104 total views, 1 views today

باعزت طریقے سے ضرورت مندوں کی مدد کی قدیم ترک روایت کی پیروی کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت میں تندوروں پر نیکی کی ٹوکری رکھنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، جہاں صاحبِ استطاعت لوگ روٹیاں رکھتے ہیں اور ضرورت مند لوگ بغیر کسی سے مانگے اپنی ضرورت کے مطابق مفت روٹیاں حاصل کرتے ہیں۔
اسلام آباد کے مضافاتی علاقہ بنی گالہ میں ڈاکٹر رانا محمد اخلاق کشفی نے متعدد تندوروں پر ٹوکریاں رکھی ہیں، جو مقامی غربا کے لیے غیبی امداد کا نمونہ بنتی جا رہی ہیں۔
ڈاکٹر اخلاق کے مطابق نیکی کی ٹوکری ایسی سکیم ہے جسے چلانے کے لیے نہ بہت زیادہ فنڈز کی ضرورت ہے، اور نہ بہت زیادہ انتظامات کی۔ اپنے قریبی تندور پر ایک صاف ستھری ٹوکری رکھیں۔تندور والے کو اعتماد میں لیں۔ ایک چھوٹا سا اشتہار بھی لگائیں، اور پھر جادو دیکھیں۔




ڈاکٹر رانا محمد اخلاق کشفی راقم سے گفتگو کرتے ہوئے۔ (فوٹو: احسان حقانی)

بنی گالہ میں ایسے ہی ایک تندور کے مالک سردار عظیم نے بتایا کہ لوگ خوشی سے ٹوکری میں دو چار روٹیاں ڈالتے ہیں۔کئی بار روٹیاں زیادہ اور ضرورت مند کم پڑ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں ہم روٹیاں فروخت کر کے پیسے رکھ لیتے ہیں اور ان پیسوں کو بعد میں استعمال کرتے ہیں، تاکہ غریبوں کو تازہ روٹی ملے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے تندور میں نیکی کی ٹوکری سے پندرہ سو روپے سے زیادہ رقم جمع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب لوگ روٹی کے ساتھ سالن بھی لانے لگے ہیں۔
ڈاکٹر اخلاق نے کہا کہ شروع میں، مَیں نے تندور والوں سے کہا کہ ٹوکری کو خالی نہ ہونے دیں اور اگر کوئی روٹی نہ ڈالے، تو آپ میری طرف سے اس میں روٹیاں ڈالیں۔ مَیں پیسے دوں گا، لیکن آج تک ایک مرتبہ بھی ٹوکری خالی نہیں ہوئی ہے۔
………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے