39 total views, 1 views today

پچھلے ہفتے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ حزبِ اختلاف کی واضح اکثریت کے برعکس حکومت نے ’’ایف اے ٹی ایف‘‘ سے متعلق قوانین پاس کیے۔ حکومت اپنی اس کامیابی پر شاداں ہے، جب کہ حزبِ اختلاف نالاں ہے کہ ان کے بندوں کو ’’مینجڈ‘‘ کیا گیا ہے۔ اس قانون سازی کے بعد وزیراعظم پاکستان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ حزبِ اختلاف اور پاکستان دشمنوں کی ترجیحات ایک ہیں۔ ساتھ میں یہ بھی فرمایا کہ حزبِ اختلاف سے کوئی بھی کمپرومائز کرسکتا ہوں، لیکن کرپشن پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔
یہ سنتے ہی حکومتی بنچوں پر بیٹھے لوگوں نے ڈیسک بجائے ۔ خیر، بات یہاں تک رکتی تو بھی اچھا تھا، لیکن اجلاس کے بعد میڈیا میں لفظی جنگ شروع ہوگئی۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا جب کہ حکومتی ترجمانوں نے حزبِ اختلاف کو ’’غداراور ملک دشمن‘‘قراردیا۔ باقی باتیں تو اپنی جگہ کہ سیاست میں کچھ بھی کہا جاسکتاہے، لیکن یہ ’’غدار‘‘کا لفظ اتنی آسانی سے کیسے لوگ استعمال کرتے ہیں؟ تعجب خیز بات ہے! یعنی جو لوگ پارلیمان میں بیٹھے ہیں۔ بے شک وہ حزبِ اختلاف میں ہوں، لیکن ہیں تو پاکستانی عوام کے نمائندے۔ان کو ’’غدار‘‘قرار دینا کیا یہ عوام کو غدار سمجھنا ہے؟
بدقسمتی سے پاکستان میں روزِ اول ہی سے ہر مخالف آواز کو غدار قرار دینے کا رواج ہے۔ ملکی تاریخ پڑھیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک مکمل فہرست ہے ان لوگوں کی جن کو مختلف وقتوں میں غدار قراردیا گیا۔ آئیے، آج کی نشست میں ان ’’غدارانِ وطن‘‘پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
٭ حسین شہید سہروردی:۔ غداروں کی اس فہرست میں پہلا نام حسین شہید سہروردی کا ہے، جو متحدہ ہندوستان میں 1946ء سے 1947ء تک بنگال کے وزیراعظم تھے۔ مشرقی بنگال کو پاکستان بنانے کا سہرا ان کے سر ہے۔ تقسیم کے بعد تین مہینے گاندھی کے ساتھ رہے تاکہ باقی ماندہ بنگال میں مسلمانوں سے متعلق انتظامات کو مکمل کیاجاسکے۔ اس کے بعد پاکستان پہنچے، تو نہ صرف اسمبلی نشست سے محروم کیے گئے بلکہ ’’غدار‘‘ بھی قرار دیے گئے۔ کیوں غدار قرار پائے؟ اس کی اصل وجہ تاحال معلوم نہ ہوسکی، لیکن پھر حیران کن طورپر حسین شہید سہروردی کو 1956ء میں پاکستان کا وزیرِاعظم بھی بنایاگیا۔
٭ باچا خان:۔ مشہور پختون رہنما عبد الغفار خان المعروف باچا خان جو متحدہ ہندوستان میں کانگریس کا حصہ تھے، انگریز سامراج کے خلاف اور متحدہ ہندوستان کے حامی تھے۔ پاکستان بن گیا، تو فروری 1948ء میں پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھایا اور قائد اعظم سے ملاقات بھی کی، لیکن مقتدرہ کو ان کے نظریات سے اختلافات تھے، اس لیے غدار قرار دیے گئے اور پھر جیلوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا۔ یہاں تک کے 1988ء میں باچا خان کے مرنے تک وہ حکومتی فائلوں میں غدار ہی تھے۔
٭ جی ایم سید:۔ پورا نام غلام مرتضیٰ شاہ سید تھا۔ 1943ء میں مسلم لیگ سندھ کے صدر تھے اوراسی حیثیت سے سندھ اسمبلی میں مجوزہ پاکستان میں شمولیت کی قرارداد پیش کرکے پاس بھی کروایا۔ بدقسمتی سے جی ایم سید کو 1946ء میں مسلم لیگ سے نکال کر غدار قرار دیا گیا۔ بعد ازاں تیس سال جیلوں میں گزارتے رہے اور 1995ء کو وفات پاگئے۔
٭ فاطمہ جناح:۔ جو کسی تعارف کی محتاج نہیں، صرف اس وجہ سے غدار قراردی گئی تھیں کہ آمر ایوب خان کے خلاف صدارتی امیدوار تھیں۔ موصوفہ کے خلاف اخباروں میں اشہارات چھپوائے گئے تھے اور کہا جارہا تھا کہ باچا خان کے ساتھ مل کر پختونستان کے لیے کام کرتے ہوئے فاطمہ جناح بھارتی ایجنٹ بن چکی ہے۔ کہاں پختونستان اور کہاں قائد اعظم کی بہن! لیکن کیا کہیے، اقتدار کا نشہ حکمران کو پاگل کردیتا ہے ۔
٭ نواب اکبر بگٹی:۔ بلوچستان کے ایک تعلیم یافتہ سردار تھے۔ ان کے قبیلے نے 1947ء میں پاکستان کے ساتھ شمولیت کا فیصلہ کیا تھا۔ خود اکبر بگٹی بلوچستان کے گورنر اور وزیر اعلیٰ رہ چکے تھے، لیکن جب بلوچستان کے حقوق کی بات کی، تو آمر مشرف نے غدار قراردے کر مار دیا، جن کی موت کے بعد بلوچستان کو بچانے کے لیے ابھی تک فوج اور عوام جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔
علاوہ ازیں نام نہاد قائد عوام بھٹو نے نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگائی اور رہنماؤں عبدالولی خان، خیر بخش مری، سردار عطاء اللہ مینگل اور غوث بخش بزنجو وغیرہ پر ملک کے خلاف’’سازش‘‘ کرنے کا الزام لگایا۔ اسی طرح دیگر مختلف شخصیات اور سیاسی پارٹیز پر بھی پابندیاں لگتی رہیں۔ جماعتِ اسلامی کو بھی کئی بار حکومتی پابندیوں کاسامنا کرنا پڑا۔
بات صرف سیاست دانوں کی ہوتی، تو مانی جاتی لیکن یہاں تو مشہور شاعر فیض احمد فیضؔ کو بھی غدار قرار دے کر ملک بدر کیا گیا۔ حامد میر جیسا صحافی بھی غدار ہے۔ الغرض، اگر کوئی بھی ایسی بات کرے یا ایسے الفاظ لکھے جو ’’حکمران‘‘ کی طبعِ نازک پر ناگوار گزرے، تو اور کچھ نہ سہی ’’غداری‘‘کاسرٹیفکیٹ تو تیار ہے۔ ایسے میں اگر آج بھی حزبِ اختلاف یا کسی اور کو غدار قراردیا جارہا ہے، تو یہ بات قطعاً حیران کن نہیں۔ بقولِ فیض احمد فیض
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے