96 total views, 1 views today

پچھلے سال ایک کتاب کی تقریبِ رونمائی کے سلسلے میں مینگورہ شہر جانا ہوا، تو وہاں موجود ایک دوست کی فرمائش پر اُس کے ساتھ رات گذارنی پڑی۔ صبح واپسی پر اُس نے ’’سرگوشیاں‘‘ نامی ایک کتاب دی۔ دوست نے کہا کہ یہ میری بہن کی لکھی ہوئی شاعری کی کتاب ہے، جو انہوں نے یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی تھی، لیکن معاشرتی مجبوریوں کی وجہ سے اپنے نام سے شائع نہ کرسکی۔ اس لیے قلمی نام یعنی اپنے اصلی نام کے بجائے کسی اور نام سے شائع کی گئی ہے۔
ایک اور ظلم یہ کہ کتاب کی کسی قسم کی کوئی رونمائی وغیرہ نہیں ہوئی، بلکہ چَھپ کر گھر میں رکھی گئی اور دوست احباب میں تقسیم کی گئی۔
مجھے یہ سب سن کر بہت دکھ ہوا اور میں نے اُس سے وعدہ کیا کہ میں ضرور اِس پر کچھ لکھوں گا، لیکن اپنی ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے آج تک کچھ نہ لکھ سکا تھا۔ آج لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں، لیکن یہ اُس وعدے کی وجہ نہیں بلکہ ایک اور وجہ سے۔ اور وہ وجہ یہ ہے کہ مجھے افغانستان سے ایک دوست کا پیغام آیا کہ پشتون کی نوجوان شاعرہ ’’نورا احساس‘‘ کو کیا ہوا ہے؟ کیوں کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ (فیس بک) اُس سے بھری پڑی ہے۔ مجھے اس حوالے سے کچھ علم نہیں تھا، لیکن معلوم کرنے پر پتا چلا کہ اُس نے ’’وائس آف امریکہ‘‘ کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’میرے رشتہ دار میرے ابو کو کہہ رہے ہیں کہ آپ اپنی بیٹی کو قتل کیوں نہیں کرتے؟ کیوں کہ وہ شاعری کرتی ہے۔‘‘
نورا احساس نے یہ بھی کہا کہ مَیں اِس معاشرتی دباؤ کی وجہ سے اپنے اصلی نام کے بجائے قلمی نام سے شاعری کرتی ہوں، اور پردہ بھی کرتی ہوں، لیکن پھر بھی لوگ مجھے معاف نہیں کرتے اور اکثر گھر سے نکلنے پر مجھے مختلف آوازوں سے پکارا جاتا ہے۔
اُس نے یہ بھی کہا کہ اکثر دیواروں پر میرا نام لکھ اُس کے ساتھ نازیبا جملے لکھے جاتے ہیں۔
یہی وہ وجہ تھی جِس نے مجھے پچھلے سال ملنے والی کتاب یاد دلائی، اور مَیں یہ سطریں لکھنے پر مجبور ہوا۔ یہ صرف دو شاعرات کے واقعات کا ذکر ہے، لیکن اگر ہمارے معاشرے میں پائے جانے والی کسی بھی عورت کے بارے میں معلوم کیا جائے، تو اُسے روزانہ کی بنیاد پر ایسے ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جہاں اُس کی زبان اور خواہشات کو معاشرے کے اقدار اور کلچر کے نام پر دبایا جاتا ہے۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم لوگ بڑی خوشی سے شاعری سنتے ہیں۔ موسیقی کے دھنوں کے ساتھ بھی شاعری سے مزے لیتے ہیں اور ناچتے بھی ہیں۔ جب بھی کوئی رومانی شعر (جس میں محبوب کے ہونٹوں، زلفوں، چہرے یا کسی اور اندام کا ذکر آتا ہے) سنتے ہیں تو پھر ہمارے ’’واہ واہ‘‘ کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا، اور ہم غیر محسوس انداز میں ایسے اشعار سے اپنی جنسی تسکین کرتے ہیں، لیکن اگر یہی اظہار ایک لڑکی کی طرف سے آئے، تو پھر ہماری نام نہاد غیرت اور ’’پشتونولی‘‘ جاگ جاتی ہے اور ہم اُس کو پشتون روایات کے خلاف قرار دے کر قتل کے مشورے دینے شروع کر دیتے ہیں۔
قارئین، کیا اظہار کا حق صرف مرد کے پاس ہے؟ کیا عورت مرد کی طرح جذبات نہیں رکھتی؟ یوں تو ہم ہر جگہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ مرد کے مقابلے میں عورت زیادہ جذباتی ہوتی ہے، لیکن اگر وہ اپنے زیادہ جذباتی ہونے کی وجہ غلطی سے بھی اپنے جذبات کا اِظہار کر دیتی ہے، تو پھر قیامت آجاتی ہے ۔
اگر کوئی سمجھتا ہے کہ عورتوں کا اپنے جذبات کا اظہار کرنا ہمارے معاشرے کے اقدار کے خلاف ہے، تو کیا رومانوی شعر کھلے عام کہنا، عورتوں کے مختلف انداموں کا کھلے عام ذکر کرنا، داد لینے کے لیے ایک عورت کا استعمال کرنا، ’’واہ واہ‘‘ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ اور عورت کے ایسے کھلے عام ذکر سے جنسی تسکین حاصل کرنا ہماری اقدار کا حصہ ہے؟
اگر کوئی سمجھتا ہے، ’’ہاں ایسا ہی ہے……!‘‘ تو پھر وہ ایک منافق کے سوا کچھ نہیں۔ کیوں کہ اگر عورت، مرد سے زیادہ جذباتی ہے، تو اُس کو جذبات کے اظہار کا موقع اور حق مرد سے زیادہ حاصل ہونا چاہیے، اور اگر کسی کے خیال میں نہیں ہونا چاہیے، تو پھر مرد کو بھی عورت کا ایسا محولہ بالا ذکر کرنے کا حق حاصل نہیں ہونا چاہیے۔
قارئین، یاد رہے کہ پشتون معاشرہ شروع دن سے ایسے پدرسرانہ نہ تھا، لیکن حالات کے جبر کی وجہ سے ہم اِس مقام پر پہنچے ہیں، اور ایسے مسائل ہمارے معاشرے میں کافی عرصے سے آرہے ہیں۔
جب خان عبدالغفار خان باچا خان نے ’’پشتون‘‘ رسالہ شروع کیا، تو اُس میں بھی اکثر پشتون لڑکیاں کسی اور نام سے اپنی شاعری اور نثری مضامین بھیجتی تھیں۔ باچا خان نے اُن کے اِس کام کی مخالفت کی، اور کہا کہ آپ بھی ایک مکمل انسان ہیں۔ آپ کی بھی ایک شناخت ہے۔ اس لیے آپ کو اپنے نام سے اپنے مضامین اور شاعری شائع کرنی چاہیے۔ ایسے میں کئی ’’س ب ب‘‘ سیدہ بشریٰ بیگم میں تبدیل ہوگئیں۔
قارئین، شاعری کی بات الگ ہے، یہاں تو موت کے بعد قبروں پر بھی عورت کو اپنا نام لکھنے کی اجازت نہیں۔ قبر میں مردہ حالت میں پڑے رہتے ہوئے بھی اُس کو اپنے خاندان والوں کی نام نہاد عزت بچانی ہوتی ہے۔ پتا نہیں یہ ہماری عزت اتنی کمزور کیوں ہے، جس کی ایک عورت کے نام سے ہی دھجیاں اُڑ جاتی ہیں؟
اگر کسی نے عورت کے جذبات کی شدت اور رومانیت معلوم کرنی ہے، تو وہ پشتو شاعری کی صنف ٹپہ پر غور کرے۔ کیوں کہ ٹپہ اصل میں عورتوں کی صنف ہے، اور عورتیں گھروں میں بیٹھ کر اپنے جذبات، مسائل اور گِلے شکوے ٹپے کی صورت محفوظ کرتیں، لوگوں کے ساتھ شریک کرتیں یا مطلوبہ شخص تک پہنچا سکتی تھیں۔ اِس کی ایک مثال نور الامین یوسف زئی صاحب کے بقول کچھ یوں ہے:
’’ پرانے زمانے میں ایک نئی نویلی دلہن کا شوہر شادی کے بعد جلد ہندوستان چلا گیا، اور بیس سال تک واپس نہ آیا، تو اُس نے بیس سال کے گِلے شکوے ایک خط میں ایک ٹپہ لکھتے ہوئے کیے کہ
سوک چی د چا د باغچے گل شی
مناسب نہ دہ چی سوکڑے پرے تیروینہ
قارئین، اس ساری تفصیل کا مقصد یہی ہے کہ عورتیں بھی مردوں کی طرح مکمل انسان ہیں اور اُنہیں بھی مردوں کی طرح اپنے جذبات، خواہشات اور مسائل کے ذکر کے لیے اظہار کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے کی اقدار اور اپنے خاندان کی عزت کا سارا ملبہ عورت پر نہیں ڈالنا چاہیے۔ عزت سب کی اور سب کو پیاری ہوتی ہے اور سب کو اپنے، اپنے خاندان اور معاشرے کی عزت اور اقدار کا خیال رکھنا چاہیے، لیکن عزت اتنی بھی باریک اور کمزور نہیں ہونی چاہیے کہ محض کسی کی بات کرنے سے ہی بکھر جائے۔
ایک عام مقولہ ہے کہ ’’مرد اور عورت گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ اس لیے ایک پہیے کی غیرموجودگی اور کمزوری سے گاڑی نہیں چل سکتی۔‘‘
…………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے