207 total views, 2 views today

گرگرے ایک خودرو پودے کا پھل ہے جو پہاڑوں میں اُگتا ہے۔ یہ شکل میں فالسہ اور چیری کی طرح ہے اور جسامت میں بیر سے تھوڑا چھوٹا ہوتا ہے۔ فالسہ اور گرگرے کو بعض لوگ ایک ہی پھل سمجھتے ہیں، حالاں کہ دونوں میں فرق ہے۔ فالسہ ترش جب کہ گرگرے بے حد میٹھا پھل ہوتا ہے۔ گرگرے پختونخوا کے پہاڑی علاقوں بالخصوص ان پہاڑی ڈھلوانوں میں قدرتی طور پر اُگتے ہیں، جہاں بارشیں کم ہوتی ہیں۔ کرک، کوہاٹ، درہ آدم خیل، شکر درہ، اورکزئی ایجنسی، کرم ایجنسی اور نوشہرہ کے پہاڑی سلسلے، جنوبی و شمالی وزیرستان، خیبر ایجنسی اور ایف آر علاقوں میں وافر تعداد میں اس کے قدرتی طور پر اُگے درخت دیکھنے کو ملتے ہیں۔ دیر اور سوات میں بھی یہ پائے جاتے ہیں۔ پختون وطن کا سابقہ فاٹا اور ایف آر علاقے اس کے مخصوص علاقے ہیں۔
گرگرے کا اردو نام ابھی تک لغت میں موجود نہیں۔ اس کی وجہ شائد یہی ہے کہ یہ پھل صرف پختون بیلٹ میں اگتا ہے۔ پوٹھوہاری علاقوں میں بھی اس کے پودے اگتے ہیں، لیکن یہ پھل پختون علاقوں کی سپیشلٹی ہے۔ ہندکو میں اسے ’’گھنگورے‘‘ کہا جاتا ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ گرگرے کا بوٹانیکل نام ’’مونوتیکا فوکسو پیلیا‘‘ ہے اور انگریزی میں اسے “Wild Black Berry” کہا جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ہاڑ ہوں اور پہاڑ ہوں، تو کیسے ممکن ہے کہ گرگرے کی بہار نہ ہوں۔ گرگرے ہاڑ کے موسم میں اپنے جوبن پر ہوتے ہیں۔ نوشہرہ، خیبر ایجنسی، کرک، کوہاٹ، اورکزئی ایجنسی اور بنوں ایف آر میں یہ مئی کے آخر میں پک جاتے ہیں، اور جون میں مارکیٹ میں دستیاب ہوتے ہیں اور بہت ہی سستے ہوتے ہیں۔ قدرے ٹھنڈے علاقے جیسے وزیرستان اور دیر سوات میں یہ تاخیر سے پکتے ہیں۔
گرگرے کے پودے پہلے پھول نکالتے ہیں، پھر گول سبز پھل، جو کچھ وقت بعد سرخی مائل اور آخر میں سیاہ رنگ کے پھل بن جاتے ہیں، جنہیں ہم گرگرے کہتے ہیں۔ پہاڑوں میں جب گرگرے پکتے ہیں، تو بہار آ جاتی ہے۔ مرد و زن اور پیر و جواں برتن لے کر گرگرے چننے میں لگ جاتے ہیں۔
گرگرے کا پودا جسامت میں زیتون کے پودے جتنا ہوتا ہے۔ زیتون کے پودے میں کانٹے نہیں ہوتے، جب کہ گرگرے کا پودا تیز اور لمبے کانٹوں سے بھرا ہوتا ہے۔ گرگرے چننا اتنا آسان کام نہیں۔ آج ہی کسی نے بتایا کہ ایف آر بنوں میں ایک شخص گرگرے چن رہا تھا کہ تیز کانٹا اس کی آنکھ میں چبھ گیا اور اس کی بینائی ہی ختم ہوگئی۔
دوسری بات گرگرے کے درخت کے بارے میں مشہور ہے کہ اس میں سانپ زیادہ رہتے ہیں۔ اس لیے گرگرے چننے کے لیے مقامی لوگ لاٹھی کا استعمال کرتے ہیں۔ نیچے چادر بچھاتے ہیں اور بعد میں برتنوں میں جمع کرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ گرگرے گھر لے جا کر کھاتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے بازاروں میں بیچتے بھی ہیں۔اس کی باقاعدہ کاشت نہیں ہوتی، بلکہ بیر اور توت کی طرح یہ قدرتی طور پر اگتے ہیں۔ میدانی علاقوں میں بیر اور توت کی کاشت پھر بھی کچھ حد تک ہوتی ہے، جبکہ گرگرے کی باقاعدہ شجر کاری کے بارے میں کسی نے نہیں سنا۔ یہ قدرتی طور پر پختون وطن کے ڈھلوانوں میں اُگتے ہیں۔
گرگرے ایک بے حد میٹھا پھل ہیں، لیکن اس کے زیادہ کھانے سے منھ میں چھالے پڑ جاتے ہیں، اور کبھی کبھار بدہضمی بھی ہو جاتی ہے۔ گرگرے کھانے سے زبان اور ہونٹ کالے پڑ جاتے ہیں۔ پشتو شاعری اور نثر میں گرگرے کا ذکر کثرت سے ہوا ہے۔ گرگرے مجھے ان کی مٹھاس کی وجہ سے پسند ہیں ہی لیکن اس کے پھل اور پودوں سے میری محبت کی بنیادی وجہ وہ پشتو شاعری اور لوک گیت ہیں جن میں بے حد پیار و محبت کے ساتھ گرگرے کا ذکر ہوا ہے ۔
خدایا گرگرے تورے ماکے
جینکئی سرے شونڈے وروڑی تورے راوڑینہ
ایک مشہور لوک گیت ہے جو کئی لوگوں نے گایا ہے۔ مشہورِ زمانہ پشتو سنگر نغمہ شاپیرئی نے بھی گایا ہے جس کے بول کچھ یوں ہیں:
غرہ تہ راغلی یم جانان پہ خلا کومہ
گرگرے ٹولوومہ زہ گرگرے ٹولوومہ
پشتو کے عظیم شاعر خوشحال خان خٹک نے بھی اپنی شاعری میں گرگرے کا ذکر کئی بارکیا ہے۔ خوشحال بابا کا تعلق اس پہاڑی علاقے سے ہے جہاں گرگرے قدرتی طور پر بکثرت اُگتے ہیں۔
گرگرے محض ایک پھل نہیں، نہ ایک پودا ہیں۔ یہ پختون وطن کی خوبصورتی ہیں، تاریخ ہیں، ثقافت ہیں۔ گرگرے کے درخت تیزی کے ساتھ ہمارے پہاڑوں سے معدوم ہو رہے ہیں۔ چوں کہ یہ خودرو ہیں، اس لیے ان کی قدر ہمیں نہیں۔ بعض لوگ انہیں کاٹ کر ایندھن کے طور پر جلاتے ہیں، یہ بڑا ظلم ہے۔ یہ تو ہمارے ماحول کی خوبصورتی ہیں۔ یہ خشک پہاڑوں میں اللہ رب ذولجلال کا ایک عظیم تحفہ ہیں۔ اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ گرگرے کے پودے ہوں گے، تو ہم اپنے ماضی سے جڑے رہیں گے۔ گرگرے ہوں گے، تو پیار و محبت اور قربت و دوستیاں بڑھانے کے لیے اس کے میٹھے تحفے دوستوں اور عزیز و اقارب کو بھیجتے رہیں گے۔ گرگرے ہوں گے، تو رومانس بھرے گیت اور پیار بھری میٹھی شاعری سننے کو ملتی رہے گی۔
ماتہ پخے گرگرے راوڑہ
خیر دے سرے شونڈی می دی توری شی لالیہ
زو بہ دا لوڑو غرو سرو تہ سنگ پہ سنگ
سہ تورے گرگرے دی، نیمے دا تا نیمے زما
……………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے