22 total views, 1 views today

پرانے وقتوں میں جب گاؤں میں چوہدری ہی سب کچھ ہوا کرتا تھا، تو گاؤں کا نظام چلانے کے لیے چوہدری کے کچھ خصوصی ہرکارے، کارندے یا خاص بندے ہوتے تھے۔ آج کل تو سوشل میڈیا کے عفریت نے دنیا کو ایسی لپیٹ میں لے لیا ہے کہ کیا شہر، کیا گاؤں، کسی بھی جگہ کوئی کسی پہ رعب، دھونس، زبردستی کرے، تو ویڈیوز وائرل ہو جاتی ہیں۔ لیکن پرانے وقتوں کا چوہدری گاؤں کا مکمل حکمران ہوا کرتا تھا۔ اس کا اپنا انٹیلی جنس کا نظام ہوتا تھا جس کا سربراہ کوئی لولا، لنگڑا ہوتا تھا جسے گاؤں کے افراد بے ضرر سمجھتے ہوئے اندر کی باتیں افشا کر دیتے تھے اور بات چوہدری جی تک پہنچ جاتی تھی۔ گندم کتنی ہوئی، کس کو کتنی بوریاں دینی ہیں اور کس کو کتنا انتظار کروا کے گندم دینی ہے؟ فیصلہ چوہدری کرتا تھا۔ گنے کی فصل کا کتنا حصہ مزارعوں تک پہنچنا ہے؟ آخری حکم چوہدری کا ہوتا تھا۔کس کامے کا بیٹا پڑھنے لکھنے کی کوشش میں ہے؟ سدباب چوہدری ہی کرتا تھا۔ چوہدری نے گاؤں پہ گرفت مضبوط رکھنے اور دیگر آس پڑوس کے گاؤں پہ دھاک بٹھانے کے لیے خاص ہرکارے رکھے ہوتے تھے۔ یہ کرتے کیا تھے کہ چوہدری کا رعب قائم کرنے لیے بڑھکیں مارتے تھے۔ ضرورت پڑنے پہ ڈانگ سوٹا بھی چلا لیتے تھے۔ زیادہ ضرورت پڑی، تو ایک آدھ بندہ کھڑکا بھی دیتے تھے۔ جس چوہدری کے ہرکارے یا خاص بندے رج کے بدتمیز، اکھڑ یا دوسرے لفظوں میں خوف کی علامت بن جاتے تھے، اُس چوہدری سے اردگرد کے گاؤں کے چوہدری بھی خوفزدہ رہتے تھے۔ ایسے خاص بندے یا ہرکارے اکثر معاشرے کے ظلم و ستم کی وجہ سے یا غلط تربیت کی وجہ سے کسی نا کسی چوہدری سے مل جاتے تھے اور چوہدری کو بھی ان کی ضرورت بہرحال رہتی تھی۔
یہ دنیا ایک گلوبل ویلج ہے۔ عام زبان میں کہیے، تو عالمی گاؤں ہے۔ ہے تو ایک بڑا سا گاؤں، لیکن ہم تصور کر سکتے ہیں کہ اس میں چھوٹے چھوٹے گاؤں مل کر ایک بڑا گاؤں تشکیل دے رہے ہیں۔ اس میں جو گاؤں جتنا مضبوط ہے، وہ اتنا ہی دوسرے گاؤں پہ دھاک بٹھا سکتا ہے۔ جس گاؤں کا چوہدری جتنا تگڑا ہوگا، باقی عالمی گاؤں کی اکائیاں اُس سے اتنا دب کے رہیں گی۔ امریکہ تن تنہا، سابق سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سے عالمی گاؤں کا چوہدری شمار ہوتا رہا ہے۔اس عالمی گاؤں کی کچھ اکائیاں تو اس عالمی چوہدری کو آنکھیں دکھاسکتی ہیں، جیسے کہ روس، چین، برطانیہ، جرمنی وغیرہ۔ لیکن عمومی طور پہ پوری دنیا اس چوہدری سے سراسیمگی کا ہی شکار رہی ہے، اور چوہدری اپنے خاص بندوں کے ذریعے اس خوف کو قائم رکھنے میں اب تک کامیاب رہا ہے۔ کس کو کتنی امداد دینی ہے، کس سے کیسے واپس لینی ہے اور کس کو امداد کے نام پہ غلام بنانا ہے؟ یہ امریکہ خوب جانتا تھا اور اس حوالے سے حکمتِ عملی بھی کامیاب رہی۔ لیکن اب دنیا یعنی عالمی گاؤں کے حالات بدلنا شروع ہو چکے ہیں۔ عالمی گاؤں کی وہ اکائیاں جو پہلے سہمی ہوئی تھیں، عالمی چوہدری کے خوف سے انہوں نے ان چوہدریوں سے روابط بڑھانے شروع کر دیے جو بڑے چوہدری جیسے مضبوط نہیں بھی تھے، تو اتنے مضبوط بہرحال تھے کہ بڑا چوہدری انہیں کچھ کہہ نہیں سکتا تھا، جیسے مذکورہ بالا عالمی گاؤں کی اکائیاں۔ ایران اس کی تازہ مثال ہے۔
400 بلین ڈالر کی متوقع ڈیل نا صرف ایران کے لیے ایک سکون کا سانس بن سکتی ہے، بلکہ جہاں ایک طرف یہ ڈیل چین کی خطے میں عمل داری مضبوط کرے گی، وہیں یہ ڈیل امریکہ کے لیے ایک شدید دھچکا بن جائے گی۔ فرض کیجیے یہ ڈیل ہو جاتی ہے، اور ایران میں اس ڈیل کے تحت سامنے آنے والے منصوبے شروع ہو جاتے ہیں، تو پھر چین کسی بھی صورت اپنی سرمایہ کاری ضائع نہیں ہونے دے گا۔ ون بیلٹ ون روڈ سے پوری دنیا میں اپنی گرفت چین پہلے ہی مضبوط کرتا جا رہا ہے۔ ایران کی صورت میں اسے ایک مضبوط بیس میسر ہوگا۔ ایک ایسا بیس جہاں گاؤں کے نئے ابھرنے والے چوہدری کو ایک ایسا خاص بندہ مل جائے گا جو چوہدری کے ایسے مخالفین کو، جنہیں چوہدری خود چوہدری کسی مجبوری کی وجہ سے کچھ نہیں کہہ سکتا، کو یہ خاص بندہ بڑھکیں لگانے میں مہارت رکھتا ہے۔ یعنی ایران پہلے ہی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف زباں کے نشتر چلانے کے ساتھ ساتھ شام، لبنان، یمن میں ڈانگ سوٹا بھی کر رہا ہے۔ چین کو اور کیا چاہیے؟
خطے میں چین کا ایک اور اہم اتحادی پاکستان ہے۔ پاکستان کے کچھ تحفظات یقینی طور پر ہونے چاہیے تھے کہ کلبھوشن ایران سے آیا، عزیر بلوچ کے انکشافات بھی خبروں میں ہیں، لیکن پاکستان کے اس متوقع ڈیل پہ کسی اعتراض سے قبل ہی پاکستان کے لیے بھی راہ ہموار ہونا شروع ہوچکی ہے۔ ایران میں بھارت کا بڑھتا کردار، واحد نقطہ تھا جو پاکستان کے لیے پریشانی کا باعث تھا۔ 628 کلومیٹر طویل ریل لائن منصوبہ بھارت کے لیے بہت اہم تھا۔ حال ہی میں ایران نے چین کے ساتھ اپنے متوقع معاہدے سے کچھ قبل ہی اس منصوبے سے بھارت کو الگ کر دیا ہے، اور باقی ماندہ منصوبہ خود مکمل کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ یہ اہم اس لیے ہے کہ نہ صرف یہ ریل منصوبہ پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہوسکتا تھا، بلکہ پاکستان کے لیے چاہ بہار کو ایک متوازی حیثیت دی جانے لگی تھی۔ اس میں بھارتی سرمایہ کاری پاکستان کے لیے یقینی طور پر لمحۂ فکریہ تھا۔ چین اور ایران کی ڈیل کا ہوسکتا ہے کہ اس ریل منصوبے میں عمل دخل نہ ہو، لیکن ایسے وقت میں جب ایران اور چین قریب ا ٓ رہے ہیں، ایران کا بھارت کو چاہ بہار کے حوالے سے بھارتی کردار ختم کرنا اپنی جگہ اہم اور پاکستان کے لیے اچھی خبر ہے۔ چین کی ڈیل کے نکات میں ہوسکتا ہے، تحریر نہ ہو پائے۔ لیکن چین کبھی نہیں چاہے گا کہ جس ملک میں وہ چار سو بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، وہ سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو۔ اس ڈیل کو اگر حتمی شکل دے دی گئی، تو اس سے پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ سرد مہری بھی ختم ہوسکتی ہے۔ لہٰذا یہ ڈیل جہاں ایران کے لیے اہم ہے، وہاں اس کی اہمیت پاکستان کے لیے بھی ہے۔ چین چاہ بہار میں ڈیوٹی فری زون اور اس کے نزدیک آئل ریفائنری بنانے میں بھی ایران کی مدد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ گوادر بندرگاہ کے ساتھ چاہ بہار بندرگاہ پہ سرمایہ کاری سے چین سی پیک کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کا خواہ بھی ہو سکتا ہے اور اس حوالے سے مستقبل قریب میں ایران کی سی پیک میں شمولیت کی بھی ہو سکتا ہے راہ ہموار ہو۔ 25سالہ متوقع معاہدے کے تحت چین ایران میں انفراسٹرکچر کی بہتری، ریل لائن کی تعمیر، ڈیوٹی فری زون، دفاع، سرحدی دفاع، طب، معاشی سنبھالا دینے کے علاوہ چاہ بہار اور بندر عباس کی بندرگاہوں پہ بھی سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔ شنید ہے کہ ایرن بدلے میں اس متوقع ڈیل کے عرصے، یعنی پچیس سال، رعایتی قیمت پہ چین کو تیل اور گیس کی فراہمی ممکن بنائے گا جو چین کے لیے اہم ترین ہوگا۔
متوقع چین ایران معاہدہ اگر ہو جاتا ہے، تو اس میں چین اور ایران کی کوششوں سے زیادہ امریکہ کی غلط پالیسیاں کارفرما ہیں۔ کسی کمزور کو دیوار سے لگاتے جائیں، اور اس کے پاس اور کوئی حل نہ بچے، تو وہ خود تو اپنا کباڑا کرے گا ہی، ساتھ آپ کو بھی کچھ نا کچھ نقصان ضرور پہنچائے گا۔ لیکن ایران کو دیوار سے لگنے سے قبل ہی چین نے سہارا دے دیا ہے۔ یہ خطے میں امریکی مفادات کے لیے کاری ضرب ہو گی۔ خطے کی دو اہم ترین بندرگاہوں میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرکے چین اس خطے کے حوالے سے امریکہ کے لیے کم از کم ناقابل تسخیر تصور ہوگا۔ بھارت کا امریکہ کی طرف جھکاؤ کسی سے ڈھکا چھپا تو ہے نہیں۔ ایران کا بھارت کو ریل لائن منصوبے سے الگ کرنا، چین کی طرف سے امریکہ کے لیے بھی واضح پیغام ہے کہ وہ اب شائد واحد چوہدری عالمی گاؤں کا نہیں رہا۔ چین نے اقتصادیات کو اب تک اپنا مضبوط ہتھیار بنا رکھا ہے اور ایشیا سے افریقہ تک کامیابی سمیٹ رہا ہے۔ 2015ء میں ہونے والی ایران نیو کلیئر ڈیل سے امریکہ کی علیحدگی نے ایران کو ایک مضبوط سہارا تلاش کرنے کی طرف مائل کیا۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقبل ممبران اور جرمنی کے علاوہ یورپی یونین اس معاہدے میں فریق تھے۔ سوائے امریکہ کے تمام فریق اس معاہدے کو قائم رکھنے کے حق میں تھے، لیکن اس کی افادیت امریکہ کی ہٹ دھرمی سے ختم ہو چکی ہے۔ چین کی طرف حالیہ ایران کا جھکاؤ اب اس معاہدے کا مستقبل بھی ختم کرچکا ہے۔ متوقع ڈیل کو امریکہ کا اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مارنا کہا جائے، تو یہ کسی بھی صورت غلط نہیں ہوگا۔
امریکہ ایک طرف معاشی مسائل اور کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کا شکار ہے، تو دوسری طرف اسے اپنا مقام دنیا میں قائم رکھنے کے لیے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ جب کہ چین نے اس موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے کاری وار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ وہ بھی ایک گولی چلائے بنا۔ امریکہ اور چین کی اس مخاصمت میں چین کو امریکہ پہ ضرب لگانے کے لیے اگر 400 بلین کی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے، تو بھی یہ سودا اس لیے مہنگا نہیں ہے کہ چین اپنی 75 فیصد تیل کی ضروریات درآمدکرنا پڑتی ہیں۔ پچیس سال کے لیے رعایتی قیمت پہ تیل کی فراہمی ہرگز نقصان کا سودا نہیں۔
ایران کا رویہ امریکہ اور اسرائیل کے علاوہ دیگر امریکی اتحادیوں کے لیے ڈھکا چھپا نہیں۔ چین لفظی جنگ کے نشتر کے بجائے اقتصادی ہتھیار کا استعمال کر رہا ہے۔ یوں کہیے کہ نیا چوہدری گاؤں میں اپنا اثر و رسوخ جما رہا ہے۔ پرانے چوہدری کو سجھائی نہیں دے رہا کہ وہ کیا کرے۔ اس کے ہرکارے ناکام ثابت ہو رہے ہیں، جس کی تازہ مثال بھارت ہے۔ ایران اس ڈیل میں داخل ہوتے ہوئے آواز مزید کرخت اس لیے کر لے گا کہ اس کی پشت پہ ایک مضبوط چوہدری آ گیا ہے۔ جب کہ نئے چوہدری کا خاص بندہ یعنی ایران جہاں لفظوں کے تیر چلائے گا، یہ عمل خوب کام آئے گا۔ نقصان میں چین ہے، نہ ایران۔
ہاں، لیکن امریکہ کے لیے عالمی دنیا کے علاوہ جنوب ایشیائی خطے میں مشکلات آنے والے دنوں میں مزید بڑھنے کا نقارہ بج چکا ہے۔
……………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے