48 total views, 1 views today

جیسا کہ معلوم ہے ظلم جہاں بھی ہو، اور جس کسی بھی مخلوق کے ساتھ ہو، چاہے وہ غیر ذی روح ہو وہ حرام اور گناہ ہے۔ یعنی یہ ظلم اگر پانی کے ساتھ ہو، یا نباتات کے ساتھ، تو یقینا یہ کوئی نہ کوئی منفی اثر ڈالے گا، اور یہ اگر وسیع پیمانہ پر ہو، تو پھر یہ اثر بھی وسیع پیمانہ پر ہوگا۔ لیکن غیر ذی روح کا کیا کہنا، آج تو حضرتِ انسان کے ہاتھوں چرند، پرند و درند حتیٰ کہ کیڑے مکوڑے اور حشرات بھی فریاد کناں ہیں۔
اوروں کا کیا رونا، یہ انسان انسانوں پر جو ظلم ڈھاتا ہے، تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ کوتاہ نظری کی وجہ سے ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ جس پر ڈائریکٹ ظلم ہوا، وہ متاثر ہوا لیکن درحقیقت اس سے پوری دنیا متاثر ہوتی ہے۔ ڈاکٹر کنگ نے کہا تھا:
“Injustice everywhere is a threat to justice everywhere.”یعنی کسی بھی جگہ کی ناانصافی ہر جگہ انصاف کے لیے خطرہ ہے۔ خصوصاً آج جب کہ دنیا سکڑ گئی ہے، اور چند لمحوں میں بات پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔
اب ظلم ایک تو ہے سماجی اور معاشرتی۔ یعنی سماجی انصاف مطلوب ہے، اور یہ سماجی انصاف ہرہربندے کی ذمہ داری ہے کہ کسی کا بھی حق نہ مارے، بلکہ ہر ایک کے حق کی حفاظت کرے۔ کیوں کہ اکثر لوگ کسی نہ کسی صورت دوسروں کا حق مارتے رہتے ہیں، اور بعض اوقات وہ ایسا کرجاتے ہیں، ارادتاً نہیں۔ بلکہ ان سے ہوجاتا ہے اور یہ اس لئے کہ
٭ یا تو وہ غفلت کا مرتکب ہوتا ہے۔
٭ یا پھر اس کا احساس کمزور ہوا ہوتا ہے کہ اس کو احساس نہیں ہورہا ۔
اب جس بھی انداز سے ناانصافی ہوئی، اس کا تکوینی اثر تو پڑے گا ہی پڑے گا۔ اور کبھی کبھار ناانصافی بظاہر اتنی بڑی نہیں ہوتی، لیکن اس کا تکوینی اثر بہت ہی مہلک ہوتا ہے۔ مثلاً کسی نے غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پکی گلی میں کیلے کا چھلکا پھینکا۔ اب بظاہر یہ تو ایک چھوٹی سی حرکت ہے، لیکن اگر کوئی کسی وجہ سے دوڑ رہا ہو، اور اس پر پھسل گیا، اور پیٹھ کے بل دھڑام سے گر کر اس کے سر کا عقبی حصہ فرش سے جا ٹکرایا، تو یا تو وہ اس چوٹ سے مرجائے گا، یا پھر ’’کوما‘‘ میں چلا جائے گا اور وہاں سے نکلے بھی، تو بدن کا کوئی حصہ مفلوج ہوگیا ہوگا۔ اگر چہ وہ چھلکا پھینکنے والا خود بھی بعد میں افسوس کرتا ہوگا، لیکن جوہونا تھا، وہ تو ہوگیا۔ اس کو پھر لوٹایا تو نہیں جاسکتا۔ تو کیوں نہ پہلے سے بندہ کا ضمیر اور احساس بیدار ہو۔ اور عواقب پر نظر رکھتے ہوئے احتیاطات کو اپنائے۔ جس بندے کو بعد میں ندامت ہوتی ہے، تو فرد فرد کی بات ہے۔ کبھی کبھار ایک بندہ اس احساسِ ندامت کی وجہ سے خود بھی بیکار ہوجاتا ہے، جسے ہم کہتے ہیں کہ سودائی ہوگیا۔ کیوں کہ ضمیر کی عدالت تو بہت بڑی عدالت ہے۔ البتہ پہلے سے اس عدالت کو بیدار رکھنا ضروری ہے اور یہ تب ممکن ہے، جب بندہ فکری اعتبار سے دیانت کا حامل ہو اور ذہنی طور پر بلندی رکھتا ہو۔
فکری دیانت سے اخلاقیات کی تربیت ہوتی ہے کہ بندہ ہر وقت اپنے آپ کو نگرانی میں رکھا ہوتا ہے۔ یہی واعظ اللہ فی قلب المومن ہے جو حدیث شریف میں وارد ہے۔ اور ذہنی بلندی بندے کو بصیرت عطاکرتی ہے اور بصیرت پر دل مطمئن ہوتا ہے۔’’قل ہذہ سبیلی ادعوالی اللہ علی بصیرۃ انا ومن اتبعنی۔‘‘
کیوں کہ یہ میرا راستہ ہے کہ میں بلاتا ہوں اللہ کی طرف اور بصیرت پر ہوں میں بھی اور جس نے میرا اتباع کیا ہے (وہ بھی)۔
یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ اپنے آپ کو خود احتسابی سے گزارتے رہے۔ اور اسی چیز نے ان کو معیار بنادیا تھا کہ لوگوں سے کہا گیا: ’’آمنوا کماآمن الناس۔‘‘ یعنی ایمان ان کی طرح ۔
اپنے ایمان کے لیے ان کا ایمان معیار اور پیمانہ بناؤ۔
دوسرے معنی آیت کے یہ ہوسکتے ہیں کہ میری دعوت اس حال میں ہے کہ مَیں اور میرے ساتھی بصیرت پر ہیں، یعنی ہم یہ کوئی پیشہ وری نہیں کررہے، بلکہ ہمارا دل اس دین اور اس کی جانب دعوت دینے پر سو فیصد مطمئن ہیں۔ جب کیفیت یہ ہے تو
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
ہمارا ایک مسئلہ ہے کہ ہم ہمیشہ دوسروں کو جج کرتے ہیں، یعنی بات کریں گے، حتی کہ بیان میں بھی کہیں گے یہ لوگ اور یہ لوگ۔یعنی یہ کہ مَیں تو مسٹر پرفیکٹ ہوں، لیکن یہ لوگ تو ایسا کہنے سے ایک تو یہ دعویٰ کرکے آپ خود تائید ایزدی سے محروم ہوجاتے ہیں، کیوں کہ پاکیزگی کے دعوے اللہ کو پسند نہیں: ’’ولا تزکوا انفسکم۔‘‘
اور دوسرا یہ کہ جو سامنے بیٹھے ہیں ان کو اس طرح کوس کر ان کی انفعالیت اور قبولیت والا جوہر نہیں ابھرتا کہ بات قبول کرے ۔
یا ہم دعا بھی کرتے ہیں، تووہاں بھی دلالۃً اس میں یہی دعویٰ نظر آتا ہے، جب ہم کہتے ہیں: ’’یااللہ! ہمیں بدعنوانوں سے نجات دلائیں۔‘‘ اس کے بجائے یہ کہیں کہ ’’یااللہ! ہمیں بدعنوانیوں سے نجات دلائیں۔‘‘یوں بدعنوانوں سے نجات مل جائے گی ۔
پھر دوسرا ظلم ہے جو انصاف دینے والے اداروں کی طرف سے ہوتا ہے اور اس میں سرفہرست تو انتظامی افسران ہیں کہ ان کے پاس تواصلاً حقوق کے لیے آیا جاتا ہے اور جب وہ ایسا نہیں کرتے کہ حق دار کو حق ملے، تو ظلم ہے ۔
دوسرا اس میں عدلیہ ہے کہ وہاں مصیبت زدہ آجاتا ہے، اور اس لیے آتا ہے کہ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ لہٰذا انصاف کا طالب ہوں،لیکن جو نظامِ انصاف ہمیں ورثے میں ملا ہے، اس کی تو پیچیدگیاں اتنی ساری ہیں کہ پھر بندہ چاہتا ہے کہ اب وہاں سے چھٹکارا کیسے ملے گا؟ اور ایسے میں پھر دوقسم کے کام ہوتے ہیں۔
٭ عموماً تو انصاف ملنا بہت دیر سے۔ اس لیے تو برطانیہ کے وزیر اعظم گلیڈ سٹون نے کہا تھا:
“Justice delayed justice denied.” یعنی انصاف میں تاخیر دراصل انصاف سے انکار ہے۔
کیوں کہ انصاف تو بلاتاخیر ملنی چاہیے۔
٭ اور یا پھر فیصلہ کرنے میں عجلت اور جلد بازی۔
تو کہا گیا کہ “Justice Hurried is justice Burried.” یعنی انصاف میں عجلت دراصل انصاف کو دفنانا ہے۔
فیصلہ فوری ہو، لیکن ایک تو درست ہو اور دوسرا بروقت ہو۔
فریڈرک ڈگلس نے کہا ہے کہ ’’جہاں جہالت کا راج ہو، غربت مسلط کی گئی ہو، بے انصافی ہو اور ایک طبقہ (جو محروم، مقہور اور مظلوم ہے اور وہ اکثریت میں ہے) کو یہ بات ذہن نشین کرائی گئی ہو کہ لٹ جانا، ذلیل ہونا اور تمہارا استحصال ہونا تمہارا مقدر ہے، تو وہاں پھر جان، مال اور عزت وآبرو محفوظ نہیں رہتے۔
اور ہم کہتے ہیں کہ پھر ایک وقت آتا ہے کہ اس مقہور ومظلوم طبقہ کے صبر کا بندھن ٹوٹ جاتا ہے، اور وہ وہ تباہی پھیلادیتے ہیں کہ سب کچھ تباہ کرجاتے ہیں۔
اس لیے قارئین کرام! توآج بھی وقت ہے کہ ہم سوچیں کہ ہم کہاں جارہے ہیں……؟
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے