87 total views, 1 views today

18ویں صدی کے اواخر میں جب دنیا میں قومی ریاست (نیشن سٹیٹ) کی بنیاد ڈالی گئی، تو سیاست کا یہ اصول بتدریج پوری دنیا کو متاثر کرتا گیا۔ نیشن سٹیٹ کا بنیادی اصول ہی کسی جغرافیائی حدود کے اندر خودمختار حکمرانی کا حق ان حدود کے اندر سب کو یا کسی بڑی نسلی قوم کو دینا ہے۔ نیشن سٹیٹ کا یہ تصور اپنے اندر اسی طرح کے کسی دوسری سیاسی انتظام مثلاً شہنشاہیت، کلیسیت؍ تھیوکریسی یا کلونیل سلطنتوں کا متبادل لیا ہوا ہے، جہاں حکمرانی کا حق صرف لوگوں کو دیا گیا ہے۔
قومی ریاست کے اس تصور اور اس کی روشنی میں پروان چڑھتی ہوئی سیاست نے سیاسی انصرام کے سارے روایتی، بادشاہی اور کلیسائی نظام کو ختم کردیا۔
قومی ریاست نے ادارہ جاتی شہریت کا اصول مقدم رکھا، اور اس سیاسی و سماجی انصرام کے لیے ادارے بنائے۔ رنگ، نسل، طبقے اور مذہب کی بنیاد پر کسی کے حکمرانی کے حق کو نہ صرف چیلنج کیا بلکہ ان بنیادوں کے الٹ ادارہ جاتی شہریت کی بنیاد ہی قومی ریاست کا اساس بن گئی۔
قومی ریاستوں میں عموماً مرکزی نسلی گروہ یا قومی ریاست کے بانیوں کی اکثریت کی زبان، مذہب، قومی بیانیے اور ثقافت کو دوسروں پر ترجیح دی گئی۔ اسی وجہ سے بسا اوقات ایک یکساں قوم بنانے کے لیے اسی جغرافیائی اکائی کے اندر دوسری قومیتوں کو ختم کیا یا پھر ملک بدر کیا۔ اس وجہ سے دو عالمی جنگوں سمیت کئی جنگیں لڑی گئیں۔
قومی ریاستوں کی اکثریت میں ثقافتی، نسلی، مذہبی اور لسانی تنوع کو خاص لائحہ عمل سے سنبھالا گیا، جہاں ان تصورات اور خیالات کو فرد کی نجی زندگی سے منسلک کرکے برتا گیا، اور ریاست کو ان چیزوں خصوصاً مذہب میں مداخت کرنے سے روکا گیا، جب کہ چند ایک قومی ریاستوں میں اس تنوع کو برابری کی بنیاد پر سنبھالا۔ اس کی بڑی مثال موجودہ سوئٹزرلینڈ ہے جہاں سب نسلی، لسانی اور مذہبی گروہوں کو یکساں مقام دیا گیا ہے۔
قومی ریاست، جدیدت کا نتیجہ ہے۔ موجودہ دور جسے عالم گیریت کہا جاتا ہے اور جو پسِ جدیدت کا خاصا ہے، نے قومی ریاست کو کئی مسائل سے دوچار کیا ہے جس کے اثرات پاکستان جیسے عجیب و غریب قومی ریاست میں دیکھے جاسکتے ہیں، جہاں اب بھی عالمگیریت کے اس دور میں بھی کوشش کی جاتی ہے کہ کس طرح اس تنوع کو ایک جبری اکثریتی بیانیے میں ڈھالا جائے، اور جو اس سے برعکس سمجھے، اس پر ملک دشمن، غدار اور ایجنٹ کے ٹھپے لگائے جائیں۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ جس پر کسی اور وقت بحث کی جاسکتی ہے ۔ یہاں پاکستان جیسے سماج میں قومی ریاست سے منسلک کچھ اور امور پر بات کی جا رہی ہے ۔
پاکستانی سماج اور سیاست روایت اور جدیدت کے بیچ معلق ہے ۔ ہمارے زعما نے 1947ء سے پہلے ایک جداگانہ قومی ریاست کے قیام کو یورپی نیشن سٹیٹ کی تھیوری کے فریم ورک میں قیاس کیا اور اپنی جدوجہد کی بنیاد اسی نظریے کو بنایا۔ چوں کہ اس وقت کے ہندوستان کے سماج میں وہی پرانی روایتی انصرام موجود تھا اور اس کی مثالیں سیکڑوں کی تعداد میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہیں، اور جہاں ایسی بادشاہی ریاستیں نہیں تھیں، وہاں قبائلی سیاسی انتظام کا روایتی نظام مثلاً پنچایت؍ جرگہ؍ یرک موجود تھے ۔
پاکستان کی جدوجہد سے منسلک ہمارے زعما کی اکثریت مغربی سیاسی نظریے سے متاثر تھی۔ اگرچہ وہ اس پر مذہبی ملمع لگائے تھکتے نہیں تھے۔ یوں انہوں نے جد و جہد، یورپی نیشن سٹیٹ کو سامنے رکھ کر کی، مگر لوگوں کی کوئی علمی و فکری تربیت نہیں ہوسکی کہ وہ اس نئے انصرام کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوجاتے۔ یوں ریاست جدید قومی ریاست کے تصور کی بنیاد پر بن گئی، مگر اس کے شہریوں کا ذہن روایات میں اٹکتا رہا۔ نئے انصرام کے لیے ادارے بنائے گئے اور ان اداروں کی مدد سے لوگوں کی قدیم سیاسی روایات کو ختم کردیا گیا۔ چوں کہ سماجی ذہن تیار نہیں تھا، اس لیے یہاں جدید قومی ریاست کی جستجو میں روایات تو چلی گئیں، البتہ ان کا شخصی رویہ ہر ادارے میں موجود رہا۔ یوں یہ ادارے ناکام ہوتے گئے، اور طاقت اور جبر کے اصول پر بنایا گیا ادارہ دوسروں پر فوقیت پاتا گیا۔ اسے سماج میں قبولیت اس لیے ملی کہ سماج کی سابقہ روایات جو قبائلیت، غیرت، دشمنی، بدل وغیرہ پر قائم تھیں، اس نئے جبری انصرام کو نفسیاتی طور پر بھی قبول کرتا گیا اور اس پر خوش بھی ہوتا گیا۔ یہاں جمہوریت کو نظریۂ اوّل اور اعلی مانا گیا، مگر ہمیشہ جمہوریت اس روایتی نظریات کی کشمکش میں کہیں غائب ہی رہی۔
یوں سماج سے اس کی روایات چھین لی گئیں اور اہلِ سماج کو بھیڑوں کی طرح سیاسی انصرام کی جدیدت میں دھکیل دیا گیا۔ اسی طرح وہ جدیدت ریاستی تصور؍جمہوریت تک بھی نہیں پہنچے، اور اپنی روایات پر بھی قائم نہ رہ سکے کہ مختلف اداروں نے وہ شہریوں سے چھین لی ہیں۔ مطلب اب اس روایتی انصرام کے لیے ادارے موجود ہیں، اگرچہ ناقص ہیں، مگر ریاست ان کو جواز دیتی ہے کہ وہ شہریوں کے ریاستی قوانین کے مطابق سلوک کرے۔
یوں ہمارا سماج روایت اور جدیدت کے بیچ معلق ہوکر رہ گیا۔ روایت سے نکل گیا، مگر ریاست جدید اصولوں کو سب شہریوں کے لیے اپنا نہ سکی اور نہ قوم ذہنی طور پر تیار ہی کی گئی، بلکہ ریاستی بیانیہ نے قوم کو اس کا الٹا سبق پڑھایا۔ سبق روایات کا پڑھایا، اور ریاست کا انصرام یورپی قومی ریاست کے نمونے پر رکھا۔
یہی وہ تضاد ہے جو ہمیں بہ حیثیت ایک سیاسی اور سماجی نظام کے ایک گھن چکر میں گھماتا رہا ہے۔ راستہ کھو گیا ہے اور ہم کسی گھنے جنگل میں کھو گئے ہیں۔
ایسے میں کیا کیا جائے؟ ایک نہایت اہم سوال بنتا ہے۔ اگر مزید روایت کی طرف پلٹتے ہیں، تو واپسی کا راستہ نہیں ملے گا۔ دو ہی راستے رہتے ہیں۔ اسلامی قوانین کی بنیاد پر ایک بھرپور اور طاقت ور شہنشاہیت ہو، یا پھر جدید طرز پر استوار عالم گیریت کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ایسا فیڈریشن ہو، جہاں لسانی، نسلی، مذہبی اور علاقائی تنوع کا خیال رکھ کر ہی ایک خالص جمہوری ریاست کا قیام ہو۔
دونوں میں سے جو بھی ہو، مگر اس گھن چکر کو ختم ہوجانا چاہیے، تاکہ قوم کو آخرکوئی سمت تو مل جائے!
………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے