا ہی ہے لیکن کچھ معمولات میں آپ کے واسطے کچھ مزید مشکلات بھی کھڑی ہو سکتی ہیں۔ اگر سروے کیا جائے، تو آپ کو معلوم ہو گا کہ اس معاشرے کا سب سے بلیک میلر طبقہ صحافی ہی ہوں گے۔
قارئین، آج کل ایک اور طبقہ بھی سامنے آگیا ہے اور وہ ہے وکلا کا۔ اب تو وکیل غیر سرکاری طور پر تھانہ دار سے لے کر واپڈا کے ایکسین تک اور کمیشنر سے لے کر جج تک سب کا اختیار لیے بیٹھا ہے۔
اسی طرح کم و بیش واپڈا، پولیس، نادرا اور انکم ٹیکس وغیرہ کا بھی حال ہے۔ یعنی اب ملک کے حالات یہ ہو گئے ہیں کہ ایک تو انتظامی و سیاسی طور پر میڈیا سمیت عام عوام تک کی زبان بندی ہو رہی ہے اور دوسرا معاشرے میں انارکی کو اس حد تک پہنچا دیا گیا ہے کہ عمومی عوامی رویہ بھی نظریاتی اور فکری طور پر انتہا پسند بلکہ فکری دہشت گرد بن گیا ہے۔ افکار و اظہار کی آزادی مفقود ہو چکی ہے۔شخصی و ادارہ جاتی مفادات نے ایک مائنڈ سیٹ بنا دیا ہے۔ ہر کوئی خود کو ناگزیر اور پاکستان اور دین کا خود ساختہ ٹھیکیدار سمجھ رہا ہے۔ اب جہاں کہیں کسی کو ذاتی مفادات پر چوٹ لگتی نظر آتی ہے، وہاں ملکی مفاد اور دین کی بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے۔اور بات یہاں تک ہی نہیں رہتی بلکہ اب تو مفادات کی ہوس میں ہر شخص یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ بیک وقت ساری ٹوپیاں پہن لے۔ اسی وجہ سے اختیارات کا تجاوز اور دوسرے کے اختیارات میں مداخلت ہمارا مزاج بن چکا ہے۔ آج یہ تماشا بن چکا ہے کہ عدلیہ پارلیمنٹ کے اختیار خود کنٹرول کر رہی ہے۔ فوجی جرنیل خود کو سپریم وزیراعظم سمجھتے ہیں۔ مجال ہے کہ وزیراعظم کوئی کام خود سے کرنے بارے سوچے بھی۔ دوسری طرف منتخب پارلیمنٹ کے ارکان بھی یہ شدید خواہش رکھتے ہیں کہ وہ قانونی سازی کرنے کے بجائے علاقہ کے تھانیدار، تحصیل دار اور ڈی سی بن جائیں۔ یہی خواہش ان کو قانون ساز کے بجائے علاقے کا دستہ بند بدمعاش بنا دیتی ہے۔ سو اس بارے میں سول سوسائٹی اور قوم کے دانشوروں کو سوچنا چاہیے ۔ قوم کی عمومی تربیت مطلوب ہے کہ فکری پھیلاؤ ضروری ہے، تنقیدی جائزہ ضروری ہے۔ کیوں کہ فکری انتہا پسندی نہ صرف انسانی ترقی کو معکوس کردیتی ہے، بلکہ معاشرے میں ہر قسم کی ناانصافی اور بدمعاشی کا باعث بنتی ہے۔ یہاں اداروں کو بھی غور کرنا ہوگا کہ غداری کے لوازمات صرف ان پر تنقید سے وابستہ نہیں بلکہ اس کا میریٹ کچھ اور ہوتا ہے۔ سو عوام پر خواہ مخواہ کا غیر ضروری دباؤ نہ ڈالا جائے اور معاشرے کو آزاد فضا میں رہنے دیا جائے۔ اسی سے ملک و قوم، ترقی کی جانب بڑھتے ہیں۔
………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے