43 total views, 1 views today

کیا کیا رویا جائے اور کس کس کو رویا جائے……! آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔
مادرِ وطن کے حالات پر نظر ڈالیں اور ساتھ ساتھ مختلف میدانوں کے بڑوں کے اعمال کو دیکھیں، تو ایک قسم کی مایوسی لاحق ہوجاتی ہے اور وہ اس لیے کہ ابھی تک کسی کو احساس ہی نہیں ہورہا کہ وہ سوچے کہ ہم کہاں اور کس سمت جارہے ہیں؟ اگر اسی سمت ہی میں آگے بڑھنا ہے، تو پھر تو ہمیں گڑنگ میں گرنے سے کوئی بھی نہیں بچاسکتا۔ البتہ اللہ کی رحمت سے ناامیدی نہیں۔ ڈھیر ساری اقوام جب گڑنگ کے کنارے پہنچ گئیں، تو یکایک رحمتِ خداوندی نے انہیں گود لیا اور وہ نہ صرف یہ کہ تباہی سے بچے بلکہ آبادی کی طرف بڑھنے لگے، اور یوں سوئے خاتمہ سے بچ کر حسنِ خاتمہ کے سزاوار ٹھہرے۔
قومِ یونس علیہ السلام اس کی واضح مثال ہے، جن پر آنے والے عذاب کے حوالے سے حضرت یونس علیہ السلام کو جب پتا چلا، تو سنۃ اللہ کی اساس تو اب اس کے پاس حکم آنے والا تھا کہ وہ وہاں سے نکل جائے، جیسا کہ سنۃ اللہ رہی ہے۔ اب آپ کو تو اس سنت کا پتا تھا۔ لہٰذا اگلے نص کا انتظار کیے بغیر جس کو اس کے علم اور سنۃ اللہ کے مطابق آنا ہی تھا، لہٰذا آپ نے اجتہادکیا اور نکل گئے۔ بعد میں اس کی قوم کو احساس ہوا کہ ہم نے اچھا نہیں کیا۔ اس رجلِ صالح کی صالح دعوت کو رد کردیا۔ لہٰذا انہوں نے سچے دل سے توبہ کرلی اور ایمان لے آئے۔ یوں وہ عذاب سے بچ گئے۔ اس لیے کہ عذاب کا حکم تو پیغمبر کے پاس آنا تھا، اور وہ وہاں رہے نہیں تھے۔عذاب کا آنا، تو اگر چہ حکم الٰہی سے ہوتا، لیکن اللہ نے اپنی سنت کے اجرا کے لیے خود کچھ قواعد وضوابط اپنائے ہیں، جن میں ایک یہ ہے کہ متعلقہ قوم پر عذاب آنے کے لیے حکم کا آنا تھا، لیکن اسی قوم کے پیغمبر کو اس کے درمیان رہ کے وہ حکم آنا تھا، اور وہ وہاں سے نکل گئے تھے۔
دوسری جانب حضرت یونس علیہ السلام وہیل مچھلی کے اندر ڈال دیے گئے۔ اس سے پتا لگ گیا کہ جہاں نص ہو یا نص آنا متوقع ہو، تو وہاں اجتہاد کی گنجائش نہیں۔
دوسرا یہ کہ حضرت یونس علیہ السلام نے عزیمت کو اپنانا تھا کہ وہ وہاں اگلے حکم تک رہتے۔
تیسری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اگر کسی حکم کے آنے کے لیے ایک سے زیادہ امور کی ترکیب کو سبب بنایا ہو، تو جب تک وہ سارے اجزائے ترکیبی وجود میں نہیں آتے، تب تک وہ سبب وجود نہیں پاتا۔
بہرتقدیر کہنے کامطلب یہ ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ذمہ داریا تو سوچنے سے عاری ہوچکے ہیں، یا وہ سوچنے کی مشقت میں پڑنا ہی نہیں چاہتے۔
ایسا کیوں ہے ؟
اس لیے کہ وہ اپنے اپنے فیلڈ کے ساتھ کسی اخلاص کی وجہ سے نہیں بلکہ مفادات کی وجہ سے جڑے ہوئے ہیں، یعنی وہ اس فیلڈ کا صرف استحصال کرتے ہیں، اور استحصال صرف گناہ اور جرم نہیں، یہ قومی اور ملکی جرم ہے، اور اس جرم میں سارے شعبہ جات کے ذمہ داران ملوث تو کیا ہیں، سر تا پا غرقاب ہیں کہ یہی ان کا مقصد بنا ہے ۔
مسئلہ ایسا نہیں کہ متعلقہ میدان میں کوئی فیصلہ کرتے ہوئے وہ غلطی کرجاتے ہیں۔ کیوں کہ غلطی اگر ہوجاتی ہے، توجلد یا تھوڑے وقت کے بعد بندے کو احساس ہوجاتا ہے، اور وہ غلطی کے تدارک کا سوچتا ہے، اور اس کا تدارک کرتا ہے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ یہ ذمہ داران برے فیصلے کرتے ہیں۔ غلط فیصلے اور برے فیصلے کا فرق ہونے اور کرنے کے حوالے سے دقیق ہے۔ اگرچہ نتیجہ کے حوالے سے ایک جیسے ہیں، اگر غلط فیصلے کا بروقت تدارک نہ ہو ۔ ہونے اور کرنے کے حوالے سے ہوتے اور کرتے وقت اس کا کرنے والا کوئی بری نیت نہیں رکھتا۔ وہ اپنے علم وفہم کے حوالے سے صحیح فیصلہ کررہا ہوتا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ واقعیت میں وہ غلط ہوگیا۔لیکن برا فیصلہ کرتے وقت کرنے والے کوصحیح اور غلط کا پتا ہوتا ہے۔ اور وہ ارادی طور پر غلط فیصلہ کرتا ہے جو برا فیصلہ ہوتا ہے۔ اول الذکر یعنی فیصلے میں غلطی کرنے والا جرم نہیں کرتا۔ اگر وہ اس فیلڈ میں فیصلے کرنے کی اہلیت بھی رکھتا تھا، اور اس کو ایسا کرنے کی قانونی اجازت بھی تھی، اور اس نے کوئی بہت بڑی غفلت کا مظاہرہ نہ کیا ہو کہ غفلت ثابت ہو، تو بعض اوقات اس کو “Damages” ادا کرنے ہوتے ہیں۔ لیکن برا فیصلہ کرنے والا تو کرتے وقت جرم کرتا ہے۔ سو یہ فوجداری کیس اور فوجداری جرم ہے، یعنی “Crime”ہے “Tort” ہیں۔ لہٰذا اس کو سزا بھی ہوتی ہے، اور بہت سارے کیسوں میں اس کو “Damages” اداکرنا پڑتے ہیں۔
اس قسم کے فیصلوں میں بنیادی وجہ ہوتی ہے خداخوفی نہ ہونا، آخرت کا خوف نہ ہونا اور قانون کا خوف نہ ہونا۔ اس خوف کے نہ ہونے سے ظلم پروان چڑھتا ہے اور انصاف کا خون ہوتا ہے اور ظلم اور ناانصافی والے معاشروں میں امن نہیں ہوسکتا۔ وہاں جان و مال اور عزت وآبرو محفوظ نہیں ہوتے۔ وہاں کر پشن عفریت بن جاتا ہے۔ وہاں میرٹ کا قتل ہوتا ہے۔ وہاں آبادی اور آسودہ حالی نہیں آسکتی، نہ وہاں انسان اور انسانیت کی قدر وقیمت ہوتی ہے اور مسلمان معاشرے میں تو ایسی صورت حال یوں دو آتشہ بن جاتی ہے کہ جو بھی ہوجاتا ہے کسی کی جاں چلی گئی، کسی کی مالی تباہی ہوئی، کسی کا حق مارا گیا، تو اسے قضائے خداوندی کی گولی دی جاتی ہے کہ یہی اللہ کی مرضی تھی۔ اب اگر جرائم (معاذاللہ) اللہ کی مرضی ہے، تو جزا و سزا کا کیا تصور؟ یہی تو مشرکین کہتے تھے کہ اگر اللہ کی مشیت ہمارے شرک نہ کرنے کی ہوتی، تو ہم کبھی شرک نہ کرتے۔یعنی یہ تو ہم سے اللہ کی مشیت سب کچھ کروا رہی ہے۔
٭ اب اصلاح کیسے ہوگی؟
آسان بات ہے۔ تعزیراً جرائم پر سخت ترین سزا دینا کہ اس طرح لوگ رُکتے ہیں۔
٭ یہ بات کہ ’’اوہ، اس جرم پر اتنی بڑی سزا؟‘‘
ارے بھائی وہ مہذب اور بنے ہوئے معاشروں کی بات ہوتی ہے۔ وحشی معاشروں کی اصلاح سخت سزاؤں سے ہوتی ہے۔ ہم تو اعمال زمانۂ جاہلیت والے اپنائے ہوئے ہیں اور تطبیقِ قوانین مہذب معاشروں کے طور سے چاہتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ جرائم ہوتے ہیں لیکن اولاً تو مجرم کا پتا نہیں لگتا،اور پتا لگے بھی، تو قانون کی بھول بھلیوں کے ذریعے وہ بچ نکلتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے کوئی جرم ہی نہیں کیا۔
معاشرہ نے جس انداز کے اعمال اپنائے ہوئے ہوں، اس انداز کے قوانین اپنانے ہوتے ہیں۔بیماری کی نوعیت دیکھ کے دوائی کے ’’ملی گرامز‘‘ اور کتنی بار لی جائے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ تبھی تو ’’انٹی بائیوٹک‘‘ بلکہ کئی ایک بیماریوں میں تو ’’ڈبل‘‘ اور ’’ٹرپل انٹی بائیوٹک‘‘ دیے جاتے ہیں کہ بغیر اس کے وہ بیکٹیریا مرنے کا نہیں ہوتا۔
٭ اب یہ کیسے معلوم ہوکہ فیصلہ کرنے والے کا فیصلہ غلط تھا یابرا تھا ؟
یہ کوئی لاینحل مسئلہ نہیں۔ اس کے لیے فیصلہ کرنے والے کا کردار، زمان و مکاں، احوال و ظروف اور قرائن سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
اس طرح مجرمین کے ذہن میں نظام کا خوف پیدا ہوگا کہ اب خیر نہیں جب کہ مظلوم و مقہور جن کے حقوق مارے جاتے ہیں، ان کو آس پیدا ہوگی کہ اب ہماری حق تلفی نہیں ہوگی۔
تو اس حوالہ سے اللہ سے نہایت ہی تضرع اور خضوع وخشوع سے دست بدعا ہیں کہ’’ خداوندا! اہلِ اسلام کے لیے بلکہ مظلومِ انسانیت کے لیے کسی مسیحا کا بندوبست فرمائیں، آمین!
…………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے