64 total views, 1 views today

احتیاطی تدابیرکے ساتھ زندگی کی رونقیں بحال ہونا شروع ہوچکی ہیں۔ بازاروں کی چہل پہل اور سڑکوں پر گاڑیوں کی قطاریں دیکھ کر رگ و ریشے میں اترا خوف چھٹنا شروع ہوچکا ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ کورونا وائرس کے ساتھ نباہ کیے بغیراب چارہ نہیں۔ ویکسین بن ضرور جائے گی، لیکن اس کے استعمال اور بعد ازاں انسانی جسم پر پڑنے والے اثرات کو جانچنے کے لیے وقت درکار ہوگا۔
کورونا کی مہلک وبا نے ایک بار پھر انسانوں کو باور کرایا کہ قدرتی آفت یا وبا رنگ، نسل ،مذہب یا سرحد کا امتیاز نہیں کرتی۔آفاتِ سماوی کا تما م انسانوں کو مشترکہ طور پر مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ یہ حقیقت ایک بار پھر آشکار ہوئی کہ حکومت اور سرکاری ادارے قدرتی آفات کے نزول اور وبا کے پھوٹنے پر بے بس ہوجاتے ہیں۔ ان کی اتنی استعداد نہیں کہ وہ شہریوں کو کنٹرول کرسکیں۔ ان کی ضروریات پوری کرسکیں، یا انہیں مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے آگہی دے سکیں۔
شہریوں اور انتظامیہ کے مابین رابطے کے لیے سیاسی کارکنوں یا پھر سماجی تنظیموں کی ضرورت ہوتی ہے۔ سماجی تنظیموں کے درجنوں نہیں سیکڑوں کارکن رضا کارانہ جذبے سے سرشار ہوتے ہیں۔ ان کے پاس تجربہ بھی ہوتا ہے اور وہ شہریوں کی خدمت میں تخصیص بھی نہیں کرتے۔ وسائل وہ مخیر حضرات اور عالمی اداروں کی مدد سے جمع کرلیتے ہیں۔ لہٰذا حکومت پر بوجھ نہیں بنتے۔ ضرورت انہیں صرف سرکاری سرپرستی کی ہوتی ہے۔
افسوس! بیشتر حکومتوں نے سماجی اداروں کو پلنے پھولنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ منظم طریقے سے ان کی سرکوبی کی گئی، اور مسلسل ان کا تعاقب کیا گیا، تاکہ معاشرے کے اندر کوئی متبادل بیانیہ اور آزاد فکر پیدا نہ ہوسکے۔
کورونا کے دوران اگرچہ ہم سب گھروں تک محدود رہے، لیکن اس عرصے میں فکری اور نظریاتی بحثوں کا سلسلہ بھی خوب جما۔ سازشی تھیوریوں کے بیوپاریوں نے اپنا مصالحہ نئے رنگ اور ڈھنگ سے مارکیٹ میں فروخت کیا۔ پولیو ویکسین کی طرح اب یہ خیال بھی تیزی سے پھیلایا جا رہا ہے کہ ’’نئی ویکسین مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کی سازش ہے۔‘‘ مسلمان دنیا کی آبادی کا اس وقت پچیس فی صد کے لگ بھگ ہیں۔ ان کی آبادی دو ارب کی حد کو چھو رہی ہے، اور کتنی مسلمان آبادی ہمیں درکار ہے؟ علم و ہنر سے بے بہرہ مسلمان آباد ی سے مغرب کو کیا خطرہ؟ گذشتہ کئی صدیوں سے کوئی ایک بھی نامور مسلمان سائنس دان پیدا نہیں ہوا۔ سماجی علوم کا کوئی ایسا ماہرنہیں ابھرا جس نے علم اور تحقیق کے نئے در وا کیے ہوں۔ مسلمان ممالک کی یونیورسٹیوں کی حالت افریقہ کے کئی ایک ممالک سے بھی برتر ہے۔ مسلم حکمرانوں کو یہ توفیق ہی نہیں ہوتی کہ وہ قومی وسائل کا رُخ تعلیم اور صحت کی طرف موڑیں۔ قومی وسائل کا زیادہ تر حصہ لوٹ کر مغربی ممالک کے بینکوں میں جمع کرایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی عمومی حالتِ زار دیکھ کر یہ گمان کرنا بھی عبث ہے کہ کوئی ان کے خلاف سازشوں کا تانا بانا بن رہا ہوگا۔ وہ عالمی منڈی کے لیے ’’لیبر فورس‘‘ مہیا کرنے کے علاوہ اور کچھ بھی تو نہیں کرتے۔ سستی ’’لیبر فورسز‘‘ کی دنیا میں مسلسل مانگ ہوتی ہے۔ مغربی ممالک کی صنعتوں کی چمنیاں مشرق سے درآمد شدہ سستی ’’ورک فورس‘‘ ہی کے دم خم سے راکھ اگلتی ہیں۔
ہمارے ایک سینئر کالم نگار لوگوں کو آج کل مسلسل سمجھا رہے ہیں کہ وہ یورپ اور امریکہ سے نکل جائیں، ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ وہ چن چن کر مارے جائیں گے۔ ان کی اولادیں قتل کردی جائیں گی۔ ہمارے صحافی دوست خالد گردیزی نے فیس بک پوسٹ لگائی: ’’دوستو! ہماری لڑائی کا اصل میدان نیویارک، برسلز، بیجنگ اور دہلی ہے۔ اسلام آباد یا مظفر آباد نہیں۔ مخالف کی طاقت کا اندازہ کیجیے۔ لڑائی کو جیتنے کے لیے ہمیں طاقتور سیاست دان چاہئیں۔ معتبر صحافی اور دبنگ فوجی و سول آفیسرز چاہئیں۔ ہوشیار سفارت کار چاہئیں۔‘‘
دکھی دل کے ساتھ وہ مشورہ دیتے ہیں کہ ’’خدارا! اپنی طاقت ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرکے خود کو کمزور مت کریں۔‘‘
مجھے اس طرزِ تخاطب سے اتفاق نہیں کہ معصوم لوگوں کو ایک بے مقصد اور دیو مالائی جنگ و جدل کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا جائے ۔ ہمیں اپنی لغت کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ کیا مناسب نہ ہوگا کہ کچھ وقت کے لیے محاذ آرائی، لڑائی اور مقابلے جیسے الفاظ کا استعمال ترک کر دیا جائے! سب مل جل کر نئی نسل کو اشتراک، تعاون، مفاہمت اور مشترکہ مفاد کے لیے کام کرنے کا سلیقہ سکھائیں۔ اگر اشتراک اور مفاہمت پر یقین نہیں رکھتے، تو بھی حکمت عملی کے طور پر اپنے آپ کو مضبوط کرنے کے لیے بھی تو یہ راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ فرمایا ہے: ’’حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے، جہاں سے بھی اسے ملتی ہے وہ لے لیتا ہے۔‘‘
جدید اور خوشحال چین کے معمار کہلانے والے ’’ڈینگ ژاؤ پنگ‘‘ نے چینی سیاست دانوں، سفارت کاروں اور سرمایہ کاروں کو محض ایک دو فقروں میں ایک نصیحت کی جسے انہوں نے گذشتہ کئی دہائیوں سے گرہ میں باندھ رکھا ہے۔ اہلِ پاکستان کو بھی یہی سبق ذہن نشین کرانے کی ضرورت ہے۔وہ کہتے ہیں: “Hide your strength, bide your time”
سادہ الفاط میں اس کا مطلب ہے، ’’اپنی طاقت کو چھپاؤ اور وقت کا انتظار کرو۔‘‘ چین نے ایسا ہی کیا، اور آج وہ عالمی منظر نامے پر دوسری بڑی عالمی طاقت کے طور پر ابھر چکا ہے۔ چین کے سفارت کار کل کے برعکس اب مخالفین کو ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہیں۔
مسلمانوں اور بالخصوص پاکستانیوں کو اپنے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنے اور دنیا کے ساتھ اشتراکِ عمل کی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مثال کے طور پر امریکہ کے مسلمان لیڈر عبدالمالک مجاہد کی پوسٹ سے معلوم ہوا، ’’نیویارک میں جان بچانے والے ڈاکٹروں میں سے دس فیصد مسلمان ہیں۔‘‘
نیو یارک میں مقیم معاذ اسد صدیقی ایک سماجی کارکن اور صحافی ہیں۔ اکثر سوشل میڈیا کے ذریعے بتاتے ہیں کہ کس طرح مسلمان تنظیمیں بلا رنگ ونسل و مذہب، ضرورت مندوں کی مدد کرتی ہیں۔ عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں کہ ہم امریکی کمیونٹی کو اپنی کہانی سناتے ہی نہیں۔
دنیا اس وقت چین کے خلاف سازشیں ضرور کر رہی ہے۔ کیوں کہ وہ ان کے مقابلے میں ایک طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ہمیں ترقی یافتہ ممالک کے تعاون کی ضرورت ہے۔ عام لوگوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ جو لوگ دن رات مغرب کی برائیاں بیان کرتے ہیں کہ وہ خود علاج، تعلیم اور روزگار کے لیے انہی ممالک کا رُخ کرتے ہیں۔ سیاست دانوں کا ذکر ہی چھوڑیں۔ سپریم کورٹ نے دوہری شہریت رکھنے والے سرکاری افسران کا ’’ڈیٹا‘‘ جمع کرنے کا حکم دیا، تو ہزاروں سرکاری اہلکار دہری شہریت والے پائے گئے۔ چند ہفتے قبل قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ سولہ اعلیٰ سرکاری افسر دوہری شہریت رکھتے ہیں۔
سامنے کی بات یہ ہے کہ سرکاری اور غیر سرکاری اشرافیہ جو سبق قوم کو پڑھاتی ہے، اگر وہ سچ ہوتا، تو یہ لوگ کبھی دوہری شہریت حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور نہ لگاتے۔
………………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے