288 total views, 1 views today

آج کل ٹیلی ویژن چینلوں کی کوششوں سے پنجاب و سندھ کے گلی کوچوں میں قائم ناقص اشیا بنانے کے کارخانوں پر وہاں کے سرکاری حکام چھاپے مار رہے ہیں اور ناقص مصنوعات کو موقع پر ضائع کروانے کے عمل کو چینلوں پر دکھایا جاتا ہے۔ غالباً خوراک کا ایسا شعبہ نہیں جہاں جعلی، ناقص خوراکی اور غیر خوراکی اشیا نہ بنتی ہوں۔
میں ڈاکٹر کی ہدایت پر کھانے کا تیل استعمال کرتا ہوں، تاکہ چربی بدن کے اندر جائے اور نہ بنے۔ لیکن میں نے خود ٹی وی پر دیکھا ہے کہ پنجاب کے شہروں اور دیہاتوں میں بعض لوگ جانوروں کی آنتوں اور دوسری آلائشوں اور چربی سے کھانے کا تیل بناتے ہیں۔ ظلم یہ ہے کہ اُن کو اچھی شہرت والی کمپنیوں کے ناموں کے تحت فروخت کرتے ہیں۔

پنجاب کے شہروں اور دیہاتوں میں بعض لوگ جانوروں کی آنتوں اور دوسری آلائشوں اور چربی سے کھانے کا تیل بناتے ہیں۔ ظلم یہ ہے کہ اُن کو اچھی شہرت والی کمپنیوں کے ناموں کے تحت فروخت کرتے ہیں۔

بعض ماؤں کا اپنا دودھ نہیں بنتا، اس لیے وہ عام دودھ سے بچوں کی پرورش کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ اب بازار میں دودھ کی شکل کا کوئی محلول یا پاؤڈر ملتا ہے جو دودھ نہیں بلکہ کوئی سفیدی ہوتی ہے جس کے لیے انگریزی کا لفظ ’’وائٹنر‘‘ استعمال کیا جاتا ہے اور اُسے چائے وغیرہ کے لیے مارکیٹ کیا جاتا ہے۔ عام آدمی وائٹنر کے معنی عموماً نہیں جانتا اور اس محلول کو دودھ کی جگہ بچوں کو پلاتا ہے۔ غالباً پنجاب میں کسی جج صاحب نے حکم دیا ہے کہ اس قسم کی سفید یوں کے پیکٹ پر اُردو میں لکھا جائے کہ یہ دودھ نہیں ہے، تاکہ ان سے بچے محفوظ ہوں۔ مارکیٹ میں دستیاب ان پیکٹوں پر نظر ڈالی جائے، تو شائد ہی کسی پر لکھا ہو کہ ’’یہ دودھ نہیں ہے۔‘‘ عموماً خریدار کو بے خبر رکھا جاتا ہے۔ ہمارے صوبے کے طول و عرض میں پنجاب ہی کی مصنوعات آتی ہیں۔ اکثر دکاندار اُس چیز کی فروخت زیادہ پسند کرتے ہیں جن میں اُن کا منافع زیادہ ہو۔ اس لیے اصلی کی ہم شکل جعلی یا دو نمبر کی اشیا کی فروخت ہمارے یہاں زیادہ ہوتی ہے۔




بازار میں دودھ کی شکل کا کوئی محلول یا پاؤڈر ملتا ہے جو دودھ نہیں بلکہ کوئی سفیدی ہوتی ہے جس کے لیے انگریزی کا لفظ ’’وائٹنر‘‘ استعمال کیا جاتا ہے اور اُسے چائے وغیرہ کے لیے مارکیٹ کیا جاتا ہے۔ عام آدمی وائٹنر کے معنی عموماً نہیں جانتا اور اس محلول کو دودھ کی جگہ بچوں کو پلاتا ہے۔

تازہ دودھ بھی پنجاب سے آتا ہے۔ گوشت، اُوجڑی، کلیجی وغیرہ، مرغیوں کے پائے اور دوسری چیزیں جو جلدی گل سڑ جاتی ہیں اور خطرناک ہوتی ہیں، بڑی مقدار میں پنجاب سے آتی ہیں۔ ادویات اصلی اور جعلی دونوں پنجاب ہی سے آتی ہیں۔ ہر چیز میں پنجاب کے تاجر ہمارے صوبے کے تاجروں کو عمدہ کمیشن اور مارجن دیتے ہیں۔ اصلی اشیا بنانے اور اُن کو مارکیٹ کرنے میں منافع کم ہوتا ہے، اس لیے جعل سازی کی طرف مارکیٹ کا رجحان زیادہ ہوگیا ہے۔ پنجاب کے نجی ٹی وی چینلوں کے جواں سال کارکنوں نے جعل سازی کے خلاف مہم چلا کر وہاں کے محکمہ خوراک وغیرہ کو بیدار اور متحرک کردیا ہے، لیکن ہمارے یہاں تاحال بے حسی اور انجماد ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارا صوبہ ہر چیز کے لیے پنجاب اور سندھ اور سمگل شدہ اشیا پر انحصار کر رہا ہے۔ سمگل شدہ اشیا کی تو یہ حالت ہے کہ اگر آپ کے لیے کوئی شخص کسی بیرونی ملک سے چین کا بنا ہوا کوئی چیز لے آئے، تو اُس میں اور پاکستان کی مارکیٹ سے خریدے گئے اُسی چیز کی کوالٹی میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ مینگورہ بازار میں یہ بات عموماً سننے کو ملتی ہے کہ یہاں کے امپورٹرز چین جاکر اُن سے کمزور اشیا بنانے کا کہتے ہیں۔ اس ممکنہ بد دیانتی پر پاکستان میں تعینات چین کے عزت ماب سفیر کو غور کرنا چاہئے۔ کیوں کہ پاکستانی زرپرستوں کی وجہ سے چین کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔

اصلی اشیا بنانے اور اُن کو مارکیٹ کرنے میں منافع کم ہوتا ہے، اس لیے جعل سازی کی طرف مارکیٹ کا رجحان زیادہ ہوگیا ہے۔

اگر چہ وطن عزیز پورے کا پورا بورژوا طبقے کی گرفت میں آچکا ہے جس کے اپنے حربے ہوتے ہیں اور اس طبقہ کے مفادات کے خلاف کام کرنا مشکل ترین ہوتا ہے، پھر بھی ہم دعاگو ہیں کہ
1:۔ سب سے پہلے ہمارے صوبے میں تاجر برادری کی تربیت کی جائے۔ اُن کو غلط کاموں کے مضمرات اور نتائج پر ایجوکیٹ کیا جائے۔ خصوصاً اُن کی ٹریڈ یونینز کے ارکان کی مسلسل تربیت ہو۔
2:۔ انہی تاجر حضرات کے ذریعے اور حکومت اپنے ذرائع سے بددیانتوں کے خلاف مسلسل اور وسیع پیمانے کی پبلسٹی کے ذریعے تاجروں اور عوام کی ذہن سازی کرے۔ مذہبی مقررین اپنے الفاظ پر غور فرمائیں۔ اللہ اور اس کے نبیؐ عدل کا حکم دیتے ہیں۔
3:۔ غلط کام کی روک تھام کے لیے پہلے مؤثر اور قانونی طریقے سے تمام متعلقہ افراد وغیرہ کو تنبیہ یعنی وارننگز تحریری طور پر مناسب نوٹسز کے ساتھ دی جائے۔ مذکورہ وقت گزرنے کے بعد زیادہ سخت اقدام کئے جائیں۔
4:۔ غیر معیاری اشیا کی روک تھام کی صوبے میں درآمد دوسرے صوبوں خصوصاً پنجاب سے ملنی والی سرحدات پر شروع کی جائے اور خراب مال کو اس صوبے میں آنے نہ دیا جائے۔ جلدی خراب ہونے والی مضر صحت اشیا اور غیر ضروری اشیا کی درآمد پر مکمل پابندی لگائی جائے، مثلاً تازہ دودھ، گوشت، کلیجی، اوجڑی، مرغیوں کے اعضا، حلوے، بیکری کی اشیا وغیرہ پر مکمل پابندی ہو اور یہاں مارکیٹ کے اندر ان چیزوں کو سختی کے ساتھ تلف کیا جائے۔
5:۔ اس عوامی فائدے کی کارروائیوں سے مارکیٹ کے بعض لوگ سیخ پا ہوں گے۔ وہ اپنے مفادات کے لیے ہر قدم اٹھائیں گے۔ اس لیے متعلقہ سرکاری افراد کی حفاظت اور فوائد کے لیے مؤثر ترین اقدام کئے جائیں۔ سیاسی دنگل کا زمانہ ہے، اس لیے سیاسی پنڈت اپنے فائدے کے لیے اچھے اقدامات کو مسخ کرنے کی کوشش کریں گے جس طرح مرکزی حکومت کے مبینہ طرز عمل نے سوات میں کئی ترقیاتی کاموں کو نہ ہونے دیا۔ پنجاب میں حکومتی سختی کی وجہ سے وہاں سے پوری کی پوری غلاظت ہمارے ہاں آئیگی۔
6:۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے متعلقہ محکمے پوری طرح متحرک ہوجائیں اور صوبے میں خصوصاً دور افتادہ علاقوں میں خراب اور خطرناک اشیا کے خلاف ایک مسلسل مہم شروع کریں۔ پنجاب جہاں غلط چیزیں بنتی ہیں، وہاں اعلیٰ اشیا بھی بنتی ہیں۔ وہاں سے ان کی درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
اب ذکر اپنے محلے کے مولوی صاحب کی تقریر سے ایک اقتباس کا ہو۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’جس شخص نے اپنے بیٹے کو حافظِ قرآن بنایا، اُس کے سارے گناہ معاف ہوگئے اور وہ بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوگا۔‘‘
میں سمجھتا ہوں کہ بغیر حساب کتاب کے رب العالمین کسی کو سزا دے گا اور نہ انعام۔ ذرے ذرے کا حساب ہوگا۔ نیکو کاروں کو اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں اور بد کاروں کو بائیں ہاتھ میں دے کر پہلے والوں کو جنت اور دوسرے والوں کو جہنم دیا جائے گا۔ قرآن کا حفظ کرنا اُس پر من و عن عمل کرنا اپنی جگہ ایک بڑی سعادت ہے۔




تبصرہ کیجئے