466 total views, 1 views today

ارے تم نے ماہرہ کی تصاویر دیکھیں؟
ہمم ۔۔۔ہاں دیکھی ہیں۔ فائزہ مختصر سا جواب دے کر بچوں کی کاپیاں چیک کرنے لگی۔
بس یار قیامت کی نشانیاں ہیں۔ لگتا ہی نہیں ہم مسلمان ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کیا؟
کیا ہوا ہے کیا باتیں چل رہی ہیں؟
ایک اور استانی سٹاف روم میں آ کر براجمان ہو گئی ۔
تمہیں نہیں پتا ،ماہرہ نے کیا کیا ہے ؟ پہلی استانی نے الف سے ی تک ساری داستان ٹیچر کے گوش گزار کر دی۔
کچھ دیر میں سٹاف روم ٹیچرز سے بھر گیا۔ اور بس ایک ہی ذکر، مسلمان عورت کی بے حیائی اور وہ بھی کسی پاکستانی خاتون کے ہاتھوں؟؟ لا حو لا ولا قوۃ۔
خیر وہ ہندو،عیسائی یا سکھ بھی ہوتی تو پھر بھی انہوں نے یہی باتیں کرنی تھیں کیوں کہ وہ’’ الباکستان ‘‘سے جوتھی۔ پاکستان میں فضول باتوں پر غیرت ایسے جاگتی ہے مانو چاروں صحائف مع شریعت سب سے پہلے پاکستان میں اترے ہوں۔
کاپیاں چیک کرتے ہوئے وہ بس یہی سوچتی رہ گئی ۔
سب کا رخ ایک بار پھر فائزہ کی طرف ہوا ۔
ہاں تم نے دیکھا تھا نا تصاویر میں؟ رکو میں نے تو سیو بھی کی ہوئی ہیں۔ ابھی دکھاتی ہوں ۔
دیکھو تو کیسی لگ رہی ہے۔ایک ٹیچر نے موبائیل فون اس کے آگے کر دیا۔
بیزاری سے اس نے کاپیاں بند کیں اور موبائیل اسکرین پر نظریں مرکوز کر کے پورے دھیان سے دیکھنے لگی ۔
بہت پیاری لگ رہی ہیں۔میک اپ اتنی سادگی سے کیا ہے۔ پھر بھی اس کے چہرے میں کتنی کشش ہے۔ وائٹ بیک لیس ٹاپ بہت سوٹ کر رہاہے اس پر۔ گوری چٹی جو ہے۔ وہ مسکراتے ہوئے اسکرین پر نظریں جمائے بتانے لگی۔
اس کے الفاظ نہیں تھے، گویا بم پھٹا تھا۔
سب کا منھ حیرت سے پھٹ گیا اور اسے ایسے دیکھنے لگے جیسے ابھی کچا چبا جائیں گے۔
تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟یہ کیا بول رہی ہو؟ سب نے ایک ساتھ اس کی کلاس لینی چاہی ۔
وہ بیزاری سے اٹھ کر جانے لگی ۔
ارے۔۔ اے۔۔ رکو تو !
جواب تو دیتی جاؤ ۔اب کہاں بھاگ رہی ہو؟ ایک ٹیچر نے آگے بڑھ کے راستہ روک لیا ۔
اگر تم اس بے حیائی پر اعتراض نہیں کرتی تو تمہیں بھی اتنا ہی گناہ ہوگا ،سمجھی؟ سب سے پیچھے موجود کرسی پر بیٹھی اسلامیات ٹیچر کی آواز گونجی۔
اس نے مڑ کر سب’’ کھوتیوں‘‘ پر نظر ڈالی۔
اس وقت اسے سچ میں ایسا دکھائی دے رہا تھا جیسے سب کے منھ کسی جانور جیسے ہو گئے ہوں۔جیسے رنگ برنگے کپڑے کسی جانور پر زیب تن کئے گئے ہوں۔جس طرح ہر عورت کو مرد بھیڑیا نظر آتا ہے، ویسے ہی اس وقت سٹاف روم میں بیٹھی سب ٹیچرز کوئی جانور ہی معلوم ہو رہی تھیں۔
اور پھر چار و ناچار اس نے ایک ٹیچر سے پوچھا ۔
مس کیا میں آپ سے سوال کر سکتی ہوں؟
ہاں کرلو،جو پوچھنا ہے پوچھ لو۔ غرور سے موصوفہ کی گردن اکڑ گئی ۔
آپ برقعہ کیوں نہیں پہنتی؟
پہلے تو استانی نے اس سوال پر اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔ پھر بڑے ہی مہذب انداز میں بولی، کیوں کہ میں نا بھی پہنوں تو میرے شوہر کو کوئی اعتراض نہیں۔ مجھے اجازت ہے ۔
اور آپ مس؟ آپ عبایا کے ساتھ نقاب کیوں نہیں کرتی؟
ک ۔۔ک۔۔ کیوں کہ،پہلے تو وہ گڑبڑا سی گئی۔ پھر سنبھلتے ہوئے بولی ،
کیوں کہ مجھے بھی میرے والدین نے اجازت دی ہوئی ہے۔
ویسے بھی شریعت میں نقاب واجب نہیں۔
اچھا مس آپ بتائیں؟
یونیورسٹی میں جب اسلام آباد کے ٹور پر جانا ہوا تھا۔ تب آپ نے وہاں پہنچتے ہی برقعہ پھینک کر چست پاجامے کیوں پہن لیے تھے؟ یا پھر جینز پہنی ہوتی تھی؟ یہ سوال ایک وڈیرے کے گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی سے ہوا تھا۔
وہاں کوئی بھی ہمیں نہیں جانتا تھا۔ وہاں میں کچھ بھی کروں، کسی کو کیا فرق پڑے گا ؟
بڑی لاپرواہی سے جواب دے دیا گیا۔
تو پھر یہاں آپ برقعہ کیوں پہنتی ہیں؟ اسی انداز میں دوسرا سوال کیا گیا۔
کیوں کہ یہاں سب جان پہچان والے رہتے ہیں۔ یہاں میں ایسے کہیں گھومی تو سو انگلیاں اٹھیں گی ۔
یہ جواب سن کر اس کا سر ہی چکرا گیا ۔
اور آپ مس، آپ تو ویسے ہی جینز ٹی شرٹ پہنتی ہیں نا ؟
آپ بتا سکتی ہیں؟ اگر آپ کو لندن یا کسی بھی گوروں کے ملک جانے کا موقعہ ملے ،تو وہاں بیک لیس نا سہی سلیو لیس ٹاپ تو پہنیں گی ہی؟ ہاں کیوں نہیں، ہماری فیملی اتنی بھی دقیانوسی نہیں ہے۔ ہم کھلے ذہن کے حامل لوگ ہیں۔
لندن میں تو ایسی ہی کپڑے پہنے جاتے ہیں۔ اور ویسے بھی پردہ تو آنکھوں کا ہوتا ہے ۔
اس پل اس کے جی میں آیا گرم چائے سب کے کپڑوں پر انڈیل کر انہیں وہی جلادے۔
خوب! تو کوئی بھی یہاں خدا کی رضا کے لیے پردہ نہیں کرتا۔ سب نے برقعے پہننے کے اپنے اپنے بہانے بنائے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر آپ کو گھر کی اجازت اور آسانی میسر ہو ،پھر ڈپریشن میں سگریٹ کو بھی ہاتھ لگانا پڑ جائے، تو اسے معیوب نہیں سمجھیں گی؟ اس نے دونوں ہاتھ جھاڑ کر سب کو گھورا۔
بس پھر بحث ہی ختم!!
یہ عدالت اس نتیجے تک پہنچتی ہے کہ سب اپنے حصے کی چٹکی بھر بے حیائی اور عریانی اختیار کرتے ہیں۔
لیکن بظاہر دوسروں پر تنقید کر کے خود کو بچاتے آ رہے ہیں تا کہ ان کی بے پردگی پر سے دوسرے لوگوں کا دھیان ہٹ جائے ۔
مسلمان اور شریعت کی باتیں کرنے والی معزز ٹیچرز! جب تک آپ کا اپنا عمل ہی خدا کی رضا کے لیے نہیں ہوتا ،تو چاہے سات پردوں میں جبری رہ لیں، اس خدا کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کیوں کہ اسے خالص سے محبت ہے، بناوٹ سے نہیں۔
اور جو خالص ہو گا وہ اپنی ہی توڑ نبھانے میں اتنا مصروف ہوتا ہے کہ اس کے پاس اتنی بے کار اور وقت کو ضائع کرنے والی بکواس پر تنقید کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا۔
اور ہاں مس آپ تو رہ گئیں ۔
اس کا رخ سب سے پیچھے بیٹھی اسی اسلامیات ٹیچر کی طرف ہوا ،جو سب کو باری باری باتوں کے لقمے دیتی جا رہی تھی ۔
آپ کیا کہیں گی؟ ابھی اس کی بات زبان پر ہی تھی کہ ایک اسٹوڈنٹ ہاتھوں میں کوئی چیز اٹھائے لے آیااور اسی ٹیچر کے آگے رکھ دی ۔
مس یہ آپ کے لیے گفٹ آیا ہے ۔کوئی لڑکا تھا۔ نام نہیں بتایا ۔کہا اپنی مس کو دینا ،وہ سمجھ جائے گی ۔
وہ ،ہاں یہ ؟
میرا منگیتر ہوگا۔تو کیا ہوا ؟ وہ ہڑبڑا گئی۔
ہیں۔۔۔ تمہاری منگنی کب ہوئی؟
تم نے دعوت بھی نہیں دی؟
جھوٹ بول رہی ہے۔ اس کا گھر میرے گھر سے ایک گلی چھوڑ کر ہی تو ہے ۔
سب ٹیچرز نے اپنی کرسیوں کا رخ موڑ کر سوال پر سوال کرنے شروع کر دیے۔
اور فائزہ کھڑی ان سب کی سوچ پر ماتم کرنے لگی۔
ذو معنی نظروں کے ساتھ ٹیبل پر ہاتھ مارا تو سب کو چپ لگ گئی ۔
’’پہلا پتھر وہی مارے جس نے گناہ نہ کیا ہو‘‘
اس نے ایک تاریخی جملہ کہا اور کلاس سے نکل گئی۔
توبہ ہے۔ خود کو پتا نہیں کیا سمجھتی ہے ۔
کیسے بے حیائی کا پرچار کر رہی تھی۔ مجھے تو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ اندر سے ایسی واہیات لڑکی ہے ۔
ماہرہ کی جگہ اب فائزہ نے لے لی تھی-




تبصرہ کیجئے